عرب اسرائیل معاہدہ
22 اگست 2020 (23:48) 2020-08-22

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے اور سعودی عرب نے انکار کر دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل دعوی کیا تھا کہ دیگر اسلامی ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں۔ اس کے بعد یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ان ممالک کو سعودی عرب کی سپورٹ حاصل ہے اور بہت جلد سعودی عرب بھی اسرائیل کو تسلیم کر لے گا۔ لیکن سعودی عرب کے انیس اگست کو دیے گئے بیان سے حالات کسی اور طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے اس رویے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ امت مسلمہ میں اپنا وقار قائم رکھنا ہے۔ اسرائیل کے حق میں فوراً بیان سعودی عرب کے لیے نفرت پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ جو اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران کے درمیان متوازن تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں ان کا جھکاؤ ایران کی جانب ہو سکتا ہے۔ میں یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا بیان جنرل قمر جاوید باجوہ کے سعودی عرب کے دورے کے بعد سامنے آیا ہے۔ گو کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ آرمی چیف کا دورہ کامیاب نہیں رہا ہے لیکن ہمیں اس حقیت سے نظریں نہیں چرانی چاہئیں کہ سعودی عرب پاکستان کو اپنی بیلٹ میں رکھنا چاہتا ہے۔ چاہے اسے کوئی بھاری قیمت ہی ادا کیوں نہ کرنی پڑے۔ سعودی عرب کے لیے پاکستان کی عسکری طاقت باعث فخر ہے اور یہی واحد وجہ ہے کہ سعودی عرب پاکستان کو کھونا نہیں چاہتا۔ جنرل باجوہ کے دورے میں سعودی عرب کو یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے تسلیم کرنے والے ممالک کی حمایت کرے گا۔ پہلے ہی سعودی پاک تعلقات میں ظاہری سرد مہری کی بڑی وجہ پاکستان کا ترکی اور ایران کی طرف جھکاؤ ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کر کے سعودی عرب مزید مشکلات کو دعوت نہیں دینا چاہتا۔

اس معاہدے کے بعد پاکستان کے بااثر اور عمومی حلقوں میں بھی یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ جلد یا بادیر پاکستان بھی اسرائیل کو تسلیم کر لے گا۔ اس کا فارمولا کچھ یوں بیان کیا جا رہا تھا کہ جب حکومت کے گھر جانے کے دن قریب 

آجائیں گے اس سے یہ ناممکن کام بھی کروا لیا جائے گا۔ نئی آنے والی حکومت بھی سارا ملبہ پچھلی حکومت پر ڈال دے گی اور عوام سے پرانی حیثیت بحال کرنے کا وعدہ بھی کرتی رہے گی۔ وقت کے ساتھ عوام کی یاداشت بھی کم ہونا شروع ہو جائے گی اور اسرائیل سے تعلقات ختم کرنا نعروں اور سیاست کی حد تک محدود رہ جائے گا۔ ماضی میں بھی جس حکومت کو گھر بھیجنا ہو اس کے گلے میں غیر معروف فیصلوں کی گھنٹی ڈالی جاتی رہی ہے۔ اس تاثر کی وجہ اسرائیل یو اے ای معاہدے کے فوری بعد حکومت پاکستان کا ابتدائی بیان تھا جو کہ ذو معنی تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس کا جھکاؤ اسرائیل کی جانب تھا تو غلط نہیں ہو گا۔ لیکن وزیراعظم عمران کے اٹھارہ اگست کو دیے گئے انٹرویو میں جو موقف سامنے آیا ہے اس نے تمام شک و شبہات دور کر دیے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ فلسطین کا فیصلہ فلسطین کی عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ اگر پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کا موقف بے معنی ہو جاتا ہے۔ قائداعظم نے اسرائیل کو ماننے سے انکار کیا تھا ہم بھی قائداعظم کے نقش قدم پر چلیں گے۔ اس بیان کے بعد فلسطینی سفارت خانے نے عمران خان کا شکریہ ادا کیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کتنی دیر تک اس فیصلے پر قائم رہتے ہیں۔کیونکہ یہ بھی سچ ہے کہ خان صاحب کے ماضی کے دعوں اور وعدوں کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ یہاں میں ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا اتنا آسان معاملہ نہیں ہے جتنا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ جن لوگوں کے پاسپورٹس پر اسرائیل میں داخلے اور خروج کی مہر لگائی جاتی ہے انھیں بہت سے ممالک میں داخلے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ اسرائیل کے شہریوں کی اکثریت امریکہ اور یورپ کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ وہ اسرائیل کی بجائے دوسرے ممالک کے پاسپورٹس پر سفر کرتے ہیں۔ سن 2020 سے پہلے اسرائیل کے پاسپورٹس کے حامل افراد دبئی نہیں جا سکتے تھے۔ 2020 نمائش کے لیے انھیں خصوصی اجازت دی گئی تھی لیکن کورونا کی وجہ سے یہ نمائش منعقد نہیں ہو سکی۔ یو اے ای نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے لیکن یو اے ای کے شہری بھی اپنے پاسپورٹس پر اسرائیل میں داخلے اور خروج کی مہر لگوانے سے پرہیز کریں گے۔ اسرائیل کی حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سیاحوں کے پاسپورٹس پر مہر لگانے سے منع کر رکھا ہے۔ بلکہ ملک میں داخلے اور خروج پر ایک پیپر جاری کیا جاتا ہے جو کہ پاسپورٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ اسکے علاوہ دیگر سینکڑوں مسائل ہیں جن کااحاطہ ایک کالم میں ممکن نہیں ہے۔

آئیے اب ترکی کے ردعمل کا جائزہ لیتے ہیں۔اس معاہدے کے بعد ترکی کے بیان نے دنیا کو حیران کر دیا۔ طیب اردوان نے دھمکی دی کہ ترکی یو اے ای کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ یو اے ای نے یہ معاہدہ مالی مفاد کے لیے کیا ہے جو کہ ناقابل قبول ہے۔ یہ ردعمل حیران کن اس لیے تھا کہ ترکی پہلا اسلامی ملک تھا جس نے 1949 میں اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔ تقریباً سن 2015 تک ترکی میں اسرائیلیوں کو بغیر ویزے کے انٹری ملتی تھی۔ دفاع کا سامان سمیت دیگر تجارت بھی عروج پر تھی۔ آج بھی تجارت کے حالات برے نہیں ہیں۔ اس وقت ترکی کی اسرائیل سے برآمدات تقریباً 453 ملین ڈالرز ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر اوسطا سات فلائٹس آپریٹ ہوتی ہیں۔ ترکی اسرائیل کی تسلیم کے فیصلے کو معطل نہ کرنے کی وجہ یہ بتاتا ہے کہ وہ غزہ کے مسلمانوں کی مدد کر رہا ہے۔ غزہ کو زمینی راستہ مصر سے ہو کر جاتا ہے یا اسرائیل کے راستے سے غزہ جایا جا سکتا ہے۔ ترکی کے تعلقات مصر سے بہتر نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ مصر نے غزہ جانے والے زمینی راستے کو بند کر دیا ہے۔ لہذا غزہ کے مسلمانوں کی مدد اسرائیل کے زمینی راستے سے ہی ہو سکتی ہے۔ یہ موقف اتنا مضبوط محسوس نہیں ہوتا۔ غزہ کی مدد کے لیے ترکی کو برآمدات کی تو ضرورت ہے لیکن درآمدات کی ضرورت نہیں ہے۔ ترکی اسرائیل کو آئرن، سٹیل اور شیشے کا سامان بڑی تعداد میں برآمد کرتا ہے جس کا غزہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس وقت ترکی اسرائیل سے تقریباً 464 ملین ڈالرز کی درآمدات کرتا ہے۔ جس کا غزہ اور فلسطین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔یہ دراصل معاشی مسئلہ معلوم ہوتا ہے۔ یہ تجارت شاید ترکی کے معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے۔ ترکی کو چاہیے کہ وہ بھی سرکاری سطح پر اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کرے تا کہ ان ممالک کی حوصلہ شکنی ہو جو اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں یا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


ای پیپر