بھارت میں لاکھوں سال پرانے اوزاروں کی دریافت

22 فروری 2018 (17:15)

نئی دہلی : بھارت میں لاکھوں سال پرانے اوزاروں کی دریافت ٗ کئی تاریخی حقائق میں تبدیلی کا اندازہ


تفصیلات کے مطابق بھارت میں لاکھوں سال پرانے پتھر کے اوزاروں کی دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کے آباؤاجداد نے سابقہ لگائے گئے اندازوں سے کہیں پہلے افریقہ سے ہجرت کی ہو گی۔یہ سائنسی مطالعہ پتھروں کے سات ہزار دو سو سے زائد قدیمی اوزاروں کی جانچ کے بعد کیا مرتب کیا گیا ہے۔ ان اوزاروں کو بھارت کی تامل ناڈو ریاست میں واقع آثار قدیمہ کے مقام اتی رام پاکم سے جمع کیا گیا تھا جو چنائی سے قریب ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔


بھارتی اور فرانسیسی ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ پتھر کے یہ اوزار تین لاکھ پچاسی ہزار سال قبل سے ایک لاکھ بہتر ہزار سال قبل کے درمیانی عرصے میں بنائے گئے تھے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت میں قدیمی وسطی حجری یا پتھر کے دور کی تہذیب کا آغاز اب تک لگائے گئے اندازوں سے کہیں پہلے ہوا تھا۔ اس سے قبل یہ مانا جاتا تھا کہ قدیمی حجری ثقافت کا یہ دور اب سے ایک لاکھ پچیس ہزار قبل شروع ہوا تھا۔محققین کا کہنا ہے کہ پتھر سے بنے لاکھوں سال پرانے ان اوزاروں کی بھارت میں دریافت کے بعد اب ابتدائی دور کے انسان کی افریقہ سے نقل مکانی کے وقت کو دوبارہ جانچا جا سکتا ہے۔ جدید انسانوں سے متعلق ابتدائی ترین ثبوت سے پتہ چلتا ہے کہ ہومو سیپیئنز افریقہ میں کم از کم تین لاکھ سال قبل پیدا ہوئے تھے۔

مزیدخبریں