دبئی سے عمان
22 دسمبر 2018 2018-12-22

میں نے اپنی جیب سے پرس نکالا اور ٹوکری میں ڈال دیا۔ موبائل فون اور چند سکے بھی ٹوکری میں گئے پھر بازو پر بندھی گھڑی کی باری آئی۔ امیگریشن افسر نے گردن آگے کرکے میری پینٹ کی جانب دیکھا اور کہا۔ پینٹ پر بندھی بیلٹ بھی اتارو۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ سکیورٹی چیک تھا اور سب کے ساتھ یہی سین تھا۔ بیلٹ اتار کر ٹوکری میں ڈال دی اور دونوں ہاتھوں سے پینٹ کو پکڑ لیا کیونکہ پینٹ ڈھیلی تھی مگر جس مضبوطی سے ہم نے پینٹ تھام رکھی تھی۔ یوں تھا جیسے کریکٹر ڈھیلا ہے۔ ہمارا نہیں اس بدو امیگریشن افسر کا جو اپنے کام کی جانب کم اور ہماری جانب زیادہ متوجہ تھا۔ اب اس نے اپنی گردن کو مزید لمبا کیا اور ہمارے بوٹوں کی جانب دیکھا اور پوچھا۔ چمڑے کے ہیں ہم نے کچھ فخر سے مسکرا کر کہا۔ جی خالص چمڑے کے۔ اس نے بھنا کر کہا انہیں بھی اتارو اور ٹوکری میں ڈالو۔ ہم نے ایک ہاتھ سے پینٹ پکڑے رکھی اور دوسرے ہاتھ سے بوٹ اتار کر ٹوکری میں ڈال دیے۔ ادھر ٹوکری سکین کے لیے کیمرا باکس میں داخل ہوئی اور ادھر ہمارے جسم کی چمڑی کا سکین شروع ہوا۔ بدو امیگریشن افسر نے کہا۔ بازو دونوں جانب پھیلا کر منہ دوسری طرف کر لو۔ میرا جواب تھا۔ نہیں کر سکتا۔ بدو نے درشتگی سے کہا جو کہا جا رہا ہے کرو یعنی ہماری عزت سر عام اس دبئی ایئر پورٹ پر عریاں ہونے جا رہی تھی۔ ہم نے پینٹ چھوڑ کر بازو پھیلائے اور پینٹ نیچے فرش پر جا گری اور سرخ رنگ کا انڈر ویئر گلاب کے پھول کی مانند مہکنے لگا۔ ارد گرد کھڑے مختلف قوموں کے لوگ مسکرانے لگے۔ ایک آدھ ہلکی سی سسکاری کی آواز بھی آئی۔ بدو نے نیم باز آنکہوں سے ہمیں دیکھا اور کہا۔ پینٹ اونچی کرو۔ ہم نے رسک لیا اور نیچے جھک کر پینٹ اونچی کی۔ بدو بولا بازو پھیلاؤ۔ پینٹ پھر نیچے گر گئی۔ اب بدو امیگریشن افسر سر کھجانے لگا جیسے حل سوچ رہا ہو۔ ادھر ہماری نیم برھنہ سرخ انڈرویئر سمیت نمائش جاری تھی۔ قطار میں لگے مسافر انہماک سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے۔ بدو نے حکم جاری کیا۔ مسافر کی بیلٹ لائی جائے۔ ابھی بیلٹ کا سکین جاری تھا۔ دوسرے بدو امیگریشن افسر نے باکس میں ہاتھ ڈال کر بیلٹ کھینچی اور بیلٹ کا بکل اس کھینچا تانی میں مشین کے اندر پھنس گیا۔ مشین رک گئی۔ بدو نے دوسرے بدو کی جانب ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو اب یہ کیا لفڑا ہے۔ ادھر ہماری مضحکہ خیز صورت حال یہ تھی۔ ہم بازو پھیلائے دبئی ایئر پورٹ پر پر کھڑے تھے۔ ہماری پینٹ نیچے فرش پر پڑی تھی۔ ہمارا سرخ انڈر ویئر جاوداں بہار تھا۔ مسافر مسکرا رہے تھے۔ ایک آدھ سسکاریوں کی آواز آ رہی تھی اور ہماری بیلٹ سکین مشین کی بیلٹ میں پھنس چکی تھی اور اس قطار میں امیگریشن کا عمل رک چکا تھا۔ گویا ایک طرح کی ایمرجنسی نافذ ہو گئی تھی۔ بدو امیگریشن افسر ہمیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ادھر ہمارا خیال یہ تھا۔ مظلوم کی آہ لگی ہے اور ظاہر ہے یہ مظلوم ہم تھے جس کی نیم عریاں نمائش دبئی ایئر پورٹ پر جاری تھی۔ پھنسی ہوئی بیلٹ کو نکالنے کے لیے کمک منگوائی گئی جو ایک پیچ کس ، ایک پلاس اور اور ایک سوے پر مشتمل تھی۔ جب ایک بدو امیگریشن افسر ناکام ہوا تو دوسرا آگے آیا۔ کچھ دیر بعد یہ سین تھا۔ ارد گرد کی قطاروں میں بھی امیگریشن بند ہو چکی تھی۔ تمام بدو سر جوڑے بیلٹ نکالنے کی ترکیب کر رہے تھے اور میں اپنی پینٹ کو تھامے اس بھیڑ میں یوں منڈلا رہا تھا جیسے کم کے میلے میں گم ہو چکا ہوں جبکہ ہماری بیگم بے غم ہو کر ایک جانب بیٹھی تھی اور فیس بک پر ہماری ہیئت کزائی کی نیوز بریک کر رہی تھی۔

معلوم نہیں کیسے لیکن یکا یک ہماری بیلٹ آزاد ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہماری رہائی بھی ہو گئی۔ ہم نے گھڑی باندھی،بیلٹ باندھی، بوٹ پہنے، جیب میں پرس ڈالا، موبائل فون ڈالا، کنگھی کی، پسینہ صاف کیا، سامان لیا اور باہر پارکنگ کی جانب چل پڑے۔ ظاہر ہے ہماری بیگم ہمارے ساتھ تھی۔

ہم دبئی سے عمان جا رہے تھے اور ہمارے میزبان ہمارے عزیز از جان شاگرد احمد سبحانی نے دبئی ایئر پورٹ پر ہمارے لیے ایک پرائیویٹ ٹیکسی کا بندوبست کر رکھا تھا۔ پلان یہ تھا یہ ٹیکسی ہمیں دبئی ائیرپورٹ سے اٹھاتی اور ہمیں دبئی اور عمان کے سرحدی مقام ایلین پر چھوڑ دیتی جہاں سے ہم اپنی امیگریشن کرواتے اور سرحد پار کرکے عمان میں داخل ہو جاتے جہاں ہمارا شاگرد ہمیں اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیتا یعنی ہم محفوظ ہاتھوں میں پہنچ جاتے لیکن دو مسئلے تھے۔ ایک تو دبئی ایئر پورٹ پر ہمارے سفر کا آغاز اچھا نہیں ہوا تھا اور دوسرے اس وقت رات کا ایک بج رہا تھا اور تیسرا یہ کہ ہمارے پاس فون نہیں تھا جو دبئی میں کام کرتا۔ سم ڈلوانے کا موقع ہی نہیں ملا یا اسے ہماری حماقت کہہ لیں۔

پارکنگ پر ڈرائیور موجود نہیں تھا جبکہ ہمیں یہ اطلاع تھی۔ وہ ہمارے نام کی تختی بلند کیے پارکنگ میں ہمارا انتظار کر رہا ہو گا۔ گویا بیلٹ کی مانند اب یہ ڈرائیور بھی کہیں پھنس چکا تھا۔ کچھ دیر انتظار کیا۔ قریب ہی کھڑا ایک اور ڈرائیور کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔ ہم نے اپنے چہرے پر دنیا بھر کی لجاجت اکھٹی کی۔ لہجے کو گلوگیر کیا۔ منہ جو پہلے ہی فٹے منہ ہو چکا تھا۔ اس پر مزید مظلومیت کا تڑکہ لگایا اور باقاعدہ بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ اگر وہ ہمیں ایک فون کرنے دے تو اس کے بچے تا حیات جئیں۔ اس نے خشکی سے جواب دیا۔ ابھی اس کی شادی نہیں ہوئی۔ ہم نے اس کی جلد شادی کی دعا کی۔ اسے بھی ترس آ گیا۔ ہم نے اسے اپنے ڈرائیور کا نمبر دیا۔ اس نے فون ملایا اور ہمارے ڈرائیور کو بتایا۔ تمہارے پسنجر ادھر رل رہے ہیں۔ اس کمبخت نے بتایا۔ وہ باہر کسی فری کی عارضی پارکنگ میں کھڑا ہے۔ ہم وہیں آ جائیں۔ اگر وہ اندر آیا تو اسے پارکنگ لینا پڑ جائے گی۔ یعنی میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتا ہوں۔ ہمیں غصہ تو آیا لیکن اس پر پیار بھی آیا۔ بندہ بچت اور سادگی پر یقین رکھتا ہے۔ ہمارا خیال تھا۔ ہم بے شک خوار ہو جائیں یہ ضرور ترقی کرے گا۔ خیر چلتے چلتے اس کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچے اور نڈھال ہو کر گاڑی میں گر گئے۔ کچھ دیر بعد اوسان بحال ہوئے تو ہم نے تقریباً ڈانٹتے ہوئے اس سے پوچھا۔ کیا آپ کو معلوم ہے آپ کی اس بچت اسکیم نے ہمارا کتنا وقت اور کتنی توانائی ضائع کی ہے۔ بغیر کسی معذرت کے بولا۔ آپ فکر نہ کریں۔ آپ کو راستے میں ایک اچھا سا کھانا کھلاؤں گا یعنی اسے معلوم تھا کھانا ہم پاکستانیوں کی نفسیاتی و جذباتی مجبوری ہے۔ اس نے سفید رنگ کا کلف زدہ شلوار قمیص پہن رکھا تھا۔ فیصل آباد کے کسی گاؤں سے تھا اور دو گھنٹے کے سفر میں اس نے ہمیں یہ یقین دلا دیا تھا کہ وہ ایک رئیس آدمی ہے۔ زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور یہاں دبئی میں اپنے شوق اور شغل سے گزشتہ دس سال سے ٹیکسی چلا رہا ہے۔ اپنی امارت کے قصے سناتے ہوئے وہ ایک بار اتنا محو ہوا۔ کہ بارڈر کا راستہ بھول کر کسی اور جانب نکل گیا۔ ایک گھنٹے بعد اسے اندازہ ہوا۔ ہم اومان کی بجائے ابو ظہبی کی جانب جا رہے ہیں۔ واپس تو وہ ہوا لیکن آخر تک اس بات پر قلق ظاہر کرتا رہا کہ اس کا ڈیزل فالتو میں ضائع ہو گیا ہے اور اسی سانس میں کہتا لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

عمان اور دبئی کی سرحد پر ہمیں اتار کر وہ نکل گیا اور یہاں سے ہمیں پیدل بارڈر کراس کرنا تھا۔ رات گہری ہو چکی تھی۔ ایک چھوٹا سوٹ کیس ہم گھسیٹ رہے تھے جبکہ ایک سوٹ کیس ہماری بیگم کے کنٹرول میں تھا۔ سڑک ناہموار تھی۔ ڈھلان تھی۔ ہوا تیز تھی نہ آہستہ تھی۔ صحرا کی راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ چنانچہ فضا میں خنکی تھی۔ ہر طرف گہری خاموشی طاری تھی۔ دور دور تک کوئی عمارت نظر نہیں آ رہی تھی۔ نہ کوئی بندہ نہ کوئی بندہ نواز۔ چرند پرند بھی سو چکے تھے اور اس بیابان اور اجاڑ میں ہم دو میاں بیوی اپنے سوٹ کیسوں کو گھسیٹتے ہوئے دبئی کی سرحد سے عمان کے بارڈر کی جانب پیدل چلے جا رہے تھے۔ ہمارے فون کام نہیں کر رہے تھے اور ہمیں معلوم نہیں تھا۔ ہماری اگلی منزل کہاں ہے اور کتنی دور ہے۔ اس دوران کسی پرندے کی ایک بلند کریہہ آواز ہوا کو چیرتی ہوئی آئی۔ ہمارے رہے سہے اوسان بھی خطا ہو گئے یعنی ایڈونچر ایک مس ایڈونچر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔

اس نو مینز لینڈ میں دو تین کلو میٹر پیدل چلنے کے بعد آخر ایک گول گنبد نما عمارت نظر آئی۔ ہم نے صحرا میں اسے غنیمت جانا۔ جیسے صحرا کے سراب سے نکل کر کسی نخلستان میں آ گئے ہوں۔ عمارت بہت خوبصورت تھی۔ہم اندر گئے تو استقبالیہ پر ایک عمانی بدو بیٹھا نظر ایا جو اپنے موبائل فون کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ موبائل فون کو دیکھ کر ہماری آنکہوں میں ایسی چمک پیدا ہوئی جیسے رات کے کسی پہر کسی جنگل میں شکار دیکھ کر چیتے کی آنکھیں ٹارچ کی مانند جل اٹھتی ہیں۔ اس وقت تک ہماری مت بالکل ماری جا چکی تھی۔ ہم یہ بھی بھول گئے ہم نے امیگریشن کروانی ہے۔ پاسپورٹوں پر ٹھپے لگوانا ہیں۔ ہم نے اس امیگریشن افسر سے اشاروں میں التجا کی۔ ہم اس کے فون سے اپنے شاگرد کو فون کر سکتے ہیں۔ امیگریشن افسر کچھ دیر ہمیں گھورتا رہا۔ جیسے اسے ہماری یہ بے تکلفی پسند نہ آئی ہو۔ پھر وہ اپنے موبائل فون کو گھورنے لگا۔ جیسے اس کی راے جانچ رہا ہو۔ رات کے اس پہر اسے کسی اجنبی کے ہاتھ جانا برا تو نہیں لگے گا۔ پھر اس نے عربی میں ہم سے نمبر پوچھا۔ ہمیں بالکل سمجھ نہیں آئی۔ ہم نے انگریزی میں اس کا مدعا پوچھا۔ اب کی بار اسے سمجھ نہ آئی۔ آخر اشارے کیے گئے۔ فون مل گیا۔ ہمارے شاگرد نے کہا۔ آپ مزید ایک کلومیٹر چل کر عمان کی جانب آ جائیں۔ ہم نے چلنا شروع کیا۔ آدھے کلو میٹر بعد ایک اور عمارت سے گزر ہوا۔ انہوں نے ہمارے پاسپورٹ چیک کیے اور پوچھا عمان کا ویزا کہاں ہے۔ ہم نے پوچھا وہ کہاں سے لینا تھا۔ کہنے لگے واپس اسی گول عمارت جائیں۔ ہم ہونقوں کی طرح انہیں دیکھ رہے تھے اور وہ بدتمیز کھی کھی کر رہے تھے جیسے ہماری سچوئیش کو انجواے کر رہے ہوں۔ ہم واپس چلتے اسی گنبد نما عمارت پہنچے۔ وہی بدو امیگریشن افسر وہیں بیٹھا اپنے موبائل فون سے کھیل رہا تھا۔ ہمیں دیکھتے ہی اس نے اپنا موبائل فون جیب میں ڈال لیا۔ ہم نے جا کر کہا۔ ہم نے عمان کا ویزا لگوانا ہے۔ اس نے فارم دیے۔ ہم نے فارم بھر دیے۔ اس نے ویزا فیس مانگی۔ ہم نے ویزا فیس بھر دی۔ اس نے پاسپورٹ لیے اور ٹھپے لگا دیے۔ ہم نے ٹھپے لگے پاسپورٹ پکڑ لیے۔ اور چلنے سے پہلے پوچھا۔ اس نے پہلی بار ہمیں ویزا لگوانے کا کیوں نہیں کہا۔ اس نے شستہ انگریزی میں جواب دیا۔ تم نے ویزا کب مانگا۔ تم تو فون مانگ رہے تھے۔ ہمیں پہلی بار اندازہ ہوا۔ صحرا میں رات کے اس پہر کی مکمل خجل خرابی نے اگر ہمارے اندر کا بدو باہر نہیں نکالا تو رانگڑ ضرور نکال دیا ہے۔ اور ہم اچھے خاصے ایک مخولیہ کردار بن چکے ہیں۔ مزید ایک کلومیٹر پیدل چل کر ہم عمان میں داخل ہوئے۔ جہاں ہمارا عزیز از جان شاگرد احمد سبحانی اپنی خوبصورت ٹھنڈی جیپ میں کھڑا ہمارا انتظار کر رہا تھا۔ دو گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد ہم احمد سبحانی کے ٹاؤن میں داخل ہوئے۔ سپیدہ سحر پھیل چکا تھا۔ فجر کی اذان کی آواز آ رہی تھی۔ ایک خوبصورت خوشنما جدید عمارت کے سامنے سے گزرتے ہوئے سبحانی نے بتایا۔ سر یہ میرا کالج ہے۔ اور میں یہاں لیکچرار ہوں۔


ای پیپر