خوئے قاتلانہ

22 فروری 2018 (18:30)

امریکی فیصلہ سازوں نے اپنے ملک کو دہشت گردی سے بچانے کیلئے اس کے گرد حفاظتی دیواریں توکھڑی کر دیں۔جس خطے سے کسی ممکنہ خطرے کی بو آئی اسے برباد کر دیا۔لیکن ان کو معلوم ہی نہ تھا کہ ’’ماس شوٹنگ‘‘ وبائی مرض کی شکل اختیار کر چکا۔اور اس مرض کے شکار وحشی قاتل چکا چوند سے لبریز اس کے اپنے شہروں میں دندناتے پھریں گے۔فلوریڈا کے سکول میں سابق طالب علم کی بلا اشتعال فائرنگ،آٹو میٹک ہتھیار سے 17 افراد کی ہلاکت نے اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ امریکی معاشرہ اپنی روایات کے ہاتھوں بے بس ہے۔اور اپنے اندر دہشت گردوں کو پال رہا ہے۔ حقائق سے پہلو تہی کا یہ عالم ہے کہ امریکی میڈیا اور قانون ان سفاک درندوں کو دہشت گرد قرار دینے سے انکاری ہے۔


امریکہ دنیا کا واحد معاشرہ ہے۔جس کا آئین اپنے شہریوں کو اسلحے کے انبار،اپنی تحویل میں رکھنے اور ان کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ اسلحہ رکھنے کے اس جنون کو وہ اپنے ’’کاؤ بوائے‘‘لائف سٹائل اور جنگجو اجداد کی نشانی قرار دے کر گلے سے لگائے بیٹھا ہے۔آئے روز کسی نہ کسی بڑے شہر میں بلا اشتعال فائرنگ سے بے گناہ افراد موت کی گھاٹ اتر جاتے ہیں۔لیکن تحویل اسلحہ کی حامی لابی اس قدر طاقتور ہے کہ کا نگریس اور ایوان نمائندگان قانون تبدیل کرنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتے۔فلوریڈا کے سکول میں فائرنگ کی بریکنگ نیوز نے گزشتہ چند ماہ میں اسی نوعیت کے دہشت گردانہ واقعات یاد دلادیے۔یہ بھی یاد آ گیا کہ اس رجحان،اس کے پس منظر کے متعلق کچھ تحقیق کرنے کا ارادہ کیا تھا۔جو دیگر ترجیحات کے سامنے دب کر رہ گیا۔کیونکہ امریکہ تو وہ ملک ہے جو دنیا میں اسلحہ میں کمی کا حامی ہے۔امن کاداعی اور قانون کی سر بلندی کاعلمبردار ہے۔ ایسا ملک اپنے معاشرے میں پھیلی قانون شکنی، تحویل اسلحہ اور اس کے استعمال کو کیوں کنٹرول نہیں کر پایا؟۔ امریکہ تو دوسرے ملکوں کو ترک اسلحہ کے متعلق بیداری مہم چلانے کیلئے فنڈ فراہم کرتا ہے۔پھر چراغ تلے اندھیرا کیوں؟ریسرچ شروع کی تو کئی نئے پہلو اورہوش ربا اعدادوشمار سامنے آئے۔بہت سی تلخ حقیقتوں سے تو پہلے سے جانکاری تھی۔ کیونکہ اس موضوع پربارہاقلم اْٹھایا۔معلوم ہوا کہ امریکی سکولوں میں 25 فیصد طلباء آتشیں اسلحہ اور خنجروغیرہ اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ طلبہ گینگ کی شکل میں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے ہیں۔یہ وہ سکول ہیں جن میں داخلے کو پسماندہ ممالک کی اشرافیہ اپنے لیے سٹیٹس سمبل سمجھتی ہے۔ مزید پتا چلا ہے کہ سال رواں کے پہلے پونے دو ماہ میں سکولوں میں فائرنگ کا یہ 18 واں سانحہ ہے۔فلوریڈا میں پیش آنے والی دہشت گردی پانچ ماہ میں تیسرا بڑا واقعہ ہے۔ جس میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں۔یہسانحہ گزشتہ اٹھارہ سال میں آتشیں اسلحہ سے ہلاکتوں کا 25 واں بڑا واقعہ ہے۔ کم ہلاکتوں پر مشتمل سانحات کو شامل کیا جائے تو یہ مجموعی طور پر تین سو واں واقعہ ہے۔بعض رپورٹوں کے مطابق 2013 ء سے اب تک ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔امریکی معاشرے میں اسلحہ اور ایمونیشن پر کوئی پابندی نہیں۔فلوریڈا دہشت گردی کے ملزم نکولس کے پاس واردات کے وقت جدیدترین سالٹ گن اور تین درجن کے قریب بھرے ہوئے میگزین تھے۔جو اس نے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنے ہم مکتبوں اور اساتذہ پر خرچ کیے۔امریکی ریسرچ اداروں اور میڈیا رپورٹس کا جائزہ لیا اور معاملے کی تہ تک اترنے کی کوشش کی جائے تو لرزہ خیز حالات سامنے آتے ہیں۔کبھی تو وہ حقائق ناقابل اعتبار محسوس ہوتے ہیں۔پھر یاد آتا ہے کہ یہ معلومات تو امریکی اداروں کی اپنی مرتب کر دہ ہیں۔یہ رپورٹس بتاتی ہیں کہ2013 ء میں فائر آرم سے فائرنگ کے نتیجہ میں 13 ہزار افراد زخمی ہوئے ایک اندازہ کے مطابق امریکا میں ہونے والی ہر ایک لاکھ اموات میں سے دس فیصد اموات آتشیں اسلحہ کے استعمال سے ہوئی ہیں۔2010 ء میں واپس لوٹ جائیں تو پتا چلتا ہے امریکہ میں 67 فیصد خود کشی کے واقعات میں بھی آتشیں اسلحہ کے استعمال کی ترغیب دکھائی دیتی ہے۔وہ کسی دوسرے کے خلاف ہو یا اس کا نشانہ اپنا وجود۔امریکہ نے ہر خطہ میں بڑے چھوٹے ممالک کے خلاف متعددجنگوں میں حصہ لیا۔ویت نام ہو یا کمبوڈیا،لیبیاہو یا شام،عراق ہو یا افغانستان۔اس نے شکست بھی کھائی اور فاتح بھی رہا۔ان جنگوں میں اس نے فریق مخالف کا قتل عام بھی کیا۔اس کے اپنے فوجیوں کی بھی ہلاکتیں ہوئیں۔لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس کے بھی معاشرے میں اسلحہ کے استعمال سے ہلاکتوں کی تعداد جنگوں کے اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔ 1968ء سے لے کر 2015ء تک ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے چودہ لاکھ سے بھی زائد ہے۔ صرف 2015ء میں 13 ہزا ر افراد باہمی فائرنگ کے واقعات میں مارے گئے۔ایک رپورٹ میں امریکہ کا موازنہ 25 ترقی یافتہ ممالک سے کیا گیا۔ان25 ممالک کی نسبت امریکہ میں اسلحہ کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد22 فیصد زیادہ ہے۔امریکہ میں اسلحہ کی تحویل سے متعلقہ تازہ ترین اعدادوشمار میسر نہیں۔آخری سروے 2009ء میں کیا گیا۔جس کے مطابق 31 کروڑاسلحہ جس میں شاٹ گن، رائفل،پسٹل اور آٹومیٹک گن شامل ہے،لوگوں کی تحویل میں ہے۔ اسلحہ کی یہ تعداد امریکی فوج کے پاس موجود روایتی اسلحہ سے بہت کم ہے۔یاد رہے کہ 2010ء میں امریکہ کی آبادی30 کروڑ ساٹھ لاکھ تھی۔گزرے سات سالوں میں آبادی کتنی بڑھی ہو گی اور اس شرح سے کتنا نیااسلحہ عوا م کے پاس ہوگا اس کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔امریکہ میں سب سے طاقتور لابی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن آف امریکہ ہے۔ یہ لابی اس قدر طاقتور ہے کہ آج تک کوئی قانون اس کی مرضی کے خلاف منظور نہیں ہوا۔امریکی ماہرین سماجیات کا نقطہ نظر ہے کہ اسلحہ کا استعمال اور بے گناہ افراد کو نشانہ بنانا ایک وبائی مرض ہے۔جو نہایت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ماس شوٹنگ کرنے والے اخلاقی انحطاط کا شکار اور معاشرے میں پیچھے رہ جانے والے افراد ہوا کرتے ہیں۔لہٰذا وہ اپنی ذہنی روکے باعث کسی بھی انتہائی اقدام پر مائل ہو جاتے ہیں۔امریکی میڈیا ایسے افراد اور واقعات کو دہشت گردی قرار دینے سے گریز کرتا ہے۔تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اس قاتلانہ جبلت کے پیچھے سفید فام افراد کا جذبہ تفاخر اورانتقام کی خوہے۔شاید یہی وہ وجہ ہے جو افراد کو عام انسانوں پر حملے کرنے پر اْکسا تی ہے۔ اور یہی وہ وجہ ہے جو امریکی قیادت کو دوسرے ملکوں پر حملہ آور ہونے کی ترغیب دیتی ہے۔


امریکہ دوسرے ملکوں کو اسلحہ کے استعمال سے متعلق قوانین بنانے کی تلقین کرتا ہے۔لیکن خود اپنے ملک میں گن کنٹرول سے متعلق قانون سازی نہیں کر سکا۔ ڈیموکریٹس محض اس لئے غیر مقبول ہوئے کہ اوباما نے گن کنٹرول پر قانون سازی کی درخواست کا اظہار کیا۔ ٹرمپ کی فتح کی ایک وجہ گن کنٹرول کی مخالفت اور روایت پسندی کی حمایت تھی۔ سپر طاقت روز لاشیں اٹھاتی ہے۔لیکن اپنی روایتی سوچ کے ہاتھوں بے بس ہو کر اس وبا پر قابو پانے کیلئے تیار نہیں۔

مزیدخبریں