ایک سلطان بھی نہیں …
22 اگست 2020 (23:50) 2020-08-22

کشمیر کے جھنڈے لہراتے، بھارت کے جھنڈے اور مودی کے پتلے جلاتے، جشن آزادی کے بہت بڑے بڑے کیک کاٹتے ہم نے دنیا کو استحکام پاکستان اور آزادیٔ کشمیر پر اپنے عزم کا نظارہ دکھا دیا، تاہم وفاقی وزیر امور کشمیر تو بھاگ ہی پڑے۔ ’رن فار کشمیر‘ (کشمیر کے لیے دوڑو) کے تحت کچھ اپنی کلوریز جلاکر بھارت کا جی جلایا۔ کشمیر کے لیے دوڑ دھوپ دکھا دی۔ اگرچہ ستم ظریفی یہی تو ہے کہ ہم مسئلہ کشمیر سے بھاگ ہی تو رہے ہیں، مزید بھاگنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ بیس سالہ غلامی پلس کے یہ سال گزار کر ہم نے بحیثیت امت، جلوس جلسے نکالنے، میرا  تھا ن دوڑیں لگانا سیکھی ہیں، جہاد فی سبیل اللہ سے بچتے بچاتے۔ دنیائے کفر کے ظلم، جبر تشدد تلے پسی آبادیوں، میزائلوں کی زد میں شعلہ بداماں بستیوں سے منہ موڑے ہم یہ ہومیوپیتھک علاج سیکھ گئے ہیں۔ کشمیر کچلا جارہا ہے؟ دوڑو… لیکن دیکھو بارڈر پار دیکھنا بھی نہیں، جانا بھی نہیں۔ یہیں اسلام آباد میں کچھ تصویریں کھچوانی، کچھ سیمینار، تقاریر برپا کرنی، نغمے گانے بجانے، خاموشی اختیار کرکے اظہار یکجہتی کرنا ہے۔ اس کی ویڈیوز وائرل کرکے حق ادا ہوجائے گا۔ آپریشن طلب مرض کو پیناڈول کھلاکر بہلائے چلو۔ 

ابھی ہم کشمیر کو چپ کرانے، بہلانے پھسلانے میں لگے تھے کہ دجالیوں نے نیا امتحان کھڑا کردیا۔ یکایک اماراتی رئیس نے اپنے غریب، مسکین مظلوم فلسطینی بھائیوں سے منہ موڑکر اسرائیل سے والہانہ اظہار محبت دنیا کے چوراہے میں کرڈالا۔ اگرچہ یہ چوری چھپے تعلقات زیر زمین تو کب سے چل ہی رہے تھے، سو یہ غیرمتوقع معاہدہ تو نہیں۔ پہلے کشمیریوں کے قاتل مودی کی پیٹھ ٹھونکتے رہے۔ یہ دونوں نوجوان ولی عہد شہزادے (امریکا کے تابع فرمان، امریکا کے یہودی داماد کشنر کے فدوی) مشرق وسطی میں جس منہ زور پالیسی کو پوری امت کی بے قراری کے علی الرغم لیے چل رہے ہیں، یہ اقدام عین اسی کا نتیجہ ہے۔

 اسرائیل اور بھارت یکساں طور پر مسلم کش اور اسلام دشمنی میں سرفہرست ہیں۔ اس کے باوجود مودی کو اعزازات سے لادنا اور بہت بڑے مندر کی تعمیر ہوا کا رخ تو بتا چکی تھی۔ مودی نے بابری مسجد گراکر مندر کی تعمیر شروع کی۔ یہودی مسجد اقصیٰ ڈھاکر ہیکل سلیمانی بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔ راہ ہموار کرنے کے لیے پوری دنیا میں کل ایک کروڑ یہودی، 1.7 ارب مسلمانوں کے مقابل (اسرائیل میں 60 لاکھ یہودی ہیں) تن کر کھڑے ہیں۔ انہیں مسئلہ حکمرانوں سے نہیں مسلم عوام سے ہے۔ گریٹر اسرائیل ایجنڈوں کی سیریز میں ریاض میں ٹرمپ نے مئی 2017ء میں 55 مسلم ممالک کی کانفرنس بلاکر ان کی گویا امامت فرمائی تھی۔ اس کانفرنس میں ٹرمپ کا خطاب، مسلم امت کے فہمیدہ طبقے کے لیے ایک طوفان کا پیش خیمہ تھا۔ اس میں آج تک ہونے والے تمام اقدامات کا بلیو پرنٹ موجود تھا! اس کے 6 ماہ بعد یروشلم (مقبوضہ بیت المقدس، القدس شریف) میں پورے مذہبی جوش وخروش کے ساتھ امریکی سفارت خانہ کھولا گیا۔ اپنی کامیابی پر خوشی سے چہکتے لوٹے تھے۔ کشنر کو ان مشنز پر مامور کیا تھا جن کے نتائج ہم مشرق وسطی میں انتشار باہمی اور جنگوں کی صورت بھی دیکھ رہے ہیں۔

یہ اسی کا اگلا مرحلہ ہے۔ معاہدے کے مطابق اب امارات نے باقی مسلم ممالک کو اسی طرح ڈھب پر لانا ہے۔ یہ الگ بات کہ امارات میں اسرائیلی سفارت خانہ موساد کا اڈا بنے گا۔ خطے کے مسلم مفادات گروی رکھے جائیںگے۔ گریٹر اسرائیل، فلسطینیوں سے رہی سہی زمینیں چھین کر انہیں صحرائے سینا میں دھکیلنا، ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی ساری چوریاں اسی سینہ زوری سے ہوںگی۔ معاہدہ کرتے ہی نیتن یاہو نے بلاتوقف یوٹرن لے کر فلسطینی علاقے ضم کرنے کے منصوبے پر اصرار کیا، بلکہ اسرائیلی دہشت گردی کی رفتار بڑھا دی۔ معاہدے کے بعد بھی بلاتامل غزہ پر ٹینکوں، جیٹ جہازوں، جنگی ہیلی کاپٹروں سے حملے کرکے اپنے عزائم کا عملی اظہار کردیا۔ 20 لاکھ محصور ترین مسلم آبادی پر مزید سپلائز کا راستہ بند اور ماہی گیری پر مزید پابندی عائد کردی۔ ایندھن کی سپلائی روک دی۔ ایک دن میں 32 بچے اور 10 خواتین گرفتار کرکے مسلمانوں کا منہ چڑایا ہے۔ امارات کے ساتھی دوست ممالک، مسلم عوام کا ردعمل دیکھ رہے ہیں، خود اسرائیل سے تعلقات کا اقدام کرنے سے پہلے۔ 

کشمیر سے تو ہم بھاگ ہی رہے تھے، اب فلسطین کی چھچھورندر گلے میں آ پھنسی ہے۔ حکومت آئیں بائیں شائیں کر رہی ہے۔ ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر کی کیفیت میں۔ ایمان بے چارہ نہایت کمزور، بیمار شیمار ہی رہتا ہے۔ کورونا میں پورا زور لگاکر رمضان، عیدین، مساجد، مدارس، نماز باجماعت، صفیں تڑوانے کے سارے اہتماموں سے نمٹے۔ ’ریاست مدینہ‘ کا جو حوالہ چلتا ہے وہ اصلاً موجودہ سعودی حکومت حکمرانوں کا رول ماڈل ہے۔ (جسے سادہ لوح پاکستانی دور اول کا مدینہ منورہ سمجھے بیٹھے ہیں) حال ہی میں مدینہ کے صوبے ہی میں عالمی حرافہ ماڈل کے دن بھر کے ایمان شکن جلوؤں کا تذکرہ ہو ہی چکا عالمی میڈیا میں۔

 پاکستان بالواسطہ یہودی شکنجے میں یوں ہے کہ وزیراعظم کی اولاد کا ننھیال نامی گرامی یہودی خاندان ہے۔ اہم مناصب پر قادیانی اور مہا سیکرلر مزید ہیں۔ سو عوام کو اقصیٰ اور فلسطینیوں کی حفاظت کے لیے خود چوکس رہنا ہوگا۔ ہماری دگرگوں اقتصادی حالت ہم سے کوئی سودا نہ کروا لے۔ چہار جانب سے ہم ایماں فروشی کے لیے مسلسل دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ختم نبوت، شان رسالت، قادیانی اور اقلیتی حقوق کا واویلا، تعلیمی نصابوں کی بربادی، دہشت گردی کی آڑ میں ہر ذی ایمان نوجوان کا گھیراؤ کرنے کی مجبوری، دینی فلاحی سرگرمیوں کا گلا گھونٹنا۔ غرض صلیبی جنگ جس کا اظہار بش نے آغاز جنگ 

2001ء میں کیا تھا، ہم اسے بالاقساط بھگت رہے ہیں۔ اب باری ہے اسرائیل کے اصل ایجنڈے پر عمل کی۔ ہرجا امید بھری نگاہوں کو پتھرایا ہوا محسوس کرتے ہیں۔

 یاد رہے کہ مسئلہ صرف فلسطین یا فلسطینی عوام کا نہیں، مسئلہ قبلۂ اول، بیت المقدس کا، مسجد اقصیٰ کا ہے۔ یہ نری حریت پسندی نسل اور زمین کا نہیں ایمان کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے ہر لاالہ کہنے والے کی دنیا آخرت کا مسئلہ ہے۔ حق سے وفاداری کا لٹمس ٹسٹ ہے۔ جس طرح کعبۃ اللہ یا مسجد نبویؐ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی، وہی حیثیت مسجد اقصیٰ کی دنیابھر کے ہر مسلمان کے لیے ہے۔ پھر ہم خلافت عثمانیہ کو دکھ سے یاد کرنے پر مجبور ہیں۔ کمزور ترین حالت میں بھی خلافت نے سلطان عبدالحمید دوم کے دور میں یہودی دباؤ، لالچ، منت و سماجت پر جو زبردست دفاع کا رویہ اختیار کیا تھا وہ تاریخ میں درج ہے۔ مال ودولت کے عوض قدس کی زمین مانگنے پر سلطان نے کہا: ’عثمانی کبھی دشمنوں کے مال سے کھڑے کیے محلات میں پناہ نہ لیںگے۔ دوبارہ جرأت مت کرنا۔ میں اس سرزمین کی مٹھی بھر خاک بھی نہیں دے سکتا۔ یہ میری ملکیت نہیں، پوری امت مسلمہ کی ہے۔ امت نے اس کے لیے جہاد کیا اور اپنے خون سے اسے سینچا ہے۔ جب تک میں زندہ ہوں، سینے میں خنجر گھونپ لوںگا، زمین یہودیوں کو نہیں دوںگا۔‘ آج اس امت کے قافلے میں ’ ایک سلطان بھی نہیں…‘ نہ سلطان محمد فاتح، نہ سلطان صلاح الدین ایوبی، نہ سلطان عبدالحمید جیسا بھی کوئی ایک

مسجد اقصیٰ مرکز نگاہ کیوں کر ہو، جب کورونا کے بہانے مساجد پر شدید ترین پابندیاں اور غضب ناکی پوری قوم نے دکھائی! یہ اتفاق مبارک ہو مومنوں کے لیے! جو کسر رہ گئی تھی حرمت مسجد توڑنے کی، وہ لاہور مسجد وزیرخان میں میراثیوں نے (آرٹ کلچر کا ملفوف نام!) ناچ گا بجاکر احکام شریعت کی پامالی سے پوری کردی۔ مساجد میں پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے رہے۔ 30 ہزار روپے کے عوض مسجد کی حرمت بیچ دی۔ عوام کا یہ کہنا کہ ناچنے والوں نے مسجد کا تقدس پامال کیا، عورت اگر اپنے وجود کے تقدس سے ناآشنا ہے تو بے چاری مسجد کا تقدس کیا جانے۔ بڑی مساجد کو جا بجا پکنک اور سیاحت گاہیں بنا دینے کا یہ شاخسانہ ہے۔ فیصل مسجد ہو یا بادشاہی مسجد۔ تصویر کشی اور پکنک منا کر جوڑے عین نماز کے وقت بلاسجدہ وہاں کھا، پی، سیر کر کے چل دیتے ہیں۔ یہ ایکسرے ہے اپنے تشخص اور روایات سے مکمل بے بہرہ ہونے کا۔ قبلۂ اوّل کو یہ کیا جانیں! مسجد اقصیٰ والا امت کا فریضہ ادا کرنے والے فلسطینی حماس ہو یا دیگر، عسکری تنظیموں کی آڑ میں انہیں دیوار سے لگا دیا۔ صلاح الدین ایوبیؒ کے سارے بیٹے مسلم دنیا سے چن چن کر مار ڈالے، کیونکہ ہم بش کے فرمانبردار ٹوڈی ہیں جس نے کہا تھا: ’میں وہ سارے جوہڑ ختم کردوںگا جہاں سے مچھر پیدا ہوتے ہیں۔‘ نمرود کی ناک کے ان مچھروں کے عوض دنیا نے ڈینگی اور کورونا بھگتا ہے۔ رہے نام اللہ کا!


ای پیپر