Tehreek-e-Labaik demands expulsion of French ambassador from Pakistan
22 اپریل 2021 (11:08) 2021-04-22

اگر قومی اسمبلی میں اسی مضمون کی قرارداد لانا تھی کہ تحریک لبیک کے مطالبے فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے سے متعلق ایوان میں تمام پہلؤوں کا جائزہ لیا جائے گا۔  اتنے بڑے اقدام سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج اور یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ پیش آنے والی مشکلات کو زیر بحث لا کر کسی فیصلے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ تحفظ ناموس رسالتؐ کے تقاضے بھی پورے ہوں اور فرانس و یورپ وغیرہ میں آباد پاکستانیوں کے مفادات بھی محفوظ رہیں۔

اس کے ساتھ عالم اسلام کے بقیہ ممالک کو بھی اس مسئلے پر اعتماد میں لے کر مشترکہ آواز کے ساتھ آگے بڑھا جائے تو ایسی قرارداد اتنے زیادہ ہنگاموں، ملک گیر ہڑتال، اہم سڑکوں اور راستوں کی بندش اور تحریک لبیک کے کارکنوں پر گولیوں کی بارش کا ماحول پیدا کئے بغیر بھی لائی اور اس پر بحث کی جا سکتی تھی۔

سعد رضوی صاحب اور ان کے ساتھیوں کا اگر اتنا ہی مطالبہ تھا جس کا حکومت نومبر 2020ء سے لبیک والوں سے تحریری معاہدہ کر چکی تھی تو پورے وقار کے ساتھ ملک میں امن و سکون کی فضا قائم رکھتے ہوئے بھی اس پر عمل کیا جا سکتا تھا۔

اس کے برعکس عمران خان کی سرکار والاتبار نے ایک جانب وعدے کی خلاف ورزی کرنے کی ٹھان لی۔ دوسری طرف لبیک والوں کی قیادت اور کارکنوں کی پکڑ دھکڑ، گرفتاریوں اور احتجاج کو روکنے کے لئے تشدد سے کام لیا۔ پولیس لاہور میں یتیم خانہ چوک کے قریب واقع مسجد رحمت اللعالمین کے مرکز کے گرد جمع کارکنوں کے قتل کی مرتکب ہوئی، اپنے ایک ڈی ایس پی سمیت کچھ اہلکاروں کو اغوا کرایا، پھر بھی حالات قابو میں نہ آئے۔

حکومت قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلا کر پرائیویٹ ممبر کے ذریعے قرارداد کا مسودہ پیش کر کے ان کے آگے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئی۔ مگر پرسوں منگل کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کو اتنے بڑے مسئلے پر ایوان میں خود آ کر اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہمت اور جرأت نہ ہوئی۔

وہ عوامی نمائندوں کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہے تھے لیکن موصوف کی بوکھلاہٹ کا یہ عالم تھا کہ ایک دن پہلے پیر کی شام کو ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے 1989ء میں سلمان رشدی کی گستاخی کے خلاف نکلنے والے جلوس پر حکومت وقت کے رویے کا ذمہ دار نوازشریف کو قرار دے دیا جو اس وقت وزیراعظم تھے نہ وفاقی حکومت کا کوئی اور عہدہ ان کے پاس تھا۔

یہ ان کی ملک کی حالیہ تاریخ سے ناواقفیت کا نتیجہ تھا یا اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف سے ہر قدم اور ہر سانس پر انتقام لینے کا جذبہ تھا جو تھمنے کو نہیں آتا۔ منگل کو پرائیویٹ ممبر امجد علی صاحب کی زبانی قرارداد کا مسودہ پیش کرنے کے بعد حکومت کی کوشش تھی سپیکر صاحب کے ذریعے اسے بلڈوز کرتے ہوئے من وعن منظور کرا لیا جائے لیکن سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اپنے ساتھی اراکین کے ہمراہ آگے بڑھے، سپیکر کے ڈیسک کا گھیرائو کیا، سخت تلخ کلامی ہوئی جو کہ نہیں ہونی چاہئے تھی مگر نتیجے کے طور پر اور احسن اقبال کی مدلل تقریر کے بعد مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی اسے رکوانے میں کامیاب ہو گئی تاکہ مسودہ کا ازسرنو جائزہ لے کر اس کو ہر لحاظ سے جامع اور پوری قوم کی آواز بنا کر ایوان کے سامنے حتمی منظوری کے لئے پیش کیا جائے۔ اس ساری کارروائی پر ایک نظر ڈالنے سے حکومت کی وعدہ خلافی، نااہلی اور مشکل حالات میں سخت قسم کی بوکھلاہٹ کا شکار ہو جانے کی تصویر ابھر کر سامنے آ جاتی ہے۔

اسی پر اکتفا نہیں وزیراعظم بہادر اور ان کی کابینہ و مشیروں کا تضاد عملی ملاحظہ کیجیے جس تنظیم کو چند روز پہلے خلاف قانون اور کالعدم قرار دینے کا قدم اٹھایا تھا اسی کے لیڈر کے پاس جیل میں جا کر باقاعدہ منت سماجت کر کے مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا۔ اسے اسی کی شرائط کو منظور کرنے پر آمادہ کیا، اس دوران کیا کچھ ہوا نرم رویے اور لہجے کے ساتھ ساتھ پس پردہ دبائو کے کون کون سے حربے استعمال کیے گئے اس کی اصل کہانی آگے چل کرمنظرِعام پر آئے گی لیکن ان دو دنوں کے دوران جو کچھ ہوا اس کا موازنہ اگر 2018ء کے فیض آباد دھرنے کے ساتھ کیا جائے تو حکومت ہی نہیں ریاستی اداروں کے بھی دوہرے معیارات واشگاف ہو جاتے ہیں۔

تب آرمی چیف محترم جنرل قمر جاوید باجوہ نے تحریک لبیک والوں کے بارے میں یہ کہہ کر کہ ہمارے اپنے آدمی ہیں، ان کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں ہو سکتا، ن لیگ کی حکومت کی جانب سے آئین کی دفعہ 245 کے تحت حکومت کو رینجرز کی طاقت فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا پھر کارکنوں کو عزت و احترام کے ساتھ وہاں سے روانہ کرتے ہوئے اس ملک کی بڑی سرکار کے ایک اہم عہدیدار نے جو اب پہلے سے بھی زیادہ بڑے منصب پر فائز ہیں ان کے درمیان ہزار، ہزار روپے کے نوٹ تقسیم کر کے رخصت کیا مگر اس مرتبہ یعنی 2021ء میں آرٹیکل 245 کی ضرورت ہی نہ پڑی۔

رینجرز کی طاقت اس کے بغیر ہی عمران خان کی سول حکومت کی پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر لبیک کے کارکنوں کی مار دھاڑ میں مددگار بنی ہوئی تھی۔ فیض آباد کا دھرنا ہماری حالیہ تاریخ کا ایسا واقعہ ہے جس کے بارے میں اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے درست مطالبہ کیا ہے۔

باقاعدہ ٹروتھ کمیشن بنا کر اس کے اصل حقائق کو طشت ازبام کیا جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ابھی تک اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ اس وقت کے پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم جنہیں دو دن پہلے اسلام آباد کے ایک پارک میں چہل قدمی کے دوران کسی نامعلوم جواں عمر شخص نے اچانک نمودار ہو کر بندوق یا پسٹل کا نشانہ بنا کر زخموں سے چور کر کے رکھ دیا، معلوم نہیں اس واقعے کے پیچھے کون سا محبوب چھپا بیٹھا ہے، مگر یہی ابصار عالم ہیں جنہوں نے فیض آباد دھرنے کے دوران بطور چیئرمین پیمرا ایک چینل کی گاڑی کو روک دیا تھا کیونکہ وہ کارکنوں کی سہولت کار بن کر آن پہنچی تھی مگر پیسے بانٹنے والی مقتدر شخصیت نے انہیں متنبہ کیا کہ تم ایک چینل کے خلاف کارروائی کرو گے تو ہم سب کو بند کر کے رکھ سکتے ہیں۔

اب 2021ء کے دھرنے یا ہنگاموں کے اور ان کے دبائو کے تحت منظور ہونے والی قرارداد کے کیا نتائج و عواقب قوم کو بھگتنا پڑیں گے یہ آنے والا دور بتائے گا۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا۔ ہماری بھاری اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے جس کے ایک ایک شہری کے دل و دماغ حُب رسولؐ کے پاکیزہ جذبات سے سرشار ہیں۔

ہر کوئی حضورؐ کی حرمت پر کٹ مرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔ یہ بلاشبہ بہت قیمتی اور ہمارے جذبہ ایمان کی گہرائی اور گیرائی کی غمازی کرنے والا جذبہ ہے لیکن پاکستان کے ریاستی ادارے مختلف مواقع پر اس کی جو قیمت قوم سے وصول کرتے ہیں اس کا بھرپور اور اصل حقائق سے پردہ اٹھا دینے والا تذکرہ پاکستانی قوم کی حرماں نصیبی کی تصویر کھینچ کر سامنے لے آتا ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘ مگر بالادست اور غیر آئینی قوتوں کی خاص سیاست فروغ دینے کی خاطر مذہب اور وہ بھی اسلام جیسے مقدس ترین دین حق کا بے دریغ استعمال کرکے غیرآئینی راج کو مستحکم تر کیے رکھنا اہل پاکستان کا ایسا مقدر بنا دیا گیا ہے کہ نکلنے اور اس مملکت کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوری ریاست بنانے کی کوئی تدبیر کارفرما ہوتی نظر نہیں آ رہی۔


ای پیپر