Will the resolution tabled in the National Assembly send the French ambassador back?
22 اپریل 2021 (11:25) 2021-04-22

ویسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہ بندہ کمپیوٹر سے بھی زیادہ تیز سوچتا ہے اور کر گزرنے کے بعد دیکھتا ہے کہ کیا صحیح ہوا اور کیا غلط۔ بلے باز آؤٹ نہیں ہو رہا تو وکٹ کیپر سے بولنگ کرا دی۔ بلے باز کو وکٹ کیپر بنا دیا۔ فیلڈ کے تمام تر اختیارات جو اسے تجویز کیے جا چکے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ اتھارٹی کو دیکھنا ہو تو غلط فیصلے کرو اور اگر آپ کے ساتھ کام کرنے والے غلط فیصلے بھی قبول کر لیں اور چوں چراں نہ کریں تو یہ ہے اصل اختیارات کا استعمال ورنہ صحیح فیصلے تو سب مانتے ہیں۔

ایک برس میں پچاس لاکھ گھر،۔ بے شمار نوکریاں، بیرون ملک قرضوں کو دنیا کے منہ پر دے مارنا اور پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم بنانے کا خواب کوئی برا خواب تو نہیں۔ خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ لائحہ عمل ترتیب دینا ضروری ہے۔

ماہرین کو تلاش کر کے ٹیم ورک کیا جاتا ہے۔ مہاتیر محمد سے ہی کچھ سیکھ لیتے۔ اپنی اننگز کو ٹی ٹونٹی کی طرح نہیں ٹیسٹ میچ کی طرح بناتے تو نتائج خاصے حوصلہ افزا ہوتے۔ آپ کھیلنے سے زیادہ امپائر کی انگلی کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ امپائر کب تک آؤٹ ہونے والے کو ناٹ آؤٹ ڈکلیئر کرتا رہے گا۔

مسلم لیگ ن کو سانحہ ماڈل ٹاؤن لے ڈوبا اور آپ سانحہ ملتان روڈ میں پھنس گئے۔ ٹی ایل پی سے ایک کے بعد دوسرا معاہدہ کرتے رہے اور جب کچھ نہ بن پڑا تو ٹی ایل پی کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا۔ میڈیا کو ان کے دھرنوں کی کوریج سے روک دیا۔ وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ ٹی ایل پی سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور اگلے چوبیس گھنٹوں میں یہ حکومت زمین پر لیٹ گئی۔ کسی ایک جگہ رسوائی ہو تو بندہ دل سے یہ کہہ کر قبول کر لے کہ چلو غلطی ہو گئی۔ جب ہر فیصلہ ہی غلط ہو رہا ہو تو اسے کیا کہا جائے۔ کیسے تسلیم کیا جائے۔

ابھی تک قوم اس شش و پنج میں ہے کہ ٹی ایل پی ایک دہشت گرد تنظیم ہے یا اسے اس ذیل سے نکال دیا گیا ہے۔ مذاکرات کوئی بری بات نہیں بلکہ دنیا کے تمام بڑے مسائل مذاکرات سے حل ہوئے ہیں۔ جنگوں سے فتح یا شکست ہوتی ہے۔ مذاکرات میں ایک دوسرے کی پوزیشن کو سمجھا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کی جاتی ہے۔ اس تنظیم کے خلاف قتل و غارت گری کے مقدمات حکومت واپس لے رہی ہے۔ لوگوں کی جان و مال کا جو نقصان ہوا اسے کون پورا کرے گا۔ اس تصادم میں جو لوگ مارے گئے وہ کس سے انصاف مانگیں گے۔ ٹی ایل پی ایک سیاسی جماعت تھی تو اسے دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کرنے والے اور بعد ازاں اس سے مکرنے والے کون تھے؟

ٹی ایل پی کے خلاف مقدمات واپس ہو سکتے ہیں تو جن دوسری تنظیموں کو اس شیڈول میں ڈالا گیا ہے ان سے مذاکرات کیوں نہیں ہو سکتے۔ انہیں قومی دھارے میں کیوں نہیں لایا جا سکتا۔

کیا فیصلہ سازی کرنے والے ابھی تک اس ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں کہ آنے والے انتخابات میں تحریک انصاف اور ٹی ایل پی کو ساتھ ساتھ جوڑ دیا جائے۔ مولانا فضل الرحمن کے مقابلے میں ایک دوسری مذہبی جماعت کو ساتھ ملایا جائے۔ یہ کوششیں کوئی نئی نہیں ہیں۔ حضرت مولانا طاہر القادری یاد آ رہے ہیں۔ وہ بھی تو سیاسی کزن تھے۔ انہوں نے بھریا میلہ چھوڑ دیا اور جس دھرنے کو انہوں نے اپنی افرادی قوت اور پیسہ فراہم کیا اس کے ثمرات آج تحریک انصاف سمیٹ رہی ہے۔ انہیں کسی نے یاد تک نہیں کیا کہ گلشن میں بہار آئی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن ابھی تک لوگوں کے ذہین سے محو نہیں ہوا۔ اس کے متاثرین اب تک عدالتوں میں در بدر ہو رہے ہیں۔ ان کو انصاف کی امیدیں دلانے والے اقتدار کے اڑن کھٹولے پر سوار ہیں۔

مولانا طاہر القادری گرفتہ دل کے ساتھ بیرون ملک مقیم ہیں اور ان کی جماعت سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو سہارا دے رہی ہے۔ یہ ظرف مولانا طاہر القادری کی جماعت کے پاس ہی ہے۔

نئی دہلی سے منصور الدین فریدی سے بات  ہوئی کہنے لگے کہ دو دن تک بھارت میں بہت جوش و خروش تھا کہ دونوں ملکوں میں تعلقات معمول پر آ رہے ہیں۔ تجارت اور راستے کھلنے لگے ہیں کہ اچانک سب کچھ الٹ گیا۔ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے فیصلے کون کر رہا ہے۔ میں انہیں کیا بتاتا کہ آپ تو صرف اس فیصلے کی وجہ سے پریشان ہیں، ہم یہ عذاب روز جھیلتے ہیں۔

ٹی ایل پی کو بھی سمجھا دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں جو قرارداد پیش ہوئی ہے کیا اس سے فرانس کا سفیر واپس بھیجا جا سکے گا۔ ٹی ایل پی کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔ ان حالات میں اس قرار داد کی اہمیت کیا رہ جاتی ہے جب ملک کا وزیراعظم یہ کہہ رہا ہو کہ ہم فرانس کے سفیر کو واپس نہیں بھیج سکتے اور یہ بھی کہا گیا ہو کہ خارجہ تعلقات کسی گروہ یا جتھے کی وجہ سے نہیں توڑے جا سکتے۔ ٹی ایل پی اور حکومت دونوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں لیکن اس میں ریاست کو شدید نقصان پہنچا ہے۔


ای پیپر