Like our destiny, the decisions of life and death are written by the one above
22 اپریل 2021 (11:13) 2021-04-22

ہمارے نصیب اور مقدر کی طرح زندگی اور موت کے فیصلے بھی اُوپر والا ہی لکھتا ہے،اس فرد کے کیا جذبات ہوں گے جو اپنا پورا مال و متاع اپنی آنکھوں کے سامنے چھوڑ کر جارہا ہو،زندگی کی ساری جمع پونجی اس کے پاس ہو لیکن وہ اس سے فائدہ لینے کی پوزیشن میں نہ ہو،وہ اس دُکھ اور کرَب میں بھی مبتلا ہو کہ نجانے اس کی دولت،سرمایہ گھر اِسکی نسل سنبھال بھی سکے گی یا نہیں، اس کو یہ بھی غم کھائے جارہا ہو کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت صحیح انداز میں کرنے میں کامیاب ہوا یا نہیں، اِس ذمہ داری کے بارے میںاگلی حیاتی میں اس سے سوال ہوا تو یہ کیا جواب دے سکے گا، دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اس کے عزیز واقرباء اس کے بال بچوں سے کیا سلوک روا رکھیں گے،اِنکی تعلیم، کردار سازی کا اب کیا ہوگا یہ سماج کے مفید شہری بن بھی سکیں گے یا نہیں۔

اُولاد میں سے کوئی خد ا نخواستہ برُی صحبت کا شکار ہوا، نشہ کی لت میں پڑگیا، چوری چکاری کرنے لگ گیا، کسی ڈکیتی میں ملوث نکلا، کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہو گیا،کسی فرقہ واریت جیسی تنظیم کے ہتھے چڑھ گیا، کوئی لسانی گروہ اِسکو اَپنے مقاصد میں استعمال کرتے پایا گیا، کسی دہشت گرد تنظیم کا یہ ممبر بن گیا،معاشی مجبوری کی بناء پرا س کو اَپنی تعلیم اُدھوری چھوڑنی پڑ گئی، یہ مالی مشکلات کا شکار ہو گیا، کسی نے اِسکی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اگر اِسکی عزت کو غیر محفوظ بنا دیا تو پھر کیا ہو گا، یہ وہ خدشات ہیں جو کسی بھی فرد کے ذہن میں آسکتے ہیں جو اِس دنیا جہاں سے رخصت ہو رہا ہے، سب سے بڑی پریشانی تو اُس بیوہ کو ہوسکتی ہے جس کے ناتواں کندھوں پر نہ صرف اولاد کی تربیت کا بوجھ آن پڑتا ہے بلکہ اِنکی معاشی ذمہ داریوں سے بھی اسے ہی نبر آزماء ہونا ہوتا ہے، روزگار کا بندوبست ، معمول کے معاملات سے نپٹنا بڑی جان جوکھوں کا کام ہے ،ہمارے سماج میں اِکیلی عورت کے لئے یہ پُل صراط عبور کرنے کے مترادف ہے۔

اگر خدانخواستہ کسی حادثہ میں ،بیماری کے باعث دونوں والدین ہی ملک عدم سدھا ر جائیں تو ذرا چشم تصور میں لائیے کہ ان بچوں پر کیا گذرے گی جو اس دُنیا میں اِکیلے رہ جائیں، جہاں سرے سے خاندانی نظام دستیاب ہی نہ ہو، جن کے رشتہ دار بھی اِس پوزیشن میں نہیں ہوتے جو اِن کا بوجھ اٹھا سکیں، والدین جو ترکہ چھوڑ جائیں،اس میں صرف دال روٹی چلتی ہو، تعلیم اور دیگر ضروریات اس کے علاوہ ہوں، تو یہ اس خاندان کا ہی نہیں سماج کا بھی امتحان ہوگا ۔

اِس وقت بھی دُنیا میں ایسے بچوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو لوگوں کی خواہشات کا ایندھن بنتے ہیں، کسی نہ کسی مافیاز کے اہم سرگرم رکن ثابت ہوتے ہیں،بعض مشنری ادارے بھی اِنکی اِس مجبوری فائدہ اٹھانے میں پیش پیش ہوتے ہیں، وہ اِنکے مذہبی نظریات کوتبدیل کرنے کو ہی اپنی بڑی کامیابی خیال کرتے ہیں،اِنکو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں،بہت سی ایسی غیر سماجی تنظیمیں بھی اس نوع کے بچوں کی منتظر رہتی ہیں ، ان سے اپنے ٹارگٹ مکمل کروانا ان کا خاص ہدف ہوتا ہے۔

دُنیا میں یہ بد قسمت بچے مافیازکے ہاتھوں اس لئے کھلونا بن جاتے ہیں کہ انھیں رہنے کے لئے چھت، کھانے کے لئے روٹی ،پہننے کے لئے کپڑا، بیماری کے لئے دوائی درکار ہوتی ہے،اور زندگی گذارنے کے لئے ایک سہارا چاہئے ہوتا ہے، اس طرح کے بچے اپنے ہی ملک کے خلاف استعمال بھی کئے جاتے ہیں، انھیں باہم نفرتیں پھیلانے کے لئے بھی آلہ کار بنایا جاتا ہے،ملک دشمن عناصر اِنکو مستقبل کے سنہری خواب دکھا کر اُن جرائم کا ارتکاب کرواتے ہیں جس کو سوچ کر روح کانپ جاتی ہے۔

یہ سب کچھ ہمارے اردگرد ماحول میں ہوتا ہے، بہت سی فلمیں اِن موضوعات پر بنی ہوئی ہیں، بچوں کے تحفظ اور فلاح کے لئے   عالمی ادارہ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے، بھاری بھر فنڈز بچوں کے لئے جاری ہوتے اور بہت سے ادارے ِانکی اصلاح کے نام پر بھاری سرمایہ خرچ کرتے ہیں لیکن اس کے پیچھے محبت کا وہ ا نسانی جذبہ کارفرما نہیں ہوتا جو بچوں کی کردار سازی کے لئے لازم و ملزوم ہے،وہ انکو کھانا،تعلیم اور پوشاک دیتے ہیں،مشاہدہ میں آیا ہے وہ سماج کے ذمہ دار شہری نہیں بن پاتے اگر متاثرہ بچوں میں بڑی تعداد لڑکیوں کی ہو تو معاملہ اخلاقی گراوٹ کی طرف چل پڑتا ہے ،ہماری دنیا اِس تلخ حقیقت کے ساتھ ہی زندہ ہے۔

اگر آپ کو اپنے سماج میں درد دل رکھنے والے فرشتہ صفت انسان ملیں، جو ایسے بچوں کا خیال اپنی اولاد کی طرح رکھتے ہوں، ساری صلاحتیں اِنکی کردار سازی پرصرف ہو رہی ہوں، اِنکو رہنے کے لئے گھر جیسا ماحول میسر ہو، اِنکو یتیمی کا بھی احساس نہ ہونے دیں، اگر والدین میں اکیلی ماں ہو تواس کے بچوں کی تربیت میں اسکی مشاورت بھی شامل ہو تو کیا ہمارا انتخاب وہ افراد اور غیر سماجی تنظیم نہیں ہونا چاہئے، جس کی آغوش میں ہم اپنی قوم کے بچوں کا مستقبل محفوظ خیال کریں،ہمارے ہاں یہ سماجی تنظیم’’ الخدمت فائونڈیشن ‘‘ پاکستان کے نام سے سرگرم عمل ہے، یہ کسی غنیمت سے کم نہیں جس نے یتیم بچوں کی تعلیم تربیت کے لئے کفالت یتامٰی کے نام پر ایک بڑا نیٹ ورک بنا رکھا ہے، جس کا بڑا ہدف ایسے بچوں کو معاشرہ کا بہترین شہری بنانا ہے، علاوہ ازیں صحت ،تعلیم ،صاف پانی اور روزگار کی فراہمی اور دیگر پروگرامات میں بھی یہ فاونڈیشن کلیدی کردار ادا کر رہی ہے اس وقت ایشیاء کی پانچویں بڑی این جی اوز ہے۔

ایک لمحہ کے لئے یہ سوچیں تو کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ خدا نخواستہ اگر ہمارے لخت جگر اس دنیا میں اکیلے رہ جائیں اور انھیں سہارے کی ضرورت ہو مگر ایسا میسر نہ ہو جس کو اپنا نعم البدل کہا جائے تو دل پر کیا گذرے گی؟ اپنی حیاتی کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجھ کر ان بچوں کاسہار ا بنیں جن کے والدین اِس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، یہ ماہ مقدس ہمیں اِنکی مالی امداد کرنے کا سنہری موقع فراہم کر رہا ہے، مذکورہ فائونڈیشن کی زیر نگرانی یہ بچے سماج کے ذُمہ دار شہری بن رہے ہیں ان کے دست و بازو بن جائیں۔

آپ نے وہ وڈیو تو دیکھی ہو گی ،ریس میں شریک معذور لڑکیاں جب دوڑ لگاتی ہیں تو اِن میں سے ایک گر جاتی ہے پیچھے سے آنے والی لڑکی آگے نکلنے کی بجائے رُک کر اِسکو سہارا دیتے ہوئے آگے بڑھاتی ہے اور پھر دونوں اکٹھی آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ونر لائین پرپہنچتی ہیں ، مجمع دم بخود ہو جاتا ہے تو ہزاروں تماشائی دونوں کو بھر پور داد دیتے ہیں،درینہ کامیابی اس مقابلہ میں ہے جس میں کسی دوسرے کو سہارا دے کر اِپنے ہم پلہ لایا جائے۔اصل چیز مسابقت نہیں بلکہ دنیا کے لئے نافع بننا ہے۔


ای پیپر