22 اگست 2019 2019-08-22

قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں میں ان دنوں امریکہ میں ہوں، ہفتہ رواں میں وطن واپسی کی تیاری ہے مگر مصروفیت کا یہ عالم ہے سر کیا کچھ کھجانے کی فرصت بھی نہیں ہے، یہ دوستوں کی بے پایاں محبت ہے جس کا قرض میں عمر بھر نہیں چُکا سکتا، میں اِس وقت امریکہ کی ریاست واشنگٹن کے شہر Seattleکے ایک خوبصورت گورے علاقے Puyattupمیں ہوں، یہاں میرے میزبان اور مہربان برادرم خالد نذیر نے مجھ پر میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا سے استفادہ کی پابندی عائد کررکھی ہے، اُن کی خواہش ہے میں اِن ساری خباثتوں سے دُور رہ کر صرف زندگی انجوائے کروں، یہاں کے دریا، جھیلیں، پہاڑ اور سمندر دیکھنے کے لائق ہیں، خالد نذیر ایک بڑے کاروبار سے وابستہ ہیں، مگر اِن دنوں وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر، حتیٰ کہ اپنی بیگم اور بچوں کو بھی چھوڑ چھاڑ کر مکمل طورپر میرے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں، سو اُن کی اِس محبت میں مجھے اُن کی ہربات دل وجان سے تسلیم کرنا پڑتی ہے، میں جب گاڑی میں اُن کے ساتھ مختلف تفریحی مقامات کے سفرپر نکلتا ہوں وہ مجھ سے میرا موبائل فون چھین لیتے ہیں، تاکہ میں قدرتی نظاروں کو ٹھیک طرح انجوائے کرسکوں، سو اِن حالات میں پاکستان میں آج کل کیا ہورہا ہے ؟ کیا نہیں ہورہا ؟ مجھے اِس بارے زیادہ معلومات میسر نہیں آتیں، البتہ اگلے روز برادرم خالد نذیر نے مجھے خود بتایا کہ وزیراعظم پاکستان عمران احمد خان نیازی نے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو اُن کی مدت ملازمت بلکہ ”مدت جرنیلی“ میں تین برسوں کی توسیع کردی ہے، وہ اس پر بڑے حیران تھے ، مگر مجھے اِس خبر پر اِس لیے ذرا حیرت نہیں ہوئی مجھے اس المیے کی پہلے سے توقع بلکہ یقین تھا، میں اِس پر تفصیل سے لکھنا چاہتا ہوں، اِس کے لیے میرا پاکستان میں ہونا ضروری ہے، حالات وواقعات کے مکمل جائزے کے بعد ہی اِس پر تفصیل سے لکھا جاسکتا ہے، فی الحال تو میں اپنے مہربان اورمیزبان خالد نذیر کی اِس پابندی کی زد میں ہوں کہ میں یہاں صرف انجوائے کروں، جس کی میں نے ایک حدمقرر کی ہوئی ہے، کچھ دوست میری ”اِس حد“ سے بڑے نالاں ہیں مگر اُن کی ”نالائی“ اللہ کی ناراضگی سے بہت کم تر ہے، Seattleمیں قیام پذیر پاکستانیوں کی تعداد تقریباً دس ہزار ہے، یہ سب بڑے محنتی لوگ ہیں، پاکستان سے اُنہیں بے پناہ محبت ہے، وہ پاکستان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، اِس کا ایک ثبوت مجھے اُس وقت مِلا جب میرے عزیز خالد نذیر نے پاکستان کے 73ویں یوم آزادی کے حوالے سے Seattleکے سب سے اعلیٰ ہوٹل ہلٹن کے ایک وسیع وعریض ہال میں ایسی شاندار اور جاندار تقریب منعقد کی جو مجھے ہمیشہ یادرہے گی، اِس تقریب میں مجھے اُنہوں نے پاکستان کے لاس اینجلس میں قونصل جنرل عبدالجبار میمن کے ہمراہ بطور مہمان خصوصی مدعو کررکھا تھا، میرا اس بار امریکہ آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، میں اپنے چھ ہفتوں کے دورے کو یورپ کے مختلف شہروں اور برطانیہ کے مختلف شہروں تک محدودرکھنا چاہتا تھا، خالد نذیر نے مگر ضِد کی، اور میں نے اُن کی اِس ضد کے آگے یا پیچھے اِس لیے ہتھیار ڈال دیئے کہ اُن کی محبت کے ساتھ ساتھ معاملہ وطن کی محبت کا بھی تھا ، ویسے بھی مجھے عزت مِل رہی تھی جو صرف خوش نصیبوں کو ہی مِلتی ہے، ....میرا خیال تھا یہ کوئی چھوٹی سی تقریب ہوگی جس میں سو ڈیڑھ سو افراد شریک ہوں گے، میں جب خالد نذیر کے ساتھ صبح اِس تقریب یا اجتماع کے انتظامات کا جائزہ لینے ہلٹن ہوٹل پہنچا میں نے دیکھا ہال میں سینکڑوں کرسیاں لگی ہیں، خالد نذیر نے بتایا اِس تقریب میں دوہزار لوگ شرکت کریں گے، میں نے اُن سے پوچھا کیا آپ نے یہاں راحت فتح علی خان، عطا اللہ عیسیٰ خیلوی ، علی ظفر یا عاطف اسلم کو بھی بلایا ہوا ہے؟، انہوں نے فرمایا ” نہیں ہم نے یہاں صرف آپ کو بلایا ہوا ہے، یا پھر قونصل جنرل عبدالجبار میمن، اور وائس قونصل جنرل شعیب سرور ہیں، کچھ مقامی مقررین بھی ہوں گے جو وطن سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کریں گے۔ اُن کی یہ بات سُن کر میں دل ہی دل میں مسکرایا، میں نے سوچا اِس تقریب کے منتظمین نے تقریب کو ناکام بنانے کا پورا بندوبست کیا ہوا ہے، اتنی بڑی تعداد میں صرف تقریریں وغیرہ سننے لوگ کہاں آئیں گے؟۔ میں نے اپنے ان خدشات کا اظہار برادرم خالد نذیر سے نہیں کیا مگر مجھے یقین تھا یہ تقریب شرکاءکی تعداد کے حوالے سے بُری

طرح ناکام ہوگی، ....سو اِسی مایوسی کے عالم میں، میں واپس آگیا، رات کو میں جب اس تقریب میں پہنچا میری حیرت کی انتہا نہ رہی تقریب خواتین وحضرات سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، صرف پاکستانی ہی نہیں سکھ اور گورے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے جو پاکستانیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یہاں پہنچے تھے، قونصل جنرل عبدالجبار میمن اور وائس قونصل جنرل شعیب سرور تقریب کے شرکاءمیں اس طرح گھلے ملے ہوئے تھے، مجھے دیکھ کر حیرت ہوئی کیونکہ ہمارے سفارتخانوں سے وابستہ اکثر افسران مخصوص ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں جس کے مطابق جن ممالک میں وہ تعینات ہوتے ہیں وہاں مقیم پاکستانیوں سے فاصلہ رکھنے کے عمل کو وہ ”سفارتی آداب“بلکہ ” سفارتی رولز“ تصورکرتے ہیں، .... یہاں معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ عبدالجبار میمن کے بارے میں امریکہ میں قیام پذیر کئی لوگوں نے خاص طورپر مجھے بتایا وہ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، .... ایسے افسران کسی بھی شعبے کسی بھی محکمے میں ہوں اُس میں باقاعدہ جان پڑجاتی ہے، مگر المیہ یہ ہے ہمارے اکثر محکمے اور شعبے شاید مستقل طورپر بے جان ہوچکے ہیں، یہی وجہ ہے پاکستان ”تبدیلی“ کے باوجود ایک سال گزر گیا ترقی کے پہلے زینے پر بھی ابھی نہیں چڑھا ،....Seattleمیں یوم آزادی کے حوالے سے منعقدہ اس شاندار تقریب میں واشنگٹن کے چیف کانگرس مین Adman Smithاور واشنگٹن کے سولسٹر جنرل Nova Purcelنے بھی شرکت کی، انہوں نے اپنی تقاریر میں بڑے جذباتی انداز میں پاکستان اور پاکستانیوں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار بھی کیا۔ تقریب میں کئی ایسے بزرگ پاکستانی بھی موجود تھے جنہیں قائداعظمؒ کے ساتھ قربت اور کام کرنے کا اعزاز بھی نصیب ہوا، ایسے ہی ایک بزرگ نے میری صحافتی خدمات پر مجھے خصوصی ایوارڈ بھی دیا، ان بزرگوں میں محترم سراج خان، ڈاکٹر میاں حنیف انور، ڈاکٹر سعید افضل اور ڈاکٹر شوکت شامل تھے، ان چاربزرگوں کی موجودگی سے تقریب کو باقاعدہ چارچاند لگے ہوئے تھے، ....میرے نزدیک یوم آزادی کے حوالے سے اس برس یہ امریکہ میں ہونے والی سب سے بڑی تقریب تھی جس کے لیے برادرم خالد نذیر کے مخلص ساتھیوں خواجہ عثمان ، ڈاکٹر محسن اکرام، ندیم چودھری، عاطف نذیر، احسن کھوکھر اور آصف اللہ خان کو جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے!!


ای پیپر