اپنے منہ پر تھپڑ
22 اگست 2020 (23:51) 2020-08-22

نوازشریف اور ان کا آزادانہ لیکن آئین و جمہوری روایات کی پاسداری کرنے والا طرز حکمرانی ہمیشہ مقتدر قوتوں کے لئے پریشانی کا باعث بنا رہا اسی لئے ان کے متبادل کے طور پر عمران خان کو آگے لایا گیا… کھلاڑی کے لئے اوپر والوں کی تمام تر پشت پناہی اور عوام کے اندر انہیں مقبول بنانے کی تمام کوششوں کے باوجود تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو اقتدار کی حالت میں انتخابی شکست سے دوچار کرنا سخت مشکل ثابت ہو رہا تھا… رائے عامہ کا ایک کے بعد دوسرا اور مختلف اداروں کاجائزہ ان کی اور ان کی جماعت کی 2018ء کے چنائو میں چوتھی مرتبہ کامیابی کی خبر دے رہا تھا… لہٰذا اس ’’بلائے بے درماں‘‘ سے جان چھڑانے اور عمران خان کی کامیابی کو یقینی بنانے کی خاطر اقامہ جیسے بھونڈے الزام کے ذریعے بذریعہ عدالت عظمیٰ موصوف کی برطرفی کا سامان کیا گیا… ان کی مقبولیت کو ایک اور مہمیز ملی تو وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے انہیں بیک جنبش قلم عمر بھر کے لئے ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں کے لئے نااہل قرار دیا… اس عالم میں انتخاب ہوئے تو منظور نظر کو واضح اکثریت پھر بھی نہ ملی تب کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا جمع کر کے قومی اسمبلی میں اکثریت کا ووٹ دلوایا گیا… نوازشریف جس طرح جیل میں ڈال دیئے گئے اس کی کہانی ہر ایک کو ازبر ہے… تفصیلات بیان کرنے کی حاجت نہیں انہوں نے جس عالم اور کیفیت میں بیوی کی وفات کا صدمہ برداشت کیا اسے بھی ایک عالم جانتا ہے… مرحومہ کے جنازے پر جس طرح خلقت امڈ آئی اس نے کئی لوگوں کے اذہان میں سوال پیدا کیا… کیا قیدی اور مجرم کی بیوی کا جنازہ اس شان سے بھی اٹھا ہے… نواز پیرول پر رہا تھا… اس نے اور بیٹی نے مسلسل خاموشی اختیار کر رکھی تھی… واپس جیل چلا گیا… لیکن ملک کے اندر خواہ جیل میں اس کی موجودگی خطرے کا باعث بنی ہوئی تھی… نیب کے اس قیدی کے مرض میں اضافہ ہو گیا… خطرے کی گھنٹیاں بجنی شروع ہو گئیں… مقتدر قوتیں بھی چاہتی تھیں وہ علاج کے لئے باہر چلا جائے… مصدقہ خبر کے مطابق بیمار قیدی کی بوڑھی والدہ کو بھی قائل کرنے کی کوشش کی گئی کیونکہ لاہور کے سروسز یا کسی ہسپتال میں پیچیدہ بیماری کے فوری اور مؤثر علاج کی سہولتیں موجود نہیں… سرکاری ڈاکٹروں نے رپورٹس دیں… طاہر شمسی جیسے ماہر امراض خون کراچی سے آئے معائنہ کیا… شوکت خانم ہسپتال کے انچارج اور وزیراعظم خان بہادر کے سب سے قابل اعتماد ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی شدید اور پاکستان میں ناقابل علاج بیماری کا یوں کہئے کہ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا …قصہ مختصر سابق وزیراعظم بیمار ہونے کے باوجود غیرمعمولی خوداعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہوائی جہاز کی سیڑھیوں پر سوار ہو کر عازم لندن ہوئے… مریم کو ملک کے اندر روک لیا گیا… نوازشریف سے ایک لغزش البتہ ہوئی… توسیعی بل کی حمایت کی اپنے اراکین اسمبلی کو ہدایت جاری کر دی… اس سے ملک کے اندر بہت سے جمہوریت پسند حلقوں اور خود ان کی جماعت کے بعض لوگوں کو صدمہ پہنچا… ڈیل کا تاثر قدرے مضبوط ہوا… شہباز شریف خوش تھے… لیکن مریم نواز نے اندرون ملک میں بھاری عوامی اجماعات منعقد کر کے اسے دور کرنے کی اپنی سی کوشش کی… اس پر بھی پابندیاں لگا دی گئی ہیں… اب عالم یہ ہے باپ بیٹی ایک مختصر بیان دیتے ہیں تو جملہ ایوان ہائے اقتدار میں تھرتھلی مچ جاتی ہے… نواز چہل قدمی کے لئے باہر نکلتے ہیں تو بیماری کے جعلی ہونے کے تذکرے حکمران جماعت کے لوگوں کی زبانوں پر آ جاتے ہیں… گزشتہ ہفتے مریم نواز نیب کے بلاوے پر اپنے اوپر عائد کئے گئے الزامات کا جواب دینے کے لئے احتساب بیورو کے لاہور دفتر کی جانب روانہ ہوئیں تو پُرجوش کارکنوں کا ایک ریلا ان کے ساتھ تھا… اینٹیں پھینکی گئیں… مریم کی بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ ٹوٹ گیا… نیب کا تمام تر جاہ جلال خاک میں مل چکا تھا… دروازے بند 

کر دیئے گئے تھے… نوازکی بیٹی سے درخواست کی گئی واپس چلی جائیں… یہ ڈٹ گئی… بلایا ہے تو جواب سننے کی ہمت اور حوصلہ پیدا کرو مگر یہ سب کچھ نیب کے لاہور دفتر والوں کی استعداد سے باہر تھا… مریم جس عوامی کروفر کے ساتھ آئی تھیں اسی کے ساتھ واپس چلی گئیں… پریس کانفرنس کی اور پُرزور الفاظ میں حکمرانوں کو چلنج دیا میں موجود ہوں جو مقدمہ چلانا چاہتے ہو چلائو گھبراتے کیوں ہو…

اس ایک واقعے نے حکمران قوتوں اور ان کی برسراقتدار لائی گئی جماعت کے وزیراعظم سمیت تشویش کی زبردست لہر پیدا کر دی… مسلم لیگ (ن) کے بارے میں کسی بھی گوشہ حکمرانی کے اندر دو رائے نہیں پائی جاتیں… ملک خاص طور پر سب سے زیادہ آبادی والے صوبہ پنجاب میں مقبول ترین جماعت ہے… اور یہ کہ نوازشریف دیار غیر میں بیٹھے اور زیرعلاج ہونے کے باوجود اپنے عوام کی نبضوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں… خیال تھا شہباز شریف ان کی جگہ لے لیں گے… اس طریقے سے جماعت کے اندر تقسیم پیدا کر دی جائے گی لیکن وہ بھی ہوتا نظر نہیں آ رہا… اب کیفیت یہ ہے سابق اور تین مرتبہ منتخب ہونے والا وزیراعظم غریب الوطن ہونے کے باوجود مقتدر لوگوں کے اعصاب پر اتنا سوار ہو چکا ہے کہ وزراء کی جانب سے برملا کہا جا رہا ہے کہ بیماری کی رپورٹیں جعلی تھیں… ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے… ہمیں نواز کو ہرگز باہر جانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے تھی… اسے واپس لانے کے لئے ہر قانونی طریقہ استعمال میں لایا جائے گا… یعنی اپنے منہ پر تھپڑ مارے جا رہے ہیں… فواد چودھری نے کہا ہے نواز کی لندن روانگی کی وجہ سے ہمارا بیانیہ اور احتساب کا عمل مجروح ہوا ہے… شیخ رشید کا فرمان ہے نوازشریف کے چلے جانے کی وجہ سے عمران پریشان ہے… بندہ ان سے پوچھے اگر اسے آپ مفرور قرار دے کر ملک کے اندر لے آئے… جیل میں بھی ڈال دیا گیا تو کیا اس کی عوامی اپیل ختم ہو جائے گی… وہ پہلے سے زیادہ خطرناک نہیں ثابت ہو گا… اگر رپورٹیں آپ کے واویلے کے مطابق واقعی جعلی تھیں… تو کیا آپ اپنی ہی حکومتی مشینری اور پسند کے ڈاکٹروں سمیت عالمی سطح پر شہرت یافتہ معالجوں سے دھوکہ کھا گئے… احسن اقبال کا کہنا ہے ان تمام معالجوں اور چوٹی کے طبیبوں کی رائے تسلیم کرنے سے پہلے ان کے بینک اکائونٹس تک چیک کئے گئے… لیکن کھلبلی ہے جو ایوان ہائے حکومت کے اندر مچی ہوئی ہے… نواز سے جان چھڑانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا… کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہو رہی… پچھلے ہفتے کے اخبارات پر نظر ڈالئے… ٹیلی ویژن پروگراموں کا جائزہ لیجئے… ایسا معلوم ہوتا ہے حکومت کے پاس کرنے کا کوئی کام نہیں رہا… خارجہ پالیسی میں سخت ناکامی بلکہ شرمندگی کا سامنا ہے… آرمی چیف نے اس کی طنابیں اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہیں… معیشت کی بحالی کے بہت دعوے کئے جا رہے ہیں یہاں تک کہ معاشی اشاریوں کے حوصلہ افزا ہونے کے بارے میں زمین آسمان کے قلابے ملائے جا رہے ہیں… مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ مہنگائی کا گراف روزانہ کے حساب سے بڑھ رہا ہے… اشیائے ضرورت عام آدمی کیا متوسط طبقوں کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں… بے روزگاری بڑھتی چلی جا رہی ہے… لوگ پوچھتے ہیں کہاں گئیں وہ ایک کروڑ نوکریاں جن کا انتخاب سے عین قبل وعدہ کیا گیا تھا اور کدھر گئے وہ پچاس لاکھ گھر جو ضرورت مند کنبوں کے تعمیر کرنا تھے… کوئی جواب نہیں ملتا… ایسے میں اس کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہا کہ نوازشریف کو ہر حالت اور ہر طریقے سے مطعون کیا جائے… وہ سابقہ سیاسی دوستوں سے ٹیلیفون پر بات کرے… یہاں تک کہ اپنی بیٹی سے حالات حاضرہ پر گفتگو کرے تو کہا جاتا ہے سیاست کر رہا ہے… لائو اس کو وطن میں واپس… پھر کیا ہو گا… کسی کو علم نہیں ماسوائے اس کے کہ اپنی پے در پے ناکامیوں کا کتھارسس نکالا جا رہا ہے… 

میں ہوں اپنی شکست کی آواز

کیا حکومتیں ایسے کی جاتی ہیں اور دگرگوں مسائل کا شکار ملک کے نظام ایسے چلائے جاتے ہیں… دوسری جانب پی پی پی کو شکایت ہے ن لیگ کل جماعتی کانفرنس کی تاریخ اور ایجنڈے پر آمادہ نہیں ہو رہی اس شکوے میں کسی حد تک صداقت کا عنصر پایا جاتا ہے… شہباز شریف مسلسل اعراض سے کام لے رہے ہیں اور نوازشریف نے اس کی بابت اپنی سوچ کو واضح نہیں کیا… شہباز لاکھ کوشش کر دیکھیں اپنے طور پر حکمران قوتوں کے ساتھ ڈیل نہیں کر سکتے اس کے لئے بڑے بھائی کی رضامندی ضروری ہے… جبکہ میاں نوازشریف غالباً اس مرحلے کے انتظار میں ہیں آموں کی فصل پوری طرح پک جائے اور پھر انہیں درختوں سے اتار کر مارکیٹ میں پیش کر دیا جائے… حکومت کو اسی لمحے کا خطرہ درپیش ہے… پنجابی محاورے کے مطابق آم اگر ’’پولا‘‘ ہو گیا تو مخالفین کہیں کھڑے نظر نہ آئیں گے اور وہ جو ان کی کمر پر کھڑے ہیں اور قدرے نالاں بھی نظر آتے ہیں ان کے لئے بھی سہارا دینا مشکل تر ہو جائے گا… لیکن (ن) لیگ اور پی پی پی دونوں کی اعلیٰ قیادتوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے اگر انہوں نے واقعی ایک ایجنڈے پر اکٹھے ہو کر اور چھوٹی جماعتوں کو ساتھ لے کر آئین کی سربلندی اور جمہوریت کے حق میں راہ ہموار کرنی ہے تو اس پر ہم دیرپا ایجنڈہ تیار کریں اور اس پر اتفاق رائے پیدا کریں… 2007ء کے میثاق جمہوریت کا سا حشر نہ ہو جس میں طے کیا گیا تھا جنرل مشرف کے احتساب بیورو کی جگہ غیرجانبدارانہ اور شفاف احتساب کے لئے ایسا ادارہ قائم کیا جائے گا جس سے انتقام کی بو ہرگز نہ آئے گی… شفاف ترین، غیرجانبدارانہ اور بلاامتیاز احتساب کا ڈول ڈالا جائے گا… اس کے بعد دونوں جماعتیں باری باری برسراقتدار آئیں مگر یہ کام نہ ہو پایا… آج دونوں کی لیڈرشپ اس کے تلخ ترین نتائج بھگت رہی ہے…


ای پیپر