بحرانی کیفیت سے کیسے بچا جائے؟
22 دسمبر 2019 2019-12-22

سابق مرد آہن جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے نے ملک میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کر دی۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کو سزا سنانے والے معزز جج کے خلاف انتہائی زہریلی پروپیگنڈہ مہم شروع ہو گئی۔ ہمارے کئی اینکرز دانشوروں، تجزیہ نگاروں اور سیاستدانوں کو اچانک یاد آ گیا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے ہمارے ملک پر کتنے احسانات ہیں۔ کئی سابق وزراء اور ماہرین کے تو سر شرم سے جھک گئے حالانکہ وہ سر اٹھا کر بڑے فخر سے آئین توڑنے والے اور جمہوریت کو دیس نکالا دینے والے آمروں کی کابینہ میں وزیر بن جاتے ہیں۔ آئین کو معطل یا منسوخ کر کے اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر کے ملک میں ’’حقیقی جمہوریت‘‘۔ آئینی حکمرانی اور قانون کی بالادستی قائم کر دی جاتی ہے۔ ہمیں چار بار حقیقی جمہوریت کا سبق پڑھایا گیا۔ ہمیں یہ بتانے کی پوری کوشش کی گئی کہ قانون وہ نہیں ہوتا جو قانون کی کتابوں میں لکھا ہوتا ہے یا ملک میں رائج ہوتا ہے بلکہ قانون وہ ہوتا ہے جو کسی طاقتور آمر کی خواہش ہو۔ اس کا مفاد ہو۔ وہ سب کچھ آئین اور قانون ہوتا ہے جو کچھ بھی آمریت کو دوام دینے اور جمہوری قوتوں کو کمزور کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔

انہوں نے ہمیں یہ سمجھانے اور سکھانے کی پوری کوشش کی ہے کہ اگر ملک میں اداروں کے درمیان ہم آہنگی چاہیے۔ اگر بحرانی کیفیت سے بچنا ہے تو پھر وہ کرو جو طاقتوروں کی خواہش یا مرضی ہو۔ ان کے مفادات کے راستے میں آنے کی اور روڑے اٹکانے کی کوشش مت کرو۔ یہ بھول جاؤ کہ قانون یا آئین کیا کہتا ہے جو کہا جائے وہ کرو۔ جو وہ سوچتے ہیں وہی قومی مفاد ہے۔ ان کے علاوہ جو کوئی بھی سوچتا ہے وہ ملک میں انتشار پھیلانے کا سبب بنتا ہے۔ قومی سلامتی کا تقاضا یہی ہے کہ ان کی بالادستی اور غلبے کو حتمی سچ اور حقیقت مان کر خاموشی اختیار کرو۔ جب بھی آئین اور قانون کی بالادستی اور حکمرانی کی بات ہو گی تو اس سے انتشار اور بحرانی کیفیت پیدا ہو گی مگر کوئی نہ کوئی گستاخ سامنے آ جاتا ہے اور معاملہ خراب ہو جاتا ہے۔ ہم لوگ اتنے کوڑ مغز ہیں کہ ہمیں شیخ رشید جیسے داناؤں کی بات بھی سمجھ میں نہیں آتی جنہوں نے کل ارشاد فرمایا ہے کہ فوج نے 3 بار جمہوریت کو بچایا ہے مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جمہوریت کو خطرہ کس سے تھا اور کون جمہوریت کے خاتمے کے در پے تھا۔ اگر وہ یہ بتا دیتے تو ہمارے جیسے کم عقلوں کو بھی سمجھنے میں آسانی ہو جاتی اور یہ نشان دہی بھی ہو جاتی کہ کون اس ملک میں آئینی حکمرانی اور جمہوری نظام کو لپیٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شیخ رشید نے یہ بھی فرمایا کہ تمام سیاستدان GHQ کے گیٹ نمبر 4 کی پیداوار ہیں اور GHQکے گملوں میں پلے بڑے ہیں۔ شیخ صاحب نے یہ تو فرما دیا کہ گیٹ نمبر 4 تو اب بند ہو گیا ہے مگر گملوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ تمام سیاستدان فوج کی نرسری کی پیداوار ہیں۔ شیخ صاحب سے اتنی عرض ہے کہ GHQ کے گملوں اور نرسری کی مٹی اور کھاد تبدیل کروا لیں کیونکہ یہ سارے بدعنوان سیاستدان اور بدعنوان جمہوریت وہیں سے پروان چڑھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ گملوں کی مٹی تبدیل کرنے سے اور کھاد کی نئی قسم استعمال کرنے سے ایسی سیاسی قیادت پروان چڑھے جو قومی سلامتی کے تقاضوں کو بھی سمجھتی ہو اور ایماندار بھی ہو۔ ان گملوں میں ایسی ادویات کا سپرے کیا جائے کہ ان میں جنم لینے والے پودے گستاخ نہ ہونے پائیں۔ ان کو ایسے انجکشن لگانے کی بھی ضرورت ہے کہ ان کے دماغوں میں بغاوت کے جراثیم پروان نہ چڑھیں۔ وہ آزادانہ سیاست کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ان کے اندر خود مختاری حاصل کرنے کی خواہش جنم نہ لے تا کہ بحرانی کیفیت پیدا نہ ہو۔ اس معاملے میں برطانوی سامراج سے سیکھا جا سکتا ہے جن کی نرسری میں پروان چڑھنے والے حکمران طبقات آخر تک ان کے فرمانبردار رہے۔ شاید ہی ان کی نرسریوں میں پروان چڑھنے والے جاگیرداروں، افسر شاہی اور دیگر حکمران گروہوں نے باغیانہ روش اختیار کی ہو اور خود کو ہی اصل حکمران سمجھ لیا ہو۔ شیخ صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اپنے زرخیز ذہن کو استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے کا حل ڈھونڈیں تا کہ ملک کو درست سمت میں گامزن رکھا جا سکے اور اس باغیانہ روش سے نجات حاصل کی جا سکے جو ہر 10 سال کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی اور استحکام کے سفر کو روک دیتی ہے۔ اداروں کے درمیان موجود مثالی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ جمہوریت کی بحالی کا درد ہمیں اس شدت سے اٹھتا ہے کہ ساری محنت اکارت ہو جاتی ہے اور ساری حاصلات ضائع ہو جاتی ہیں۔ لوگوں کے دل و دماغ پر ایسا سپرے کرنے کی ضرورت ہے جو جمہوریت کی بحالی کی سوچ۔ آئین اور قانون کے تصورات کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے تا کہ اس ملک میں ترقی اور خوشحالی کا ایک ایسا سفر شروع ہو سکے جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔ ہماری معیشت مسلسل اتنی بلند شرح سے ترقی کرے کہ دنیا کے باقی ممالک حسرت سے ہماری طرف دیکھیں۔ نوکریوں کی برسات ہو۔ ہر چہرہ خوشحالی اور خوشی سے سرشار ہو اور دمک رہا ہو۔ اتنا سب کچھ حاصل کرنے کے لیے محض بدعنوان جمہوریت اور آئین کی قربانی ہی تو دینی ہے اور یہ کونسی بڑی قربانی ہے۔ آخر ہر چیز کی کوئی نہ کوئی قیمت ہوتی ہے۔ اداروں کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لیے اور ملکی استحکام کے لیے اگر آئین کے کسی آرٹیکل اور قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اسے برداشت کرنا چاہیے نہ کہ آسمان کو سر پر اٹھا لینا چاہیے۔ ہم پتا نہیں کس ڈھیٹ مٹی سے بنے ہیں کہ ہمیں بنیادی چیزوں کی سمجھ ابھی تک نہیں آتی۔ پہلے تو ہمیں صدیوں تک بادشاہوں نے یہ تواتر کے ساتھ اطاعت اور فرمانبرداری کا سبق پڑھایا۔ اس کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہم وحشیوں کو مہذب بنانے کی کوشش کی مگر مسلسل بغاوت پر آمادہ رہے۔ اس کے بعد تاج برطانیہ نے ہمیں 90 سال تک طاقت کی اخلاقیات اور زبان سمجھانے کی کوشش کی مگر ہم نے ان کا احسان ماننے سے انکار کرتے ہوئے ان سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

صدیوں کی ان کوششوں کا یہ نتیجہ تو ضرور نکلا ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد کو یہ سمجھ آ گئی کہ وہ رعایا ہیں۔ برابر کے شہری نہیں۔ طاقتور آقا جس حال میں رکھیں اسی حال میں خوش رہنا ہے مگر اس کے باوجود گستاخوں کی بھی معقول تعداد موجود ہے جو بالادستی اور غلبے کے فلسفے اور فکر کے تحت اداروں کی ہم آہنگی کو متاثر کرتے رہتے ہیں اور آئین اور قانون کے دائرے میں اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود وہ پاکستان کو ایک نارمل ریاست بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ لگتا ہے یہ کشمکش ابھی جاری رہے گی۔


ای پیپر