نسلِ نو کی مایوسی کا تدارک کیونکر!
22 اگست 2019 2019-08-22

اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے،لیکن روزگار نہیں ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں بھی کمی آئی ہے جس کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان مایوس نظر آتا ہے۔ آج کے دور میں بڑی کوشش سے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلہ مل پاتا ہے، زیادہ تعلیمی ادارے پرائیویٹ سیکٹر کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔ بڑی بڑی فیسیں دینے کے بعد کامیابی ملتی ہے تو معیار کے مطابق نوکری نہیں ملتی تب یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے سب سے بڑی پریشانی بن جاتی ہے۔ گزشتہ ا دوار میں ہائر ایجوکیشن کمشن کا ادارہ قائم کیا گیا تھا۔ اس کو بالکل ناکام نہیں کہا جا سکتا لیکن اعلیٰ تعلیمی نظام میں موجود مسائل کو حل کرنے میں اس سے زیادہ مدد نہیں ملی ۔

وطنِ عزیز میں نوجوان طبقہ آبادی کا 64 فیصد ہے جو ہمارے ملک کا اثاثہ ہیں ضرورت صرف ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھائے جانے کی ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک جیسے جاپان چین وغیرہ وہاں ہر طرف بوڑھے ہی پھرتے نظر آتے ہیں۔ نوجوانوں کی تعداد بہت کم ہے جب کہ ہمارے معاشرے کی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں نوجوان بہت بڑی تعداد میں ہیں ان سے بہت کام لیا جا سکتا ہے صرف انہیں سہولتیں مہیا کئے جانے کی ضرورت ہے، پھر یہ آنے والے وقتوں میں ملک و قوم کے لئے کارہائے نمایاں انجام دے سکتے ہیں۔ کامیابی نوجوانوں کا حق ہے اور وہ اس کے لئے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے پر عزم ہوتے ہیں۔ یہ معاشرہ ہی ہے جو ان کے لئے کامیابی کو ایک چیلنج بنا دیتا ہے۔ جب کہ کامیابی کا تصور اس قدر خوش کن ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لئے کبھی تو نوجوان گم نام گلیوں میں اپنا وجود کھو دیتے ہیں اور کبھی پر خار راستے انہیں اس قدر تھکا دیتے ہیں کہ ان کی روح تک چھلنی ہو جاتی ہے اور پھر وہ اپنے جسم کا بار اٹھائے تمام زندگی سانسوں کی گنتی گنتے گزار دیتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نوجوان اپنے خوابوں کے حصول میں معاشرے کے ہاتھوں اتنی بری طرح روندے جاتے ہیں کہ اس کے بعد کامیابی ایسے جگنو کی طرح لگتی ہے جس کی روشنی وہ دیکھ تو سکتے ہیں مگر اس کا حاصل کرنا ناممکنات میں سے ہوتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں لیکن بنیادی وجہ یہ ہے کہ اب بھی بہت سے نوجوان محنت اور ایمانداری کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے مٔوقف پر سختی سے قائم ہیں۔ ان کی شخصیت میں یہ اصول اس طرح رچے بسے ہیں کہ ان سے متصادم ہونے سے ان کا وجود ریزہ ریزہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے کی آئینہ دکھاتی ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کوئی شخص چاہے وہ زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو، اگر محنتی، ایماندار، خوش گفتار، نرم مزاج اور مثبت سوچ کا حامل ہے اور پوری یکسوئی سے کام کرنے پر یقین رکھتا ہے تو اس بات کے امکانات کم ہیں کہ کامیابی اس کے قدم چومے۔ کامیابی حاصل کرنے کے لئے اسے اپنی صلاحیتوں سے زیادہ ان ہتھ کنڈوں کا سہارا لینا پڑتا ہے جو ہمارے معاشرے میں کامیابی کی کلید سمجھے جاتے ہیں۔ جب کہ مستحکم کامیابی وہی ہوتی ہے جس کی بنیاد محنت، دیانتداری اور سچائی کے اصولوں پر رکھی گئی ہو۔ جھوٹ، دھوکا دہی اور مکر و فریب سے حاصل کی جانے والی کامیابی بہت جلد ہمیشہ کے لئے ایک مکمل ناکامی سے دوچار کر دیتی ہے۔ دھوکا دہی کی بنیاد پر کامیابیاں ہمارے معاشرے کو کن اندھیروں کی طرف لے جا رہی ہیںاور اس کی عکاسی ہمارے قومی حالات بھی کر رہے ہیں۔ ہم ایک قوم کی حیثیت سے جس طرح بد عنوانی کے عادی ہوتے جا رہے ہیں اس سے ایک طرف تو ہماری نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے اور دوسری طرف عالمی سطح پر ہماری اخلاقیات ، اقدار اور تہذیب کے حوالے سے ایک بدنما تاثر ابھر رہا ہے جس سے ہم اقوامِ عالم میں بھی تیزی سے اپنا مقام کھو رہے ہیں۔

آج کے تقاضوں کے مطابق چیزوں کو ممکن بنانے کے لئے نوجوانوں کے پاس تازہ تصورات اور نئے ڈھنگ سے کام کرنے کی اہلیت ہوتی ہے، نئی نسل وہ قوت ہے جسے مستقبل کے لئے نئے نظریے اور بصیرت وجود میں لانی ہے۔ اس کے لئے انہیں مختلف طریقہ ہائے تہذیبوں کا تجربہ حاصل کرنا ہو گا تا کہ وہ وسیع تر تناظر میں مسائل کا حل تلاش کر سکیں۔ انفرادی سطح پر انسان کی صلاحیتیں متنوع ہوتی ہیں۔ اگر انسان میں موجود ان صلاحیتوں کو تلاش کر کے انہیں ترقی نہ دی جائے تو ایسی صورت میں یہ با صلاحیت افراد سوسائٹی اورکلچر کے لئے ضرر رساں ثابت ہوتے ہیں۔ وہ نوجوان جو با صلاحیت اور تخلیقی ہوتے ہیں جب یہ دیکھتے ہیں کہ انہیں اور ان کی صلاحیتوںکو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو ان میں بے دلی اور احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے اور وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس ناکامی کے باعث نوجوانوں میں ردِ عمل کے طور پر معاشرے کے خلاف ایک خفگی اور احتجاج پیدا ہوتا ہے اور وہ منفی سرگرمیوں پر اتر آتے ہیں یوں معاشرہ ایک جوہرِ قابل کی خدمات سے محروم ہی نہیں ہوتا بلکہ اسے اس کی منفی سرگرمیوں سے روکنے کے جتن بھی کرنے پڑتے ہیں۔ یہ ایک تشویشناک صورت ہوتی ہے جس کا اجتماعی طور پر ازالہ کیا جانا ضروری ہوتا ہے اور انہیں یہ یقین دلانا پڑتا ہے کہ وہ نہایت با صلاحیت ہیں، ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک و قوم کو درپیش مسائل حل کرنے میں مددگار ہوں۔

دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے عمل دخل نے روز مرہ مصروفیت کی رفتار کو نہایت تیز کر دیا ہے موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لئے اب لازم ہو گیا ہے کہ وہ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے خود میں لچک، تخلیقیت اور وسیع تر نظم و ضبط پیدا کریں تا کہ اپنی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔ آج کے نوجوان اپنے اندر بیک وقت متعدد صلاحیتیں رکھتا ہے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی ذات میں موجود ہر صلاحیت کو آزمائے۔ در اصل نوجوانوں میں پایا جانے والا یہ رویہ ان میں اپنے آپ کو منوانے کی شدید خواہش کے باعث پیدا ہوتا ہے، اگر کوئی نوجوان ذہین اور با صلاحیت ہو تو پھر وہ اپنا حق سمجھتا ہے کہ اس کی صلاحیتوں کو آزمایا جائے۔ مجموعی طور پر معاشرہ انہیں سہولتیں مہیا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتا ہے اور وہ ان سہولتوں سے فائدہ اٹھا کر ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کے لئے اپنی سہی کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ نوجوان نسل ہی ہوتی ہے جس پر موجودہ مسائل کے اختراعی حل تلاش کرنے کے علاوہ کام کرنے کا ایک نیا طریقہ کار تخلیق کرنے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔


ای پیپر