قاتل حسینائیں…
22 اگست 2019 2019-08-22

دوستو، ایک خبر کے مطابق ایک سال میں گھریلو ناچاقیوں، میاں بیوی میں ازدواجی زندگی میں پائی جانیوالی غلط فہمیوں کے باعث لاہور میں 8 افراد اپنی ہی بیویوں کے ہاتھوں براہ راست یا ان کی ایما پر قتل ہوچکے ہیں۔ پولیس کے مطابق بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کے قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے، گزشتہ ایک سال کے دوران متعدد وارداتوں میں شوہروں کے قتل میں بیویاں ہی ملوث پائی گئیں۔ایس ایس پی آپریشنز اسماعیل کھاڑک کا کہنا ہے کہ قتل کی ایسی واردات میں پولیس کی ابتدائی تفتیش میں بہت سے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں جن میں شوہر کا ظالم ہونا، خاتون کی پسند کے خلاف شادی، غربت اور شوہر کا کسی دوسری عورت میں دلچسپی سمیت نشئی ہونا شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ٹی وی چینلز پر چلنے والے کئی ایسے ڈرامے اور فلمیں ہیں جو کہ غیرملکی میڈیا کو کاپی کرتے ہیں اور معاشرے میں افراتفری پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ بیویوں کے ہاتھوں شوہروں کے قتل کے واقعات میں اضافے پر مذہبی اسکالر مولانا ڈاکٹر راغب نعیمی نے بتایا کہ اس طرح کے واقعات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ مذہب اسلام سے دوری ہے، دین اسلام میں واضح ہے کہ والدین نکاح کے وقت اپنی اولاد کی مرضی معلوم کریں اورپھر اس کے مطابق نکاح کریں۔

ہمارے پیارے دوست نے ہمیں واٹس ایپ میں اسی حوالے سے ایک تحریر بھیجی ہے جس کے مطابق۔۔لڑکی کی شادی کی بہترین عمر 20 سال ہے ، اس کے بعدہر گزرنے والا دن اس کی لڑکپن کی موت ہوتی ہے ، 25 -30 سال کی خاتون گھر بیٹھے نفسیاتی طور پر’’ ساس‘‘ بن جاتی ہے جس طرح ٹوکری میں رکھا پراناپیاز ،لہسن اور ادرک خود بخود اْگ آتا ہے ، اب شادی ہو بھی جائے تو ایک گھر میں دو ساسیں تو نہیں رہ سکتیں۔۔20 سال کی لڑکی میںلچک ہوتی ہے،وہ ہر قسم کے حالات میں خود کو ایڈجسٹ کر لیتی ہے ، جبکہ 30 سالہ ( لڑکی ) دو چار ایم اے تو کر لیتی ھے مگر دو چار بچے پیدا کرنے کے قابل بھی نہیں رہتی، ایسی بچی کے بچے عموماً شوہرہی پالتا ہے ،شوہروں کو زیادہ تعلیم یافتہ لڑکی چاہیئے جواس کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاسکے۔۔کچھ لڑکیاں ڈراموںاور فلموں میں تو دلہن بنتی رہتی ہیں مگر اصلی رشتے ٹھکراتی رہتی ہیں کیوں کہ انہیں خدشہ ہوتا ہے کہ جلدی شادی کرلی تو مارکیٹ ڈاؤن ہوجائے گی۔۔پھر جب رشتے ختم ہو جاتے ہیں تو پھر کسی کی دوسری بیوی بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔۔جب اس نیت سے تعلیم دلائی جائے کہ طلاق کی صورت میں گھر چلائے گی توپچانوے فیصد طلاقیں لازمی ہوتی ہیں۔۔کیوں کہ لڑکی کو یہ زعم ہوتا ہے کہ وہ خود کمانے کے لائق ہے۔۔ جب اللہ توکل دو تو رانی بن کر کھاتی ہے، ایف اے بہت تعلیم ہے، جب تک رشتہ نہ آئے مزید بھی دلائی جا سکتی ہے مگر آنے والے رشتے کو تعلیم کے لئے مسترد کرنا کفرانِ نعمت ھے جس کا نتیجہ ٹھیک نہیں نکلتا۔۔شادی بھی نوٹ کی طرح ہے، جب نوٹ کے دونوں ٹکڑے مل جاتے ہیں تو مالی حالت بہتر ہوجاتی ہے۔۔ شادی بہت بڑا بگ بینگ ہے حالات میں تبدیلی کا۔۔اس لئے نوجوانوں آج ہی سے لگ جاو اپنے والدین کے پیچھے۔۔

ذکر ہورہا تھا لاہور کی قاتل حسیناؤں کا۔۔جن سے ان کے شوہر بھی محفوظ نہیں رہے۔۔ایک بار ہم سے کسی نے پوچھا کہ، کراچی اور لاہور میں کیا فرق ہے؟؟۔۔ جواب دیا، کراچی میں نامعلوم افراد کبھی پکڑے نہیں جاتے جب کہ لاہور میں’’ معلوم ‘‘افراد کو پکڑا نہیں جاتا۔باباجی بھی کیا کیا ڈھونڈ کر نئی سے نئی بات سامنے لاتے ہیں۔۔کہتے ہیں۔۔ملک کے حالات صرف کنوارے ہی بدل سکتے ہیں شادی شدہ تو اپنی مرضی سے چینل بھی نہیں بدل سکتے۔۔ان کا مزید کہنا ہے کہ ۔۔ بیوی اور سورج میں یہی بات قدر مشترک ہے کہ ، دونوں کو گھور کر دیکھنے کے بعد آنکھوں میں روشنی نہیں رہتی۔۔ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ ۔۔تاش دنیا کا واحد عظیم گیم ہے جس میں مرد اپنی بیگم کو اٹھااٹھا کر پٹختاہے، اور یہی وہ واحد عظیم گیم بھی ہے جس میں چار بیگمات رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔۔باباجی نے گزشتہ روز باتوں باتوں میں دلچسپ انکشاف کیا ، وہ کہتے ہیں کہ۔۔لڑکی کو بیس سال تک پہنچنے میں کم سے کم تیس سے پینتیس سال درکار ہوتے ہیں۔۔انہوں نے عورتوں کا انتہائی قیمتی مشورہ بھی دیا، کہتے ہیں کہ۔۔اگر کوئی لڑکا آپ کے پیچھے ہاتھ دھو کے پڑا ہے،تو آپ بھی منہ دھو کر اس سے جان چھڑا لیں۔۔

ہمارے پڑوسی نے صبح صبح ہمارے گھر کا دروازہ بجاڈالا۔۔ لائٹ تو تھی نہیں کہ بیل بجاتا۔۔آنکھیں ملتے ہوئے گیٹ پر پہنچے تو بانچھیں کھلا کر کہنے لگے۔۔یار مارکیٹ چلنا ہے کچھ پھل فروٹ لینا ہے۔۔ایک تو ہمیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ فروٹ کو اردو میں پھل ہی کہتے ہیں، پھر یہ ’’پھل فروٹ‘‘ کیوں؟؟ رمضان المبارک میں اکثریت کے منہ سے یہی سنتے ہیں کہ یار افطاری کے لئے پھل فروٹ لے کر گھر جانا ہے۔۔ اسی طرح شادی بیاہ کو ایک ساتھ کہنا بھی لوگوں کی عادت بن چکا ہے، حالانکہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہوتا ہے۔۔خیرہم نے اپنے پڑوسی سے منہ دھونے تک کی مہلت مانگی۔۔ پھر تیار ہوکر اس کے ساتھ مارکیٹ چل دیئے۔۔ مارکیٹ پہنچ کر وہ بڑے پراعتماد لہجے میں کہنے لگے۔۔ بولو کون سا پھل لینا چاہیئے۔۔ہم نے کہا۔۔سیب لے لو،لال سرخ اور بڑے سائز کے ہیں،تازہ لگ رہے ہیں۔۔پڑوسی نے بغور ہمارے چہرے کی طرف دیکھا اور بے چارگی کے ساتھ نظریں نیچی کرکے کہنے لگا۔۔ بیگم نے کہا تھا۔۔خوبانیاں ہی لانا۔۔یہ تو تھا مردانہ شاپنگ کا حال۔۔اب لڑکیوں کی شاپنگ کی بھی سن لیں۔۔ لڑکیوں کی شاپنگ صرف دو جملوں کی تو ہوتی ہے۔۔۔ اس کلر میں دوسرا ڈیزائن دکھاؤ۔۔اوراس ڈیزائن میں دوسرا کلر دکھاؤ ۔۔باباجی کہہ رہے تھے کہ۔۔آہستہ آہستہ لڑکیاں اپنی پرانی تہذیب کو کھو رہی ہیں۔کل میں نے دیکھا ایک لڑکی نے آئسکریم کا ریپر بغیر چاٹے پھینک دیا۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔زمین اچھی ہو لیکن پانی ٹھیک نہ ہوتو ’’فصل ‘‘ خراب ہوجاتی ہے، گھر اچھا بنا ہو لیکن گھر میں دین نہ ہوتو ’’نسل‘‘ خراب ہوجاتی ہے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


ای پیپر