Cold War, Fifth Generation Warfare
22 دسمبر 2020 (12:22) 2020-12-22

"ففتھ جنریشن وار فیئر" کا تذکرہ ان دنوں کچھ زیادہ ہی ہونے لگا ہے۔ کچھ دن قبل پاک فوج کے ترجمان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ بھارت "ففتھ جنریشن وار فیئر" کے تحت پاکستان اور پاک فوج کے خلاف معاندانہ سرگرمیاں اور منفی پراپیگنڈہ زور شور سے جاری رکھے ہوئے ہے۔ سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے غلط معلومات اور جھوٹی خبریں شئیر اور پوسٹ کی جاتی ہیں۔ اس طرح "ففتھ جنریشن وار فیئر" ہمارے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ "ففتھ جنریشن وار فیئر" کا بطور ایک چیلنج تذکرہ سامنے آیا تو میرا خیال کولڈ وار (سرد جنگ) کے دنوں کی طرف چلا گیاکہ ایک زمانہ میں (پچھلی صدی کے پچاس، ساٹھ اور ستر کے عشروں میں بطورِ خاص) امریکہ اور سوویت یونین (روس) کے درمیان جاری کولڈ وار (سرد جنگ) کا سلسلہ ہمارے لیے ایک حقیقی خطرے کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ بظاہر کولڈ وار یا سرد جنگ کا یہ معاملہ اس وقت کی دنیا کی دو سُپر پاورز امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان چل رہا تھالیکن امریکی بلاک جس میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ مغربی یورپ اور پاکستان سمیت ایشیا کے کئی ممالک شامل تھے اور دوسری طرف روسی بلاک جس میں سوویت یونین (USSR) کے ساتھ مشرقی یورپ اور ایشیا کے بھی کئی ممالک اس میں پوری طرح شریک اور حصہ دار تھے۔ اس طرح پاکستان امریکی بلاک کا ایک اہم ملک ہونے کی بنا پر روسی بلاک کی طرف سے اکثر تنقید کا نشانہ ہی نہیں بنا رہتا تھا بلکہ سوویت یونین نے اسے اپنی ہٹ لسٹ پر بھی رکھا ہوا تھا۔ سوویت یونین کے اس دور کے وزیرِ اعظم خروشتحیف نے پاکستان کو دھمکی دے رکھی تھی کہ اس نے نقشے پر پاکستان کے شہر پشاور کو سُرخ دائرہ لگا رکھا ہے اور سوویت یونین اس کو کسی وقت بھی اپنا نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس دھمکی کی وجہ کیا بنی اس کا ذکر آگے چل کر آئے گا ۔ پہلے ذرا وضاحت ہو جائے کہ"ففتھ جنریشن وار فیئر" کیا ہے اور کولڈ وار یا سرد جنگ جس کا تذکرہ ان دنوں کم ہی سننے میں آتا ہے۔ اس سے کیا مراد لی جا سکتی ہے؟

میرے خیال میں "ففتھ جنریشن وار فیئر" کا سادہ لفظوں میں یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ متحارب ممالک کے درمیان فوجیں اور روائتی اسلحے کے ڈھیر آمنے سامنے نہ ہوں لیکن اس کے باوجود وہ ممالک ایک دوسرے کو سیاسی ، معاشی ، دفاعی، عسکری اور سفارتی غرضیکہ ہر شعبے اور ہر محاذ پر ہر ممکن نقصان پہنچانے کے در پے ہوں۔ جس کے لیے غلط معلومات ، افواہ سازی ، دشمن ملک کے ریاستی اداروں اور اہم عہدیداروں کے بارے میں جھوٹی خبریں پھیلانے اور مخالف ملک کے اندر شورشوں اور بدامنی کو ہوا دینے کے حربوں سے کام لیا جائے اور اس کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جدید ترین ذرائع جن میں سوشل میڈیا ، انٹرنیٹ، وٹس ایپ گروپ اور ان پر بنائے جانے والے جعلی اکاؤنٹس وغیرہ شامل ہیں کو استعمال میں لایا جائے۔ اس طرح منفی پراپیگنڈے کے بل بوتے پر دشمن یا متحارب ملک میں بے یقینی کی فضا کو پروان چڑھا کر اسے کمزور کرنے اور عدم استحکام سے دوچار کرنے میں کامیابی حاصل کی جائے۔ 

موجودہ دور میں "ففتھ جنریشن وار فیئر" کو کس حد تک استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے ذریعے کون سے نتائج حاصل کیے جا رہے ہیں اس کے لیے غیر جانبدار ادارے ای یوڈِس انفو لیب (یورپی یونین ڈِس انفو لیب) کی چند دن قبل سامنے آنے والی تحقیقاتی رپورٹ ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے کہ کس طرح بھارت پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈے اور جھوٹی خبریں پھیلانے کی 

مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے وہ کس طرح "ففتھ جنریشن وار فیئر" سے کام لے رہا ہے۔ ای یوڈس انفو لیب کی تحقیقات کے مطابق بھارت نے پاکستا ن میں عدمِ استحکام پیدا کرنے اور پراپیگنڈہ مہم کے لیے 750جعلی میڈیا کی تنظیمیں بنائیں۔ منفی پراپیگنڈہ کے لیے یو این او کو استعمال کیا اور یورپی یونین کو استعمال کرنے کی کوشش کی۔ گلگت بلتستان اور بلوچستان کے نام پر جھوٹی خبریں چلائیں۔ یورپی پارلیمانی وفد سے مختلف اخبارات میں من پسند آرٹیکلز لکھوائے، جعلی این جی اوز، ویب سائٹس، تھنک ٹینک اور شخصیات کو استعمال کیا۔ پاکستان کے خلاف جعلی لیٹر ہیڈ استعمال کئے۔ بی بی سی کی تصاویر لے کر پاکستان کے خلاف مہم چلائی گئی۔ یورپی یونین کے نام سے جعلی آن لائن، میگزین ویب سائٹس بنائیں اور ان کی فنڈنگ کی۔ بھارت نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ فوت شدہ افراد کے نام بھی پاکستان کے خلاف پراپیگنڈے کے لیے استعمال کئے۔ 

یورپی یونین ڈِس انفو لیب کی تحقیقات کے مطابق سامنے آنے والی بھارت کی پاکستان کے خلاف جھوٹی خبریں اور منفی پراپیگنڈے کو پھیلانے کی اس مہم کو بلا شبہ بھارت کے پاکستان کے خلاف "ففتھ جنریشن وار فیئر" کا نتیجہ گردانا جا سکتا ہے یا اس کو ہائیبریڈ وار کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ یہ "ففتھ جنریشن وار فیئر" یا ہائی بریڈ وار آگے چل کر کیا روپ اختیار کرتی ہے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اتنی بات واضح ہے کہ اس میں مزید شدت ہی نہیں آئے گی بلکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نت نئے ذرائع اور حربوں کو استعمال میں لانے کی ہر ممکن کوشش بھی ہوگئی۔ اس طرح آنے والے دور میں صحیح معلومات اور سچی خبروں کو ڈھونڈنا اور سامنے لانا یقینا مشکل تر ہو جائے گا۔ 

"ففتھ جنریشن وار فیئر" کے استعمال اور اثرات کے اس ہوشربا تذکرے کے بعد واپس کولڈ وار یا سرد جنگ کی طرف آتے ہیں۔ جیسا اوپر کہا گیا ہے پچھلی صدی کی پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائیاں بالخصوص پچاس اور اس کے ساتھ ساٹھ کی دہائی کا نصف اول کولڈ وار یا سرد جنگ کے عروج کا زمانہ تھا۔ اس کے حوالے سے بہت ساری باتیںاور واقعات میرے ذہن کے نہاںخانے میں موجود ہیں لیکن ان سب کا ایک کالم میں ذکر کرنا ممکن نہیں تاہم چند باتوں یا واقعات کا ذکر کرتے ہیں۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سوویت یونین(روس) دو بڑی عالمی طاقتیں (سُپر پاور) ابھریں اس طرح ان دونوں عالمی طاقتوں کے زیرِ اثر امریکی اور روسی بلاک وجود میں آئے ۔ نیٹو اور وارسا پیکٹ کے اس دور میں معاہدے ہوئے۔ نیٹو (NATO) امریکی بلاک کے یورپی ممالک کا معاہدہ جس کا ہیڈ کوارٹر برسلز بلجیئم میں ہے اس وقت تک قائم ہے۔ وارسا پیکٹ روسی بلاک میں شامل مشرقی یورپ کے ممالک کا معاہدہ جو پچھلی صدی کے نوّے کے عشرے میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ختم ہو چکا ہے۔ کولڈ وار کے عروج کے زمانے میں امریکہ میں پہلے آئزن آور اور بعد میں جان ایف کینیڈی صدر تھے ۔ سوویت یونین میں دوسری جنگِ عظیم اور اس کے بعد پہلے سٹالن برسرِ اقتدار رہا اور 1953میں اس کی موت کے بعد خروشچیف کا وہاں اقتدار شروع ہوا۔خروشچیف اکثر امریکہ اور امریکی بلاک کے ممالک کو خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتا رہتا تھا۔ پاکستان امریکی بلاک کا ایک اہم ملک ہونے کے ناتے اکثر خروشچیف کی طرف سے دی جانے والے دھمکیوں کا نشانہ بنا رہتا تھا۔ کولڈ وارکے اس دور میں آئی ٹی نے اتنی ترقی نہیں کی تھی البتہ اسلحے کی دوڑ ، نمائش اور ایک دوسرے کے خلاف منفی پراپیگنڈے کی مہم خوب زور شور سے جاری ر ہی۔ امریکہ اور سوویت یونین ایک دوسرے کو دھمکیاں دیتے رہتے تھے۔ اور دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف بین البراعظمی میزائل بھی Installکر رکھے تھے۔ کیوبا جو جنوبی بحر اوقیانوس میں امریکہ کے قریب واقع ہے وہاں سوویت یونین نے1963میں میزائل نصب کئے۔ تو امریکی صدر کینیڈی نے الٹی میٹم دیا کہ میزائل ہٹا دیئے جائیں ورنہ امریکہ حملہ کر دے گا۔ خروشچیف دھمکیاں دیتے ہوئے میزائل ہٹائے جانے پر مجبور ہو گیا۔ پچاس کے عشرے میں سوویت یونین یا روسی بلاک کے خلاف امریکہ کی ایما پر سیٹو اور سینٹو (SEATO)اور (CENTO)کے معاہدے بھی ہوئے جن میں پاکستان بھی شامل تھا۔ پاکستان کو اس شمولیت کی بنا پر اگرچہ بڑی مقدار میں جدید ترین امریکی اسلحہ ملا لیکن پاکستان کو اس کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ پاکستان نے امریکہ کو بڈھ بیر پشاور میں فوجی اڈا قائم کرنے کی اجازت دے رکھی تھی جہاں سے امریکی U-2جاسوس طیارے سوویت یونین میں جاسوسی کے لیے پروازیں کیا کرتے تھے۔ غالباً مئی 1961ء کی بات ہے کہ روس نے اپنی فضائی حدود کے اندر پرواز کرتا ہوا ایک امریکی U-2جاسوس طیارہ مار گرایا اور اس کے پائیلٹ فرانسس پاور کو زندہ گرفتار کر لیا۔ یہی موقع تھا جب خروشچیف نے پاکستان کو یہ دھمکی دی کہ اس نے نقشے پر پشاور کے گرد لال دائرہ لگا دیا ہے اور آئندہ کوئی امریکی جاسوس طیارہ اس کی حدود میں داخل ہوا تو وہ پشاور کو اپنے میزائلوں سے نیست و نابود کر دے گا۔ کولڈ وار کے دنوں میں امریکی اور روسی بلاک کے ممالک کا ایک دوسرے کے خلاف منفی پراپیگنڈہ بھی زور و شور سے جاری رہا۔ اس کی تفصیل آئندہ کسی کالم میں۔


ای پیپر