کشمیر کی تا ز ہ صو رتحال اور سیا سی پا رٹیا ں
22 اگست 2019 2019-08-22

بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سرحدوں پر کشیدگی برقرار رکھنے کی پالیسی تو ایک عرصے سے چلی آرہی ہے مگر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے 5؍ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے علاقے میں جنگی ماحول کو مہمیز ملی ہے۔ چنا نچہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر غور و خوض کے لیے وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی کا پہلا ان کیمرہ اجلاس وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت ہفتے کے روز،ستر ہ ا گست، کو اسلام آباد میں ہوا۔ اس اہم اجلاس کے بعد وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ اس موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست بہت حوصلہ افزا رہی ہے، ہم نے اس میں بہت بڑا معرکہ سر کیا ہے۔ ہندوستان چونک گیا ہے کہ یہ کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ یہ لمبی لڑائی ہے جو ہم نے ہر فورم پر لڑنی ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت نے سرحدوں کی خلاف ورزی کی تو بھرپور سرپرائز دیں گے۔ بھارت سے پرانا قبضہ چھڑانے کا وقت آگیا ہے۔ وہ آزاد کشمیر کو بھول جائے، آزاد کشمیر کا ایک ایک انچ محفوظ ہے۔ مودی نے مذموم حرکت کرکے مسئلہ کشمیر کے لیے اچھا کام کیا۔ سرد خانے میں پڑا مسئلہ پوری دنیا کے لیے فلیش پوائنٹ بن گیا۔

پاک بھارت کشیدگی میں زبردست اضافہ ہو چکا ہے اور کنٹرول لائن پر جنگ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ ادھر مقبوضہ کشمیر کے حالات بھی بہت زیادہ بگڑ چکے ہیں۔ گزشتہ تین ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہونے سے پوری وادی میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی اور شہریوں کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے۔ مگر ان سب منفی ہتھکنڈوں کے باوصف کشمیری اپنی آزادی کے مطالبے سے کسی صورت پیچھے ہٹنے کے لیے آمادہ نہیں۔ ان کا ایک ہی نعرہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔ بھارتی افواج کی تعداد میں اضافے کے باوجود کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی لہر مزید تیز ہوئی ہے۔ کہنے کو تو نریندر مودی پورے سیکولر بھارت کے وزیراعظم ہیں مگر ان کے پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات اور وہاں کے مقامی مسلمانوں کے بارے میں نفرت انگیز رویے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف انتہا پسند ہندو جماعت بی جے پی کے وزیراعظم ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے مصائب میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے متعصبانہ اور غیردانشمندانہ رویہ اپناتے ہوئے پورے خطے کی سلامتی دائو پر لگادی ہے۔ پہلے انہوں نے آزاد کشمیر میں فضائی حملہ کے ذریعے جنگی ماحول پیدا کیا اور اب مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے پورے خطے کا امن دائو پر لگا دیا۔ اگر پاکستانی حکومت کا رویہ اور سوچ بھی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی جیسی متعصبانہ ہوتی تو خطے میں کب کی جنگ شروع ہوچکی ہوتی۔ چند روز پیشتر بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے ایٹمی حملے میں پہل کرنے کی دھمکی دے کر حد ہی کردی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کے اس غیرذمہ دارانہ بیان کا بالکل درست تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی سٹھیا جاتا ہے تو وہ وہی کہتا ہے جو راج ناتھ نے کہا۔ کوئی بھی ہوشمند اور زیرک بالخصوص اقتدار میں شریک آدمی ایسی حرکت نہیں کرتا جس سے پورے خطے کی سلامتی کیلیے خطرات پیدا ہوجائیں۔ بھارتی اہل اقتدار کے دماغ میں جو خرابی پیدا ہوئی ہے اس نے کشیدگی کو ہوا دی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں جاری ہیں جس سے پوری دنیا آگاہ ہوچکی ہے۔ یہاں تک کہ پانچ دہائیوں بعد سلامتی کونسل کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر اٹھایا گیا ہ ۔ یہ مسئلہ ایک ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے، اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو اس پر بے مہری اور بے حسی کا رویہ اپنانے کے بجائے بھارتی اقدامات پر فوری کارروائی کرنا چاہیے۔ کسی قسم کی تاخیر پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان بھارتی اقدامات اور اس کے جارحانہ رویے پر بھرپور نظر رکھے ہوئے ہے اور اس نے بھارتی حکمرانوں پر واضح کردیا ہے کہ اگر انہوں نے کوئی حرکت کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور پاکستانی افواج اور عوام آخری فوجی اور آخری گولی تک اپنے وطن کا دفاع کریں گے۔ پاکستان نے اب تک امن پسندی کا مظاہرہ کیا ہے ورنہ بھارت نے جنگ کی آگ بھڑکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ درحقیقت بھارت جان چکا ہے کہ وہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کسی بھی صورت کچل نہیں سکتا۔ اس نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد وہاں اسی لیے کرفیو نافذ کیا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ کشمیری اس فیصلے کو نامنظور کرتے ہوئے بھرپور احتجاج شروع کردیں گے جس پر قابو پانا ناممکن ہوجائے گا۔ اس کے باوجود کشمیری سڑکوں پر نکلے اور دنیا کو حیران کردیا۔ میجر جنرل آصف غفور نے بالکل صائب کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹتے ہی تشدد بڑھے گا۔ اس وقت وادی کے ہر گھر کے باہر بھارتی فوجی کھڑا ہے۔ انہوں نے واضح کردیا کہ اگر سرحد پر کچھ ہوا تو پاک فوج بھرپور جواب دے گی۔ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال جس نہج پر پہنچ چکی ہے، اب اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلے کے پر امن حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں ورنہ ان کی مجرمانہ غفلت نہ صرف جنوبی ایشیا کے خطے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرے گی۔

اسی پسِ منظر میں اگر ہم اگر وطنِ عزیز کی اند رو نی سیا سی صو رتِ حا ل کا جا ئز ہ لیں تو یہ کہنے میں کو ئی عا ر نہیں ہو نا چا ہیے کہ کسی بھی سیا سی پا ر ٹی کی حب الو طنی پہ شک نہیں۔ یہ بھی در ست ہے کہ ہر سیا سی پا رٹی اس مسئلے کو اپنی اپنی عینک سے دیکھ رہی ہے۔بے شک یہ کو ئی اچنبھے کی با ت نہیں۔ مگر یہ کیا کہ ہر سیا سی پا رٹی دوسری پا رٹی پہ ا یسے ہو لنا ک الز ا ما ت لگا رہی ہے جو غد ا ری کے ز مر ے میں آ تے ہیں۔ اس سے ہو گا کیا؟ اس سے کو ئی سیا سی پا رٹی غدا رِ و طن ثا بت تو نہ ہو پا ئے گی کیو نکہ ہر سیا سی پا رٹی ، خوا ہ کچھ ہو، حب الو طن ضرور ہے۔لیکن ان با ہمی الز ا ما ت میں کے نتیجے میں ہم اپنی انر جی دشمن کے خلا ف استعما ل کر نے کی بجا ئے آ پس کی بے نتیجہ نو ک جھو نک میں ضا ئع کر دیں گے اور اِس کا فا ئد لا محا لہ دشمن ہی کو پہنچے گا۔ اس لیئے ضر ورت اس امر کی ہے کہ سب ہی پا رٹیا ں اس نا زک وقت میں ہو ش کے نا خن لیںاور صر ف کہنے کی حد تک کی بجا ئے عملی طو ر پر یک آ وا ز ہو کر ایک صفحے پر آ جائیں۔


ای پیپر