یہ ہڑتال کلائنٹس اورینگ لائیرز کے خلاف ہے؟
22 دسمبر 2019 2019-12-22

ڈاکٹر ہوں، وکیل ہوں، ٹرانسپورٹر ہوںیا تاجروں سمیت کوئی بھی، وہ ہڑتا ل کریں تو حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتاسوائے اس کے کہ میڈیاشور کرتا ہے ، سوال کرتا ہے۔ جس احتجاج اور ہڑتال کی میڈیا کوریج نہ کرے اس سے کسی سیاستدان یا بیوروکریٹ کو رتی برابر فرق نہیں پڑتا کہ اگر احتجاج ہوتا ہے تو ہوتا رہے، ہڑتال ہے توان کی بلا سے رہے۔

میں نے ڈاکٹروں کی بہت ساری ہڑتالیں دیکھی ہیں ، ستر برس زیادہ ہیںتو پچھلے پندرہ بیس برس کی تاریخ اٹھا کر ہی دیکھ لیجئے کہ یہ ہڑتالیں ہمیشہ سرکاری ہسپتالوں میں ہی ہوتی ہیں کیونکہ اگر کوئی ڈاکٹر کسی پرائیویٹ ادارے میں ہڑتال کرے گا تو اس کی پشت پر ایک لات رسید کی جائے گی اور وہ ہسپتال سے باہر ہو گا۔ وہ لاکھ کہتا رہے کہ ملک سے باہر چلا جائے گا، یہاں سے برین ڈرین ہوجائے گا کسی کو کچھ فرق نہیں پڑتا، ہاں، اگر وہ ڈاکٹر ملک سے باہر چلا بھی جائے تو وہاں کبھی ہڑتال نہیں کرے گا، ہڑتال کی یہ عیاشی صرف پاکستان میں ہی دستیاب ہے ۔ میں نے ڈاکٹروں سے بہت مرتبہ کہا کہ احتجاج کے کچھ دوسرے طریقے بھی ہیں ہڑتال کوئی واحد طریقہ تونہیں ہے۔ مجھے جواب ملتا ہے کہ اگر ہڑتال کئے بغیر حکمران ہماری جائز بات بھی نہ سنیں تو ہم کیا کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ انگلینڈ سمیت دیگر مہذب معاشروں میں ڈاکٹروں کے لئے دوسرے شعبے ہڑتال کرتے ہیں، کیا ہمارے ہاں ایسا ہو سکتاہے؟

تاجروں کی ہڑتال ہی دیکھ لیں، بازار بند ہوتے ہیں تو تاجر اپنا ہی نقصان کرتے ہیں، چلیں، مان لیتے ہیں کہ اپنے ساتھ ساتھ وہ ریاست کا بھی نقصان کرتے ہیں کہ اربوں روپوں کی ٹیکس وصولی رک جاتی ہے مگر کیا مشرف، زرداری ، نواز اور عمران خان کے دور میں ہونے والی کسی ہڑتال سے ہونے والے کسی نقصان سے ان صاحبان کو بھی کوئی نقصان پہنچا ہے۔ نقصان تو صرف تاجروں کے بعد عوام کو ہی پہنچتا ہے جنہوں نے خزانے کا پیٹ بھرنا ہوتا ہے۔ ٹرانسپوٹروں کی ہڑتالیں بھی بہت مشہور ہیں کہ لوگ ایک اڈے سے دوسرے اڈے تک مارے مارے پھرتے ہیں۔ ان ہڑتالوں کی وجہ سے پیاروں کی شادیوں اور موتوں تک میں جانا مشکل ہوجاتا ہے۔ یہ تمام طبقات حکمرانوں کو دباو میں لانے کے لئے ہڑتالیں کرتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے فیصلہ ساز چاہے وہ سیاستدان ہوں، بیوروکریٹ ہوں، جج ہوںیا جرنیل ہوں کیا وہ علاج کے لئے سرکاری ہسپتالوں کی راہداریوں میں رُلتے ہیں، ہرگز نہیں، ہڑتالی ڈاکٹروں سے بہت بڑے بڑے ڈاکٹر ، جنہیں پروفیسر بھی کہا جاتا ہے ، اپنی پتلونیں اور عینکیں سنبھال کر ان کے گھروں میں جاتے ہیں، ان کی ماو¿ںباپوں اور بچوں کی باقاعدہ ٹہل سیوا کرتے ہیں، خود کو دوست ظاہر کرنے لئے اسی منہ سے ماٹھے ماٹھے لطیفے بھی سناتے ہیں جو منہ ہسپتالوں کے اندر مریضوں کو دیکھ کر سیدھا تک نہیں ہوتا، کچھ نہ کچھ ٹیڑھا ضرور رہتا ہے۔ ان لوگوں کو تاجروں کی ہڑتالوں سے بھی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کے فریج بھرے پڑے ہوتے ہیں اور اگر ضرورت پڑے تو بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹوروں والے ضرورت کی تمام چیزیں پچھلے دروازے سے نکال کر ان کے گھر پہنچا دیتے ہیں اور یوں بھی ہڑتال تو غریب دکاندار کا کلچر ہے۔ یہاں بڑے بڑے نام ہڑتا ل کی کال دیتے ہیں اور پھر ان کے اپنے ممی ڈیڈی طبقے کے لئے مہنگے مہنگے سٹور کھلے رہتے ہیں۔

میں نے ان لوگوں کے چار ، چار کنال کے گھروںمیں آٹھ آٹھ گاڑیاں کھڑی بھی دیکھی ہیں، انہیں کیا غرض کہ میٹروبس چل رہی ہے یا کسی نے اس کا راستہ روک رکھا ہے۔انہیں کیا علم کہ جی ٹی روڈ اور ملتان روڈ پر کوئی بس سفر کرنے کے لئے دستیاب ہے یا نہیں۔ ان کی تو اپنی گاڑیوں کے ساتھ مزید کئی گاڑیاں پروٹوکول کے لئے چلتی ہیں جن میں سے ایک آدھ پولیس کی بھی ہوتی ہے۔ہمارے وزیر ٹرانسپورٹ نے کون سا پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا ہے، ہماری وزیر صحت نے کون سا ہسپتال کی ایمرجنسی میں پرچی لے کر اپنی باری کاانتظار کرنا ہے، ہمارے وزیر خزانہ نے کبھی ٹماٹر خریدے ہوں تو انہیں علم ہو کہ فی کلو کس بھاو¿مل رہے ہیں ، یہاں توخواتین ایم پی اے بھی پرسوں میں اتنا مال رکھتی ہیں کہ انہیں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت کا علم ہی نہیں ہوتا۔

مجھے وکیلوں کی ہڑتال دیکھ کر خیال آیا کہ کسی عثمان بزدار یا کسی راجا بشارت کو کیا فرق پڑتا ہے کہ لاہور کے کی عدالتوں میںوکیلوں کی ہڑتال کو دس روز ہو گئے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ کچھ وکلا اپنے صدر عاصم چیمہ کی قیادت میں پی آئی سی خود پہنچے، ان میں سے کچھ نے توڑ پھوڑ بھی خود کی اور اب ہڑتال بھی خود ہی کر رہے ہیں۔ ایک روز کی ہڑتال کی وجہ سے چودہ ہزار مقدمات کی تاریخیں پڑیں، پولیس نے جیلوں سے ضمانتوں اور رہائیوں کے منتظر قیدیوں کو عدالتوںمیں پیش ہی نہیں کیا جن کے پیارے ان کی واپسی کا نتظار کر رہے ہیں۔ قیادت وہ نہیں ہوتی جو تباہی کی طرف لے جاتی ہے، نقصان کرنے والوں کو قائد نہیں کہتے، قیادت تو تعمیر کرنے والی ہوتی ہیں، قائد تو فائدہ پہنچانے والے ہوتے ہیں مگر ہمارے وکلا کے قائد عجیب ہیں جونہ صرف اپنے ان سائلین کی بددعائیں لے رہے ہیں جو ان کے رزق کا باعث ہیںبلکہ ہمارے ینگ لائیرز کی زندگی بھی مشکل بنا رہے ہیں۔ بڑے قانون دانوں کے پاس بڑے گاہک ہوتے ہیں مگر نوجوان وکلا تو صبح سویرے کالی پتلون کے اوپر کالا کوٹ پہن کراور کالی ٹائی لگا کر اس لئے نکلتے ہیں کہ کوئی کلائنٹ ملے گا، اسے کسی کورٹ سے کوئی چھوٹا موٹا ریلیف دلوایا جائے گا اور پھرفیس ملے گی۔ اس فیس سے بزرگوں کے لئے دوا لی جائے گی، بچوں کی فیس کا بندوبست ہوگا، گھر کا راشن پڑے گا مگر افسوس کا مقام ہے کہ کچھ وکیل رہنما جنہیں الیکشن بہت زور کاآیا ہوا ہے، انہوں نے ہمارے ہزاروں وکیلوں کی روزی روٹی کا راستہ پچھلے دس روز سے بند کررکھا ہے۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ پی آئی سی کے واقعے میں کچھ وکلا سے زیادتی ہوئی ہے۔ کچھ کو مقدمات میں بے جا ملوث کیا گیا ہے۔ انہیں کالے نقاب پہنا کر اور ننگے پاو¿ں پیش کرنا بھی درست عمل نہیں تھا مگر سوال یہ ہے کہ ہڑتال سے ان حکمرانوں یا پولیس افسران کو کیا فرق پڑتا ہے جنہوں نے اپناکوئی پرانا غصہ نکالا ہے۔ میرے خیال میں اس سے معززبنچ کو بھی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی پڑنا چاہیے جس نے مقدمات کو سننا ہے۔ ہونایہ چاہئے تھا کہ لاہور بار کے صدر اپنے سینئرز کے ساتھ مل کر وکلا کو ریلیف دلواتے، پولیس افسران کے ساتھ مذاکرات ہوتے، غلط دفعات ختم کروائی جاتیں، چیف جسٹس صاحبان سے ملاقات کر کے انصاف کے جلد حصول کو یقینی بنایا جاتا مگر جہاں ہمارے وکیلوں کے صدر صاحب پہلے معاملے کو حکمت اور فراست سے حل کرنے میں ناکام رہے بلکہ وکلا کے چہرے پر تاریخ کی بدترین کالک مل دی کہ انہوں نے دل کے ہسپتال پر حملہ کیا ہے ، اب وہ سائلین کو ملنے والے ریلیف کی راہ میں ہی کسی پہاڑ کی طرح نہیں کھڑے بلکہ ینگ لائیرز کی حلال کمائی کا دروازہ بھی بند کئے بیٹھے ہیں۔ کہتے ہیں کہ کامن سینس ، کامن پیپل میں واقعی کامن نہیں ہوتی مگر وکلا قیادت کو میں کامن نہیں سمجھتا، انہیں تو دلیل اور تدبیر کا ماہر ہونا چاہئے۔یقین کیجئے کہ آپ کی ہڑتال سے عمران خان صاحب سے لے کر نیچے محکمہ قانون کے کسی سرکاری ملازم تک کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا اور نہ ہی کسی کے کان پر کوئی جوں رینگنے کا امکان ہے مگر آپ کی اعلان کر دہ ہڑتال نے ضرور لاکھوں خاندانوںاورہزاروں نوجوان وکلا کے دن مشکل بنا رکھے ہیں۔ مجھے یہ ہڑتال اپنے ہی موکلوں کے بعدان ینگ لائیرز کے خلاف لگ رہی ہے جن کے ووٹ سے آپ گیارہ جنوری کوپنے گروپ کی کامیابی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔


ای پیپر