بے وقت کی راگنی نہیں!
22 دسمبر 2018 2018-12-22

حالات اور تجربہ دونوں بتا رہے ہیں کہ مستقبل قریب یعنی 2019 سابق صدرآصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے لیے خوش آئند ثابت ہوتا نظر نہیں آرہا۔ مجھے کیا خود زرداری صاحب کو بھی یہ وا ضح نظرآرہا ہے۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے دو جلسے ٹنڈو اللہ یار اور میر پور خاص میں کیے جس سے لگا کہ وہ کہیں نہ کہیں سند ھ کی عوام کو اپنے مستقبل سے متعلق آگاہ کر رہے ہیں ورنہ الیکشن کے موسم کے بعد اس طرح کے دھواں دارخطاب کی کیا ضرورت تھی اور ساتھ ساتھ دو پریس کانفرنس بھی کر ڈالیں۔جلسے ہوں یا پریس کانفرنس وہ مسلسل ریاستی اداروں پر آوازیں کس رہے ہیںجس میں ان کا زبان زد عام پر آنے والا جملہ مجھے نہیں شاید کچھ لوگوں کوحیران کر رہا ہو جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں جن کا Tenure ہی 3 سال کا ہوان کا کیا حق ہے کہ وہ اپنی مرضی پاکستان پر مسلط کریں۔ ان کا اشارہ جس کی طرف تھا ہم سب بخوبی سمجھ گئے ہیں ۔یہ ہی نہیں عدلیہ کی طرف تنقیدکرتے ہوئے وہ چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں آپ کبھی یہاں پہنچ جاتے ہیں کبھی وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ آپ اپنے ادارے میں 9 لاکھ زیرالتوا کیسز کی طرف توجہ کیوں نہیں دیتے۔

یہ ساری بیان بازی ایسے ہی نہیں ہورہیں ایک مکمل پس منظر اور پیش منظر سے آشنا سیاسی قد آور شخص جان چکا ہے کہ JITکی سپریم کورٹ میںرپورٹ پیش کردی گئی ہے۔ اور اس تہلکہ خیز رپورٹ کوابتدائی ثبوت کے طور پر گردانتے ہوئے24 دسمبر کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اس کیس پرسماعت کریں گے۔ یقیناً آصف علی زرداری اور ان کے رفقا بھانپ چکے ہیں کہJIT کی تحقیقات ان کے خلاف ہی آئیں گی۔کیونکہ یہ JIT جن 32 افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کے سلسلے میں انکوائری کررہی ہے ان میں آصف علی زرداری اور فریال تالپور سر فہرست ہیں اس سلسلے میں اومنی گروپ کے صدر انورمجید اور ان کے بیٹے اے جی مجید گرفتار ہیں اور اس گروپ کے چیف فنانشل آفیسر اسلم مسعود نے جدہ میں پاکستانی حکام کے سامنے حیرت انگیزانکشافات کیے ہیں۔ جن میں وہ اومنی گروپ کے کے درجنوں گمنام اکاو¿نٹس کاپول کھول چکے ہیں۔ یہ وہی اسلم مسعود ہیں جنہیں جدہ پہنچنے پر پاکستان کی درخواست پر انٹرپول کے وارنٹ کے ذریعے گرفتار کیا گیا تھا۔ یوں کہیے کہ JIT اپنے سنسنی خیز انکشافات کے ذریعے تمام خفیہ راستے بتانے جارہی ہے کہ کس طرح دو نمبر کمائی نہایت انتہائی اعلیٰ دماغی استطاعات کے ذریعے بے نامی اکاو¿نٹس میں پہنچتی تھی۔ شاید یہ بھی ثابت ہونے جارہاہے کہ کس طرح اے جی مجید قد آور شخصیات کی رقم ہنڈی اور حوالے کے ذریعے دبئی منتقل کرتا رہا ہے اور پھر لندن، امریکہ، فرانس اور متحدہ امارات میں اثاثے بنائے گئے۔ لگ رہا ہے JIT نے ان اثاثوں کی تفصیلات بھی حاصل کرلی ہیں۔

اب یہ بھی معلوم پڑ جائے گا کہ کس طرح سیاسی سرپرستی میں مشکوک اکاو¿نٹس پر بینکوں سے 80 ارب روپے کے قرضے لیے گئے کیوں کہ JIT جان چکی ہے کہ اومنی گروپ کے ہی زیر استعمال بے نامی اکاو¿نٹس کے ذریعے بلاول ہاو¿س کراچی، اسلام آباد، نوڈیرو ، نواب شاہ کے اخراجات اٹھائے گئے۔ حد تو یہ ہے کہ بڑے خاندان کے بچوں کی سالگرہ کے کیک تک کے اخراجات یہی بے نامی اکاو¿نٹس سنبھالتے تھے۔ ماڈل ایان علی کی ٹکٹیں بھی فضل ربی ٹریول ایجنسی کو انہی اکاو¿نٹس سے فضل ٹھگی پہنچایا گیا۔ اتنا تو ہم سب کو یاد ہوناچاہیے کہ یہ وہی ایان علی ہیں جو اسلام آباد ائیرپورٹ سے 5 لاکھ ڈالرمنی لانڈرنگ کرتے ہوئے گرفتار ہوئی تھیں اور مقدمہ لڑنے سے ضمانت کروانے تک ان کا مقدمہ پیپلز پارٹی کے رہنما لطیف کھوسہ نے لڑا تھا بلکہ ملکی اورغیر ملکی ملبوسات کی پوری وارڈروب اپنے کلا ئینٹ کے ضمانت پررہا ہونے کی خوشی میں بطور ہدیہ انھیں تحفہ میں پیش کی تھی۔ جو لوگ سوشل میڈیا سے تھوڑے دور ہیں انہیں بتاتا چلوں کہ ایان علی نے پچھلے مہینے ایک سنسنی خیز ٹویٹ کیا تھا جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ میری گرفتاری کے وقت سابق صدر کے پرنسپل اسسٹنٹ مشتاق احمد اور سابق وزیرداخلہ رحمان ملک کے بھائی بھی اس وقت میرے ساتھ تھے۔ انہوں نے سوال اٹھا یا تھا کہ ان دونوں افراد کو میرے ساتھ کیوں گرفتار نہیں کیا گیا،FIR میں ان کا نام بھی درج نہیں کیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ منی لانڈرنگ کے پیسے میرے نہیں تھے وہ کسی اور کے لیے یہ کام کررہی تھیں۔وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ میں جلد پاکستان آکرعدالت کے روبرو بتاو¿ں گی کہ کس طرح منی لانڈرنگ کرنے کے لئے مجھے استعمال کیا گیا۔

اس کے علاوہ امریکہ میں مین ہیٹن میں زرداری صاحب کی اثاثوں میں ظاہرنہ کی گئی جائیداد کا معاملہ بھی سر پر کھڑا ہے۔دوسری طرف سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن بینکنگ کورٹس سے عبوری ضمانت پر ہیں اور ان عبوری ضمانتوں میں پہلے ہی تین تین بار توسیع ہوچکی ہے۔ یعنی یہ خارج ازامکان نہیں ہے کہ بینکنگ کورٹس کے ذریعے بھی ان کی گرفتاری ہوسکتی ہے۔یہ وہ تمام قرائن ہیں جن کو زرداری صاحب سمجھ چکے ہیں اور تبھی بار بار کہہ رہے ہیں کہ مجھے گرفتار کیا جاسکتا ہے ویسے بھی جیل میرا دوسرا گھرہے۔

صوبائیت کو ہوا دیتے ہوئے وہ کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کی جیلوں میں دوبارہ جا کر وہ اپنی مقبولیت میں اضافہ ہی دیکھ رہے ہیں۔ یعنی اداروں پرآوازیں کسنے سے لے کر دیگر بیانات ظاہر کررہے ہیں کہ ثبوتوں کی موجودگی کا اندازہ خود زرداری صاحب کو ہوچکا۔ اور مفاہمت سے مزاحمت تک کا سفرشاید سیاسی چہرہ بچانے کی ناکام کوشش ہی نظر آرہی ہے۔شاید کوشش کامیاب بھی ہوجائے کیوں کہ ان کا ماضی بتاتا ہے کہ وہ سیاسی رجحانات کااستعمال اپنے حق میں کرنا بھی جانتے ہیں۔


ای پیپر