مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کے خطرے کا الرٹ جاری
22 اگست 2019 (17:44) 2019-08-22

واشنگٹن: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم جینوسائیڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کے خطرے کا الرٹ جاری کردیا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی تنظیم نے اقوام متحدہ سے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں کئی لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں اور مسلمان اکثریت پر اقلیت ہندو فوج کی حکمرانی ہے، مقبوضہ کشمیر میں بڑے پیمانے پر قتل عام شروع ہوسکتا ہے۔جینوسائڈ واچ نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے، اقوام متحدہ اور دنیا بھر کے ممالک بھارت کو کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کی وارننگ دیں۔

جینوسائڈ واچ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، تشدد اور جبری قید کا سلسلہ جاری ہے، مسلمان رہنماں کو جلا وطن کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ مواصلاتی نظام بھی معطل ہے۔جینو سائیڈ واچ نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ بھارت کی قابض افواج اب تک 70 ہزار کشمیریوں کو شہید کرچکی ہے جب کہ 1989 سے لے کر 2006 تک کے درمیانی عرصے میں 50 ہزار کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے۔جینو سائیڈ واچ کے مطابق بھارت کی قابض انتظامیہ کی جانب سے مسلط فوجی آمریت جابرانہ اقدامات کی ایک شکل ہے جب کہ وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا نظریہ ہندو توا اس کی واضح علامت ہے۔

جینو سائیڈ واچ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر پر جدید اسلحہ سے لیس 6 لاکھ فوجی اور پولیس قابض ہے، مودی اور بی جے پی نے مسلم مخالف نفرت کو ہوا دی، مودی اور بی جے پی نے سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کیا، بی جے پی رہنماں نے فوجی قبضے کو مسئلہ کشمیر کا حتمی حل قرار دیا، کشمیریوں کو گرفتار، قتل، محصور کر کے تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔


ای پیپر