حکمرانوں کی ڈھٹایاں اور من مانیاں! 
22 اگست 2020 2020-08-22

یہ پاکستان کا 73واں یوم پیدائش ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ایک خطاب میں اسے پاکستان کا 74واں یوم پیدائش کہہ دیا، اور تو کسی شعبے میں تبدیلی وہ پتہ نہیں لاسکتے ہیں یا نہیں پاکستان کی عمر ایک برس زائد بتاکر جو تبدیلی وہ لے آئے ہیں ہم اُس پر بھی خوش ہیں، اب خان صاحب کے ہم اےسے چاہنے والوں سے کوئی پوچھے گا کیا تبدیلی وہ لے کر آئے ہیںہم فخرسے کہہ سکیں گے اُنہوں نے پاکستان کی عمر میں ایک برس کا اضافہ کردیا تھا، .... وہ چونکہ اپنی بات پر اڑجانے یا ڈٹ جانے کی عمومی شہرت رکھتے ہیں، اور اُس وقت تک کسی معاملے میں “یوٹرن“ نہیں لیتے جب تک پانی سر سے نہ گزرجائے، تو واٹس ایپ پر یوم آزادی کی مبارک دیتے ہوئے میں نے یہ تصحیح کرنا مناسب نہیں سمجھا یہ پاکستان کا 73واں نہیں 74واں یوم پیدائش ہے، میں نے اِس خدشے کے تحت بھی اُن کی تصحیح نہیں کی وہ حکمران ہیں اور ہمارے اکثر حکمران صرف اپنی کہی ہوئی بات کو ہی درست سمجھتے ہیں، میں سوچ رہا تھا میں وزیراعظم کی تصحیح کروں وہ آگے سے فرما دیں ”تم چپ کرو، وزیراعظم میں ہوں یا تم ہو؟۔ تمہیں زیادہ پتہ ہے کہ یہ 73واں یوم پیدائش ہے یا 74واں ہے، تو میری کیا عزت رہ جائے گی ؟۔ ایک واقعہ سنیں۔ محترمہ بے نظیر کے دوراقتدار میں اُن کی اتحادی جماعت کے ایک رہنما سردار عارف نکئی وزیر اعلیٰ پنجاب تھے۔ بونگیاں مارنے میں وہ پنجاب کے موجودہ وزیراعلیٰ بزدار جیسے ہی تھے البتہ بڑھکیں مارنے میں وزیراعلیٰ بزدار سے کہیں آگے تھے، اُنہیں شاید بڑھکیں مارنے کی آزادی بھی تھی جوبزدار کو نہیں ہے، اُن کی بونگیوں اور بڑھکوں کا پنجاب کو اتنا نقصان نہیں ہوا تھا جتنا اب ہورہا ہے، وہ کرپٹ بھی شاید نہیں تھے، تجربہ کار بھی بزدار صاحب سے زیادہ اِس لیے تھے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ دوتین محکموں کے وزیر بھی رہ چکے تھے، ایک بار وہ ریس کورس پارک میں بطور وزیراعلیٰ پھولوں کی نمائش کا افتتاح کرنے آئے، اُن دنوں شاید پی ایچ اے نہیں بنا تھا، ریس کورس پارک کا انتظام پنجاب کے محکمہ زراعت کے پاس ہوتا تھا، چنانچہ محکمہ زراعت کے اعلیٰ افسران بھی اُن کے ساتھ موجود تھے، نمائش دیکھتے ہوئے اچانک کچھ پھولوں کے پاس وہ رُک گئے، اپنے ساتھ محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر ہارٹی کلچر سے کہنے لگے ”یہ پھول کینسر پھیلاتے ہیں“ .... ڈائریکٹر ہارٹی کلچر نے بڑے ادب سے اُنہیں جواب دیا ” سر یہ وہ پھول نہیں ہیں“....اُن کی بات سنتے ہی وہ آگ بگولہ ہوگئے، کہنے لگے ”بکواس بند کرو، وزیراعلیٰ میں ہوں یا تم ہو؟۔ تمہیں مجھ سے بہتر پتہ ہے یہ پھول کینسر پھیلاتے ہیں یا نہیں ؟“....صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا، ڈائریکٹر ہارٹی کلچر کو فوری طورپر معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کردیئے، ہمارے بیوروکریٹس عموماً بڑے بزل ہوتے ہیں لہٰذا اُن کے ساتھ کھڑے سیکرٹری زراعت اور دیگر اعلیٰ افسران بجائے اِس کے اپنے ایک ساتھی کے صحیح مو¿قف کی تائید کرتے اُلٹاوزیراعلیٰ سے کہنے لگے” سر آپ بالکل ٹھیک فرمارہے ہیں، اِس بے وقوف کو کیا پتہ ؟“.... اُس کے بعد فوری طورپر وہ پھول وہاں سے ہٹادیئے گئے .... حکمرانوں کے مُوڈ کا کچھ پتہ نہیں چلتا کب ٹھیک ہو جائے، کب خراب ہوجائے؟، لہٰذا اُن کے ساتھ سوچ سمجھ کر ہی بات کرنی چاہیے یا اُن کے موڈ کے مطابق ہی کرنی چاہیے، .... جہاں تک وزیراعظم عمران خان کا تعلق ہے میں چونکہ اُنہیں گزشتہ چوبیس برسوں سے جانتا ہوں اُن کا موڈ اچھا ہو اپنے بارے میں سخت سے سخت بات بھی وہ برداشت کرلیتے ہیں، .... دو ماہ قبل اپنی ون ٹوون ملاقات میں اُن کا موڈ بڑا اچھا تھا، میں نے اُن سے کہا آپ کی تجربہ کاریوں ، آپ کی ٹیم کی مسلسل ناکامیوں اور نااہلیوں، خصوصاً پنجاب میں آپ کے ”وسیم اکرم پلس“ کی وجہ سے جو حالات بنتے جارہے ہیں، اگلا الیکشن تو دورکی بات ہے، آج کسی وجہ سے نئے الیکشن کا اعلان ہو جائے، چاہے یہ اعلان آپ کو خود ہی کیوں نہ کرنا پڑ جائے، آپ اپنی نشست بھی مشکل سے ہی جیت سکیں گے“، .... میرا خیال تھا یہ بات سن کر وہ فوراً مجھے کمرے سے باہر نکل جانے کا حکم دیں گے، بلکہ اپنے گارڈز کے ذریعے کسی بوری میں بند کرواکر مجھے واپس لاہور پھنکوادیں گے۔ یا پھر ہوسکتا ہے کسی الزام میں گرفتار کروادیں، .... ایسا کچھ نہیں ہوا، وہ روایتی انداز میں ہلکا سا مسکرائے، کہنے لگے ”تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے“ .... میں نے عرض کیا ” میرے خیال میں تو دماغ اب درست ہوگیاہے“ .... وزیراعظم عمران خان اس حوالے سے سابقہ حکمرانوں سے نسبتاً بہتر ہیں وہ اپنی غلطی تسلیم کرلیتے ہیں، اگلے روز پشاور میں بی آرٹی کے افتتاح کے موقع پر بھی اُنہوں نے اعتراف کیا ”بی آرٹی پر میرے کچھ تحفظات تھے مگر اب ثابت ہوگیا ہے پرویز خٹک کا مو¿قف درست تھا“ .... اپنی غلطیاں تسلیم کرنے کا آغاز اُنہوں نے کر ہی دیاہے ہوسکتا ہے جلد ہی بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے کی غلطی کا اعتراف کرکے اپنے بے شمار وزیروں، پارٹی رہنماﺅں، خصوصاً پنجاب کابینہ کے ایک دو اراکین کو وزیراعلیٰ بزدار کی شان میں کہے ہوئے الفاظ فوراً واپس لینے کا موقع فراہم کردیں، یہ بھی ہوسکتا ہے اپنی اس غلطی کا اعتراف کرنے کے بعدبھی وہ یہ فرمادیں ”وزیراعلیٰ فی الحال بزدار ہی رہیں گے“،.... ویسے اب کہیں جاکر یہ احساس ہونے لگا ہے بزدار کے جانے کا وقت شاید قریب ہے، ممکن ہے وزیراعظم خان صاحب چاہتے ہوں یہ ”کارخیر“ کوئی اور انجام دے تاکہ وہ اُس شرمندگی سے بچ سکیں جو اپنے یوٹرن کے حوالے سے بار بار اُنہیں اُٹھانا پڑتی ہے، وہ ”وسیم اکرم پلس“ کی باربار اتنی تعریفیں کرچکے ہیں اُس سے واپسی اب اُنہیں ذرا مشکل دکھائی دے رہی ہے، ممکن ہے نیب ہی کوئی ایسا ”کارنامہ“ کردے جو وزیراعلیٰ بزدار کو ہٹانے کے لیے وزیراعظم کے لیے کچھ آسانیاں پیدا کردے، یہ بھی ممکن ہے فی الحال اور کوئی وزیراعلیٰ مل ہی نہ رہا ہو کیونکہ پی ٹی آئی میں زیادہ نکما وزیراعلیٰ ڈھونڈنا بھی ایک مشکل کام ہے، بزدار صاحب خوش ہیں، انہیں شاید اُن کی کسی خوبی کی وجہ سے نہیں ہٹایا جارہا جبکہ حقیقت یہ ہے اُن جیسی خامیاں ہی کسی میں نہیں مل رہیں، پنجاب میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ ساتھ نون لیگ بھی اُن سے خوش ہے، نون لیگ کے اراکین اسمبلی کے اتنے کام نون لیگ کے اپنے دور میں شاید نہیں ہوئے ہوں گے جتنے اب ہورہے ہیں۔ اُوپر سے جس طرح کرپشن کے بے شمار الزامات ان پر لگ رہے ہیں، سچ پوچھیں مجھے تو وہ پی ٹی آئی سے زیادہ لیگ کے وزیراعلیٰ لگتے ہیں، قاف لیگ والے اُنہیں اِس لیے ہٹائے جانے کے حق میں نہیں قاف لیگ کے بے شمار رہنما خصوصاً اِس کی قیادت لوگوں کو یہ تاثر دے رہی ہے کہ وزیراعلیٰ بزدار کو ہٹائے جانے کی صورت میں آئندہ وزیراعلیٰ اُن کی جماعت کا ہوگا، ظاہر ہے یہ نہیں ہوگا، سو اُن کی عزت یا بھرم وزیراعلیٰ بزدارکے قائم رہنے کی صورت میں ہی بچ سکتا ہے، ....سب سیاست سیاست کھیل رہے ہیں، پنجاب کی تباہی کا کسی کو احساس ہی نہیں !!


ای پیپر