field of health,Turkey
22 دسمبر 2020 (22:13) 2020-12-22

میاں نوید

ویسے توہم نے پاکستان میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال کا نام تو متعدد بار نام سنا ہے لیکن اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال دیکھنے کا موقع پہلی بار ملا ہے لیکن پاکستان میں نہیںبلکہ ترکی میں اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال دیکھے۔ ترکی کے میموریل ہیلتھ کیئر کے ایک بڑا گروپ جس کے ترکی میں گیارہ اسٹیٹ آف دی آرٹ ہسپتال ہیں، ہم پاکستان سے چار صحافی دوست ترکی کے میموریل ہیلتھ کیئر گروپ کے ہسپتالوں کے سسٹم کو دیکھنے کے لیے ترکی کاسفر کیا ہے۔ ویسے آج کل کروونا کے باعث بین الاقوامی سفر کرنے کے لیے کروونا ٹیسٹ کرنا لازمی ہے لیکن میں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ نجی لیب سے ٹیسٹ کروائے جوکہ منفی تھے جس کے بعد سفر کا آغاز کیا، ترکی پہنچتے ہی سب سے پہلے ہمارے کروونا ٹیسٹ کروائے گئے تھے لیکن جہاں پر ایک نئی بات یہ دیکھی کہ ترکی میں کروونا ٹیسٹ کرتے وقت ہمارے منہ اور ناک سے نمونے لیے گئے جوکہ نیگٹیو تھے۔ پھر باقاعدہ کام کا آغا زکیا۔ وہاں پر ایک اور بات بڑی دلچسپ تھی کہ وہاں پر این 95ماسک کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے بلکہ ہم نےN95ماسک پہنے تھے لیکن ہمیں کہا گیا کہ N95ماسک پہننے کے بجائے سرجیکل ماسک کا استعمال کریں۔ وہاں پر یہ دیکھا کہ ڈاکٹرز اور ہیلتھ پروفیشنلز بھی زیادہ تر سرجیکل استعمال کررہے تھے۔ ترکی میموریل ہیلتھ کیئر گروپ کے ترکی میں تقریبا 11ہسپتال موجود ہیں جس میں پانچ جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل(جے سی آئی) کے ساتھ الحاق شدہ ہیں۔ جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل آٹھ قسم کے صحت کی دیکھ بھال کے پروگراموں کی منظوری دیتا ہے جس میں ہسپتال ، تعلیمی میڈیکل سینٹر ہسپتال ، ایمبولٹری نگہداشت کی سہولیات ، طبی تجربہ گاہیں ، گھریلو نگہداشت کی سہولیات ، طویل مدتی نگہداشت کی سہولیات ، طبی نقل و حمل کی تنظیمیں اور بنیادی نگہداشت کے مراکز شامل ہیں۔ جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل کے الحاق شدہ ہسپتالوں کا مریضوں کو کیا فائدہ ہوتا ہے۔ اس میں ایک مریض جو ایک ایسی سہولت کا انتخاب کرتا ہے جس میں ایک یا زیادہ سی سی پی سی موصول ہو سکتے ہیں وہ اعتماد کر سکتے ہیں کہ اس سہولت سے مریضوں کی حفاظت ، کلینیکل نگہداشت کی فراہمی ، مریضوں کی مجموعی مدد ، اور بہت کچھ کے سخت معیار پر پورا اترتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو چھاتی کے کینسر کے ماہر یا کسی ایسی سہولت کی ضرورت ہو جو بچوں کے دمہ پر مرکوز ہو تو ، ان کلینیکل علاقوں میں سی سی پی سی والا ہسپتال آپ کی دیکھ بھال کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ اگر میموریل ہیلتھ کیئر گروپ کے ہسپتالوں کی بات کریں تو اس وقت ان کے پانچ جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل (جے سی آئی ) ہسپتال ہیں جس میں میموریل انتالیا، میموریل انقرہ ، میموریل اتاشہر اور میموریل ششلی ہسپتال شامل ہے۔ ہم نے تقریبا میموریل ہیلتھ گروپ کی انتظامیہ سمیت مختلف شعبوں کے 29 پروفیسرز اور ڈاکٹرز کے انٹرویو کیے جس میں نامور لیور ٹرانسپلانٹیشن سرجن کامل یلچن پولاٹ ، سپائنل سرجن ڈاکٹر اونر یمن، بون میرو ٹرانسپلانٹیشن پروفیسر مگی گوکچے،آرتھوپیڈک سرجن پروفیسر ماہر، بون میرو ٹرانسپلاٹیشن سرجن پروفیسر بیتل سمیت دیگر پروفیسرز شامل تھے۔ اس وقت پاکستان میں لیور ٹرانسپلانٹیشن کی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں لیور ٹرانسپلاٹیشن کی کامیابی کی شرح بہت کم ہے خاص طور پر اگر بات کریں پاکستان کے شہر لاہور میں شیخ زید ہسپتال میں لیور ٹرانسپلاٹیشن رواں برس 14 سے 30 جنوری کے دوران تین مریضوں کی ہلاکت کے بعد لاہور کے شیخ زید ہسپتال کو جگر کی پیوند کاری کا عمل فی الحال روک دیا گیا ہے اسی طرح پی کے ایل آئی میں فی الحال لیور ٹرانسپلانٹیشن نہیں کی جا رہی ہے ایسی صورت حال میں کچھ مریض بیرون ملک سے لیور ٹرانسپلانٹیشن کروانا چاہتے جس میں ترکی اور بھارت شامل ہے لیکن بھارت کا ویزہ ملنا بھی ایک مشکل کام ہے۔ ایسی صورت حال میں ترکی بہت کی آپشن مریضوں کے پاس موجود ہے کیونکہ ترکی اسلامی ملک ہے اور پاکستانیوں کو ترکی کا ویزہ حاصل کرنا ہے بہت آسان ہے۔ ترکی میں لیور ٹرانسپلانٹیشن کی اگر بات کریں تو میموریل ہیلتھ کیئر گروپ کے ہسپتالوں میں لیورٹرانسپلانٹیشن کی کامیابی شرح کی تقریباً 98.4 ہے جوکہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ ترکی کے معروف لیور ٹرانسپلاٹیشن سرجن پروفیسر کامل یلچن پولاٹ نے تقریبا دو ہزار سے زائد جگر کی پیوندی کاری کے کیسز کیے ہیں جس کی کامیابی کی شرح 98.4 ہے۔ پوری دنیا سے جگر کی پیوندی کاری کروانے کے لیے مریضوں کی ایک بڑی تعداد ترکی کا رخ کر رہی ہے اسی طرح دیگر امراض کی باتیں کریں تو میں بون ٹرانسپلانٹیشن بھی شامل ہے۔ بون ٹرانسپلانٹیشن کی بھی پاکستان میں شرح کامیابی اتنی زیادہ نہیں ہے لیکن اگر ترکی کی بات کریں تو اس ترکی میموریل ہیلتھ کیئر کے گروپ کے ہسپتال میں بون بیورو ٹرانسپلانٹیشن کی شرح کامیابی بھی تقریبا 90 فیصد سے زائد ہے جوکہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ خاتون پروفیسر مگی گوکچے ایک معروف ہیماٹالوجی اور انکالوجی سپیشلسٹ ہیں جوکہ میموریل ہیلتھ کیئر گروپ ترکی کے ہسپتال میں ہر سال تین بون میروٹرانسپلانٹیشن کرتی ہیں جس کی کامیابی کی شرح 91 فیصد سے زائد ہے۔ بون ٹرانسپلانٹیشن کی کامیابی کی شرح زائد ہونے کے باعث پاکستان سے متعدد مریض ترکی کا رخ کررہے ہیں کیونکہ دوسری جانب بھارت میں بون میر و ٹرانسپلانٹیشن ہوتی ہے لیکن پاکستانیوں کو بھارت کا ویزہ ملنا بہت مشکل ہوتا ہے جو کہ موجودہ مودی سرکار کے آنے سے تقریباً ناممکن ہو چکا ہی ہو چکا ہے اور زیادہ تر مریض ویزہ کے حصول کے انتظار میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں اس لئے دوسری جانب سے ترکی میں بون میرو ٹرانسپلانٹیشن کی کامیابی کی شرح کا اگر بھارت کے ساتھ موزانہ کریں تو ترکی میں کامیابی کی شرح زائد ہے یہی وجہ ہے اب پاکستان سے زیادہ تر مریض ترکی کا رخ کر رہے ہیں، ترکی کی جانب سے پاکستانیوں کو ویزے کا حصول نسبتا آسان ہوتا ہے کیونکہ پاکستان کا دوست اسلامی ملک ہے، جبکہ دوسری جانب سے اسٹیٹ آف آرٹ ہسپتال موجود ہیں۔ ترکی کے میموریل ہیلتھ کیئر گروپ کے اکثریت پروفیسرز نے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے، ایک بات یہاں سے جانے والے صحافیوں نے محسوس کی وہ یہ کہ ترکی کے شعبہ صحت سے میں کام کرنے والے پروفیسرز ڈاکٹر تمام لوگ پاکستان کے ساتھ کام کر کے یہاں کے شعبہ صحت کو بہتر بنانے کیلئے اپنا کرداد ادا کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور ترکی باہمی اشتراک سے اپنے اپنے شعبہ صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں، دونوں ممالک کو آپس میںٹیکنالوجی اور افرادی قوت سے فائدہ اٹھانا چاہیے، پاکستان میں بون میرو ٹرانسپلانٹیشن اور جگر کی پیوند کاری کے شعبہ میں بہتری کی ضرورت ہے جس کیلئے نہ صرف جدید ٹیکنالوجی درکار ہے بلکہ ہمارے ڈاکٹروں کو تربیت بھی دی جا سکتی ہے۔ اس لئے ان شعبوں میں بہتری کیلئے پاکستان ترکی کے ساتھ بہتر تعلقات کا فائدہ اٹھا کر بہت سے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ ترکی میموریل ہسپتال کی انتظامیہ کے ساتھ ملنے کا موقع بھی ملا جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر عور گینج، چیف مارکیٹنگ ڈائریکٹر میموریل گروپ کیریم توپوز اور گروپ ڈائریکٹر ترکی میموریل ہیلتھ کئیر گروپ حاجم چارکلے شامل تھے۔ 

 ترکی میموریل کا بحچیلیولر ہسپتال دنیا کا پہلا ایل ای ای ڈی کا سند یافتہ ہسپتال ہے۔

ترکی میموریل ہیلتھ کیئر گروپ دنیا کا وہ پہلا واحد گروپ ہے جس کا ہسپتال "ایل ای ای ڈی پلاٹینم" کا سند یافتہ ہے، جو دنیا کا اعلی توانائی اور ماحولیاتی ڈیزائن کے حامل معیار پر مشتمل ہے۔ ایل ای ای ڈی پلاٹنیم کی سند اس عمارت کو دی جاتی ہے جو 80 یا اس سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرتی ہیں۔ ترکی میموریل کا بحچیلیولر دنیا کا پہلا اسپتال ہے جو ایل ای ای ڈی کا سند یافتہ ہے، ایل ای ای ڈی سے مراد'' گرین بلڈنگ ریٹنگ ''پروگرام ہے۔ ایل ای ڈی کا سب سے بڑا سرٹیفکیٹ ایل ای ای ڈی پلاٹینم ہے جو سرٹیفکیٹ ایسی عمارتوں کو دیا جاتا ہے جو 80 یا اس سے زیادہ پوائنٹس حاصل کرتی ہیں۔ بحچیلیولر (با چے لیوی لر ) ہسپتال یہ ایوارڈ حاصل کرچکا ہے۔ ترکی میموریل ہیلتھ کیئر گروپ کا بحچیلیولر (با چے لیوی لر ) گیارہ واں منصوبہ ہے۔ بحچیلیولر ہسپتال میں عام سرجری ، امراض قلب، آرتھوپیڈکس، تولیدی نگہداشت، وزن میں کمی کی سرجری، بالوں کی ٹرانسپلانٹیشن، لیور ٹرانسپلاٹیشن، کڈنی ٹرانسپلاٹیشن، بون میرو ٹرانسپلاٹیشن، سپاینل سرجری سمیت دیگر امراض کا علاج کیا جاتا ہے۔ میموریل ہیلتھ کیئر گروپ پہلا ترک ہسپتال تھا جو جے سی آئی (جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل) نے تسلیم کیا تھا۔ میموریل ہیلتھ کیئر گروپ کے ہسپتالوں میں تقریباً 1سو 66 ممالک سے مریض آتے ہیں جبکہ گزشتہ سال میموریل ہیلتھ کیئر ہسپتالوں میں تقریباً 75ہزار بین الاقوامی مریضوں نے علاج معالجہ کروایا۔

چیف ایگزیکٹیو آفیسر عور گینج میموریل ہیلتھ کیئر گروپ ترکی

 یورپ نے عور گینج کو دنیا کا بہترین چیف ایگزیکٹو قرار دیا ہے۔ چیف ایگزیکٹیو آفیسر میموریل ہیلتھ کیئر گروپ ترکی عور گینج نے پاکستان کے ہیلتھ سسٹم کو بہتر کرنے کے لیے پاکستان کی حکومت اور نجی سیکٹر کے ساتھ مل کر کام کرنے اور پاکستانی ہیلتھ سسٹم کو بہتر کرنے کی پیشکش کی، میموریل ہیلتھ کئیر گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عوور گینچ (Ugur Genc)کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ہیلتھ کیئر سسٹم بہتر بنانے کے لئے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ استنبول میں قائم میموریل ہسپتال میں دنیا کے مختلف ممالک سے مریض آتے ہیں۔ جن میں جگر و گردہ اور بون میرو ٹرانسپلانٹیشن سمیت دیگر امراض مریض شامل ہیں۔ لیور، کڈنی اور بون میرو ٹرانسپلاٹیشن کی کامیابی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ میموریل ہسپتال میں ٹرانسپلاٹیشن کی کامیابی کی شرح زیادہ ہونے کی مریض بھارت کی بجائے استنبول کا رخ کرتے ہیں کیونکہ مریضوں کو بھارت کا ویزہ کے حصول کے مشکلات ہوتی ہیں۔ چیف ایگزیکٹو عوور گینچ کا کہنا تھا کہ ان کے ہسپتالوں میں جدید ٹیکنالوجی کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ڈاکٹرز بہت تربیت یافتہ اور تجربہ کار ہیں یہی وجہ ہے کہ لیور ٹرانسپلانٹ ، کڈنی ٹرانسپلانٹ اور بون ٹرانسپلانٹ کارڈیک سمیت دیگر سرجری کے کی کامیابی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ پاکستانی منسٹری ہیلتھ یا نجی سیکٹر کے ساتھ مل کر کام کرنے خواہاں ہیں ،ہیلتھ کئیر میں ایک دوسرے کے ساتھ تجربات اور علم شئیر کرنے کا ہیمشہ بہت فائدہ ہوتا ہے۔ میموریل ہسپتال میں لیور ٹرانسپلانٹیشن کی کامیابی شرح 98.4 ہے جبکہ بون میرو ٹرنسپلاٹیشن ،کڈنی ٹرانسپلاٹیشن ، بریسٹ کینسر ، کارڈیک سرجری اور ریبوٹک سرجری کی کامیابی کی شرح بھی زیادہ ہے۔ ہمارے پاس تقریباً 1سو 66 ممالک سے مریض آتے ہیں۔ گزشتہ سال میموریل نے 75ہزار انٹرنیشنل کیسز کیے۔ اگر میموریل گروپ کا پاکستانی حکومت یا پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مشترکہ معاہدہ کرتا ہے تو اس سے پاکستانی مریضوں کو بہت زیادہ فائدہ ہوگا۔ 

چیف مارکیٹنگ ڈائریکٹر میموریل گروپ کیریم توپوز 

چیف مارکیٹنگ ڈائریکٹر میموریل گروپ کیریم توپوز کا کہنا تھاکہ پاکستان اور ترکی بہت اچھے دوست ہیں اور ہمارے دیرنہ تعلقات ہیں لیکن دونوں ممالک کے ہیلتھ پروفیشنلز کے درمیان خلیج نظر آرہا ہے جب اس نے سوال کیا گیا دونوں ممالک کی جانب سے کونسے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ یہ خلیج کم ہو۔ ان کا کہنا تھاکہ دونوں ممالک کے ڈاکٹرز اور نرسز کو ایک دوسرے کو جانے کے بغیر مریضوں کو نہیں بتا سکتے ہیں کہ دونوں ممالک میں علاج معالجہ کیسا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ایمانداری سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہم نے کچھ تاخیر کی ہے لیکن اب  ہیلتھ میموریل گروپ دونوں ممالک کے ہیلتھ پروفیشنل کے درمیان خلیج کم کرنے کے لیے تیا ر ہے۔ دونوں ممالک کوچاہیے کہ خلیج کم کرنے کے لیے سیمینار ، کانفرنسز اور آن لائن سسٹم کے ذریعے سے تجربات اور خیالات شئیر کرنے چاہیے ، کیریم توپوز کاکہنا تھاکہ ہمارے جے سی آئی ہسپتال ہیں، لہذا ہم پاکستان کے ہیلتھ سیکڑ کے لیے بہترین کام کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی ڈاکٹرز انتہائی قابل اور تربیت یافتہ ہیں، لیکن ہر ملک میں بیماری کا علاج نہیں ہوتا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ تجربات شیئر کر کے ہیلتھ سیکٹر میں دونوں ممالک فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ اب لیور اور بون میرو ٹرانسپلانٹیشن سمیت دیگر امراض میں مبتلا ایسے مریض جن کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہے جس کے لیے مریض بھارت جاتے تھے لیکن ویزہ کے حصول کا ممکن بہت مشکل تھا اب مریضوں کو بھارت جانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ مریض علاج کے لیے ترکی کا ویزہ آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں جہاں اسٹیٹ آف آرٹ ہسپتال بھی موجود ہیں۔

 گروپ ڈائریکٹر ترکی میموریل ہیلتھ کئیر گروپ حاجم چارکلے 

 گروپ ڈائریکٹر ترکی میموریل ہیلتھ کئیر گروپ حاجم چارکلے کا کہنا تھا پاکستانی مریضوں کے لیے میڈیکل گروانڈز کی بنیاد پر ترکی کا ویزہ حاصل کرنا بہت آسان ہے۔ سب سے پہلے مریض آنے سے پہلے میڈیکل ریکارڈ بجھواتے ہیں جسے ہمارے ڈاکٹرز متعلقہ مریض کے ریکارڈ کو دیکھتے ہیں۔ ڈاکٹرز کی جانب سے مریض کا ریکارڈ چیک اپ کرنے کے بعد مریض کے علاج معالجہ فراہم کرنے کے حوالے سے ترکی میں علاج کروانے کی اجازت دی جاتی ہے۔ گروپ ڈائریکٹر حاجم چارکلے کا مزید کا کہنا تھاکہ ڈاکٹرز کی رائے کے بعد میڈیکل بنیاد پر ویزہ فراہم کرنے کے حوالے سے ہم مریضوں کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں جس کے بعد آسانی سے ویزہ ملتا ہے۔ ہم حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل کے تحت کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہر لحاظ سے پاکستانی مریضوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر