ڈاکٹر ماہا کی موت کا معمہ حل ہو گیا ،سنسنی خیز انکشافات 
22 اگست 2020 (19:53) 2020-08-22

کراچی: پولیس ڈاکٹر ماہا علی مبینہ خود کشی کیس کی گھتی سلجھانے میں کامیاب ہوگئی، ایس ایس پی ساوتھ شیراز نذیر کا کہنا ہے کہ خاتون ڈاکٹر شدید ڈپریشن کا شکار تھی، تفتیش کے دوران خود کشی کی تصدیق ہوگئی۔ 

تفصیلات کے مطابق کراچی میں نوجوان لیڈی ڈاکٹر اور فیشن بلاگر ڈاکٹر ماہا علی مبینہ خود کشی کیس کی تفتیش مکمل ہوگئی ہے،بتایا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے 4 روز سے جاری تفتیش مکمل کر لی گئی ہے۔ ایس ایس پی ساوتھ شیراز نذیر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر ماہا علی نے خود کشی ہی کی ہے۔ ان کا بتانا ہے کہ تفتیش کے دوران تصدیق ہوئی کہ یہ معاملہ خود کشی کا ہی تھا۔ ڈاکٹر ماہا علی ڈپریشن کا شکار تھی اور جس دن اس نے خود کشی کی، اس روز بھی وہ شدید پریشان تھی۔

ڈاکٹر ماہا جب گھر آئی تو شدید پریشان تھی،اپنے کمرے میں جانے کے بعد ڈاکٹر ماہا واش روم میں گئی اور دروازہ بند کر کے شاور چلا دیا۔ پھر ڈاکٹر ماہا نے دیوار پر اپنا سر رکھا اور 9 ایم ایم پستول کن پٹی پر رکھ کر گولی چلا دی، جس سے گولی ان کے سر سے پار ہوتی ہوئی دیوار میں گھس گئی۔ گولی کی آواز سننے کے بعد اہل خانہ نے واش روم کا دروازہ توڑ کر ڈاکٹر ماہا کو باہر نکالا اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔

جب دروازہ توڑا گیا تو ڈاکٹر ماہا شاور کے نیچے خون میں لت پت پڑی تھی۔ بعد ازاں ہسپتال مین چند گھنٹے زیر علاج رہنے کے بعد ڈاکٹر ماہا کی موت واقع ہوگئی۔ پولیس کا مزید بتانا ہے کہ دوران تفتیش ڈاکٹر ماہا کے قریب رہنے والے لوگوں سے معلوم ہوا کہ وہ اکثر پریشان رہتی تھی اور خود کشی کی باتیں بھی کرتی رہتی تھی۔ 

ماہا علی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ فیشن بلاگر اور ماڈل بھی تھیں۔ پولیس کا مزید بتانا ہے کہ ڈاکٹر ماہا نے جس 9 ایم ایم پستول سے خود کشی، وہ اس نے کسی سے حاصل کیا تھا۔


ای پیپر