PDM, historic jalsa, Lahore, severe cold
22 دسمبر 2020 (12:10) 2020-12-22

تف! ایسی قیادت اور رہنمائی پر جو سورج کے سوا نیزے پہ آجانے کو بھی رات کی تاریکی بیان کرے اور گھٹا ٹوپ اندھیروں کو اجالا قرار دے، پی ڈی ایم لاہور کا جلسہ 6/7 ڈگری سردی میں 12 دسمبر کی رات سے 13 دسمبر کی رات لوگوں کا لاکھوں کی تعداد میں اپنی اپنی قیادتوں کو سننا تاریخی واقعہ ہے۔ ا س کا عمران خان کے جلسے موازنہ کرنا ظلم اور نا انصافی ہے۔ وہ موسمی اعتبار اور بندوبست کے لحاظ سے مختلف تھا، جس میں ریاستی قوت نے بھرپور ساتھ دیا اور ایک عرصہ کے بعد بندوں سے زیادہ جھنڈوں کا جلسہ تھا، جس کو ٹی وی پر لائیو کوریج دی گئی اور باقاعدہ میلے ٹھیلے کا رجحان بنایا گیا۔ جہاں تک محترمہ بے نظیر بھٹو کا تعلق ہے، اُن کے جلسے میں اس سے کہیں بڑے بڑے سیکڑوں جلوس شامل ہوئے تھے جبکہ ملک کی آبادی 9 کروڑ تھی۔ بہرحال لاہور کا جلسہ شرکاء کے اعتبار سے ان گنت تھا کیونکہ یہ محض مینار پاکستان جہاں مینار سے کھڑے ہو کر دیکھیں تو بسیں کھلونے اور انسان بوزنے نظر آتے ہیں۔ ڈرون کیمرہ ویو سے لوگوں کا جم غفیر اور اس پر حکومتی وزراء کا کورس کی صورت میں دوپہر سے ہی راگ الاپنا کہ جلسہ ناکام ہے ناقابل فہم ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اس کے شرکاء صرف مینار پاکستان نہیں پوری دنیا میں موجود تھے حتیٰ کہ فردوس عاشق اعوان ڈپٹی کمشنر لاہور کے دفتر درجنوں بڑی سکرینوں پر جلسہ دیکھنے گئیں اور ان کو خوش کرنے کے لیے سہ پہر کے منظر دکھائے گئے۔ امریکہ سے مجھے روحانی شخصیت محترمہ تسنیم مالک کا فون آیا کہ آصف بھائی جلسہ خوب جما ہے۔ اس سردی میں جب لوگ ذاتی کام تو درکنار دوا لینے بھی گھروں سے نہ نکلے۔ گویا یہ جلسہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا پر براہ راست اور بعد میں کروڑوں نہیں اربوں لوگوں نے سنا، سمجھا اور اس پر یقین کیا۔ 

ایک رہنما کی تقریر تو لوگوں کو یاد رہتی ہے یہ واحد جلسہ ہے جس کے ہر رہنما اور مقرر کی تقریر کے ایک ایک لفظ کو سامعین نے ازبر رکھا اور کئی بار دہرایا۔ تجزیہ کاروں نے تجزیے کئے،تنقید وتعریف ہوئی جبکہ دوسری جانب عمران خان ’’منتخب‘‘ وزیراعظم سمیت لوگ ٹی وی سکرین پر ان کی پوری بات نہیں سنتے چینل بدل دیتے ہیں۔ کون زندگی کی قیمتی ساعتیں ان کے جھوٹ سننے میں ضائع کرے۔  حکومت ہے کہ روزانہ آئینہ دیکھنے والے کی طرح 

اپنے خدوخال میں ہو چکی تبدیلی محسوس نہیں کررہی۔ خدوخال اور کشش کھنڈرات کی کہانی بن چکی ہیں۔ اتنا جھوٹ اتنا جھوٹ اللہ پناہ لہٰذا قارئین آج سیاست کو چھوڑیے جناب حکیم محمد اجمل خانؒ کی طرف سے کھانے کی ایک دعوت میں شریک ہوتے ہیں،اخلاق احمد دہلوی رقم کرتے ہیں کہ ’’میرے والد نے مجھے بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ شریف منزل کے دستر خوان پر بچے نظر آئے ہیں، پتہ نہیں آج حکیم صاحب کی کیا مصلحت ہے؟ اور وہ مصلحت جب کھلی جب دستر خوان چنا گیا پہلے تو سلفچیاں اور آفتابے لیے ملازم آئے اور انہوں نے سب مہمانوں کے بیسن سے ہاتھ دھلوائے نیچے کی نشست تھی اور سب آلتی پالتی مارے دستر خوان کے اطراف میں بیٹھے تھے۔ یوں معلوم ہو ا کہ کھانے کی دعوت نہیں کسی مشاعرے کی محفل ہے۔ سب سے پہلے تو دو چاندی کی طشتریاں آ گئیں اور دستر خوان کے بیچوں بیچ رکھ دی گئیں۔ ان طشتریوں میں سے ایک میں زردہ تھا اور ایک میں بالائی۔ سب حیران تھے کہ پچاس آدمیوں میں یہ ایک ایک طشتری زردے اور بالائی کی کیا ہو گی۔ 

حکیم اجمل خانؒ اتنی دھیمی آواز میں بولتے تھے کہ نسخہ لکھواتے وقت پاس بیٹھا ہوا مریض بھی ان کی آواز نہیں سن سکتا تھا۔ صرف نسخہ لکھنے والے ہی ان کی آواز سنتے تھے اور ان کی بات سمجھ سکتے تھے مگر اس روز بآواز بلند مجھ (اخلاق احمد دہلوی) سے مخاطب ہوئے اور کہا میاں صاحبزادے ایک تو تم ابھی بچے ہو اور دوسرے بیماری سے اُٹھ کر آئے ہو۔ یہ سب تو بڑے ہیں اور سب باتیں سمجھتے ہیں اور پھر ماشاء اللہ لکھنؤ سے تشریف لائے ہیں جہاں عام طور پر دعوتوں میں لوگ یا تو گھروں سے کھانا لے جاتے ہیں اور دعوتوں کا کھانا صرف چھو کر چلے جاتے ہیں۔ تو یہ جو زردہ اور بالائی تم ان دو طشتریوں میں دستر خوان کے بیچ میں دیکھ رہے ہو یہ زردرے اور بالائی کا کشتہ ہے۔ یہ ایک من چاولوں کا زردہ ہے اور من بھر دودھ کی بالائی ہے۔ اسے چھونے سے ہی تمہارا پیٹ بھر جائے گا۔ آدھے چمچے سے بھی کم ہر چیز لینا ورنہ خون آنے لگے گا۔ اس طرح کے کھانے قلعے (شاہی قلعے میں شہنشاہوں کے باورچی خانوں میں) میں تیار ہوتے تھے جس کی نقل میں لوگ تکلفاً کھانے کو چھو کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دلی کے لال قلعے میں لوگ تکلف کی وجہ سے کھانا کم نہیں کھاتے تھے بلکہ کھانے ہوتے ہی ایسے تھے کہ ان کی زیادہ مقدار ضروری نہیں ہوتی تھی۔ 

حکیم صاحب کی اس تقریر کے بعد ملازم سفید برف سے خانپوشوں سے ڈھکے ہوئے ایک ایک چاندی کی تھالی میں ایک ایک پرانٹھا لائے جو نہ پرانٹھا تھا، نہ شیر مال، نہ باقر خانی، نہ روغنی روٹی جس کا دل ایک چائے کی پیالی کے برابر تھا اور قطر عام شیر مال یا میدے کے پرانٹھے سے کچھ بڑا۔ سب سے پہلے حکیم صاحب نے خود ایک پرانٹھے کا پرت اوپر کا اتارا اور سارا دالان جواب تک مہمانوں کے کپڑوں کے عطرسے مہک رہا تھا، مشک ، عنبر اور زعفران کی خوشبو سے معطر ہو گیا۔ حکیم صاحب کی نقل میں سب مہمانوں نے بھی ان کی طرح اوپر کا پرت اس پرانٹھے کا اتارا اور دیکھا کہ اس پرت کے نیچے خانے سے بنے ہوئے ہیں اور ایک خانے میں قورمہ ہے۔ ایک میں بھنا ہوا مرغ اور ایک میں تلی ہوئی مچھلی اور ایک خانے میں نرگسی کوفتے۔ یہ تو تھے سالن کے خانے جو اس پرانٹھے کے پرت کے نیچے آدھے حصے میں تھے۔ باقی کے آدھے حصے میں بریانی تھی اور یہ سب کھانا ملا کر اس ایک جادو کی روٹی میں کوئی چار آدمیوں کے لیے تھا۔ اس روغنی روٹی کے ہر خانے میں سے مشک، عنبر اور زعفران کی لپٹیں آ رہی تھیں۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کس ترکیب سے کس تنور میں کس نانبائی نے یہ پرانٹھا سینکا ہو گا اور کیسے یہ اتنی وضع کے سالن اور بریانی اس ہنر مندی سے خانے بنا کر اس میں رکھے۔ روٹی یا نان کی جتنی قسمیں ممکن ہیں ان میں سے یہ کوئی قسم نہیں تھی۔ مہمان حیران تھے کہ اس ایک پرانٹھے کے پرت سے جو چار پانچ روغنی نان کے برابر تھا، کیسے یہ سب سالن کھائے جائیں اور کسی سے بھی یہ سب کچھ باوجود بے حد لذیذ ہونے کے پورا نہ کھایا جا سکا۔ معلوم ہوا یہ سالن جو اس پرانٹھے کے ہر خانے میں تھے اس طرح پکائے گئے تھے کہ اگر انہیں سال بھر رکھ لو تو یہ سوکھ سکتے ہیں، سڑ نہیں سکتے اور ایسے زود ہضم کہ بیماری سے اٹھے ہوئے مریض بھی اگر یہ کھالیں تو کوئی نقصان نہ ہو، مرغن ہونے کے باوجود‘‘۔ آج سیاست میں گھس بیٹھی بے ہنگم گندگی کی وجہ سے دل چاہا کہ نئے پاکستان میں پرانے ہندوستان کے کسی بزرگ کو یاد کیا جائے جس کی حکمت کے سامنے آج کے ڈاکٹر ، علماء ، دانشور، زعما، اور اشرافیہ کے علمبردار ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ چھوڑیے سیاست کو دعوت سے لطف اندوز ہو لیجیے۔


ای پیپر