میرے مُولامجھے بُھولنے نہ دینا 
22 دسمبر 2020 2020-12-22

قارئین کرام، آج اپنی تحریر کی ابتدا ممدوح یزداں کی ایک حدیث سے کرتے ہیں، رسول پاک نے فرمایا، اے لوگوتواضع ، انکساری اختیار کرو، جو بھی انسان اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے عاجزی اختیارکرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا رتبہ بلند فرما دیتا ہے۔ وہ اپنی نظر میں معمولی ہوتا ہے، جبکہ لوگوں کی نگاہ میں غیر معمولی ہو جاتا ہے اور جب کوئی انسان تکبر کرتا ہے، تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کو ذلیل کردیتا ہے، وہ اپنی نظر میں عظیم ہوتا ہے، جب کہ لوگوں کی نظر میں حقیر ہوتا ہے، یہاں تک وہ کتے اور سورسے بھی زیادہ حقیر ہوجاتا ہے، (مشکوٰة باب الغضب)

تواضع کہتے ہیں خاطر تواضع اور مہمان نوازی کو، مہمانوں کے بارے میں تو حکم ہے کہ تواضع کے ساتھ ساتھ اس کی تعظیم وتکریم کا بھی خیال رکھا جائے، حتیٰ کہ ان کی خاطر تواضع ، کی خاطر اگر ادھار بھی لینا پڑے، تو دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ مہمان کو بھی تاکید کی گئی ہے، کہ وہ اس امر کا خیال رکھے، کہ وہ کسی کے ہاں تین دن سے زیادہ مہمان نہ رہے ، تین دن سے زیادہ اگر رہنا پڑ جائے، تو وہ اپنا خرچ کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ حکومت وقت کے ساتھ ساتھ ہرہم وطن کا فرض ہے کہ وہ مہاجرین اور انصار والی مواخذات واخوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست مدینہ کے ہرلحاظ سے مثبت کردار کو ابھارے۔ اس حوالے سے ریاست مدینہ کے بانی حضرت محمد مصطفیٰ نے جو ابتداءکی تھی، اور حضرت عمرؓ کے دور میں وہ پہلی اسلامی فلاحی ریاست بن گئی تھی، مگرافسوس ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی اسلامی ریاست اس کی مکمل تقلید نہ کرسکی، اس ضمن میں فلاحی ریاست کا تصور کسی حدتک ریاست کویت میں کئی سال تک دکھائی دیتا ہے مگر اس سے یہ حق سیکنڈے نیوین ملک نے اپنے وطن میں حضرت عمرؓ کے قوانین ریاست کے نفاذ کرکے چھین لیا ہے حیرت ہے کہ ناروے، سویڈن وغیرہ اس وقت زیروبم ہوتی عالمی قوتوں کے باوجود وہ فلاحی ریاست کا مکمل نقشہ پیش کرتی ہیں۔ کیا کبھی چین اور کبھی دوسرے ممالک کی مثالیں دینے والے اس حقیقت ارضی سے لاعلم ہیں، کہ ہم بھی ان کی نقالی کرتے ہوئے اپنے آپ کو ابھی تک کیوں نہیں سدھار سکے؟

 آج کل پورے وطن میں گیس اور مہنگائی کا جو بحران ہے، اور غریب ومفلس کے بعد اب سفید پوش طبقہ بھی جان وتن کا رشتہ بحال کرنے میں تن من کی بازی لگائے دکھائی دیتا ہے، حتیٰ کہ اب کروڑوں اور اربوں پتی لوگ بھی کوسنے دیتے سرعام نظر آتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت وطن عزیز مکمل زبوں حالی کا نقشہ پیش کرتا دکھائی دیتا ہے، سوائے ہماری عسکری قیادت کے، اس میں ایک واضح خوبی جو ہرایک ادارے کو اپنانی چاہیے وہ ہے اس کی تنظیم واتحاد پر سختی سے عملدرآمد کرنا، جواوپر سے لے کر نیچے جوانوں تک یکسر لاگو ہوتی ہے، اور پھر وہ سختی سے اس نظریے اور بیانیے پر متحد ہوجاتے ہیں، حضرت عمرؓ سے پہلے فوج کا کوئی محکمہ باقاعدہ طورپر موجود نہیں تھا، حضرت عمرؓ نے ولید بن ہشام کے مشورے سے محکمہ فوج کا باقاعدہ ایک منظم ادارہ قائم کیا، اس سے قبل تو حکومت وقت اعلان جہاد کرکے مجاہدین جو بلاکسی مراعات ومعاوضے کے اسلام کی خاطر اکٹھے ہوجاتے تھے مگر حضرت عمرؓ نے ان کی تنخواہ مقرر کردی، انہوں نے فوج کو دوحصوں میں تقسیم کردیا تھا، ایک فوج جو ہروقت محاذ جنگ پر رہتی تھی، دوسری فوج رضاکار تھی، جو بوقت ضرورت طلب کرلی جاتی تھی، قارئین کرام میں نے اس وقت عسکری اداروں کے قیام کا ذکر محض ثواب دارین کے لیے کیا ہے، کیونکہ سرحدوں کے علاوہ، اندرونی حالات ”تغیروتبدل“ اور آفات ارضی وسماوی میں وہ اپنے ہم وطنوں کے اکثر کام آتی ہے، اور بعض اوقات ہمارے ملک میں بدقسمتی سے آفات کا دورانیہ ایک دہائی پہ بھی محیط ہوجاتا ہے۔ 

بہرحال میں ذکر کررہا تھا کہ ہرشہری کو ہرایک کی مدد کرنی چاہیے ،چاہے وہ ظالم وہ چاہے مظلوم، چاہے وہ مفلس ونادار ہو یا مرد بیمار ان کی خدمت کرنے سے انسان کو بھولنا نہیں چاہیے، اس حوالے سے یہ فریضہ محض ایدھی یا چھیپافاﺅنڈیشن کا نہیں، بلکہ ہرایک کو دوسرے کی مدد محض اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا کیلئے دل وجان سے کرنی چاہیے اور اس کی ابتداءہمیں اپنے گھر سے کرنی چاہیے، آئے دن اخبارات میں آج کل ہمیں دیکھنے کو ملتا ہے، کہ ایک پڑھی لکھی اور بظاہر مہذب خاتون نے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ مل کر اپنی ملازمہ پر بے پناہ تشدد کیا، کیا اس حوالے سے ہم خوش نصیب نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ملازم رکھنے کی استطاعت نصیب فرمائی، لہٰذا ہمیں انہیں وہ کھلانا چاہیے، جو ہم خود کھاتے ہیں، ہمیں انہیں وہ پہنانا چاہیے، جو ہم خود پہنتے ہیں۔ 

ایک خاص بات جو ہمارے ذہن میں آتی ہے کہ ہمیں جب بھی اللہ تعالیٰ کسی کی خدمت یا مدد کرنے کی توفیق دے، تو اس سے نہ تو مطلب رکھنا چاہیے، نہ ہمارے ذہن میں کوئی غرض ہونی چاہیے بلکہ جو مستحق آپ کے احسان کا بدلہ مثبت کی بجائے منفی انداز میںدے تو اس سے زیادہ حسن سلوک کرنا چاہیے، کیونکہ اس کا اجرت وثواب تو اوپر والا دیتا ہے، جس کی خاطر آپ نے یہ احسان کیا، بس آپ کو تو صرف یہ دعا کرنی چاہیے، کہ 

مولا، میرے مولا مجھے بُھولنے نہ دینا 

یہ یقین یہ لگن مجھے بھولنے نہ دینا

 جب اندھیروں سے ڈر گیا تھا یہ زمانہ

 جب چھوڑ دیا زندگی نے شورمچانا

 ان مشکلوں کے پل میں مجھے پیار نظر آیا

 ہم بھٹکے ہوئے دلوں کو مل گیا نیا ٹھکانہ 


ای پیپر