خطے کے حالات اور عسکری قیادت کا تسلسل
22 اگست 2019 2019-08-22

کشمیر کی وجہ سے پاک بھارت جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے جس کی بنا پر عالمی سربراہوں میں پریشانی کی لہردوڑ گئی ہے اٰیٹمی ہتھیاروں میں پہل نہ کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے بھارتی اعلان سے پریشانی خوف میں ڈھل گئی ہے کیونکہ دوایٹمی طاقتوں کے ٹکرائو سے دونوں ممالک کے ساتھ ہمسایہ ممالک میں تباہی بھی یقینی ہے یہی وجہ ہے کہ جنگ کے لیے تیارجوہری ملکوں میں بات چیت کاماحول بنانے کے لیے بھاگ دوڑ جاری ہے لیکن بات بنتی نظر نہیں آتی دونوں ہی اپنے اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے ہوئے ہیں کیونکہ نریندرمودی جیسا انتہا پسند کشمیر کی خصوصی حثیت بحال کرنے پر تیار نہیں جس کی بنا پر پاکستان کی حکومت بات چیت پر آمادہ نہیں کیونکہ مستقبل میں بھی خطے کے حالات میں بہتری کا امکان نظر نہیں آرہا جسے مدِ نظر رکھتے ہوئے عمران خان سیاسی نقصان اُٹھانے کوتیار نہیں بلکہ رویہ سخت تر کررہے ہیں لیکن غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی بجائے امن پسندہونے کا ثبوت دے رہے ہیں مگر فاشسٹ بی جے پی کی قیادت سے دنیا کو حماقت کا اندیشہ ہے ۔

امریکی صدڈونلڈرٹرمپ نے عمران خان اور مودی سے بات کی ہے اوردونوں متحارب ملکوں میں ثالثی کرانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے کچھ عرب ممالک بھی اثرورسوخ سے تنائو میں کمی لانے کے لیے کوشاں ہیں برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن بھی رابطے میں ہیں مگر ساری بھاگ دوڑ کا کوئی نتیجہ برآمد ہوتا نظر نہیں آرہا بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے پاکستان کو رویے میں لچک پیدا کرنے کا مشورہ تو دیا جارہا ہے لیکن ہندوستان کی چین کے سوا کوئی ملک کُھل کر مذمت کرنے پر تیار نہیں سلامتی کونسل کے بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کے بعد اسی لیے کوئی مشترکہ موقف اپنانے سے گریز کیا گیامگراجلاس سے پاکستان کو اتنی کامیابی بہر حال مل گئی ہے کہ پچاس برس کے بعد بڑی طاقتوں نے کشمیر کی الارمنگ صورتحال پر غوروخوض کیا ہے چین نے کشمیر کے بارے میں ہندوستانی اقدام کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے اپنی سلامتی کے لیے بھی خطرے سے تعبیر کیا ہے مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ چین بھارت تجارت پر کوئی فرق نہیں پڑا جو اِس بات کو واضح کرتی ہے کہ ملکوں کے تعلقات مفاد کے تابع ہوتے ہیں کسی کوخوش فہمی نہیں رہنی چاہیے کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک کی خاطر نقصان کرالے گا۔عرب ممالک کا ساتھ دیتے وقت پاکستان نے کبھی کنجوسی سے کام نہیں لیا جس کی بنا پر عرب ملکوں سے زیادہ اسرائیل اب پاکستان کو اپنا دشمن تصور کرنے لگا ہے وہ اب بھارت کو فوجی لحاظ سے مضبوط بنانے ، تربیت فراہم کرنے کے ساتھ مشترکہ اسلحہ تیار کرنے کے علاوہ پاکستان کو زک پہنچانے کے لیے افرادی قوت بھی فراہم کرنے لگا ہے مگر جن مسلم ملکوں کی خاطر پاکستان نے اسرائیل سے دشمنی مول لی ہے وہ عرب ممالک اب یا توغیرجانبدارہیں یا کچھ بھارتی اقدام کی مذمت کرنے کی بجائے کشمیر کو اُس کا اندرونی مسلہ قرار دے رہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ بعض عرب ممالک نے بھارت میں بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے سعودی قیادت کو مقتول صحافی جمال کے قتل سے پڑنے والے عالمی دبائو سے نکالنے میں اسرائیل نے تعاون کیا ہے جس پر ریاض کے حکمران تل ابیب کی قیادت کی منشا کے خلاف چلنے سے ہچکچا تے ہیں جبکہ امارات نے لگی لپٹی رکھے بغیر جارح بھارت کے اقدام کو جائز اور مناب قرار دیدیا ہے جبکہ ایران تو بھارت کا ویسے ہی اتحادی ہے اسی لیے شاہ محمود کہنے پرمجبور ہوئے ہیں کہ دوسرے ملکوں کے اپنے مفادات ہیں ہمیں اپنی جنگ خود ہی لڑنا پڑے گی یہ حالات اِس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان کو دنیا کی پسند و ناپسند کے مطابق چلنے کی بجائے فیصلے کرتے ہوئے اپنی بقا وسلامتی کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

پاکستان کے سیاسی عدمِ استحکام کی وجہ سے مودی نے کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کی ہے اور اُسے پاکستان کی طرف سے اِتنے سخت رویے کی توقع نہیں تھی حالانکہ ہشِ نظر رکھنے والی بات یہ ہے کہ فوج اور حکومت میں مثالی ہم آہنگی ہے اسی لیے پاکستان نے سفارتکاری میں جلدی دکھائی اور ہر حربہ اختیار کرنے کا علان کرکے دنیا کوورطہ حیرت میں ڈال دیاحالانکہ خراب معیشت کی بنا پر توقع یہی تھی کہ پاکستان رسمی مزمت تک محدود رہے گا مگر پاکستان کی اپنائی گئی پالیسی سے دنیا بھونچکا رہ گئی ہے دنیا کو بخوبی معلوم ہے کہ مضبوط پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اسی لیے سبھی پاکستان کو رویے میں نرمی لانے کے لیے قائل کر رہے ہیں مگرفوج اور حکومت کے ایک پیج پر ہونے کی بنا پر کسی کی توقع پوری نہیں ہورہی ۔

آرمی چیف قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ کی خبروں سے اقوامِ عالم کو امید بندھی تھی کہ اُن کے سبکدوش ہونے سے شاید پاکستان کے موقف میں نرمی آجائے لیکن عمران خان حکومت نے تین برس مزید عسکری کمان جاری رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس سے دنیاکے تمام اندازوں اور امیدوں پر پانی پھر گیا ہے نوٹیفکیشن سے دنیا کو یہ پیغام ملا ہے کہ پاکستان کو کشمیر پر کسی مصلحت پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا قمر باجوہ کی سربراہی میں فوج نے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہونے اور ہر حد تک جانے کا اعلان کر رکھا ہے اسی لیے تین سال کے لیے مزید کمان ملنے سے سبھی کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ مستقبل میں بھی پاکستان کے سخت موقف میں نرمی کا کوئی امکان نہیں۔

کچھ لوگ اِس اقدام کو عمران خان حکومت کی مضبوطی اور اپوزیشن کی مزید کمزوری تصورکرتے ہیں کیونکہ احتساب کے عمل میں کسی سے نرمی نہیں ہورہی حالانکہ سرحدوں کی صورتحال کی بنا پر سب کو توقع تھی کہ دبائو کی وجہ سے حکومت احتساب پر مصلحت کرنے پر مجبور ہوجائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوابلکہ سرحدوں پر تمام دبائو کے باوجود بددستور شکنجہ سخت ہے اسی لیے عالمی اقوام کی خواہشوں کی منشاپراپوزیشن بھی چلنے لگی ہے مگر عمران خان کا یہ استدلال مبنی بر حقیقت ہے کہ حالات کی وجہ سے کمانڈر تبدیل کرنا مناسب نہیںاسی لیے سب کو عسکری سربراہ کی دوبارہ تقرری سے سب کو یہ پیغام گیاہے کہ کشمیر کے لیے پاکستان ہر حد تک جا سکتا ہے اگر بھارت ایٹمی ہتھیاروں میں پہل نہ کرنے پر کی پالیسی پر نظر ثانی کر سکتا ہے تو پاکستان حالات کے مطابق اقدامات کیوں نہیں کر سکتا قمر باجوہ کی تقرری کشمیر پر پاکستان کے روایتی موقف پر کاربند رہنے کی عکاس ہے۔


ای پیپر