اچھی ملازمت مدارس کے طلباء کا بھی حق ہیں
22 اگست 2019 2019-08-22

انٹرمیڈیٹ امتحانات میں نمایاں نمبر لینے والے مدارس کے طلبہ سے ملاقات میںمبارک دیتے اور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے کہا کہ قومی تعلیمی دھارے میں آنے سے مدارس کے طلبہ کو دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ دینی مدارس کے طلبہ اور طالبات اسی طرح محنت جاری رکھیں اور ملکی ترقی اور خوشحالی میں مفید شہری کا کردار ادا کریں۔

ملاقات کرنے والے 13 رکنی وفد میں مدارس کی طالبات بھی شامل تھیں۔ قومی تعلیمی دھارے میں آنے سے مدارس کے طلبہ کو دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔

کچھ عرصہ قبل ہی حکومت نے مدارس کی رجسٹریشن اور ان کو قومی دھارے میں لانے کیلئے اقدامات کئے تھے۔ پاکستان میں 30 ہزار سے زائد مدرسے ہیں جس میں ڈھائی کروڑ بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ جس میں 70 فیصد ایسے مدرسے ہیں جہاں ایک ہزار ماہانہ خرچ ہوتا ہے جبکہ 25 فیصد ایسے ہیں جس میں تھوڑا زیادہ خرچ ہوتا ہے اور 5 فیصد مدرسوں کا انفرااسٹرکچر زیادہ اچھا ہے جہاں 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ خرچ کیے جاتے ہیں ۔ مدارس میں پڑھنے والے تمام 2.5 ملین بچے دہشت گرد نہیں ہیں ۔

فیصلہ کیا گیا کہ مدارس میں ایسا نصاب بنایا جائے گا جس میں منافرت کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔حکومت نے تمام مدرسوں کو وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا جب کہ تمام علمائے کرام مدرسوں کو مین اسٹریم میں لانے پر متفق ہوئے۔

1947 میں ملک بھر میں مدرسوں کی تعداد 247 تھی جو 80 کی دہائی میں ڈھائی ہزار سے زائد ہوئے اور جب سے اب تک یہ مدرسے 30 ہزار سے اوپر ہوگئے ہیں ۔ ان میں 2.5 ملین بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔یہ مدرسے پورے پاکستان میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ان میں سے جو عسکریت پسندی کی طرف راغب ہیں ان کی تعداد 10 فیصد ہے۔ باقی 90 فیصد مدرسے ویلفیئر کے کام کررہے ہیں جس پر حکومت اور اداروں کی نظر ہے کہ ان کے پاس پیسہ کہاں سے آرہا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر مسلمان ممالک اپنے دینی مدارس کے طلبہ کو 21ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق بنانا چاہتے ہیں تو وہ اپنے مدرسوں میں جدید تعلیم کو بھی فروغ دیں اور غیر مسلموں سے نفرت کی تعلیم دینا بند کردیں۔ اسلام ایک مکمل دین ہے لیکن مسلمان نوجوانوں کی تعلیم صرف دین اسلام اور اسلامی اصولوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس میں 21ویں صدی کے تقاضوں کو مد نظر رکھ کر بچوں کو جدید تعلیم دینی چاہیے۔ اگر مذہبی تعلیم محدود رکھی گئی تو مسلمان نہ صرف پیچھے رہ جائیں گے بلکہ وہ کئی معاملات میںغیر مسلموں کے محتاج ہو جائیں گے اور پسماندگی کا شکار رہیں گے۔

دینی مدارس میں بنیادی تعلیمات، قرآن کریم و احادیث مبارکہ کی تفسیر و تشریح، دینی مسائل کے ساتھ جدید تعلیم بھی دینا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ فنی تعلیم بھی آج کی دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ لہذا دینی مدرسوں میں جہاں جدید علوم کی تعلیم ضروری ہے وہاں فنی تعلیم بھی ضروری ہے۔ فنی تعلیم سے بچوں کو بہرہ مند کر کے انہیں اچھا کاریگر بنایا جا سکتاہے جو کہ ان کی آئندہ زندگی میں بہت کام آئیگا۔ اس سے وہ اپنا روز گار حاصل کر سکیںگے۔ مولوی صاحبان اور مساجد کے اماموں کیلئے اگر ریفریشر کورسزکا اہتمام کیا جائے تو اس میں بھی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ یہ کام سمجھدار اور روشن خیال علماء کی مدد سے کیا جائے۔ تربیت کا یہ کام خود علماء ہی کر سکتے ہیں ۔ اسلامی تعلیمات عام کرنے اور رواداری کی اہمیت اجاگر کرنے کا کام بھی ضروری ہے۔

جب 30 ہزار مدرسوں تعلیم حاصل کر کے آتے ہیں تو ان کے پاس ملازمت کے کیا مواقع ہوتے ہیں ۔ جب یہ دین کی تعلیم لے رہے ہیں تو دین کی ہی تعلیم کی ملازمت لے سکتے ہیں ۔ کیا ان بچوں کا حق نہیں کہ وہ ڈاکٹر، انجینئرز بنیں یا فوج میں آئیں۔ یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب ان کے سلیبس میں درس نظامی کے ساتھ دوسرے ہم عصر مضمون ہوں۔

کیا ضروری ہے کہ مدرسے کا طالب علم صرف مولوی ہی بنے لیکن یہ مجبوری بھی ہے کیونکہ اس نے صرف اور صرف دینی تعلیم ہی حاصل کی ہوتی ہے۔ دنیاوی تعلیم نہ ہونے اور کوئی ہنر ہاتھ میں نہ ہونے کی وجہ سے وہ عملی زندگی میں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔

ان دینی مدارس کا نصاب تعلیم متوازن بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان اداروں کے فارغ التحصیل افراد بھی معاشرے میں اہم اور مؤثر کردار ادا کرسکیں۔ ان دینی مدارس میں اسلام کے علاوہ جدید علوم و فنون‘ سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تدریس کا اہتمام ہونا چاہئے تاکہ ان اداروں سے تعلیم پاکر نکلنے والے افراد ملک کے مفید اور اچھے شہری بن سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سارے ملک کے اداروں میں عام تعلیم کا یکساں نظام اور نصاب رائج کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے بغیر ملک میں صحت مند معاشرہ کا قیام ممکن نہیں۔ ملک میں انگریزی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ عام پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کا نظام تعلیم ہی نہ صرف یکساں ہونا چاہئے‘ بلکہ ان سب کا نصاب تعلیم بھی متوازن اور اعتدال پر مبنی ہونا چاہئے تاکہ ایک جمہوری اور اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے ضروری سہولتیں پیدا کی جاسکیں۔

ہمارے ہاں عدم برداشت‘ انتہا پسندی‘ دہشت گردی اور معاشرتی عدم مساوات اور عدم تفاوت دور کرنے کیلئے یکساں نظام تعلیم نہایت مفید اور معاون ثابت ہوگا۔جب ہماری آئندہ نسلیں یکساں نظام تعلیم کے تحت تعلیم حاصل کریں گی تو پھر معتدل اور متوازن معاشرہ کا قیام ممکن ہوگا۔


ای پیپر