پاک افغان دو طرفہ تجارت، چند گزارشات
22 دسمبر 2019 2019-12-22

پاکستان اور افغانستان دو مسلمان پڑوسی ممالک ہیں ۔ تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور لسانی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ان دو ممالک کی بیشتر قدریں مشترک ہیں لیکن بد قسمتی سے سیاسی طور پر ان دونوں ممالک کے درمیان حالات ہمیشہ سے کشیدہ رہے ہیں۔اسکی وجوہات کیا ہیں، یہ یہاں پر موضوع بحث نہیں ہیں لیکن تاریخی اعتبار سے خطے میں حالات و واقعات کی ترتیب کچھ اس طرح رہی جس سے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب آنے کا موقع کم ہی ملا۔اورایک دوسرے پر اعتماد کے اس فقدان میںغیر ریاستی عناصر کو موقع ملا کہ اپنے شدت پسند عزائیم کو آگے بڑھائیں اور خطے کو دہشت گردی کی نذر کریں۔ لیکن خوش قسمتی سے اب اس جنگ زدہ خطے میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ایک طرف نئے ضم شدہ اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کے فیصلہ کن آپریشن ضرب عضب کی بدولت دہشت گردوں کا صفایا ہوگیا تو دوسری طرف سر حد کے اس پار افغانستان میں بھی بڑی سیاسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔امریکہ افغانستان میں موجود اپنے فوجیوں کو واپس بلاکر اس طویل ترین جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ امریکہ اپنے تیرہ ہزار فوجیوں میں سے تقریبا چار ہزار افواج کو واپس بلا کر۱۸ سال پر محیط اس جنگ کے خاتمے کا پہلے ہی اعلان کرچکی ہے۔ افغانستان میں صدارتی انتخابات کے نتیجے میں نئی قیادت ابھر کر سامنے آئیگی تو طالبان کے ساتھ مجوزہ امن معاہدے کے نتیجے میں طالبان قیادت کو پابند کیا جائیگا کہ وہ ملک میں جاری شدت پسندی کی لہر کو ختم کرکے حکومت کے ساتھ باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ ملک میں پائیدار امن کے قیام کیلئے مشترکہ کوشیں جاری رکھیں۔افغانستان کے اندر امن کے قیام سے یقینادونوں ممالک کے درمیان اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔جس سے دونوں ممالک کے عوام کو بھر پور فائدہ ہوگا۔ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے رواں سال ستمبر میں تاریخی طورخم ٹرمینل کا افتتاح کیا۔ طورم خم بارڈر کو ۲۴ گھنٹے کھلا رکھنے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط بڑھانا ہے۔۲۰۱۰ اور ۲۰۱۱ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تقریبا ڈھائی ارب ڈالر کی تجارت ہواکرتی تھی جو کہ بعد میں کم ہوکر ۵۰۰ ملین ڈالر رہ گئی۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اس تجارت کو سالانہ تقریبا ۸۰۰۰ ارب روپے تک بڑھایا جاسکتا ہے۔ یہ یقینا ایک قابل عمل ہدف ہے لیکن اس کے لئے دونوں ممالک کو خلوص کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ نئے ضم شدہ اضلاع میں وافر مقدار میں قدرتی ذخائر موجود ہیں۔ جس میں زمرد اورسونابھی شامل ہے۔ مہمند میں دنیا کا بہترین ماربل موجود ہے،درہ آدم خیل اور کرم کے پہاڑ کوئلے سے بھرے پڑے ہیں، شمالی وزیرستان کا جیپسم پوری دنیا میں مشہور ہے اور خصوصی طور پر مغربی دنیا میں اسکی ایک الگ پہچان ہے۔ ہمارے پاس اگر کمی ہے تو جدید ترین ٹیکنالوجی کی تاکہ سائنسی بنیادوں پر ان قدرتی ذخائر کو نکال کر باہر کی منڈیوں تک لے جایا جاسکے۔ظاہر ہے مارکیٹ تک رسائی کیلئے ایک کمیونیکیشن نیٹ ورک اور ٹرانسپورٹ کا بہترین نظام چاہئے۔ اور ان سب کوممکن بنانے کیلے خطے میں پائیدار امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔جنوبی وزیرستان میں پیدا ہونے والی سبزیاں اور پھل اکثر اوقات خراب سیکیورٹی حالات کی وجہ سے گل سڑکر خراب ہوجاتے ہیں جس سے ہر سال وہاں کے عوام کو کروڑوں کا نقصان اٹھانا پرٹاہے۔اسی طرح پاک افغان سرحد پر روازانہ کروڑوں کی تجارت ہوتی ہے۔ یہ تجارت گاہے بہ گاہے دونوں مماک کے درمیان سیا سی کشیدگی کی وجہ سے بند ہوجاتی ہے جس سے نقصان صرف اور صرف دونوں ممالک کے عوام کا ہوتا ہے۔

پاکستان نے طورخم بارڈر کو ۲۴ گھنٹے کھلا رکھنے کا اعلان تو کیا لیکن اب بھی بہت سارے مسائل حل طلب ہیں۔ سرحد کے دونوں اطراف بجلی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف تاجروں بلکہ کسٹم کے عملے کو بھی مشکلات درپیش ہیں۔ چار بجے سولر سسٹم بند ہوجاتی ہے جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں کل کے انتطار میں رات کو صبح کرتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہر روز تقریبا ۱۰۰۰ سے ۱۵۰۰ گاڑیاں دونوں اطراف سے سرحد کو پار کرتی ہیں۔ یہ ان ہزارون مسافروں کے علاوہ ہیں جو ہر روز دونوںجانب سے سرحد کراس کرتے ہیں۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے انٹرنیٹ کی سہولت بھی ناپید ہے۔ مسافروں اور تاجروں کی آمدورفت کو آسان بنانے کیلئے ٹرمینل پر بجلی کی سہولیات بہم پہنچائی جائیں، تاجروں کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹروں کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔۔اکثر تاجر اور ٹرانسپورٹرز کسٹم عملے سے شکایت کرتے ہیں کہ بغیر رشوت کے کام نہیں کرتے۔مزار شریف سے لاہور جاتے ہوئے تقریبا ۱۲ چیک پوسٹیں ہیں ۔ افغان حکا م کو شکایت رہی ہے کہ طورخم بارڈر کو ۲۴ گھنٹے کھلا رکھنے کا پاکستانی اقدام یک طرفہ تھا اور اس سلسلے میں انکو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ حکومت کو چاہئے کہ اس مسئلے پر افغان حکام سے بات کریں اور انکے شکایات کا ازالہ کریں۔ دونوں ممالک کے متعلقہ حکام باہمی طور پر اس مسلئے کا حل نکالیں کہ ویزے کے حصول میں ٓآسانی کیسے پیدا کی جائے ۔ اس سلسلے میں ایک تجویز یہ ہے کہ تاجروں کو ویزا آن ارائیول دیا جائے ، دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مقامی تاجروں کیلئے تاجر راہداری کارڈ بنا یا جائے۔ کسٹم اور دیگر متعلقہ عملے کیلئے رہائشی بستیان تعمیر کی جائیں تاکہ حکام ۲۴ گھنٹے اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں اور کام کو بلا تا خیر نمٹاسکیں۔ کام کو جلد نمٹانے کی خاطرتاجروں اور دوسرے مسافروں کیلئے الگ الگ ٹرمینل تعمیر کئے جائیں۔پاکستانی اشیاء کے اعتبار سے افغانستان بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ دنیا کے ساتھ افغانستان کی تجارت کا حجم ۹ بلین ڈالر ہے۔ لیکن پاکستان میں سکیورٹی حالات کی وجہ سے اکثر و بیشتر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راستے بند کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے افغان تجار دوسرے ممالک کے ساتھ تجارت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف کسٹم ڈیوٹی بہت زیادہ ہے۔ پاکستانی حکام کو اس حوالے سے تاجر برادری کے شکایات کو مد نظر رکھنا ہوگا۔ پاک افغان دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کیلئے کسٹم ڈیوٹی اورایمپورٹ ٹیرف کم کرنا ہونگے۔ تجارت ہوگی تو روزگار بڑھے گا، روزگار بڑھے گا تو خوشحالی آئیگی اور لوگ خوش ہونگے تو امن ہوگا ۔


ای پیپر