جرم
22 دسمبر 2019 2019-12-22

خصوصی عدالت کے ایک فیصلہ سے سماج میں نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے یہ اس سزا سے متعلق ہے جو سابق سپہ سالار اورصدر مملکت کو آئین پاکستان کی معطلی کے تناظر میں سنائی گئی ہے۔ہماری تاریخ میں اس نوع کا پہلا عدالتی حکم نامہ ہے اس لیے غیر متوقع دکھائی دے رہا ہے اور کچھ اداروں میں غم وغصہ بھی پایا جاتا ہے،موصوف جن کو سزائے موت سنائی گئی ہے وہ حالت مرگ پے مگر بیرون ملک دستیاب ہیں، قانونی طور پے تو آئین توڑنے کی یہی سزا ہے۔

اس فیصلہ نے ہم کو ماضی میں لاکھڑا کیا یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہماری سرکار دہشت گردی کی نام نہاد جنگ لڑنے میں امریکہ بہادر کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، ڈرون حملوں کی آمدورفت ہماری سرزمین پے ہوائی جہازوں کی طرح تھی جس کی زد میں بہت سے بے گناہ لوگ آئے، ان میں ایک خاندان پشاور سے ملحقہ علاقہ کا بھی تھا جس کی حالت زار کو بین الاقوامی میڈیا نے بھی رپورٹ کیا تھا اس کے مطابق یہ بدقسمت خاندان چند افراد پے مشتمل تھا، بزرگ والدین کے علاوہ انکا ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی، لڑکا کراچی ملازمت کرتا تھا گھر میں گائے، بھینس اور بکری تھی یہ کنبہ کچے مکان میں رہتا تھا جس طرح ہر ماں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بیٹے کے سر پے سہرا دیکھے انکی بھی یہ آرزو تھی اللہ تعالی نے اس گھرانے کو یہ دن دکھا دیا، ماں چاند سی بہو گھر لے آئی، ایک روز یہ سب ہنسی خوشی گھر میں بیٹھے تھے کہ اچانک ایک بڑا گولہ ان کے اوپر گرا کہ ان کا بیٹا ان کے سامنے تڑپ تڑپ کے ملک عدم سدھار گیا بہو معذور ہوگئی، جانور مرگئے،بعد ازاں بچے کھچے افراد پشاور شفٹ ہو گئے وہ خواتین جنہوں نے گھر سے باہر قدم نہ رکھا تھا دوسروں کے گھر کام کرنے پے مجبور تھیں،کرایہ پے گھر لے محنت مزدوری سے بسر اوقات کرنے لگے۔

اس زمانے میں دینی مدارس کے حوالہ سے سرکار بڑے تحفظات رکھتی ان کا تعلق ان گروہوں سے جوڑتی تھی جو انکل سام کے خلاف بر سر پیکار تھے، مدارس میں زیر تعلیم بچوں کے والدین کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ معصوم بچوں کے خلاف اتنا زہر مقتدر طبقات کے ذہنوں میں بھرا ہے ورنہ وہ کبھی بھی اپنے بچوں کو مدارس نہ بھجواتے، تاہم انھیں کامل یقین تھا کہ انسانیت جتنی بھی گر جائے وہ بچوں پے ظلم نہیں کر سکتی پھر وہ بچے جو قرآن کی تعلیم میں مصروف عمل ہوں، لیکن ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے اس عہد کا حکمران ٹولہ والدین کی بجائے اپنے اتحادیوں کی توقعات پے پورا اترا ،مدرسہ کے صحن میں زیر تعلیم بچوں پے ڈرون سے حملہ کیا گیا،اپنے معصوم بچوں کو مدرسہ روانہ کرنے والی مائوں کا اندازہ نہ تھا کہ وہ انکو آخری بار حفظ قرآن کے لئے بھیج رہی ہیں اگر انھیں ذرا بھی شائبہ ہوتا کہ آج مدرسہ پے ڈرون حملہ ہونا ہے تو وہ انکو بھلا جانے دیتیں،چشم فلک نے ان معصوم حفاظ کو ڈرون حملے کا ایندھن بنتے دیکھا،کیا یہ سارے کے سارے مجرم تھے؟ نجانے باجوڑ کے ان 80 خاندانوں کو کیسے قرار آیا ہوگا، جسد خاکی کو دیکھ کران کی مائیں کس حال میں تھیں خود کو اس مقام پے ایک لمحہ لے کھڑا کر کے دیکھیں ،نہتے بچوں کو آخر کس جرم کی سزا دی گئی کیا انکا قصور یہ تھا کہ وہ قبائلی علاقہ کے مکین تھے۔کیا وہ اس ریاست کے شہری نہ تھے، ان کے بھی کوئی حقوق تھے، اس سرزمین کے لیے ان کے والدین کی کوئی خدمات نہ تھیں۔یہ کونسا دشمن کے بچے تھے۔ ہماری تاریخ کا یہ بدترین حملہ تھا جو کسی دینی مدرسہ پے ہوا جس میں بڑی تعداد میں حفاظ کرام نے جام شہادت نوش فرمایا۔

اس سے بڑھ کر ایک اور المیہ یہ بھی ہوا کہ ہماری مسلح فورس، جو ان علاقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی ، جس کے ایک حکم ابرو پے قبائلی جان دینے کو تیار ہوتے تھے ان کے درمیان یہ خود کو غیر محفوظ خیال کرنے لگی بھاری بھر سکیورٹی کے بغیر علاقہ میں اس کا گشت کرنا محال ہو گیا اس سے محبت کرنے والوں کے مابین اسکو دہشت کی علامت بنا کر قبیح جرم کیا گیا،ہماری وہ سرحد جو تاریخ میں ہمیشہ مضبوط اور محفوظ تصور کی جاتی تھی سب سے زیادہ خطرناک قرار دی جانے لگی،مقامی آبادیوں سے اجنبیوں کی طرح سلوک نے ان میں احساس محرومی پیدا کر دیا انکو محب وطن سے گرا کر مجرموں کی صف میں لا کھڑا کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ ہمارے جوان بھی دہشت گردی کی اس نام نہاد جنگ کے کام آے جن کا دشمن کوئی اور تھا اپنی ہی مٹی پے ان کے ساتھ وہ انسانیت سوز سلوک ہوا جس کی نہ تو انکو توقع تھی نہ ہی پالیسی سازوں کے وہم وگمان میں تھا، بھلا انھوں نے بھرتی ہوتے ہوئے یہ سوچا ہو گا کہ انکی شہادت بھی بڑے دلخراش انداز میں اس ریاست کے شہروں کے ہاتھوں یوں انجام پائے گئی کہ ان کے سر بدن سے جدا کرکے ان سے کھیلا جائے گا، انکو اذیت ناک انداز میں شہید کر دیا جائے گا، وہ سر زمیں جنکے باسیوں کو بانی پاکستان محب وطن قرار دیتے رہے جنہوں نے کشمیر کی آزادی میں اپنی جانوں کا نذرانہ اس وقت پیش کیا جب اس وقت کے برطانوی جنرل نے ہندوستان کے مقابلہ میں فوج اتارنے سے انکار کر دیا تھا تو یہ قبائل ہی کام آئے ، سرخ انقلاب کا راستہ روکنے میں ان کا خون شامل رہا تو چند سالوں میں یہ کیونکر ہماری مسلح فورسز کے اتنے خلاف ہو گئے جوانوں سے دشمنی پے اتر آئے۔،ہمیں یہ تو اندازہ نہیں کہ باضابطہ جنگوں میں ہماری کتنی سپاہ کام آئی لیکن یہ خدشہ ضرور ہے کہ اس’’ پراکسی وار‘‘ کی ہم نے بھاری قیمت ادا کی ہے ہماری سپاہ کے بڑے عہدہ دار اور بھاری بھر افرادی قوت اسکی نذر ہو گئی ہے۔تاسف یہ اپنی جنگ نہ ہونے کا اعتراف اس وقت کیا گیا جب پانی سر سے گذر چکا۔

بحیثیت ریاستی شہری وہ خاندان اور حفاظ کرام یہ تو حق محفوظ رکھتے ہیں کہ انھیں بھی انصاف ملنا چاہیے اور وہ تمام افراد بھی جن کی ناگہانی موت نے ان سے زندگی چھین لی وہ بے قصو ر غیروں کے حملوں میں ما رے گئے ، کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس وقت کی عدلیہ اس لاقانونیت پے از خود نوٹس لیتی اور اس جرم میں شریک افراد کو کٹہرے میں لا کھڑا کرتی اس ظلم پے عوام کی آواز پے لبیک کہتی تو غالب امکان تھا کہ بہت سے شہری ان بے نشانہ حملوں کی زد میں آنے سے محفوظ رہتے کیا انھیں وہ حقوق میسر نہ تھے جو آئین پاکستان میں درج ہیں جس کی معطلی کی سزا کا ابھی پروانہ جاری ہوا ہے۔

عدالت مذکورہ کے فیصلہ کو متاثرین کیسے دیکھتے ہیں، اس پے ان کے کیا جذبات ہیں کیا اس عمل کو وہ اپنے ساتھ انصاف سے تعبیر کرتے ہیں ، یا از خود قانونی چارہ جوئی کی آرزو رکھتے ہیں، لیکن مسلمہ اصول تو یہی ہے کہ اگر ہر جرم کی سزا مجرم کو بروقت مل جائے توسماج میں انصاف کے چلن کے ساتھ ساتھ غیر ذمہ دار افراد بھی قانون کو ہاتھ میں لینے سے اجتناب کرتے ہیں۔ عدالت کے فیصلہ کا شاید ایک اہم پہلو یہ بھی ہے۔


ای پیپر