Nai Baat Magazine Report
22 اپریل 2021 (15:25) 2021-04-22

ایک وقت وہ تھا جب سرزمین عرب ایک ایسی وادی تھی جہاں پانی تھا اور نہ سبزہ لیکن جب ابراسلام برسا تو دُنیا نے دیکھا کہ وہی زمین سرسبز وشاداب ہو گئی اور اس بنجر خاک پر لہلہاتے ہوئے ہزاروں چمن نمودار ہوئے۔ یہ اسلام کے ابرگہربار کی خاصیت تھی، یہ دین حقیقت کا ایک ادنیٰ کرشمہ تھا اور واقعی مکہ کی زمین کو اسلام کی وجہ سے آسمان کا رُتبہ عطا ہو گیا تھا۔

محمدﷺ کا جہاں پر آستاں ہے

زمیں کا اُتنا ٹکرا آسماں ہے

اہلِ عرب کا کوئی اخلاقی، سماجی اور سیاسی لائحہ عمل نہ تھا۔ ظلم وجبر کے زور پر انسان، انسان کو اپنی چوکھٹ پر جھکانے کی کوشش میں تھا۔ یہی وہ سرزمین تھی جہاں بڑے بڑے سرکش اور گمراہ لوگ تھے۔ بتوں کی پرستش عام تھی۔ ہر گھر کا اپنا ایک بت تھا۔ بچیوں کو زندہ درگور کرنا ان کی عادت میں شامل تھا۔ کہیں پانی پینے پر جھگڑا، کہیں شراب وکباب کی محفلیں تو کہیں عورت کے ساتھ انسانیت سوز سلوک روا تھا۔ ایسے میں رحمت خداوندی جوش میں آئی اور فاران کی چوٹیوں سے ایک ماہتاب رشد وہدایت نمودار ہوا جس نے اپنے کردار وعمل سے کائنات کا نقشہ بدل دیا۔

رہا ڈر نہ بیڑے کو موجِ بلا کا

اِدھر سے اُدھر پھر گیا رُخ ہوا کا

آپﷺ تشریف لائے تو عرب کی بنجر زمین اخلاقی تعلیمات سے زرخیز ہو گئی۔ حضرت سلیمان ندویؒ نے درست ہی کہا ہے کہ ’’بادشاہ ہو یا گدا، امیر ہو یا غریب، حاکم ہو یا محکوم، قاضی ہو یا گواہ، افسر ہو یا سپاہی، استاد ہو یا شاگرد، عابد وزاہد ہو یا کاروباری، غازی ہو یا شہید، توحید کا نور، اخلاص کی رو، قربانی کا ولولہ، خلق کی ہدایت اور رہنمائی کا جذبہ اوربالآخر ہر کام میں اللہ تعالیٰ کی رضا طلبی کا جوش ہر ایک کے اندر کام کررہا تھا۔ وہ جو کچھ بھی ہو، جہاں بھی ہو، یہ فیضان حق سب میں یکساں اور برابر تھا۔ راستوں، رنگوں اور مذاقوں کا اختلاف تھا مگر خدا ایک تھا، قرآن ایک تھا، رسولﷺ ایک تھا، ہررنگ، ہر راستہ اور ہر کام سے مقصود دُنیا کی درستی، خلق کی ہمدردی، خدا کے نام کی اونچائی اور حق کی ترقی تھی اور ان کے سوا کوئی چیز ان کے پیش نظر نہ تھی‘‘۔

اللہ تعالیٰ کا انسانیت پر بہت بڑا احسان ہے کہ جس نے مقصود کائنات، دانائے سبل، ختم رسل، مولائے کل، تاجدارِ فخرِ عرب وعجم، حضرت محمدﷺ بن عبداللہ بن عبدالمطلب کو انسانوں کی بھلائی کے لیے مبعوث فرمایا۔ اللہ کریم نے آپﷺ کو خاتم النّبین کا درجہ عطا فرمایا۔ جن کی ذاتِ گرامی پوری دُنیا کے لیے سراپا رحمت بنی اور جن کا مبارک وجود کمزوروں، مظلوموں، یتیموں اور بے سہاروں کے لیے سہارا بنا۔

محبوب کبریا محمد مصطفیﷺ، فخرجہاں، عرش مکاں، شاہ شہاں، انجمِ تاباں، ماہِ فروزاں، صبح درخشاں، جلوۂ سامان، نورِبداماں، مونس دل شکستگاں، راحت قلوبِ عاشقاں، نوردیدہ مشتاقاں، صورت صبحِ درخشاں، پشت پناہ رفتگاں، موجب نازعارفاں، باعث فخرِصادقاں، رحیم بے کساں، حبِ غریباں، شاہِ جناں، جانِ جاناں، قبلہ زہراں، کعبہِ قدسیاں، حبیب الزماں، شفیع الزماں، محبوب ربِ دوجہاں، قاسم علی وعرفاں، راحت قلوب عاشقاں، سرورِکشوراں، راحت عاصیاں، فخرِکون ومکاں، شفقت پیکراں، شافع عاصیاں، حامی بے کساں، راحت قلب وجسم وجاں، شاہِ دوراں، ہادیٔ جہاں، قرارِ بے قراراں، غمگسار دل فگاراں، انیس بے کساں، چارہ گر آزردگاں، سکونِ درد منداں، راحت دل رفتگاں، پناہِ بے پناہاں، نگاہِ بے نگاہاں، دم سازِ غریباں، سروِخراماں، حارسِ گیہاں، صورتِ صبح درخشاں، نیرتاباں، ماہِ فروزاں، مہرسکون ہفت اختراں، غلغلۂ کون ومکاں، رمزکن فکاں، سراجِ سالکاں، شب چراغ رہ نورداں، مہرنبوت آپﷺ کی ذات پر ختم کردی گئی۔ ختمِ نبوت کا یہ مہ درخشاں ہمیشہ عالم انسانیت کو نور عطا کرتا رہے گا۔ ختم نبوت کا ثمر ہے کہ آپﷺ عالمِ انسانیت کی بقاء وسلامتی کا آخری مظہر ہیں۔

حضور نبی اکرمﷺ سراپامحبت، پیار، خلوص، رحمت، اخوت، مروت، امن وآشتی اور صبرواستقلال کی چلتی پھرتی کہانی ہیں، یہی وجہ ہے کہ حضورﷺ کی نظر میں ہر انسان چاہے وہ دوست ہو یا دشمن، چھوٹا ہو یا بڑا، غریب ہو یا امیر، آزاد ہو یا غلام، کافر ہو یا مومن، مشرک ہو یا موحّد، مجاہد ہو یا منافق، قابلِ محبت وشفقت رہا چنانچہ تاجدار کائناتﷺ نے ہر شخص سے محبت کی، ہر شخص سے پیار کیا، ہر شخص سے حسنِ سلوک سے پیش آئے۔ سرورِانبیاءﷺ کے کلام میں ایک حسن تھا جو اثر بن کر دلوں کو مسخر کر لیتا تھا۔ درحقیقت محبت ایک ایسی رحمت ہے جو سحرانگیز بھی ہے اور اثر آفرین بھی۔ تاریخ کا ایک اک ورق اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ کسی کو قتل نہیں کیا۔ پتھر مارنے والوں پر پھول برسائے اور گالیاں دینے والوں کو دعائیں دیں کیونکہ آپﷺ سراپا محبت ورحمت رہے جس کی گواہی طائف کی بستی بخوبی دے سکتی ہے۔

اعلانِ نبوتﷺ

اسرارِ رموز ربانی، صدر فیوضِ رحمانی، دانش برہانی، محمد مصطفیﷺ پر نبوت کے نزول کے بعد ختمِ نبوتﷺ پر مہر لگ گئی۔ اوّلین وحی کے بعد نزول وحی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ مقصودِ کائنات، سرورِ کائنات، محمد مصطفیﷺ خشوع وخضوع کے ساتھ آیات پڑھتے۔ قرآن کریم کی کچھ آیات کی تلاوت جاری وساری تھی کہ رکوع وسجود دیکھ کر حضرت علیؓ نے استفسار کیا کہ یہ کیا سلسلہ ہے؟

سرفرازِ رضا، صاحبِ رشد وہدیٰﷺ نے فرمایا:

’’اے علیؓ! ہم اس اللہ کی عبادت کررہے تھے جس نے مجھے نبوت عطا کر کے لوگوں کو حق کی طرف بلانے کا حکم دیا ہے۔ اے علیؓ! تم بھی اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت کرو، میری رسالت کا اقرار کرو اور لات ومنات اور دیگر دوسرے بتوں کو چھوڑ دو‘‘۔

حضرت علیؓ پر تلاوتِ آیات کا گہرا اثر ہوا اور انہوں نے بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ اسی طرح حضرت خدیجتہ الکبریٰؓ نے اپنے زرّخرید غلام حضرت زید بن حارثہؓ کو اپنا متبنیٰ بنا رکھا تھا۔ وہ بھی آپﷺ، حضرت خدیجہؓ اور حضرت علیؓ کو دیکھ کر حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔ اسی طرح آپﷺ کے قریبی ساتھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی پاکﷺ کی حق گوئی تسلیم کر کے اسلام سینے سے لگالیا۔ یاد رہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اُسی محلہ کے مکین تھے جس میں حضرت سیّدہ خدیجہؓ بنت خویلد اور بڑے روساء رہا کرتے تھے۔ محمد مصطفیﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے قریبی تعلقات اسی محلہ سے شروع ہوئے۔ سیدنا ابوبکرؓ بن ابی قحافہ تیمی کی شخصیت میں وفا شعاری، خلوص اور ایثار بے پناہ تھا۔ حضرت ابوبکرؓ نے چونکہ تاجدارِ کائنات کی صداقت کو بلابحث وتمحیص قبول کرلیا اس لیے آپؓ کو ’’صدیقِ اکبرؓ  ‘‘ کہتے ہیں۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے دعوتِ اسلام قبول کرنے میں کسی قسم کا کوئی عذر آڑے آنے نہ دیا۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کی شخصی عظمت اور خاندانی حشمت کا سب ہی احترام کرتے تھے۔ تجارت، علم وشعور اور دانشوری کی وجہ سے مقبولِ عام تھے۔ انسانیت کی خدمت میںبڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ نعمتِ خداوندی دل کھول کر تقسیم کرتے۔ ان کی بصیرت، سمجھ بوجھ، ادراک اور دانائی کی وجہ سے لوگ مشاورت کے لیے آتے۔ وہ اپنی گفتگو سے لوگوں کے دل تسخیر کر لیتے۔ قبولیتِ اسلام کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خود کو ترویجِ اسلام کے لیے وقف کردیا۔ آپؓ کی کاوشوں سے جو لوگ مسلمان ہوئے ان میں حضرت زبیرؓ بن عوام، حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف، حضرت عثمانؓ بن عفان، حضرت سعدؓ بن ابی وقاص، حضرت طلحہؓ بن عبیداللہ، حضرت ابوعبیدہؓ بن الجراح، خواتین، بچیاں، نوجوان اور دیگر سرفہرست ہیں۔ شمعِ ہدایت، نورمجسم، کعبۂ اصفیاءﷺ رات گئے بزم میں بیٹھ جاتے۔ صحابہ کرامؓ تمام دن کی کارگزاری سناتے۔ مشرکین مکہ سے چھپتے چھپاتے غاروں میں بیٹھ کر غوروفکر کرتے۔ نماز کا وقت ہوتا تو اس کی ادائیگی کرتے۔ قرآنی آیات اور احادیث سینہ بہ سینہ ایک دوسرے کو سناتے اور ازبر کرواتے۔ قریش سرداروں کے بہت سے جاسوسوں نے یہ خبر پالی کہ مکہ میں ایک نئے دین کا آغاز ہوچکا ہے۔ کئی گروہ مسلمانوں کی ٹوہ میں لگ گئے۔ 3سال تک خفیہ عبادت وریاضت کا سلسلہ جاری رہا۔

اعلانِ نبوتﷺ اور قریش کی مخالفت

آفتابِ اسلام کی کرنیں دھیرے دھیرے پھیلنے لگیں۔ فاران کی چوٹیوں سے جو مہتابِ رُشد وہدایت نمودار ہوا تھا۔ اُس کی کرنیں ذہنوں کو منور کر رہی تھیں۔ اسلام کی فطرت میں قدرت نے اتنی لچک دی ہے کہ اسے جتنا دبایا جائے یہ اُتنا ہی فروغ پاتا ہے۔ اسلام کی روشنی اپنا راستہ خود تراشنے لگی۔ کفارِمکہ کو اپنے جھوٹے خدائوں کی فکر ہوئی وہ عزیٰ اور ہبل کے سامنے سجدہ ریز ہونے لگے۔ انہیں اپنے دیوتائوں سے اُمید تھی کہ پیغامِ نو جلد ختم ہو جائے گا۔ اہلِ مکہ کی یہ سوچ دم توڑتی گئی۔ قریش سرداروں کو اطلاع ملی کہ محمدﷺ ابوطالب کے یتیم بھتیجے نے نبوت کا دعویٰ کردیا ہے اور وہ بت پرستی کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔ تمام سرداروں نے ابوطالب سے ملاقات کی اور انہیں سارا ماجرا کہہ سنایا۔ حضرت ابوطالب کو اپنے بھتیجے کے بارے میں نبوت کے اشارات مل چکے تھے۔ سفر کے دوران بہت سے پادریوں نے بھی محمدﷺ کے نبی ہونے کا تذکرہ کررکھا تھا۔ قریش مکہ کے دبائو پر ابوطالب نئے دین کے بارے میں جاننے کے لیے نکلے، حضرت علیؓ کے بھائی، حضرت جعفرؓ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ جب ابوطالب غار کے قریب پہنچے تو خطیب النّبینﷺ ایک گھاٹی میں سجدہ ریز تھے اور ان کے نورِچشم حضرت علیؓ بھی وہاں موجود تھے۔

ابوطالب نے خود تو اسلام قبول نہ کیا لیکن اپنے بھتیجے محمدﷺ اور بیٹوں کو راہِ حق سے ہٹنے نہ دیا۔ قریش مکہ نے مسخرے اور بھانڈ اہل اسلام کے پیچھے لگادیے جب مسلمان نماز ادا کرتے تو ان پر شیطانی قہقہے بلند کیے جاتے۔ ان پر کوڑاکرکٹ پھینکا جاتا۔ جنگ آمد، بجنگ آمد کے مصداق ایک دن مسلمان عبادت کررہے تھے کہ قریش کے کچھ جوانوں نے مکہ کی گھاٹی کے قریب ان پر قہقہے بلند کرنے کے ساتھ ساتھ چھیڑچھاڑ بھی شروع کردی۔ مسلمانوں کو مشرکین کی یہ عادت بہت بری لگی۔ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص نے ایک مشرک کی اتنی پٹائی کی کہ اس کی کھوپڑی پھٹ گئی اور وہاں  سے خون جاری ہونے لگا۔ آپﷺ پر جب کوئی نئی وحی نازل ہوتی تو آپﷺ سب کو دارِارقم میں لے جاتے۔ کاتبینِ وحی تیار رہتے اور ان آیات کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ساتھیوں تک پہنچاتے۔ نبی پاکﷺ پیغامِ الٰہی لوگوں تک پہنچانے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہ کرتے۔ تاجدارِ حق، خاتم النّبینﷺ کا ظہور سب سے آخر میں ہوا۔

آپﷺ کے عظیم منصب کے بارے میں بہت سی آیات کا نزول ہوتا رہا جن کا خلاصہ یہ ہے کہ یومِ آخرت کی عدالتِ عالیہ میں جب نوعِ انسانی اپنی زندگی کا حساب وکتاب دے گی، وانبیاء علیہم السلام ان قوموں کے بارے میں دعویدار ہوں گے جن کی طرف وہ مبعوث کیے گئے کہ ہم نے تبلیغ دین کی لیکن انہوں نے جھٹلایا اور تمام ہی پیغمبر اپنی گواہی میں جناب نبی کریمﷺ کا نام نامی پیش کریں گے اور آپﷺ جو شہادت دیں گے اسی کے مطابق ساری اُمتوں کے لیے فیصلہ ہو جائے گا جس کے معنی یہ ہیں کہ ہر پیغمبر سے ثبوت مطلوب ہو گا لیکن آپﷺ ایسے مقام پر ہوں گے کہ آپﷺ سے ثبوت کا مطالبہ نہ ہو گا۔

آپﷺ کی خصوصیات ومناقب ایسی ہیں جن کا لحاظ بارگاہِ خداوندی سے اس طرح کیا گیا کہ قرآن پاک میں ہرپیغمبر کو اس کے نام کے ساتھ خطاب کیا گیا مثلاً یاآدم، یاابراہیم، یاموسیٰ، یاعیسیٰ، یادائود لیکن آنحضرتﷺ کو کسی بھی جگہ نام لے کر مخاطب نہیں فرمایا بلکہ یایھاالنبی اور یایھاالرسول کے الفاظ سے خطاب کیا۔

ہرزہ سرائی کرنے والے قریش

کعبہ میں موجود بتوں کے نگہبان کاوشِ تبلیغ اسلام کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے لگے۔ ان کی فطرت کے خلاف نئے دین نے ہلچل مچا دی۔ نبی پاکﷺ کی شرافت، صداقت، امانت، دیانت نے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ آپﷺ کی سچائی اور صداقت کے تو سبھی معترف تھے۔ دینِ حق کے بعد کشش کا سلسلہ بڑھنے لگا۔ آپﷺ کی شیریں بیانی، عدل وانصاف، حسنِ کلام اور انسانی ہمدردی نے کئی پتھر دل موم کر دیے۔ انسان تو انسان، کنکریوں نے بھی ’’کلمہ طیبہ‘‘ کی گواہی دے دی۔ مشرکینِ مکہ کے مسخروں کا ایک گروپ محسنِ انسانیت کا تمسخر اُڑانے کے لیے غار کے قریب پہنچ گیا۔ مسخروں کے سردار نے یہ فریضۃ انجام دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس کے دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ نبی معظمﷺ نماز ادا کررہے ہیں۔ مسخرے نے حضور پاکﷺ کو نیت باندھے دیکھ کر شرارت کی کوشش کی تو آپﷺ کے چہرۂ اقدس کو دیکھتے ہوئے تلاوت کی حالت میں ہلتے لبوں پر نظر پڑی۔ وہ شرارت چھوڑ کر سنجیدہ حالت میں اپنے دوستوں کے پاس پہنچا جو اس کے شدت سے منتظر تھے۔ جونہی محفل بذلہ سنج میں پہنچا تو ساتھیوں نے اس سے اس کی کامیابی دریافت کی۔ وہ بولا ’’حضور پُرنورﷺ کے ساتھ شرارت کے لیے، ان کے لبوں کو محوِتلاوت دیکھ کر میں نے محسوس کیا کہ اتنے خوبصورت لب، جھوٹ نہیں بول سکتے‘‘۔ میں آپﷺ سے کوئی شرارت کرنے کی ہمت نہ کرسکا۔ دوسرے مشرکین کی طرح تمام مسخرے بول اُٹھے کہ اس پر بھی حضورﷺ کا جادو چل گیا ہے۔ 3سالہ خفیہ تبلیغ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ دینِ حق کی کھلے عام دعوت دی جائے۔

دسترخوان پر اعلانِ حق

اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم سے کھلے عام تبلیغ کا حکم ملتے ہی آپﷺ میدانِ عمل میں آگئے۔ عام تبلیغ کے لیے آپﷺ نے اپنے گھر سے آغاز کیا۔ تمام رشتہ داروں، عزیزواقارب کو دعوتِ طعام دی۔ ابولہب بھی وہاں موجود تھا۔ دسترخوان پر تو سبھی خوش وخرم بیٹھے رہے، کھانا تناول کیا۔ بعدازطعام آپﷺ نے فرمایا: ’’عربوں میں آج تک کوئی شخص مجھ سے بہتر دعوت لے کر نہیں آیا۔ یہ پیغام دُنیا وآخرت کی بھلائی کا ہے اور اللہ تعالیٰ نے مجھے ارشاد فرمایا ہے کہ میں لوگوں کو اس کی جانب بلائوں، آپ لوگوں میں سے کون میری اس دعوت پہ لبیک کہتا ہے‘۔

پیغامِ الٰہی سنتے ہی چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ ابولہب نے موقع غنیمت جانا اور تاجدارِ حقﷺ کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا۔ ابولہب نے کہا کہ وہ اپنے باپ دادا کا دین نہیں چھوڑ سکتے۔ ہمارے علاوہ آپﷺ کا کون ہوسکتا ہے؟ قریش تم پر ٹوٹ پڑیں گے۔ قید میں ڈالیں گے۔ اذیتیں دیں گے۔ ابولہب نے سخت سے سخت زبان استعمال کرتے ہوئے پیغام الٰہی کو ٹھکرا دیا۔ ابوطالب کے بیٹے کی حمایت پر سب کھلکھلا اُٹھے۔ بنوہاشم سے تعلق رکھنے والوں نے بھی حضرت علیؓ کا تمسخر اُڑایا اور ابوطالب سے پوچھنے لگے کہ کس کا ساتھ دو گے، ابوطالب نے محمدﷺ کی حمایت کا بیڑا اُٹھالیا۔

کوہِ صفاء پر صدقِ صفاء، کعبہ اصفیاء، جلوۂ حق نماﷺ کا ظہور

رحمت اللعالین، سراج السالکین، خاتم النبّین محمد مصطفیﷺ نے صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہو کر اعلانِ نبوت فرمایا تو اپنوں اور بیگانوں نے مخالفت کالبادہ اوڑھ لیا۔ ابولہب نے شانِ رسولﷺ میں گستاخی کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ اہلِ قریش کے اس مجمع کے سامنے بھی اُس نے نبی پاکﷺ کو اپنی تضحیک کا نشانہ بنایا۔ ابولہب لال پیلا ہو کر بولا:

’’تو (نعوذباللہ) برباد ہو، اس کام کے لیے ہمیں یہاں جمع کیا تھا‘‘۔

آنحضرتﷺ اپنے چچا کی بات سُن کر متحیر ہوئے۔ دعوتِ حق میں اُس کی رکاوٹ آپﷺ کے لیے پریشانی کا باعث بنی۔ کھلم کھلا اس اعلان کے بعد کوئی بول اُٹھا:

’’عبدالمطلب کا یہ نوجوان پوتا آسمانی باتیں کرتا ہے‘‘۔

وہ تو یہ کہتا ہے ’’ہم ایسی چیز کی عبادت کریں، جس کو ہم نہ دیکھ سکتے، نہ سُن سکتے ہیں‘‘۔

کسی نے کہا ’’جو فرشتہ اس سے باتیں کرتا ہے یہ اُسے بلائے اور ہمارے سامنے اُس سے بات کر کے دکھائے‘‘۔

محبوب رب العزت، مالک کوثر وجنت، سلطانِ دین وملت، محمد مصطفیﷺ کی کھلے عام تبلیغ سے اہلِ قریش میں کھلبلی مچ گئی۔ کئی سرداراکٹھے ہو گئے۔ انہوں نے بت پرستی کو برا بھلا کہنے پر غم وغصے کا اظہار کیا۔ ایک اجتماعی مخالفت مہم شروع ہو گئی۔ اہل قریش نے اوباش، بدمعاش، بازاری شاعر اور لفنگے قسم کے نوجوان آپﷺ کے پیچھے لگا دیے۔ آپﷺ کا تمسخر اُڑانے لگے، آپﷺ پر پھبتیاں کسنے لگے، کوڑا کرکٹ پھینکنے کا معمول بن گیا۔ المختصر ظلم وستم کے جتنے انداز تھے، وہ آپﷺ کی ذاتِ مکرم پر ڈھائے گئے۔ گل وبلبل اور جام وصبوکی باتیں کرنے والے شعرائے کرام آپﷺ کی شان میں گستاخانہ جملے تخلیق کرے، قرآنی آیات کو شعری آمد کہا جانے لگا۔

خزینۂ علم آگہی محمدﷺ نے خالقِ کائنات کا پیغام مخلوق تک پہنچانے کے لیے تمام رکاوٹوں اور مصائب کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا۔ آپﷺ کو (نعوذباللہ) قتل کرنے کی سازشیں بھی تیار ہوتی رہیں۔ آپﷺ کے لیے انعام واکرام کا اہتمام کرنے کی چالیں چلی گئیں۔ ابوطالب کو آپﷺ کا ساتھ چھوڑنے کا مشورہ دیا گیا۔ دینِ حق کے روزافزوں ارتقاء نے قریشی سرداروں کی نیندیں حرام کر دیں۔ حضورﷺ دنیاوی جاہ وحشمت اور لالچ سے بہت دور تھے۔ تبلیغ دین کے لیے آپﷺ نے کسی بھی سودے بازی کو قبول نہ کیا۔ قریش کے تمام منصوبے خاک میں مل گئے۔

قریش مکہ نے یہ سُن کر آنحضرتﷺ سے غیرمنطقی حتیٰ کہ غیراخلاقی مطالبات اور شرائط کا سلسلہ شروع کردیا۔ آپﷺ نے ہر سوال کا خندہ پیشانی سے جواب دیا۔ ان کے دلوں، ذہنوں اور دماغوں پر مہر لگ چکی تھی۔ وہ راہ راست پر آنے کو تیار نہ تھے۔ قریش کے کچھ سردار اپنے جھوٹے خدائوں کی ساکھ بچانے کے لیے ابوطالب کے پاس گئے اور ان سے آپﷺ کو منع کرنے کو کہا کہ ہم اپنے آبائواجداد کا دین کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ حضرت ابوطالب کو کئی ایک خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ یہ سب کچھ سننے کے بعد حضرت ابوطالب اپنے بھتیجے سے ملے۔ بحرِجود وسخا، شہوارِ حقیقت، محمدﷺ نے فرمایا ’’اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر چاند اور بائیں ہاتھ پر سورج بھی رکھ دیں تو میں اللہ کے پیغام سے روگردانی نہیں کرسکتا‘‘۔ ابوطالب نے بھتیجے کا عزم واستقلال اور ایمان کی کیفیت اہل قریش کے گوش گزار کردی۔

اہلِ قریش کے قرب وجوار میں بہت سے لوگوں نے رحمت اللعالمین، خاتم النّبین، محمد مصطفیﷺ کے نبی ہونے کی بشارتیں سن کر خاموشی اختیار کر لی تھی۔ وہ دل ہی دل میں اقرارِ نبوت تو کرتے لیکن بڑے قبائل کے ڈر اور خوف سے چپ رہتے۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے مبلغین نے آپﷺ میں ان تمام خوبیوں کو تسلیم کرلیا جو آخری نبیﷺ میں ہونی چاہئیں تھیں۔ تخلیق آدم کا مرحلہ جاری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدمؑ کے جسدخاکی کو روح عطا کی اور حضرت آدم علیہ السلام نے آنکھ کھولی تو لوحِ محفوظ پر لکھا تھا:

لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ

حضرت آدم علیہ السلام نے ’’محمدﷺ‘‘ کے بارے میں استفسار فرمایا تو ربِ کائنات نے جواب دیا کہ جس نبوت کا آغاز آدمؑ سے ہورہا ہے۔ اس نبوت کا اختتام محمدﷺ پر ہو گا۔

حاملِ قرآں، مفسرِ فرقاں، محمد مصطفیﷺ کا دیدار ہی بڑی سعادت ہے۔ نگاہِ مردِ مومن تقدیر بدل دیتی ہے۔ اہلِ قریش وہ بدبخت تھے، جو بصیرت وبصارت سے محروم نظر آتے تھے۔ انہیں چشمِ حق نظر نہیں آتی تھی۔ مخالفتوں کی آندھیاں آئیں، مصائب کے پہاڑ ٹوٹے، ظلم وستم نے راستہ روکا، اپنوں اور بیگانوں نے ساتھ چھوڑا، ہمسایوں نے منہ موڑا، خاندان والوں نے دل توڑا لیکن تعلیماتِ الٰہی اور تجلیات رسالتﷺ کی روشنی اپنا راستہ تلاش کرتی پھری۔ آج ہم 2021ء سے گزر رہے ہیں، اسلامی دُنیا ایک کڑے پُرآشوب دور سے گزر رہی ہے۔ کلمۂ حق بلند کرنا ناممکن تو نہیں لیکن بہت مشکل ہے۔ سرورِ کائناتﷺ کی زندگی کے ان ایام کو چشم حال سے دیکھے اور احتساب کیجئے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اعلانِ نبوت کے بعد مجسمِ روح افزاءﷺ کو کس کس اذیت سے گزرنا پڑا، اس پر اذیت خود بھی اذیت محسوس کرتی ہوگی۔

ابولہب اور ابوجہل کی جہالت

ابولہب، ابوجہل اور دیگر مشرکین نے یک زبان ہو کر فیصلہ کرلیا کہ ہر کلمہ گو کو جسمانی اور ذہنی طور پر اذیت دی جائے جس کے لبوں پر بھی کلمہ طیبہ کا وِرد سنا جاتا اُسے طرح طرح کی اذیتوں میں ڈالا جاتا۔ مارپیٹ اُن کے لیے کوئی زیادہ اہمیت نہیں رکھتی تھی۔ غلاموں کے ساتھ قریشی مکہ کا رویہ نہایت انسانیت سوز ہوتا۔ حضرت بلالؓ حبشہ کے رہائشی تھے، وہ اُمیہ کی غلامی میں تھے۔ اُمیہ نے حضرت بلالؓ کو ہرطرح کی تکلیف پہنچائی۔ برہنہ کر کے انہیں دہکتے کوئلوں پر لٹایا گیا۔ عزیٰ، لات ومنات جیسے بتوں کی تعریف میں زبان کھولنے کو کہا۔ بلالؓ کا رنگ کالا تھا لیکن من میں اُجالا تھا۔ بتوں کا تذکرہ کرنا اب اُن کے بس میں نہ تھا۔ چشم تصور میں لائیں کہ ایک طرف حضرت بلالؓ کو زمین پر لٹایا گیا ہو، اُن کے دونوں ہاتھوں پر دو مشرک کھڑے ہوں، پائوں پر کوڑے مارے جارہے ہوں اور پھر ایک بت حضرت بلالؓ کے قریب لاکر اس کا نام پکارنے کو کہا گیا اور بلالؓ یہ ظلم سہتے ہوئے کہیں، احد، احد، یعنی ایک ہے، بس ایک ہے۔

جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں

ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں

حضرت بلالؓ کا عشقِ رسولﷺ

حضرت بلالؓ بسااوقات تشدد کی وجہ سے بے ہوش ہو جاتے۔ ظالم قریش اس تشدد کو تماشا کا نام دے کر ادھر ادھر کے لوگوں کو اکٹھا کر لیتے حتیٰ کہ کئی سرداروں کی بیگمات بھی حضرت بلالؓ پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بطور تمسخر دیکھنے کے لیے آتیں جن میں ہندہ زوجہ ابوسفیان تو تشدد کرنے والوں میں شامل ہو کر اپنے بتوں سے حقِ وفاداری ادا کرتیں۔ کعبہ کے گردونواح میں کنیزوں پر انسانیت سوز ظلم ڈھائے جاتے جو قلم سے ناقابلِ بیان ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ایک معقول رقم دے کر حضرت بلالؓ کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کروایا۔ ابوجہل نے اسلام قبول کرنے پر اپنی کنیز کو برچھی سے شہید کردیا۔ ابوجہل، عتبہ، ابوسفیان، ابولہب اور کئی دیگر سرداروں نے اجتماعی ظلم وستم روا رکھنے کی بنیاد ڈالی۔ ایک دفعہ تاجدارِ کائنات خانہ کعبہ کے سامنے نماز ادا کررہے تھے کہ ابوجہل نے آپﷺ کو حالتِ سجدہ میں دیکھ کر ایک اُونٹ کی اوجھڑی آپﷺ کی کمر مبارک پر رکھوا دی۔ اوجھڑی کا اوزن ایک عام آدمی کیسے اُٹھا سکتا ہے؟ آپﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمتہ الزہراؓ نے آپﷺ کی کمرمبارک سے اوجھڑی اُٹھوا دی اور آپﷺ کا لباس پاکیزہ کیا۔ یہ امرباعث افسوس ہے کہ 2019ء میں ایک طرف تو پاکستان کو ریاست مدینہ کے سانچے میں ڈھالنے کا خواب دیکھا جارہا ہے تو دوسری طرف کفارِمکہ کے قائدین ابولہب اور ابوجہل کے بارے میں تعریفی کلمات فیس بُک کی زینت بن رہے ہیں۔ کسی خودساختہ سول سوسائٹی نے 17رمضان المبارک کو ابوجہل کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کا اعلان بھی کردیا۔ ابوجہل نے کون سا کارنامہ انجام دیا ہے؟ اسلام دُشمن عناصر کھلم کھلا قرطاس وقلم کا سہارا لے رہے ہیں۔ ان کا سرکون قلم کرے گا؟

حضرت حمزہؓ کا قبولِ اسلام

کعبہ کی حدود سے پہلے ابوقیس نامی پہاڑی کی طرف سے عبدالمطلب کے فرزند یعنی حضورﷺ کے چچا حضرت حمزہؓ بھی کعبہ کے طواف کے لیے آرہے تھے۔ عبداللہ تیمی کی نوکرانی آب دیدہ لہجے میں بولی محمدﷺ کو مارا پیٹا جارہا ہے، آپﷺ پر کنکریاں برسائی جارہی ہیں۔ اذیتوں کا طوفان برپا ہے۔ آپ لوگوں کی غیرت کہاں سو گئی ہے، یہ سنتے ہی حضرت حمزہؓ رُخ گئے اور لونڈی کی پوری بات توجہ سے سنی۔ یہ سنتے ہی انہیں جلال آگیا۔ وہ کعبہ کی طرف لپکے اور ابوجہل کو غصّے کی حالت میں گھورتے ہوئے اپنی کمان اس کے سر میں دے ماری۔ ابوجہل کو لہولہان دیکھ کر دیگر قریش مکہ دم سادھے رہ گئے۔ آوازیں گنگ ہو گئیں۔ حضرت حمزہؓ کی دلیری اور شجاعت سے سب واقف تھے۔ ان کے قبولِ اسلام کے بعد مسلمان بے خوف وخطر عبادت کرنے لگے۔ حضور پاکﷺ کی تبلیغ کا دائرہ وسعت پانے لگا۔ آپﷺ اسلام لانے والوں کو نویدِ بار دینے لگے کہ دنیا میں کی جانے والی ہر نیکی کاپھل ملے گا۔ ہر برائی کی سزا ملے گی۔ راہ حق پر گامزن لوگ ہی فلاح پائیں گے۔ آپﷺ کو حضرت حمزہؓ کے اسلام لانے کی بہت خوشی ہوئی۔ قریش کے سب سے بڑے پہلوان، جرأت وشجاعت کے پیکر اور ولولہ انگیز شخصیت کے مالک حضرت حمزہؓ کے ایمان لانے سے حضور پاکﷺ نے اللہ تعالیٰ کا شکر بجالایا اور حضرت حمزہؓ کے ثابت قدم رہنے کی دعا کی۔ آنحضرتﷺ نے یہ بھی دعا فرمائی: خدایا! عمر بن خطاب اور عمروابن ہشام میں جو تجھے زیادہ محبوب ہے، اُس سے اسلام کی مدد فرما‘‘۔

قریشِ مکہ کا ہر قدم، ہر سازش، ہر منصوبہ، ہر منافقت، ہر حربہ دم توڑتا گیا۔ کاروانِ اسلام کی مقبولیت، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بڑھنے لگی۔

ابوطالب نے قریشِ مکہ کا ہر مطالبہ رد کردیا اور حضور پاکﷺ کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو گئے۔ عتبہ ولید بن مغیرہ اور دیگر سرداروں نے زورآزمائیاں کرلیں لیکن آنحضرتﷺ دعوتِ حق سے کیسے ہٹ سکتے تھے۔ سرعام تبلیغ کی عمر ابھی چند ماہ تھی کہ حج قریب آگیا۔ اب قریش مکہ کو مزید پریشانی لاحق ہوئی کہ حجاجِ کرام کو اگر دعوتِ حق دی گئی تو کئی حجاج کرام اسلام قبول کریں گے۔ ایک پریشانی، دوسری پریشانی کے ساتھ منطبق ہورہی تھی۔ قریش مکہ نے یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن یہ تدبیر بھی ناکام ہوئی۔ جو ملاقاتی بھی تاجدار حقﷺ سے ایک بار مل لیتا، وہ آپﷺ کی خوش کلامی، آپﷺ کی برداشت اوراخلاق حسنہ نے سب کو گرویدہ بنادیا۔

دشمنوں کی ہرچال اور منصوبہ ناکام ہوتا گیا اور وہ اپنی موت آپ مرتے گئے۔ عتبہ آپﷺ کی شان اقدس سے بہت متاثر ہوا۔ قرآن پاک کی تلاوت نے اس کے دل پر گہرا اثر چھوڑا، وہ خودکلامی میں مصروف ہو گیا اور سوچنے لگا کہ کتنی عظیم ذات ہے جسے کوئی دنیاوی لانچ نہیں جو اپنے خالق حقیقی کا پیغام اس کی مخلوق تک پہنچانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ عتبہ کے ذہن میں یہ بات بھی تھی کہ اہل عرب شعر وسخن میں اپنے کلام کی بلاغت کے لیے مقبول ہیں لیکن قرآن پاک کی فصاحت وبلاغت کسی طرح بھی دنیاوی محسوس نہیں ہوتی۔ اس میں معرفت کا رنگ، سکون، ٹھہرائو اور پیغام حقیقت ہے۔

حج کے موقع پر قریش مکہ کا خواب چکناچور

حجاج کے قافلے آنا شروع ہوئے اور سرکش قریش مکہ سب کو حضور پاکﷺ کے دین کے بارے میں خود ہی بتانے لگ گئے۔ سب پریشان تھے کہ یہ نیا انقلاب کیسا ہے؟ جو فریضہ مسلمانوں کو انجام دینا تھا وہ اللہ تعالیٰ نے محاذآرائی پر تلے ہوئے قریش سے لیا۔ قریش نبی پاکﷺ کی تبلیغ کے بارے میں حجاج کرام کو بتاتے رہے۔ بازاروں میں نبی پاکﷺ کا تذکرہ عام ہوا۔ ذکرالٰہی پھیلنے لگا نیز اسلام کی روشنی اپنا راستہ خود تلاش کرنے لگے۔ جب رسول پاکﷺ خانہ کعبہ کا طواف کرتے اسود بن مطلب بن اسد بن عبدالعزیٰ، ولید بن مغیرہ، اُمیہ بن خلف اور عاص بن وائل سبھی بتوں کی پوجا کرتے ہوئے آپﷺ کو اپنے ساتھ مل جانے کی دعوت دیتے۔ اپنے آبائواجداد کا طریقہ اپنانے کو کہتے۔ حضور پاکﷺ یہ سب کچھ اپنے روایتی انداز میں سنتے اور خاموش رہتے۔ حج کے موقع پر رب العالین نے رحمت اللعالمینﷺ کا دین حق قریش مکہ کے ذریعے لوگوں تک پہنچا دیا۔ قریش مکہ کی پریشانی مزید بڑھ گئی کیونکہ حجاج کرام دین الٰہی کے بارے میں تجسس اور حیرت کامظاہرہ کرنے لگے۔

ایک طرف حضورﷺ کی سجدہ ریزی اور قبولیت اسلام میں اضافہ جاری تھا اور دوسری طرف بتوں کے پجاری طرح طرح کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ابولہب کی بیوی اروی یعنی اُمِ جمیل جو حرت بن اُمیہ کی بیٹی اور ابوسفیان کی بہن تھی۔ حضور پاکﷺ کی راہبوں میں کانٹے بچھاتی اور بدزبانی کا مظاہرہ کرتی۔ حضورﷺ کے پڑوسیوں میں ابولہب، حکم بن ابی العاص بن امیہ، عقبہ بن ابی معیط، عدی بن حمراثقفی، ابن الاصدا ء اور دیگر شامل تھے۔ حکم بن ابی العاص کے علاوہ کسی نے اسلام قبول نہ کیا۔ ایک طوفانِ بدتمیزی حضورﷺ اور آپﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ روا رکھا گیا۔ ابوجہل، ابولہب، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط جیسے مشرکین نے فخرِکائناتﷺ کو (نعوذباللہ) ایسے بے ہودہ لفظوں سے نوازا جس پر بے ہودگی بھی شرمندہ ہوتی۔ ایک عجیب دوعملی کا مظاہرہ اس وقت نظر آیا کہ ان قریش میں سے بہت سے لوگ بشمول ابوجہل، قرآن پاک تو توجہ سے سن لیتے، گھنٹوں حضورﷺ کی آواز سے سکون حاصل کرتے لیکن اطاعت وایمان کی دولت سے محروم رہے۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭


ای پیپر