پاک امریکہ تعلقات کی اٹھان کس طرف؟
22 اگست 2019 2019-08-22

وزیر اعظم سے امریکی صدر نے نہ جانے کیا عہد وپیمان کئے۔ پاک امریکہ تعلقات کی کیا جہتیں بنتی ہیںاور بھارت کے ساتھ مثالی تعلقات کی جو تصویر ہمارے سامنے آئی وہ اتنی مثالی نہیں۔البتہ اگست کے مہینے میں بھارت نے ٹھہرے پانیوں میں جو پتھر پھینکا یہ بھولنے والا نہیں ۔یہ کیوں اور کیسے ہوا،اس کے پیچھے کون سی عالمی طاقت تھی ۔سچ بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں اس کا جو رد عمل آیا اس سے بہت سے لوگ اب تک حیرت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔بھارت نے ایک سو بیس ملین کشمیریوں کے لیے آٹھ لاکھ فوج لگا دی ہے۔ پاکستان کی حکومت جو بار بار دعویٰ کر رہی ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہے۔ پاکستان میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ حکومت اور خاص طور پر عمران خان کے اقدامات صدارتی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔پاکستان کی رائج جمہوریت بہت سے لوگوں کو وارہ نہیں کھاتی۔ پاکستان کا میڈیا سخت دباؤ میں ہے۔ نیب کانواز شریف اور اس کے خاندان کے خلاف گھیرا تنگ سے تنگ ہو رہا ہے۔ ایسے ماحول میں جب قومی دھارے میں سب کو ایک ہونے کی ضرورت ہے حکومت دو خاندانوں کو دیوار سے لگانا چاہتی ہے۔ اب تازہ حکومتی پیش رفت کو دیکھا جائے ، عوامی ردعمل شدید ہے ۔رائے عامہ کے جائزوں میں نواز شریف کی مقبولیت اس لیے نہیں بڑھی کی وہ مظلوم ہے اگر اس نے کچھ نہیں کیا تووہ مقدمات کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ اصل سوال تو یہ ہے اس وقت حکومت کے نشانے پر عام آدمی ہے۔اب تو 1973 کے آئین کے ہوتے ہوئے حکومت اپنی پسند اور ضرورت کا احتساب کرنے جا رہی ہے۔کوئی بھی تازہ مثال ہمارے سامنے آئی ہے جب وفاقی کابینہ نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں نیب قوانین کے حوالے سے کاروباری برادری اور سرکاری افسروں کو درپیش مشکلات پر غور کرنے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ قوانین کے ان پہلوئوں پر نظر ثانی کے لئے مشاورت کی جائے جن کی وجہ سے تاجر کاروباری معاملات میں مسائل سے دو چار ہیں اور بیورو کریٹس فائلوں پر دستخط کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس کے نتیجے میں حکومت کے معاشی بہتری اور گڈ گورننس کے ایجنڈے پر عملدرآمد میں پیش رفت کی رفتار توقع کے مطابق نہیں ہے سرمایہ کار نیب کے خوف میں مبتلا ہیں۔ بیورو کریٹس فائلوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ کابینہ نے بزنس مینوں اور بیورو کریٹس کو حوصلہ اور اعتماد دینے کے لئے فیصلہ کیا کہ نیب کے متعلقہ قوانین اور ضابطوں پر جو صرف بازو مروڑنے کے لئے استعمال کئے جاتے تھے اس پر نظر ثانی کی جارہی ہے۔ ایوب دور میں بھی ایسا ہوا تھا جب ایوب خان نے صدارتی نظام کے ڈنڈے سے ان سیاست دانوں کو ہانکا جو ایوب کے مخالف تھے۔ حسین شہید سہرورد جیسے وزیر اعظم پر الزام تھا کہ سہروردی نے ایک تاجر کو چاولوں کا کوٹہ دے کر کرپشن کی ہے۔ایوب دور میں پاکستان میں جابرانہ قوانین نافذہوئے۔ میڈیا کو سرکاری کنٹرول میں چلایا گیا۔ فاطمہ جناح کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ افسوس ناک تھا۔ ہمارے کپتان چاہتے ہیں کہ پاکستان میں صدارتی نظام اور ماڈل آئے۔ جو نظام چار بار فیل ہوا وہ اب کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی جمہوریت کے مسائل یہ ہیں کہ الیکشن کمشن مفلوج ہو رہا ہے۔حکومت سپریم کورٹ کے جس بہادر جج کو ناپسند کرتی ہے اس کو وہ ہٹانے کا آغاز ریفرینس بھیج کر چکی ہے۔نیب کے کالے قانون پوری طرح حرکت میں ہیں ۔سنگین غداری کیس چلانے سے حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اب تو امریکہ کی سرپرستی بھی حکومت کے ساتھ ہے مگر اس کے باوجود پاکستان میں معیشت کا پہیہ جا م ہے۔ پاکستان امریکہ کے بلاک میں کیسے گیا یہ بھی درد ناک کہانی ہے۔ قائداعظم کے انتقال کے بعد امریکہ نے مئی 1949ء میں بھارت کے وزیراعظم نہرو کو نہ صرف امریکہ کی دعوت دی بلکہ ان کا شاندار استقبال بھی کیا گیا، جس سے پاکستان کے وزیراعظم جو اس زمانے میں مغرب نواز سمجھے جاتے تھے، اُن کو سخت صدمہ پہنچا۔ کابینہ کے امریکہ نواز وزیر خزانہ غلام محمد نے امریکہ اور لیاقت علی خان کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے لیے امریکہ کا دورہ کیا۔ اس دوران ایران میں پاکستانی سفیر راجہ غضنفر علی خان نے لیاقت علی خان کے لیے دورہ روس کا بندوبست کر لیا۔ ابھی روس کے دورہ کی تیاریاں شروع تھیں کہ امریکہ نے بھی پلٹا کھایا اور اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرومین نے 17 نومبر 1949 کو دورہ امریکہ کی دعوت دے دی،جسے لیاقت علی خان نے قبول کر لیا۔ اس دعوت پر روسی لیڈروں کا رد عمل تھا ۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنی کابینہ کے امریکہ نواز وزیروں کے دباؤ میں آ کر روس کا دورہ کرنے کی خواہش ترک کی ۔ لیاقت علی خان نے 3 مئی سے 26 مئی تک امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔ 3مئی 1950 کو لیاقت علی خان امریکہ پہنچے تو امریکی صدر ٹرومین اور ان کی کابینہ کے ممبران نے لیاقت علی خان اور بیگم رعنا کو خوش آمدید کہا۔ امریکی سی آئی اے نے صدر ٹرومین کے لیے پاک امریکہ تعلقات پر 41 صفحات پر مشتمل جو بریفنگ تیار کی تھی اس میں لیاقت علی خان کے بارے میں بتایا گیا کہ ان کا رجحان امریکہ کی جانب ہے۔ دورہ کی اہم بات لیاقت علی خان کا امریکی سینٹ سے خطاب تھا۔ یہ دورہ قائداعظم کی کھینچی ہوئی گائیڈ لائن کے مطابق ہی تھا۔ اس دورہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ پاک امریکہ تعلقات اتنے مضبوط ہوئے کہ وہ آگے چل کر دو اہم معاہدوں سیٹو اور سینٹو میں منتقل ہو گئے۔ تاہم لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ کو بعض مبصرین ایک بڑی سیاسی غلطی کے طور بھی دیکھتے ہیں۔ جو مبینہ طور پر مستقبل میں امریکہ کی جانب پاکستان کے مستقل جھکاؤ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی لیکن دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت تھی کہ لیاقت علی خان کی اس پالیسی کی بدولت نامساعد اور مشکل حالات میں امریکہ نے پاکستان کی مالی مدد کی اور مختلف شعبوں میں پیش رفت کے لیے قرضے فراہم کیے۔ایوب خان نے جولائی 1961 میں امریکہ کا دورہ کیا جو پاک امریکہ تعلقات میں نیا موڑ ثابت ہوا۔ ایوب خان چار سال بعد 1965 کی جنگ کے بعد امریکہ کے سرکاری دورے پر گئے کینڈی کے قتل کے بعد جانسن نے ایوب خان کو ٹکا سا جواب دیا۔ چین اس وقت عالمی تناظر میں اتنا ایکٹو نہیں تھا۔ پھر ایک مارشل لاء اور آگیا۔نکسن اور چین کے تعلقات پاکستان کی وساطت سے آگے بڑھے اس کے جواب میں 1971 سانحے نے تو ہماری چیخیں نکال دیں۔ بھٹو کا پھانسی چڑھ جانا بھی قدرت کا کھیل تھا یا سازش۔ امریکہ اور ضیا الحق ایک پیج پر آئے یہ ملاپ بھی قدرت کا کھیل تھا۔1981ء میں امریکہ نے اپنی ضرورتوں کی بنیاد پر ضیا الحق کو ایف سولہ طیارے بھی دیے اور تین بلین ڈالر کی رقم بھی دی۔ مارچ 1988 میں راستے جدا ہو گئے ۔ضیا الحق خدا کے پاس پہنچ گئے اور روس افغانستا ن سے چلا گیا ۔ امریکہ کو اب جہاد سے کوئی غرض نہیں تھا۔اسامہ بن لادن کے بارے میں ہمارے وزیر اعظم کا یہ کہنا درست ہے یا غلط البتہ اوباما نے پاکستان کی ایجنسی کو کلین چٹ دی۔ کافی عرصے کے بعد اب ٹرمپ نے پاکستان کو بلین ڈالر کی طعنہ زنی کے بعد دوست بنا لیا ہے۔ مودی سے مذاکرات کے لیے حکومت بے چین تھی۔ ثالثی کا وعدہ ٹرمپ کا تھا۔ ثالثی ہوئی اور کیا خوب ۔گزرے دو ہفتے کافی مشکل سے گزرے ہیں۔ایک بار پھر تنازع کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیش کش کا اعادہ کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں گے۔ٹرمپ نے کہا کہ اختتامِ ہفتہ ان کی فرانس میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات ہو گی جس کے دوران وہ کشمیر کا معاملہ اٹھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ’’ضرورت اس بات کی ہے کہ کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے جس کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آئیں۔' ان کے بقول سچ یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں صورتِ حال بہت ہی کشیدہ ہے ۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر دیرینہ اور پیچیدہ مسئلہ ہے جو عشروں سے جاری ہے ۔اصل سوال تو یہ ہے کشمیر میں لاک ڈاون ختم ہواور کشمیر کا پرانا سٹیٹس بحال ہو۔اس کے بعد طے ہو گا۔ 1972 کے شملہ معاہدے اور 1999 کے اعلان لاہور کے مطابق مذاکرات ہوں گے ۔یا ٹرمپ کی ثالثی کے مطابق۔


ای پیپر