اپوزیشن کو نئی حکمت عملی کی ضرورت!
22 اگست 2019 2019-08-22

نظریہ ضرورت کے بعد اب نظریہ تسلسل نافذ ہو گیا ہے، جس نے اپوزیشن کو بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ مشرف کی مختلف شعبوں اور محاذوں پر ناکامی نے نئی صورتحال کو جنم دیا تھا، اس وقت یہ ممکن تھا کہ ایک بار پھر مارشل لاء نافذ ہو جاتا لیکن مارشل لاٗ ء کو صورتحال سے نمٹنے کا حل نہیں سمجھا گیا۔نیتجے میں اسٹبلشمنٹ کو سویلین قوتوں سے سمجھوتہ کرنا پڑا اور سویلین حکومت آگئی۔ دو ہزار آٹھ کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز حکومتوں نے بعض اقدامات ایسے کئے جس سے حالات مختلف ڈگر پر جارہے تھے۔یہ ڈگراسٹبلشمنٹ کے لئے پسندیدہ نہیں ۔لہٰذا ان دونوں پارٹیوں خاص طور پر نواز لیگ نے ایک دوسرے کی حکومتوں کے لئے مسائل پیدا کئے۔تاہم صورتحال اسٹبلشمنٹ کے مکمل طور پر کنٹرول میں نہیں آرہی تھی۔ لہٰذا عمران خان کو میدان میں اتارنا ضروری ہوگیا۔ تبدیلی، کرپشن کے خلاف کارروائی کے بیانیے کی عوام میں مقبولیت کے باجود تحریک انصاف اپنی ناتجربہ کاری اور ہوم ورک کی عدم موجودگی میں حکومت اور سیاست چلانے میں بہت دقت کا سامنا کر رہی تھی۔ عمران خان کے ساتھ ہجوم ذہنیت تو تھی، لیکن منظم سیاسی قوت نہیں تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے اہم ادارے حکومت کے ساتھ کھڑے رہے۔ عمران خان کے ذمہ جو کام دیئے گئے وہ اکیلے سر نہیں کر سکتے تھے، نہ صرف ان اقدامات کو بلکہ خود عمران خان کی حکومت کو تحفظ کی ضرورت پڑ گئی۔ نئی پالیسیوں کو جڑ پکڑنے کے لئے تسلسل کی ضرورت تھی۔

اہم ادارے کے سربراہ کی مدت میں توسیع کے بعد ایک نئی صورتحال سامنے آئی ہے۔ جس سے لگتا ہے کہ مستقبل قریب میں مقتدرہ حلقے کوئی تبدیلی نہیں چاہتے، بلکہ عمران خان والی تبدیلی کو ہی مضبوط اور مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں بڑی پارٹیوں نے اپنی نمائندگی دوسرے درجے کی قیادت پر رکھی اور اسلام آباد کے لاک ڈائون کے فیصلے سے گریزاں رہے۔ بلاول بھٹو نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ معاملہ لاک ڈائون تک گیا تو سویلین نظام کو لپیٹ لیا جائے گا۔ مریم اور نواز شریف جیل میں ہونے کی وجہ سے شہباز شریف کے لئے آسان ہو گیا کہ وہ لاک ڈائون جیسے انتہائی قدم کی حمایت نہ کریں ۔

معاملہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے درمیان اعتماد کے فقدان کا بھی ہے۔ جس کو بلاول بھٹو اور مریم نواز نے بڑی حد تک بہتر بنایا تھا۔ لیکن مریم کی گرفتاری اور حالیہ سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے اس فقدان میں اضافہ ہوا۔ یوں خود نواز لیگ کے اندر مریم نواز اور نواز شریف کا بیانیہ عملی طور پر کمزور ہوا۔ جہاں تک اعتماد کے فقدان کا معاملہ ہے، دیکھا جائے تو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی کو دھرنے کے محرک مولانا فضل الرحمٰن پر بھی بھروسہ نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مولانا کسی بھی وقت ہاتھ کر سکتے ہیں۔ اعتماد کے فقدان اور تبدیلی کے اشارے کی عدم موجودگی میں دونوں بڑی جماعتیں اسلام آباد دھرنے کی کامیابی کے لئے زیادہ پر امید نہیں۔ لہٰذا وہ نہیں چاہیں گی کہ دھرنا کا اہم سیاسی کارڈ ہے یوں ضائع ہو جائے ۔ یہ امر قابل غور ہے کہ دھرنا صرف عمران خان حکومت کی مخالفت نہیں بلکہ اسٹبلشمنٹ کی بھی مخالفت ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں فیصلہ تو کیا گیا لیکن حتمی تاریخ طے نہیں کی جاسکی، اس کے لئے اب آئندہ ہفتے دوبارہ اجلاس ہوگا۔ کیا پتہ یہ کارڈ بھی صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کی طرح ناکام ہو جائے۔

بلاشبہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ سخت عتاب میں ہیں لیکن ان کی حکمت عملی سے لگتا ہے کہ یہ جماعتیں فائنل رائونڈ سے پیچھے ہٹ رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کی قیادت یہ چاہتی ہے کہ دھرنے کا کارڈ اس وقت کھیلا جائے جب ’امپائر‘ غیر جانبدار نہ سہی، کم از کم اتنا ہو کہ حکومت کے ساتھ اس طرح سے ایک پیج پر نہ ہو۔ حکومت اب اس دھرنے کیلئے زیادہ فکر مند نہیں۔ اس کی پوزیشن نظریہ تسلسل نے مضبوط ہو گئی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ یہ نظام اب یوں ہی چلتا رہے گا۔ اگر اپوزیشن نے دھرنے کا فیصلہ پر عمل کر بھی لیا تو وہ سینیٹ شو کی طرح ناکام رہے گا۔ حکومت کے نزدیک نواز لیگ کے کارکنوں اور ہمدردوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت صرف مریم نواز میں ہے۔ ان کے جیل جانے کے بعد شہباز شریف سے یہ امید رکھنا خام خیالی ہوگی۔ ایسے میں نواز لیگ کی دھرنے میں شرکت علامتی ہوگی۔ چوہدری شوگر ملز کیس شریف خاندان کیلئے نئی مشکل کھڑی کرے گا، ایسا لگ رہا ہے کہ شریف خاندان کے مزید افراد بھی اس کی زد میں آئیں گے، سابق وزیراعظم نواز شریف بھی اس کی زد میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔

پیپلزپارٹی ’یہ نظام ٹوٹنا نہیں چاہئے‘ کے جواز کے طور پر اس دھرنے کو ایک حد میں ہی رکھے گی۔ پیپلزپارٹی کو دبائو سے باز رکھنے کے لئے اس کی سندھ میں موجود حکومت کو خطرے میں ڈالنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ اس کو آصف علی زرداری یا فریال کے حوالے سے کوئی فوری ریلیف نہیں مل سکتا۔ لہٰذا اس کے لئے سندھ حکومت بچانا فی الحال اہم ہو گیا ہے۔پارٹی قیادت یہ یقین دہانی کرانے میں مصروف ہے کہ عمران خان اوراسٹیبلشمنٹ کی مخالفت دو الگ بیانیے ہیں۔ پارٹی اسٹبلشمنٹ کی مخالفت نہیں کررہی۔پیپلزپارٹی کی کوشش ہے کہ وہ سیاسی تنہائی کا شکار نہ ہو، دوسرے صوبے بھی اٹھیں۔ لہٰذا وہ دوسری سیاسی جماعتوں سے خود کو جوڑے رکھنا چاہتی ہے۔ اس کا زور ہے کہ اسی کے ذریعے حکمرانوں کی پالیسی میں شفٹ لے آئے۔ پارٹی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی پالیسی یہ رہے گی یعنی ایک قدم آگے بڑھے گی، دباؤ کی صورت میں ایک قدم پیچھے ہٹ جائے گی، اور وقت آنے پر کیموفلاج میں بھی چلی جائے گی۔ یہ دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔ پیپلزپارٹی جلد بازی کے بجائے لمبی اورمقتدرہ حلقوں کوتھکانے کی حکمت عملی پرعمل پیرا ہے۔

اسلام آباد کے حلقوں کا خیال ہے کہ باقی مسئلہ مولانا فضل الرحمٰن کا ہے ، وہ سمجھدار سیاستدان ہیں، وہ اتنی بڑی قوت نہیں کہ تنہا کوئی بڑا اقدام اٹھا کر حالات کو پلٹ دیں۔

اپوزیشن کو تین چیزیں ریلیف دلا سکتی ہیں۔ مضبوط ہاتھ کچھ جانے کچھ انجانے وجوہات کی بناء پر ریلیف دلائیں۔ یا عمران خان حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان بعض بنیادی نوعیت کے معاملات پر اختلافات پیدا ہو جائیں۔ یا یہ کہ حکومتی سخت انتظامات کے باوجود بہت بڑی تعداد میں اسلام آباد میں لاک ڈائون کے لئے پہنچ جائیں۔ یہ تینوں باتیں فی الحال ناممکن نظر آتی ہیں۔لہٰذا اپوزیشن کو نئے سرے سے حالات اور تضادات کا جائزہ لینا پڑے گا اور نئی حکمت عملی بنانی پڑے گی۔


ای پیپر