عدالتی فیصلے کا بھو نچا ل
22 دسمبر 2019 2019-12-22

پاک فوج کے سابق سپہ سالار ، جنر ل ر یٹا ئرڈپر و یز مشر ف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دے کر سزائے موت سنانا، کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے۔ اس پر پاک فوج کا جو رد عمل سا منے آ یا ہے،اْسے کسی طو ر بھی نظر اندا ز کر نا ممکن نہیں۔خصو صاًجج و قا ر سیٹھ کے سخت الفا ظ نے پا کستا ن کی عد التی تا ریخ میں ایک بحرا نی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ یہی وہ و جہ ہے جس کی بناء پر ملکی حالات نے زبردست کروٹ بدلی ہے۔ دو دن میں اہم اور غیرمعمولی عدالتی فیصلوں نے قوم کے اعصاب جھنجھوڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ ملک کے دا نشور حلقے حالات کی تپش کو شدت سے محسوس کررہے ہیں اور انتہائی پریشان ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سیاست، پارلیمان ، قومی سلامتی کے امور، سماجی رویوں اور طرزِ حکمرانی نے ایک جھرجھری سی لی ہے۔ سب ایک خواب سے بیدار ہوئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کچھ انہونی ہوگئی ہے۔ انتہائی حساس معاملات پر نئے سرے سے بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہورہا ہے۔ زمینی حقائق اور آئینی حساسیت سے متعلق مسائل اور ایشوز سے لاعلمی اور بے خبری کا برفانی تودہ جسد سیاست پر اچانک گر پڑا ہے، جبکہ عدالتی فیصلوں اور اس پر پاک فوج کے رد عمل نے حالات کی سنگینی کا اشارہ دیا ہے۔ اُدھر بے سمت سیاست دانوں کو ایک نئے چیلنج کے سا منے لا کھڑا کیا ہے۔ پر نٹ اور الیکٹر و نک میڈیا میں بحث مبا حثہ کے نئے ابوا ب کھل چکے ہیں۔ عدلیہ نے بلاشبہ اہم فیصلے دئیے ہیں لیکن ملکی حالات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا بھی فاضل جج صاحبان کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ اب ا یسالگتا ہے کہ پاکستان کے دو ادارے آمنے سامنے آگئے ہیں جو کسی صورت میں ملک و قوم کے مفاد میں نہیں ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو قومی زندگی میں ان دو عدالتی فیصلوں کے اثرات و مضمرات انتہائی دور رَس بلکہ خطرناک نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔ وطن عزیز جس قسم کے خطرات اور چیلنجز سے دوچار ہے، ان سے پاک فوج اور عزت مآب جج صاحبان یقینی طور پر پوری طرح آگاہ ہیں۔ دشمن طاقتیں پاکستان کی وحدت کے درپے ہیں اور ان کی یہ کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان کے معتبر اور قابل عزت اداروں کو باہم دست و گریبان کرکے ان کی بے توقیری کی جائے۔ پاکستان کے خلاف دشمن کی سازشوں کو ہی ففتھ جنریشن وار کہا جاتا ہے۔ کسی بھی ریاست کو متحد رکھنے کی ذمہ داری اس کی فوج ہوتی ہے۔ فوج ہے تو ریاست قائم ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں القاعدہ اور طالبان کا کتنا بڑا خطرہ درپیش تھا۔ اس خطرے کو پاک فوج کے سوا کوئی شکست نہیں دے سکتا تھا بلکہ دیکھا جائے تو بعض جج صاحبان بھی دہشت گردوں کا کیس سننے سے انکاری تھے۔ ایسے حالات میں اگر عدلیہ کو پاک فوج سپورٹ نہ ہوتی تو وہ کبھی جرأت مندانہ فیصلے نہ دے سکتی۔ اس لیے قومیں اپنی افواج کے بارے میں کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے پہلے ہزار بار سوچتی ہیں۔ بہرحال جس طرح فوج ریاست کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے بچانے کا فریضہ ادا کرتی ہے۔ اسی طرح عدلیہ بھی کسی ریاست کا ایسا ستون ہے کہ اگر یہ ستون گرجائے تو ریاست میں بے انصافی کا دور دورہ ہوجائے اور معاشرہ طاقتوروں اور جرائم پیشہ گروہوں کے زیرنگیں ہوجائے۔ اس لیے عدلیہ کو آزاد رکھنے کا عہد بھی ریاست ہی کرتی ہے۔ ہمیں ملک اور خطے کو درپیش خطرات و ہولناک حقائق کی روشنی میں سیاسی بحرانوں، ملکی معیشت کی دگرگوں صورتحال، آئینی معاملات، سیاسی تنائو، سیکورٹی چیلنجز، جمہوریت کے سفر کو درپیش مشکلات کاادراک کرنا چاہیے۔ ملک ایک غیرمعمولی تبدیلی اور اس کے سنگین اثرات سے دوچار ہے۔ صورتحال چشم کشا ہے۔ خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس نومبر 2013ء میں سابق حکمران جماعت کا موقف ہے کہ پرویز مشرف کو سنا ہی نہیں گیا تو ان کے خلاف فیصلہ نہیں دیا جاسکتا۔ اسی دوران پاک فوج نے اس فیصلے کے حوالے سے اپنا شدید رد عمل ظاہر کیا۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے پیر کو آرمی چیف توسیع کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی کہ پارلیمینٹ میں سادہ قانون سازی (ایکٹ آف پارلیمنٹ) کے ذریعے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی مدت کا تعین کرے۔ اس فیصلے پر دا نشو ر حلقے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ایک روایت کو قانون کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاست اور ادارہ جاتی اختیارات شتر بے مہار ہورہے ہیں، بے سمتی اور محاذ آرائی کی کوئی حد ہی نہیں ہے۔ عدالتی فیصلوں سے سب کو اندازہ ہوا ہے کہ آئین میں ابہام و سقوم کی نشاندہی ہونی چاہیے۔ ماضی میں اعلیٰ عدلیہ نے آمریت کے حق میں فیصلے بھی دیئے ہیں، اس جانب بھی نظر ڈالی جانی چاہیے۔ ملک آج جس حالت کو پہنچا، اس میں کسی ایک ادارے کو کلی طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ویسے بھی یہ نقطہ بھی قابل غور ہونا چاہیے کہ کیا منقسم فیصلے میں کسی جرم کو کیپٹل پنشمنٹ دینا انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ عدالتی فیصلوں پر ہم کچھ نہیں کہیں گے، البتہ یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ اس وقت عدلیہ اور فوج آمنے سامنے آگئے ہیں اور یہ صورتحال ملک و قوم کے لیے کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ ہمارے پارلیمنٹیرینز حالات کو مثبت سمت میں لے جانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اگر ہمارے پارلیمنٹیرینز تدبر، زیرکی اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرتے تو شاید آج حالات مختلف ہوتے اور ملک کے دو ریاستی ستون آمنے سامنے نہ آتے۔ بہرحال ہم سب کے لیے ملک کی سلامتی عزیز ہونی چاہیے۔ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں جبکہ ادارے قائم رہتے ہیں۔ خاکم بدہن اگر اداروں میں چپقلش اور تصادم شروع ہوجائے تو ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے اور پاکستان کا دشمن یہی چاہتا ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا اور ضرورت یہ ہے کہ دشمن کے عزائم کو شکست دی جائے، ہوش مندی اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کیا جائے۔ پاکستان کے خلاف د شمن ففتھ جنریشن وار لڑ رہا ہے، طاقتور اداروں کو دشمن کی چالوں کو سمجھنا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاک فوج پاکستان کی بقا اور سلامتی کی ضمانت ہے۔ دشمن طاق لگائے بیٹھا ہے، اس کی کوشش ہے کہ پاک فوج کو نقصان پہنچایا جائے۔ اگر خدانخواستہ پاک فوج کو نقصان پہنچا تو پھر اس ملک کا مستقبل کیا ہوگا، اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم سب کو حقائق کی دنیا میں رہنا چاہیے۔ پاک فوج اور عدلیہ پاکستان کی عزت و شان ہیں، ان کے درمیان کسی قسم کی غلط فہمی یا محاذ آرائی اس ریاست کے مستقبل کو تاریک کرسکتی ہے۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ انصاف کرتے ہوئے بھی ملک اور قوم کی بقا اور سلامتی کے سوال کو مدنظر رکھا جانا چاہیے، یہی وقت کا تقاضا اور شاید تاریخ کا سبق بھی ہے۔


ای پیپر