آئین کی سربلندی اور اداروں کی حدود
22 فروری 2018 (18:24)

منتخب حکومتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان چپقلش ہمارے ملک میں کئی دہائیوں سے چل رہی تھی… اسی کے شاخسانے کے طور پر ملکی تاریخ کے تیرہ وزرائے اعظم کو یکے بعد دیگر ان کی جائز اور آئینی مدت پوری ہونے سے پہلے برطرف کیا گیا… لیکن اس کی نوعیت ایک سرد جنگ کی سی تھی… بہت سی باتیں جو آج کھلے عام اور بآواز بلند کہی جا رہی ہیں… پہلے یہ ہلکے پھلکے تبصروں اور آپس کے تبادلہ خیالات تک محدود تھیں… تیسری مرتبہ اقتدار چھن جانے کے بعد نواز شریف نے اسے کھلے مباحثے میں تبدیل کر دیا ہے… جی ٹی روڈ والے مظاہرے سے انہوں نے اس کا آغاز کیا… جلسہ ہائے عام میں لے آئے… اسی دوران میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ان کی جماعت کے امیدواروں کو کامیابی ملی تو حوصلے زیادہ بلند ہوئے کہ ان کے مؤقف کو پذیرائی مل رہی ہے… دوسری جانب سپریم کورٹ نے کہ ممتاز ترین ریاستی ادارہ ہے عام آدمی کو انصاف مہیا کرنے کا ضامن ہے کچھ مقدمات کے فیصلوں پر تنقید ہونے کے بعد ایک کے بعد دوسرا از خود نوٹس لینا شروع کر دیا… احساس پیدا ہوا کہ محترم قاضی القضاۃ نے انتظامی معاملات کی دیکھ بھال اپنے ہاتھوں میں لے لی ہے… اس کے ساتھ ایسے ریمارکس سامنے آئے کہ برطرف وزیراعظم نے انہیں ذاتی توہین قرار دیا… مزید برآں نواز کے نا اہلی کے باوجود پارٹی کا صدر بن جانے کا راستہ کھولنے والے پارلیمنٹ کے قانون کو عدالت عظمیٰ کی جانب سے کالعدم قرار دینے کی گونج سنائی دینے لگ گئی… حکومتی وزراء کی تنقیدی تقاریر پر توہین عدالت کے نوٹس جاری ہو گئے… یوں محاذ آرائی کا منظر بندھنے لگ گیا… نواز شریف نے اپنی حکمت عملی کو ایک قدم آگے بڑھایا… اپنی پارلیمانی جماعت اور جانشین وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ذریعے تنازعے کو پارلیمنٹ کے اندر لے آئے ہیں… تقاضا کیا ہے ملک کے سب سے مقتدر اور عوام کے نمائندہ ادارے کے دونوں ایوانوں میں باقاعدہ مباحثہ ہونا چاہیے تا کہ طے ہو جائے آئین کے تحت کس ادارے کی کیا حدود ہیں… ہمارے بنائے ہوئے قوانین کو مسترد کر دینے کے ارادے ظاہر کر کے پارلیمنٹ کے اختیارات کو سلب کیا جا رہا ہے… سابق منتخب وزیراعظم اور ان کے ساتھی سیاستدانوں کو کرپشن کا گاڈ فادر، سسلین مافیا یہاں تک کہ چور اور ڈاکو کہہ کر منتخب سیاستدانوں کی سر عام توہین کی جا رہی ہے… لہٰذا پارلیمنٹ کے اندر کھلے مباحث کے بعد ہر ایک کی حدود کا تعین ہونا چاہیے تاکہ پارلیمنٹ کی بالادستی کو کسی قسم کا چیلنج باقی نہ رہے اور منتخب حکومتوں کو عزت اور آزادی کے ساتھ کام کرنے کا موقع دیاجائے… وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں اس مضمون پر مشتمل تقریر کے اگلے روز محترم چیف جسٹس کی جانب سے بھی جواب آگیا… جسے انہوں نے وضاحت نہیں کہ کمزوری کی علامت ہے تشریح قرار دیا اور فرمایا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی سے کسی کو انکار نہیں لیکن آئین مملکت سب سے برتر ہے… اس کے تحت ہمیں اختیار حاصل ہے کہ قوانین پر عدالتی نظر ثانی کریں… سو یہ کام جاری رکھیں گے… دوران سماعت ہم نے کچھ سوالات اُٹھائے تھے… میڈیانے انہیں سیاق و سباق سے الگ کرکے پیش کر دیا سیاستدانوں نے انہیں اپنی توہین سمجھا حالانکہ ہم سب کا احترام کرتے ہیں… آئندہ سوالات نہیں کریں گے … آپس میں بات کر لیا کریں گے تاہم محترم چیف جسٹس نے اپنے جوابی مؤقف میں پے در پے از خود نوٹسز بارے میں کچھ نہیں فرمایا جن کے بارے میں نواز شریف اور موجودہ وزیراعظم کو شکایت ہے کہ ان کے ذریعے ہمارے حق حکمرانی کو سلب کیا جا رہے اور حکومت مفلوج ہو گئی ہے… از خود نوٹسز کے بارے میں ماہرین آئین و قانون کا کہنا ہے ناگزیر صورت حال میں اعلیٰ عدالتوں کو اگرچہ ان کا اختیار حاصل ہے لیکن اگر یہ روز کا معمول بن جائیں تو امر غیر مطلوب ہے… کیونکہ حکومت ناکارہ بن کر رہ جاتی ہے…


اس کھلے مباحثے پر نظر ڈالیں تو بظاہر معلوم ہوتا ہے اس نوعیت کے تنازعے نے پہلے کبھی جنم نہیں لیا لیکن جیسا کہ ابتدائی سطور میں عرض کیا گیا جوہری لحاظ سے نئی بات نہیں… خاموش جنگ کی شکل میں منتخب حکمرانوں اور اداروں کے درمیان کشمکش ہماری تاریخ کے ابتدائی سالوں سے جاری ہے… پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے خلاف مشہور زمانہ راولپنڈی سازش کیس کے ساتھ اس کی شروعات ہو گئی تھیں… لیاقت علی تو بعد میں قاتل کی گولی کا نشانہ بن گئے ان کی جگہ لینے والے خواجہ ناظم الدین سے لے کر ملک فیروز خان نون یعنی جنرل ایوب کے ننگے اور پہلے مارشل لاء تک ہر وزیراعظم کو ٹھوکروں سے اڑا کر رکھ دیا گیا… وہ خاموشی کے ساتھ گھروں کو چلے گئے… دو اسمبلیاں توڑی گئیں اور منتخب حکومتوں سمیت نمائندہ جمہوری اداروں کے اندر کھلے عام اظہار اختلاف اور احتجاج کی سکت نہ رہنے دی گئی… اس پر مستزاد اس زمانے کے چیف جسٹس محمد منیر کا نظریہ ضرورت والا فیصلہ تھا جس پر آج تک تنقید ہو رہی ہے… ہر کوئی اس تنقید کو برحق اور پاکستان کے اندر آئینی و جمہوریت تسلسل کی جڑیں اکھیڑ کر رکھ دینے والا فیصلہ قرار دیتا ہے… حتیٰ کہ اعلیٰ عدلیہ کے موجودہ جج صاحبان بھی اس پر صاد کرتے ہیں… لیکن نظریہ ضرورت ہمیشہ سے ہمارے نظام آئین و سیاست پر سایہ فگن چلا آ رہا ہے آئینی اور منتخب حکومتوں کی مدتیں پوری نہیں ہونے دیتا… ماضی کے وزرائے اعظم میں ذوالفقار علی بھٹو ایسی شخصیت تھے جو کھلے عام مزاحمت کا Potential رکھتے تھے… انہوں نے اپنی برطرفی اور جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد اپنے کارکنوں کے دو ایک عوامی مظاہروں سے خطاب بھی کیا لیکن جلد دھر لیے گئے… 1977ء کے متنازع انتخابات کی وجہ سے کوئی پارلیمنٹ وجود نہ رکھتی تھی… اس کے ایوانوں میں بھی کوئی صدائے احتجاج بلند نہ ہو سکی… بعد میں جب محمد خان جونیجو (1988ء) بے نظیر بھٹو (1990ء اور 1996ء) نواز شریف (1993ء اور 1997ء) کو صوابدیدی صدارتی احکام یا جنرل مشرف کے شب خون کے ذریعے منتخب وزرائے اعظم کو حق حکمرانی سے محروم کر دیا تو ان کو گھر بھیجنے کے ساتھ اس وقت کی اسمبلیوں کے وجود کو بھی ختم کر کے رکھ دیا گیا… عدالتی فیصلوں نے اکثر و بیشتر غیر آئینی اقدامات کی توثیق کی … ان کے فیصلوں میں مطعون ہونے کے باوجود نظریہ ضرورت کی روح اپنی کارفرمائی دکھاتی رہی… لیکن سب کے باوجود میڈیا اور علم و دانش کے دوسرے مقامات پر یہ مباحثہ جاری رہا… پورے تسلسل کے ساتھ سوالات اٹھائے جاتے رہے کہ پاکستان کی جمہوری گاڑی کو کیونکر اپنی منزل پر گامزن رہنے دیا جائے گا…


28جولائی 2017ء کو سپریم کورٹ کے اقامہ کے الزام کے تحت نوا زشریف کی وزارت عظمیٰ سے تیسری بار برطرفی کے بعد زمینی حقائق پہلے کے مقابلے میں بدلے ہوئے ہیں… ایک تو انہوں نے ماضی کے مقابلے میں صدائے احتجاج زیادہ زور کے ساتھ اور عوام کے بڑے حصے کو ساتھ لے کر بلند کی ہے… دوسرے پارلیمنٹ کا وجود باقی ہے اور وہ زیادہ طاقت ور نہ ہونے کے باوجود دونوں ایوانوں کے ذریعے اپنا اظہار کر رہی ہے… تیسرے صرف نواز شریف اور ان کے قریبی سیاسی ساتھی یا ان کے ہمدرد نہیں چوٹی کے کئی ایک ماہرین آئین و قانون ، ملکی امور اور ہماری آئینی تاریخ پر نگاہ رکھنے والے دانشوروں کی معتدبہ تعداد، میڈیا کا ایک مؤثر طبقہ یہاں تک کہ نواز شریف کے سب سے بڑے سیاسی مخالف عمران خان کے منہ سے بھی یہ بات نکل گئی ہے کہ اقامہ کا فیصلہ کمزور ہے … قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے اگر ذاتی مفاد پیش نظر نہیں تو ان کی جماعت اصولی مقاصد کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہے … ان امور نے مباحثے کو عوامی اور پارلیمنٹ دونوں سطح پر اٹھایا ہے زور دار بنا دیا ہے اور اس میں نئی طاقت بھی آ گئی ہے۔ اس تناظر میں محترم المقام چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ بیان حوصلہ افزا ہے کہ آئین کو سب پر برتری حاصل ہے اس کے ماتحت پارلیمنٹ کا دوسرے اداروں پر بالادست ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عدلیہ کو آئین نے جو اختیارات دے رکھے ہیں وہ انہیں استعمال کرتی رہے گی اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرے گی حق یہ ہے اس بیان اور پارلیمنٹ میں وزیر اعظم اور دوسرے عوامی نمائندوں کی جانب سے اظہار کردہ خیالات کو سامنے رکھ کر درست لائحہ عمل واضح کیا جا سکتا ہے کہ آئین پاکستان کو جو قوم کے نمائندوں کی متفق علیہ دستاویز ہے اور تمام ادارے خواہ منتخب ہوں یا دوسرے سب کے اختیارات کے حدود کا تعین اسی سے ہو رہا ہے کسوٹی بنایا جائے۔ اس کے الفاظ اور روح پر عمل کیا جائے ان کی روشنی میں ملک کے اندر باہمی اعتماد کی فضا پروان چڑھائی جائے۔ جو اختلافات در آئے ہیں وہ بلا شبہ اصولی بھی ہیں اور عملی بھی انہیں رفع کرنے کے لیے ٖافہام و تفہیم سے کام لیا جائے… آئینی اور قومی امور پر مباحثہ اگر صحتمند ہو اور مقصود کسی کو نیچا دکھانا نہ ہو تو یہ مشق قوم و ملک کی شریانوں کے اندر تازہ خون دوڑانے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے… نواز شریف اور ان کی مسلم لیگ (ن) کو اپنی ہر سیاسی اور قانونی پریشانی کا ذمہ دار اعلیٰ عدلیہ کو نہیں ٹھہرانا چاہیے … اسی طرح عالی محترم چیف جسٹس آف پاکستان اور ان کے برادر ججوں کو اپنی تمام تر نیک نیتی اور آئین کی پابندی کے جذبے کے ساتھ بالواسطہ طور پر بھی ایسا تاثر پیدا نہیں ہونے دینا چاہیے کہ ان کے تمام فیصلوں اور حالیہ اقدامات کا نشانہ صرف ایک لیڈر اور اس کی جماعت کے سرکردہ لوگ ہیں… جیسا کہ بجا طور پر کہا جا رہا ہے کہ اداروں کے درمیان تصادم کی فضا سب کے لیے ملک و قوم کے لیے خطرناک ثابت ہو گی… اس کی خاطر باہمی الزام بازی سے مکمل اجتناب کا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے… یہ کسی ایک کا نہیں تمام ذمہ داران ریاست کا فرض اولین ہے اور اسی میں ہمارے بہتر مستقبل کا راز مضمر ہے۔


ای پیپر