Housing Society, Fact or Fiction on Pakistan Steel Lands
22 دسمبر 2020 (22:09) 2020-12-22

 مقبول خان:

کراچی کی سیاسی فضاؤں میں  وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان اسٹیل کی نجکاری اور اس کی  ہزاروں ایکڑ اراضی پرہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، اس باز گشت میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما رضا ربانی، صوبائی وزراء سعید غنی، ناصر حسین شاہ اور صوبائی مشیر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب اور پی پی سے تعلق رکھنے والے ٹریڈ یونین رہنماؤں کی آوازیں بھی شامل ہیں ، اس سے قبل وفاق نے کراچی کے جزائزپر بات کی تو وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا،  ابھی اس کی بازگشت تھمی نہیں تھی کی کہ پاکستان اسٹیل کی اراضی پر ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کی بات پر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان بیانات کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ وفاق میں بر سر اقتدار تحریک انصاف سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان کبھی خوشگوار تعلقات نہیں رہے ہیں،کرپشن کے مقدمات سے لے کر جزائز کی ملکیت کے تنازعہ کے بعد اب پاکستان اسٹیل کی اراضی پر وفاق کی جانب ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کامنصوبہ دونوں جماعتوںکے درمیان اختلافات کے دائرہ کو مزید وسعت دے رہا ہے۔  پاکستان اسٹیل کی اراضی پر ہاؤسنگ منصوبہ کی بازگشت حقیقت ہے یا افسانہ اس تک پہنچنے کیلئے پیپلز پارٹی کے رہماؤں کے بیانات  کے ساتھ پاکستان اسٹیل کی اراضی کے تاریخی پس منظر پر بھی نظر ڈالنی ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے گذشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں کہا تھاکہ وفاقی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ سمجھوتے کے نتیجے میں قومی اداروںکی نجکاری کرنے جارہی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی اداروں کی نجکاری غیرقانونی عمل ہے۔ اداروں سے مزدوروںکو نکال کر انہیں اپنے حواریوںکو دینے کا پروگرام بنایا گیاہے۔ پاکستان اسٹیل کا مسئلہ نہ صرف ہزاروں محنت کشوں کو روزگار سے محروم کرنا اور19ہزار ایکڑ زمین کو ہڑپ کرناہے۔ پاکستان اسٹیل کی ہزاروں ایکڑ زمین سندھ کی ملکیت ہے۔ صوبائی حکومت نے یہ زمیں پاکستان اسٹیل کو دی تھی۔ اگر اس زمین کا مقصد تبدیل ہوگا تو سندھ حکومت اراضی واپس لے گی۔ قانون کے تحت یہ زمین جس مقصد کیلئے دی گئی اسی مقصد کیلئے استعمال ہوگی۔ رضا ربانی کے بقول  ایک وفاقی وزیر نے کہا ہے کہ13ہزار ایکڑ زمین لیز پر دی جائیگی۔ یہ لیز ہائوسنگ سوسائٹی کیلئے استعمال ہوگی۔ وفاقی حکومت لالچ کرکے صوبائی وسائل پر ڈاکہ ڈال رہی ہے۔ وفاق نے سندھ کے جزائر پر ہتھیانے کی بات کی۔ وفاقی حکمران سندھ اور چھوٹے صوبوں کے وسائل پر قبضہ اور تسلط جمانا چاہتے ہیں۔ رضا ربانی قومی سیاست کا ایک معتبر نام ہے، کراچی یونیورسٹی میں طالب علم رہنما سے لے کر سینیٹ کے چیئرمین کے منصب عالیہ تک انہوں نے ایک ذمہ دار نظریاتی اور ذمہ دار سیاسی رہنما کا کردار ادا کیا ہے، ان کے دامن پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں ہے، طلباء یونین کی بحالی ،محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے انہوں نے ہمیشہ اپنی توانا ااواز کو بلند کیا ہے، وہ غیرضروری  اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کیلئے بیان بازی سے گریز کرتے ہیں، اب انہوں نے پاکستان اسٹیل کی نجکاری  کے حوالے سے پاکستان اسٹیل کی قیمتی اراضی پر مبینہ طور پر ہاؤسنگ  پروجیکٹ کے منصوبہ کی نشاندھی کرتے ہوئے اس کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ تو اس میں یقینی طور پر وزن معلوم ہوتا ہے ، ہم یہاں اس حقیقت کو جاننے کیلئے  پاکستان اسٹیل کی اراضی کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیتے ہیں،جس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ رضا ربانی سمیت پیپلزپارٹی کے رہنماؤں اور صوبائی وزراء کے بیانات  میں جس موقف کا اظہار کیا جارہا ہے، وہ کس حدتک حقائق پر مبنی ہے۔ 

 پاکستان اسٹیل کی اراضی کا مجموعی رقبہ 19ہزار ایکڑ اراضی ہے، جس میں سے 4457ایکڑ اراضی پر اسٹیل مینو فیکچرنگ پلانٹ، 8ہزار ایکڑ اراضی پر اسٹیل ٹاؤن ریذیڈنس کالونی قائم ہے،  پاکستان اسٹیل کے ریکارڈ کے مطابق ابتدا میں اسٹیل ٹاؤن کو 8000ایکڑ اراضی الاٹ کی گئی تھی، جس میں 6ہزار933ایکڑ اراضی  اس وقت کی سندھ گورنمنٹ  سے خریدی گئی تھی، جبکہ ایک ہزار 1147وہاں کے مقامی لوگوں سے خریدی گئی تھی، 2006میں سندھ گورنمنٹ نے 1377ایکڑ اراضی  ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لئے الاٹ کی ،یہاں انیجینئرنگ اینڈ ٹیکنکل یونیورسٹیز قائم ہے، علاوہ ازیں گلشن حدید قائم کرنے کیلئے بھی اراضی حاصل کی گئی تھی، گلشن حدید میں نہ صرف پاکستان اسٹیل کے ملازم آباد ہیں بلکہ ایسے لوگ بھی آباد ہیں جن کا پاکستان اسٹیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزید برآں پاکستان اسٹیل کی اراضی پر اسٹیل کیڈٹ کالج سمیت متعدد تعلیمی ادارے قائم ہے، اس اراضی پر کر کٹ اور ہاکی کے معیاری اسٹیڈیم  اور ایک تھری اسٹار ہوٹل بھی قائم کیا گیا ہے۔ 

 اس ضمن میں رابطہ کرنے پر سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے پاکستان اسٹیل کی اراضی پر وفاقی حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے کے منصوبہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تو وفاقی حکومت پاکستان کے سب سے بڑے اور قومی اہمیت کے ادارے پاکستان اسٹیل کو تباہ کر کے اس کے ہزاروں ملازمین کو بیروزگار کر رہی ہے، تو دوسری طرف سندھ کی اراضی پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکن  اس فیصلے کے خلاف مزاحمت کرینگے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پی پی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی پاکستان اسٹیل ملز کے ساتھ جذباتی وابستگی ہے، کیونکہ قومی اہمیت اور افادیت کے حامل ملک کے سب سے بڑے صنعتی ادارے کو پیپلز پارٹی کے بانی چیئر میںیہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں قائم کیا گیا تھا۔ اسی پس منظر میں سعید غنی کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی حکومت اسٹیل ملز کو چلانا نہیں چاہتی ہے، تو وہ اسے سندھ حکومت کے حوالے کردے، سندھ حکومت اسے چلائیگی اور محنت کشوں کو بیروزگار بھی نہیں ہونے دے گی۔ سعید غنی یہ بھی بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی زمین کو لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ مجریہ 1984کے تحت سندھ حکومت کی جانب سے الاٹ کی گئی تھی، ریکارڈ کے مطابق یہ اراضی آپریشنل مقاصد کے تحت الاٹ کی گئی تھی، اور اس ایکٹ کے تحت اگر یہ اراضی کسی اور مقصد کیلئے استعمال کی گئی تو سندھ حکومت اسے واپس لے سکتی ہے۔  بیرسٹر مرتضٰے وہاب نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اگر پاکستان اسٹیل ملز کی اراضی کو اگر آپریشنل کے بجائے کسی اور مقصد کیلئے استعمال کیا گیا تو سندھ حکومت وفاق کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔  پاکستان اسٹیل کی اراضی کے حوالے ایک اور موقف یو سی  18کے سابق چیئرمین عبدالستار جوکھیو کا  موقف سامنے آتا ہے ، انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اسٹیل کے احاطے میں واقع 5000ہزار ایکڑ اراضی علاقہ مکینوں نے اسٹیل ملز کے قیام کے وقت فروخت کی تھی، عبدالستار جوکھیو کے مطابق دیہ جوریجی، دیہ کوٹریو، دیہہ پیپری، دیہہ سنہارو اور دیہہ بارکھان کے مکینوں نے اپنی اراضی پاکستان اسٹیل کی انتظامیہ کو فروخت کی تھی۔ اس حوالے بعض اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں میں ان علاقوں کے بعض مکینوں نے الزام لگایا ہے، کہ انہوں نے 1973میں اسٹیل ملز کی انتظامیہ کو جو زمین فروخت کی تھی، اس کی قیمت بار بار یاد دہانیوں کے باوجود اب تک ادا نہیں کی گئی ہے۔ جبکہ پاکستان اسٹیل ملز کے ترجمان کا موقف ہے کہ مذکورہ علاقوں کے مکینوں کی جانب سے لگائے جانے والے من گھڑت اور جھوٹے ہیں، پاکستان اسٹیل انتظامیہ نے یہ اراضی سندھ حکومت اور پرائیویٹ پارٹیز سے خریدی تھی، جس کی ادائیگی بھی قانون کے مطابق کی جا چکی ہے ۔

 پاکستان اسٹیل کی اراضی کے حوالے سے تاریخی جائزہ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سندھ حکومت  اس اراضی کو پاکستان اسٹیل ملز کی انتظامیہ کو فروخت کر چکی ہے، اور اب یہ اراضی سندھ حکومت کی نہیں بلکہ پاکستان اسٹیل کی ملکیت ہے۔ جبکہ پاکستان اسٹیل وفاقی وزارت پیداوار کا ایک ماتحت ادارہ ہے،سندھ کے صوبائی وزراء اور سینیٹر رضا اربانی سمیت دیگر پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات میں بھی اسے سندھ حکومت کی ملکیت نہیں کہا گیا ہے، ان کے بیانات کے تجزیہ سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ صوبائی وزراء کا موقف  میں زمین کی ملکیت کا زکر نہیں کیا جارہا ہے، بلکہ کہا یہ جارہا ہے کہ زمین  لینڈ ایکیوزیشن ایکٹ کے تحت آپریشنل مقاصد کیلئے الاٹ کی گئی تھی ، اسے اسی مقصد کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے، زمین کا مقصد تبدیل کرنا ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، اور اس خلاف ورزی پرقانونی چارہ جوئی کی جا سکتی ہے، شاید اسی پس منظر میں صوبائی وزیر سعید غنی اور صوبائی مشیر بیسٹر مرتضیٰ وہاب وفاق کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی بات کر رہے ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر