لمحہ لمحہ بگڑتی صورتحال
22 دسمبر 2019 2019-12-22

مولانا کے 13 روزہ دھرنے کے آفٹر شاکس ہیں یا سیاست کی جھیل میں حالات کے گلیشیئر گر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کے راستے بتدریج بند ہوتے جا رہے ہیں۔ تصادم اور بحران کے خطرات بڑھ گئے۔ سیاست کی جھیل پہلے بھی ساکت نہیں تھی ارد گرد سے پتھر گر رہے تھے جن سے وقتی طور پر ارتعاش کی کیفیت نمایاں تھی لیکن گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران عدلیہ کے دو فیصلوں نے گلیشئر کا کام کیا ہے۔ ذاتی مفادات کی سیاست، تعصبات کی آگ بھڑک اٹھی ہے، اک شور قیامت ہے کہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ سارے وزیر مشیر، درجنوں ترجمان اداروں میں تصادم کے ڈھول پیٹنے لگے ہیں’’ سب ایک پیج پر ہیں‘‘ کے بلند بانگ دعوے کیا ہوئے؟ دو فیصلوں سے ہی بھرم ٹوٹ گیا؟ حاضر آرمی چیف اور سابق آرمی چیف سے متعلق فیصلوں کے بعد حکومت کو نئے چیلنجز کا سامنا لیکن ان سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت اور صلاحیت مفقود ،عدلیہ کو نشانہ بنانے کی تیاریاں، ریٹائر ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جاتے جاتے گھنائونی سازش اور مذموم مہم کی نشاندہی کی کہا کہ ’’تم اپنی کرنی کر گزرو جو ہوگا دیکھا جائے گا‘‘ فیصلے کرتے وقت شیر کا دل اور لوہے کے اعصاب ہونے چاہیں، آنے والے چیف جسٹس گلزار احمد نے بھی دو ٹوک اعلان کیا کہ آئین کا تحفظ، قانون کی بالا دستی اور عدلیہ کی آزادی اہم، مستقبل میں بھی وقار کے ساتھ ان چیلنجز کا مقابلہ کریں گے، اداروں میں تصادم کے بینڈ باجے بجانے کے بعد سیانوں نے کہنا شروع کردیا کہ حکومت کی گاڑی ایک پہیہ پر چل رہی ہے کب تک چلے گی؟ سپریم کورٹ نے موجودہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیا، علی الاعلان کہا کہ 6 ماہ کے دوران قانون سازی کریں ورنہ نیا آرمی چیف لانا ہوگا، قانون سازی کیسے ہوگی؟ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے کام نہیں چلے گا پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت نہیں، دس بارہ ارکان کی بیساکھیوں کے سہارے چلنے والی حکومت بل کیسے منظور کرائے گی۔ اپوزیشن کو گلے لگانا ہوگا۔ لیکن بقول فیصل واوڈا اپوزیشن کی شکل دیکھنا نہیں چاہتے، نہ دیکھیں، چوروں، لٹیروں اور ڈاکوئوں کا راگ الاپتے رہیں اور ایک پہیہ پر سفر جاری رکھیں جب تک گاڑی چلتی ہے چلائیں جہاں اونچا بریکر آگیا مشکل پیش آئے گی۔ ابھی سے خدشات سر اٹھا رہے ہیں کہ 6 ماہ بعد بھی قانون سازی نہیں ہوسکے گی۔ تب کیا ہوگا جو ہوگا اس کے تدارک کے لیے دوسرا فیصلہ آ گیا۔ سابق آرمی چیف، چیف ایگزیکٹیو اور سابق صدر پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزائے موت سنا دی گئی۔ بقول ایک سینئر صحافی اور تجزیہ کار عدالتی تاریخ کے اس بڑے فیصلے کے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، 72 سال بعد تاریخی فیصلہ آیا ہے۔ جنرل (ر) پرویز مشرف نے دو دفعہ آئین توڑا ۔ 12 اکتوبر 1999ء کو وزیر اعظم نواز شریف کی منتخب حکومت کا تختہ الٹا ۔آسمان سے نازل ہوئے اور زمین پر اترتے ہی وزیر اعظم کو گرفتار کرلیا۔ وزیر اعظم ہائی جیکنگ کیس میں سزائے موت ہوتے ہوتے بچے دوبار عمر قید، اپیل پر ایک بار عمر قید ، 6 ماہ سیلن زدہ کوٹھڑی میں قید بکتر بند گاڑیوں میں کراچی کی سڑکوں پر گھمایا ایٹمی دھماکے کرنے والے کو نشان عبرت بنا دیا۔ مگر اس سارے اقدام کو بعد ازاں اپنی پارلیمنٹ کے ذریعے 17 ویں ترمیم کی صورت میںآئینی تحفظ دے دیا گیا۔ قصور کس کا تھا۔ پارلیمنٹ کا یا آرمی چیف کا؟ تاریخ میں سب کچھ درج ہے۔ 3 نومبر 2007ء کو مقننہ کے بعد عدلیہ پر حملہ کیا گیا، آئین معطل، ایمرجنسی ڈیکلیئر، 60 ججوں کو بر طرف کردیا گیا۔ چیف جسٹس کو استعفیٰ پر مجبور کیا گیا ،گھنٹوں بٹھایا گیا۔ نہ مانے تونظر بند کردیے گئے، تکلیف دہ واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔ وکلا کی تحریک چلی، چلتی رہی، فیصلہ نواز شریف کے لاہور سے لانگ مارچ پر ہوا۔ لاکھوں افراد کی ریلی گوجرانوالہ ہی پہنچی تھی کہ جج بحال اور عدلیہ آزاد ہوگئی۔ یہی وزیراعظم بعد میں نشانہ ستم بنا یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ تاحیات نا اہل ہو کر بستر پر پڑا ہے پیپلز پارٹی اپنے دور حکومت میں پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ دائر نہ کرسکی۔ قربانیاں دینے والے شہید ہوگئے تھے آنے والے کھپے کھپے کے نعرے لگاتے ہوئے اپنے راستے کے کانٹے ہٹاتے رہے۔ سابق آرمی چیف اور مستعفیٰ صدر کو گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا گیا۔ ن لیگ کی حکومت میں مقدمہ درج ہوا۔ سپریم کورٹ نے سماعت منظور کرلی، یہ پہلا پتھر تھا خصوصی عدالت کی 6 بار تشکیل نو ہوئی 125 سماعتیں، 6 سال مقدمہ چلا، مشرف بیمار ہو کر دبئی جا بسے۔ لوگ وہیں جا کر عیادت کرتے اور وفاداریوں کا اظہار کرتے رہے۔ خصوصی عدالت نے بار بار بلایا نہ آئے مفروراور اشتہاری قرار دیے گئے کوئی اثر نہ ہوا۔ عدلیہ نے فیصلہ سنا دیا، دو ججوں نے سزائے موت دی ایک نے اختلاف کیا۔ حکومت مدعی تھی منصنف بھی بن بیٹھی، فیصلے پر معترض، ایک جج جسٹس وقار احمد سیٹھ کے پیراگراف پر سیخ پا، ذہنی توازن خراب ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ، چینل ٹاک شوز سے بھر گئے میت کی بے حرمتی پر طاہر اشرفی جیسے بے ضرر علما کے فتوے آگئے کسی نے نہ پوچھا کہ فیصلہ پر عملدرآمد کہاں ہو رہا ہے۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں اپیل کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے بقول بیرسٹر علی ظفر ملزم یا مجرم کا سرنڈر ضروری، آنے کا امکان نہیں، انٹر پول پہلے ہی واپسی سے انکار کرچکی۔ اقوام متحدہ سزائے موت کی مخالف، پہلا رد عمل جذباتی دکھ کے جذبات سے بھرپور لیکن تفصیلی فیصلہ آنے پر مدبرانہ جذبات کا اظہار لیکن سیانوں نے کہا کہ رد عمل میں جذباتیت اور عجلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ فوری رد عمل سامنے نہ آتا تو شاید اچھا ہوتا، اداروں میں تصادم کے ڈھول نہ بجنے لگتے۔ وزیر مشیر بر ملا کہہ اٹھے کہ تصادم سے بچنے کے لیے ڈائیلاگ ضروری ہیں۔ ڈائیلاگ کون کرائے گا؟ وزیر اعظم کو فرصت نہیں، 8 گھنٹے وفود سے ملاقاتیں، ترجمانوں کو بریفنگ، اپوزیشن کو دبائے رکھنے کے ڈیجیٹل طریقوں پر بریفنگ، باقی وقت میں اپوزیشن کو صلواتیں سنانے اور مقدمات بنوانے ہی میں دن رات گزر رہے ہیں۔ عدالتی فیصلہ کی حیثیت علامتی، شور کیوں مچایا جا رہا ہے؟ جمہوریت کے استحکام کے لیے حفاظتی بند باندھے جا رہے ہیں۔ یہ کام عدلیہ نے کردیا ہے تو کیا برا ہے جو پیرا قابل اعتراض ہے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کر کے دانش مندی سے اسے حذف کرا دیا جائے پرویز مشرف کو ریٹائرڈ ہوئے 12 سال بیت گئے وہ آرمی چیف سے زیادہ سیاست دان اور ایک پارٹی کے سربراہ ہیں۔ سیاستدان چاہیں تو ان کی غلطیاں معاف کردیں، فضا میں لہرائے مکے بھول جائیں مگر معاف کیجیے بعض ’’کارنامے‘‘ ناقابل فراموش ہیں پوری تاریخ بھری پڑی ہے، ایک ٹیلیفون پر سرنڈر، روس سے جہاد کرنے والے سارے جنتی 2000ء کے بعد جہنمی بنا دیے گئے، دہشت گردی اور خود کش حملوں کا آغاز ہوا۔ 70 ہزار پاکستانی بشمول پانچ سے دس ہزار بہادر فوجی جوان شہیدہوئے، 150 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا، نصابی کتب سے جہاد کی آیات خارج، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی سر عام تذلیل، جامعہ حفصہ پر بمباری طلبہ و طالبات راکھ کا ڈھیر، راکھ کے اس ڈھیر سے ابھی تک بخاری مسلم اور ابن ماجہ کے جلے اوراق نکلتے ہیں عافیہ صدیقی جیسی پاکستانی بیٹی کو ڈالروں کے عوض امریکا کے حوالے کرنے جیسے بے شمار جرائم ناقابل فراموش ہیں۔ ان سب کو بھلا دیا گیا ہے تو اس قوم کی مرضی، فیصلہ ہے یا کوئی ڈرائونی فلم کہ اس کی 3 لائنوں نے پورے پاکستان کو ہلا بلکہ دہلا دیا ہے، خوف بول رہا ہے جو ٹی وی چینلوں سے نکل کر سڑکوں پر آگیا ہے۔ وزیروں مشیروں اور حلیفوں کے اندر کا خوف بیانات کی شکل میں لاوا بن کر بہہ نکلا ہے، کہنے لگے پوری قوم سزا کی مخالف ،قوم کہاں ہے؟ وہ تو حضرت قائد اعظم کے دور میں تھی ملک بنتے ہی قوم غائب اب تو قومیتیں ہیں ہر شخص کے اپنے لات منات ہیں جنہیں وہ کعبہ دل میں سجائے ان کی پرستش میں مصروف ہے ہم بت فروش ہیں بت شکن نہیں، اسی بت فروشی میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر فردا ہیں۔ شاید آسمان دنیا سے من و سلویٰ اترے اور ہمارے حالات سدھر جائیں، ہمیں سدھرنے کی ضرورت نہیں۔ حالات ہیں کہ مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں، حوالے کے لیے منجم اعلیٰ شیخ رشید کی سنیے جو ملک کی فکر میں موٹے ہوئے جا رہے ہیںارشاد فرمایا کہ ملک کے حالات خراب ہوتے دیکھ رہا ہوں، یہ نہیں بتایا کہ حالات خراب کون کر رہا ہے۔ دل کی بات بتا دیں تو بیروزگار ہونے کا خطرہ ہے۔ خود آگ جلانے بلکہ لگانے میں ماہر ہیں حالانکہ جانتے ہیں کہ ’’لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں۔ یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے ‘‘۔کون سمجھائے کہ ایک پہیہ پر گاڑی چلنا مشکل ہوگی۔ اپنے ’’بڑوں‘‘ کو سمجھائیں کہ جن کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں ان کے تعاون سے پارلیمنٹ کو مضبوط اور با اختیار ادارہ بنا کر قانون سازی کریں کرپشن فارمولا موثر نہیں رہا، عوام کی اکثریت اس پر اعتبار نہیں کرتی، موثر ہوتا تو 15ماہ میں اربوں روپے قومی خزانے میں آچکے ہوتے۔ مسئلہ مشکل نہیں مشکل بنا دیا گیا ہے۔ جہاں تک مشرف کے فیصلے کا تعلق ہے اس پر عملدرآمد نہیں ہوگا۔ اسے تاریخ کا حصہ بننے دیں برطانیہ کی تاریخ میں ایک ہی بار 3 سو سال پہلے مارشل لاء لگا تھا عوام کا ایسا خوفناک رد عمل سامنے آیا کہ جمہوریت 3سو سال سے جاری ہے۔ ایسی جمہوریت جس کے لیے کسی تحریری آئین کی بھی حاجت محسوس نہیںکی گئی۔


ای پیپر