حکمران طبقات کی باہمی کشمکش
22 فروری 2018 (18:32) 2018-02-22

عام انتخابات کے انعقاد سے چند ماہ قبل حکمران جماعت اور سپریم کورٹ کے درمیان لفظی جنگ اور محاذ آرائی شدت اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ تناؤ بڑھ رہا ہے۔ تند و تیز جملوں کا تبادلہ پہلے تو جلسے جلوسوں اور بیانات تک محدود تھا مگر اب ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ ادارہ جاتی محاذ آرائی اور تناؤ میں تبدیل ہو جائے۔ عدالت عظمیٰ کے معزز جج صاحبان کی طرف سے مقدمات کی سماعت کے دوران دی گئی آراء اور پوچھے جانے والے سوالات کا جواب جلسوں اور میڈیا بیانات کے ذریعے دینے کا سلسلہ تو کئی ماہ سے جاری تھا مگر اب یہ معاملہ پارلیمنٹ تک جا پہنچا ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ججز کے ریمارکس اور پارلیمنٹ کے اختیارات کے حوالے سے عدالتی مداخلت کے معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا ہے۔ ان کو اعتراض ہے کہ معزز جج صاحبان ارکان پارلیمنٹ کو چور اور ڈاکو قرار دے رہے ہیں۔ اسی دوران مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی نے بھی نواز شریف کے بیانیے کا اپنانے کا عندیہ دے دیا۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز پہلے سے ہی عدلیہ کے حوالے سے جارحانہ طرز عمل اور تکلم اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اب تو لودھراں کے ضمنی انتخاب کے بعد عمران خان کو بھی نواز شریف کو نکالنے کی بنیاد کمزور نظر آنے لگی ہے۔ اب تو یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) عدلیہ کے حوالے سے جارحانہ حکمت عملی اپنا رہی ہے۔ وہ انتخابی مہم کے دوران 28 جولائی کے فیصلے کو ہدف تنقید بناتی نظر آتی ہے۔ اگر سپریم کورٹ نے پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ میں ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا تو نواز شریف کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے بھی ہاتھ دھونے پڑیں گے اور اس صورت میں محاذ آرائی اور تناؤ شدت اختیار کریں گے۔ اسی طرح احتساب عدالت نے اگر نواز شریف اور مریم نواز کو بد عنوانی اور غیر قانونی اثاثہ جات کے مقدمات میں سزا سنا دی تو صورت حال مزید گھمبیر ہو جائے گی۔ حکمران جماعت کی پوری کوشش ہو گی کہ پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ کے سامنے کھڑا کیا جائے اور اس تاثر کو تقویت دی جائے کہ موجودہ صورت حال اور کشیدگی کی ذمہ دار اعلیٰ عدلیہ ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے جو کچھ فرمایا وہ کچھ کچھ شناسا سا لگا۔ اسی طرح کے خیالات کا اظہارجنرل (ر) مشرف عدالتی فعالگی کے حوالے سے فرماتے تھے۔ جب انہوںے نے سابقہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ہٹایا تھا تو ان پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ سول افسر شاہی کو عدالت میں بلا کر بے توقیر کرتے ہیں ۔ اسی طرح کا شکوہ پیپلز پارٹی کی حکومت کرتی نظر آئی جب اس کا سامنا جسٹس (ر) افتخار چوہدری کی عدالتی فعالیت سے ہوا۔ جس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت عدالتی فعالیت کے نشانے پر تھی تو نواز شریف اور ان کی جماعت سپریم کورٹ کے پیچھے کھڑے نظر آتے تھے۔ نواز شریف اس وقت کے از خود نوٹس کو قانون کی حکمرانی کی طرف اہم قدم سمجھتے تھے۔مگر اب ان کے خیالات تبدیل ہو گئے ہیں۔


اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر اس تناؤ اور کشیدگی کی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ تناؤ اورکشیدگی اس وجہ سے ہے کہ حکمران طبقات کا ایک حصہ اس نظام کو تبدیل کرنا چاہتا ہے، اس میں بہتری لانے کے لیے کوشاں ہے جبکہ دوسرا حصہ موجودہ نظام کو بر قرار رکھنا چاہتا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے خلاف ہے۔ میری ناقص رائے میں تو یہ باہمی کشمکش نظام کی بہتری اور تبدیلی کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں اور گروہوں کے درمیان ہے جس کی بنیاد اختیارات اور طاقت کی تقسیم اور حصول پر ہے ۔اس تناؤ اور کشمکش کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی اور ریاستی ڈھانچہ درست طور پر کام نہیں کر رہا۔ موجودہ انتظامی اور ریاستی ڈھانچے اور محنت کش عوام کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔ اس خلیج اور بڑھتے فاصلے کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ ڈھانچہ اور نظام عوام کے مفادات اور حقوق کا تحفظ نہیں کرتا۔ بلکہ محض حکمران طبقات اور بالا دست قوتوں کے مفادات اور حقوق کا محافظ ہے ۔ موجودہ نظام کے حوالے سے عوام میں بڑھتی بے چینی اور غصے کی ذمہ داری حکمران طبقات اور ریاستی ادارے ایک دوسرے پر ڈالتے ہیں۔ ایک ریاستی ادارہ دوسرے کو اس صورت حال کا ذمہ دار قرار دے کر خود کو بری الذمہ قرار دے دیتا ہے۔ عدلیہ سمجھتی ہے کہ انتظامیہ اور پارلیمنٹ اپنا کردار درست طور پر ادا نہیں کر رہی جس کی وجہ سے عدالتوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے ۔ عدلیہ عدالتی فعالیت کے ذریعے اس نظام کو چلانے کی کوشش کرتی ہے ۔ دوسری طرف انتظامیہ اور پارلیمنٹ سمجھتی ہے کہ عدلیہ اپنا کام تو ٹھیک طریقے سے کر نہیں رہی مگر وہ ان کے کام میں ٹانگ اڑا رہی ہے ۔انتظامیہ اور حکومت کا خیال ہے کہ عدلیہ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کی ذمہ داری ان پر ڈال رہی ہے۔ اسی طرح مقتدر قوتوں کا خیال ہے کہ سیاست دان اور سول حکمران نا اہل اور بد عنوان ہیں۔ ان کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کی مشکلات اور شکایات بڑھ رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے مطابق اس ملک کے ہر مسئلے کی وجہ اور بنیاد نواز شریف ہے لہٰذا نواز شریف کو سیاست سے نکال باہر کرنے سے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ جبکہ نواز شریف کا خیال ہے کہ مقتدر قوتوں کی بالا دستی اور عدالتوں سے انصاف نہ ملنے کی وجہ سے تمام مسائل نے جنم لیا ہے لہٰذا جیسے ہی سویلین بالا دستی قائم ہو گی تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ حکمران طبقات اور ریاستی ادارے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ موجودہ ریاستی ڈھانچہ اور نظام عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی اہلیت اور صلاحیت سے عاری ہے۔ یہ ڈھانچہ بر طانوی سامراج نے اپنے سامراجی مقاصد کے حصول اور بالادستی کے لیے قائم کیا تھا۔ اس ریاستی ، معاشی ، انتظامی اور سماجی ڈھالنے نے برطانوی سامراج کے مفادات اور مقاصد کو بھرپور طریقے سے پورا کیا۔ آزادی کے بعد ہمارے حکمران طبقات نے اس ڈھانچے اور نظام کو جدید تقاضوں اور عوامی امنگوں کے مطابق ڈھانچے کی بجائے اسے جوں کا توں بر قرار رکھا ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ نظام اور ڈھانچہ حکمران طبقات کے مفادات اور مقاصد کو بھرپور طریقے سے پورا کرتا ہے ۔ اسی لیے وہ اس نظام کو بر قرار رکھنے کے پر جوش حامی ہیں۔ وہ یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ اس وقت ملک میں موجود طبقاتی تفریق عدم مساوات، اونچ نیچ، غربت، جہالت ، معاشی و سماجی پسماندگی، استحصال اور جبر کی بنیادی وجہ سامراجی ڈھانچہ اور نظام ہے ۔ لہٰذا وہ اس نظام کی خرابیوں کا ذمہ دار افراد یا کسی ادارے کو قرار دے کر موجودہ نظام کو اس سے بر ی الذمہ قرار دیتے ہیں۔


نواز شریف کا بیانیہ ہو یا عمران خان کا، عدالتی فعالیت کا بیانیہ ہو یا مقتدر قوتوں کی مداخلت کا بیانیہ، یہ سب ایک دوسرے پر ملبہ ڈال کر اس نظام پر الزام نہیں لگنے دیتے۔ اور اسی لیے ہر وہ شخص جو اس نظام کو ذمہ دار سمجھتا ہے اور اس میں حقیقی تبدیلی کا خواہاں ہے اس کو گستاخ ، ملک دشمن اور کافر سمیت مختلف الزامات عائد کر کے مشکوک بنانے کی کوشش ہوتی ہے۔ اس کی حب الوطنی پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ اس کی جمہوریت پسندی کو مشکوک قرار دیا جاتا ہے۔


ہمارے حکمران طبقات اور بالادست قوتیں یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ جو ہمارا موجودہ نظام پاکستان کے استحصال زدہ ، ظلم و جبر کے شکار اور غربت کے مارے عوام کی امنگوں ، خواہشات، جذبات اور مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا، اور نہ ہی یہ نظام ان کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہے۔


جب طبقاتی تضادات اور کشمکش سماج پر حاوی نہ ہو اور اس میں شدت باقی نہ رہے تو پھر حکمران طبقات کے تضادات اور کشمکش ہی سماج پر حاوی ہوتے ہیں۔ جب عوام کی اکثریت سیاسی طور پر متحرک نہ ہو اور اجتماعی طبقاتی شعور سے محروم ہو تو پھر وہ حکمرانوں کی سیاست کے فریق نہیں رہتے ۔ ان کی عدم موجودگی میں سیاست محض حکمران طبقات اور بالادست قوتوں کے مفادات اور ترجیحات کے گرد گھومتی ہے۔ اس سیاست میں عوام اور ان کے مسائل کا تزکرہ محض منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے ہوتا ہے۔


اگلے عام انتخابات بھی حکمرانوں کے تضادات، ترجیحات اور مفادات کے گرد لڑے جائیں گے۔ ان انتخابات میں عوام کا کردار ووٹ ڈالنے اور نعرے لگانے تک محدود رہے گا۔ تمام سیاسی راہنما اپنی تقاریر میں عوام کی تکالیف ، مشکلات اور اذیتوں کا ذکر ضرور کریں گے مگر ان کا اصل ہدف اسی نظام کو بر قرار رکھنا ہے جو کہ ان مشکلات، اذیتوں اور تکالیف کی بنیادی وجہ ہے۔


حکمران طبقات کے درمیان وجۂ تنازع عوام کے مسائل نہیں ہیں بلکہ طاقت اور اختیارات کا حصول اور ان کا تحفظ ہے۔ یہ تناؤ اور کشیدگی اس وقت تک موجود رہے گی جب تک ریڈیکل اصلاحات کے ذریعے موجودہ نظام کی ہیئت کو تبدیل نہیں کیا جاتا۔


ای پیپر