مُردے!
22 اپریل 2021 2021-04-22

یہ ہمارا عمومی رویہ، عمومی فطرت، عمومی مزاج ہے جب چھوٹی چھوٹی چنگاریاں سُلگ رہی ہوتی ہیں کوئی اُن کی طرف دھیان نہیں دیتا، سب یہی سمجھتے ہیں اُن چنگاریوں کو بجھانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ خودبخود بُجھ جائیں گی، پھر وہ چنگاریاں بڑے بڑے جب شعلوں میں تبدیل ہوتی ہیں اُسے بجھانے کے لیے ہم اِس لیے بھاگ دوڑ نہیں کرتے کہ اِس سے عام لوگوں کا نقصان ہو جائے گا بلکہ اِس لیے بھاگ دوڑ کرتے ہیں اِس سے کہیں ہمارا اپنانقصان نہ ہوجائے، پر ہماری اِس ”بھاگ دوڑ“کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو ایک بندر کے بادشاہ بننے کی صورت میں نکلا تھا، قصہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کسی جنگل میں ایک بندر نے خودکوڈاکٹر کہنا شروع کردیا، اُس نے لوگوں کو یقین کے اِس جال میں بُری طرح پھانس لیا کہ جنگل کے تمام جانوروں کی بیماریوں کا علاج اس کے پاس ہے، اُس نے جانوروں سے یہ کہنا شروع کردیا ”شیر کی جگہ اگر اسے ”جنگل کا بادشاہ“ بنادیا جائے وہ تمام بیمار جانوروں کو ٹھیک کردے گا، اور اس بات کی بھی گارنٹی دیتا ہے اِس کے بعد کوئی جانوربیمار نہیں ہوگا“۔ چنانچہ کچھ جانوروں نے اُس کے ساتھ مل کر ”جنگل کے بادشاہ شیر“ کے خلاف ایک سازش تیار کی جس کے نتیجے میں شیر فارغ ہوگیا اور بندر جنگل کا بادشاہ بن گیا، چند دنوں بعد ایک خرگوش شدید بیمار ہوگیا، اُسے علاج کے لیے ”بندر بادشاہ “ کے پاس لایا گیا، بندر نے خرگوش کو چیک کیا اور ایک قریبی درخت پر چڑھ کر بیٹھ گیا، کچھ دیر بعد نیچے اُترا دوچار چکر پھر خرگوش کے اردگرد کاٹے پھر بھاگ کر ایک دیوار پر چڑھ گیا، کچھ دیر بعدپھر نیچے اُترا چار پانچ چکر بھاگ کر خرگوش کے اردگرد کاٹنے کے بعد چیک کیا تو خرگوش مرچکا تھا، وہاں موجود جانوروں نے”بندربادشاہ“ سے کہا ”ہم نے تمہیں اس جنگل کا بادشاہ بنایا تھا کہ جنگل کی تمام بیماریاں تم ختم کردوگے، تم تو ابتداءمیں ہی ناکام ہوگئے، ساہڈاخرگوش مرگیا“ ....بندر بادشاہ بولا ”اِس کی آئی ہوئی تھی یہ مر گیا، میرا اِس میں کیا قصور؟ میں نے آپ کے سامنے اتنی ”بھاگ دوڑ“ کی، بجائے اس کے آپ میری ”بھاگ دوڑ“ کی تعریف کریں، آپ اُلٹامجھے قصور وار ٹھہرارہے ہیں“ ....سوٹی پی ایل سے کئے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سنگین حالات سے نمٹنے کے لیے ہمارے حکمرانوں نے جو ”بھاگ دوڑ“ کی اُس کے نتیجے میں کچھ لوگ جان سے چلے گئے، بے شمار زخمی ہوگئے، تو اُن کی قسمت میں ایسے ہی لکھا تھا، سرکار کی ”بھاگ دوڑ“ پر تو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، سوال بس ایک ہے اگر صلح ہی کرنی تھی تو اتنا جانی نقصان کرنے سے پہلے کرلیتے، دونوں اطراف کے ”مردوں“ نے کوئی لچک دکھانی تھی پہلے دکھا لیتے، یہ ”مردوں“ کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا زندہ لوگوں میں لچک ہوتی ہے، نرمی ہوتی ہے، اُس کے مقابلے میں مُردے”اکڑ“ جاتے ہیں، یہ شاید ”مردوں“ کا معاشرہ ہے، چھوٹی چھوٹی قابل حل باتوں کو اپنی جھوٹی اناﺅں کے مسئلے بناکراُن پر اکڑ جانا، مذاکرات اور مکالموں کے دروازے مکمل طورپر بند کردینا، معاشرے کے اِس عمومی رویے نے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، یہ آگ مزید بڑھتی مزید پھیلتی جارہی ہے ....عدم برداشت کی انتہا ہوگئی ہے، چلیں کسی کی کسی خرابی کی وجہ سے یا کسی سے کسی اختلاف کی وجہ سے ہم کسی کو اچھا نہ سمجھیں، یہ اور بات ہے، المیہ یہ ہے ہم اب بغیر کسی وجہ کے دوسروں کو اچھا نہیں سمجھتے، ہم اکثر یہ کہتے ہیں ”فلاں شخص ہمیں زہر لگتا ہے“۔ جب آگے سے کوئی یہ پوچھے”کیوں زہر لگتا ہے؟ ہم کہتے ہیں ”بس ایسے ہی زہرلگتا ہے“۔....یعنی کسی کے بُرا لگنے یا اُسے بُرا سمجھنے کے لیے کسی وجہ کی اب کوئی ضرورت ہی ہم محسوس نہیں کرتے، یہ اصل میں ہمارا حسد ہوتا ہے۔ اور حسد اللہ کی تقسیم سے اختلاف ہے۔ آج سے پندرہ بیس برس قبل کے ”پرانے پاکستان“ میں لوگ بغیر کسی خاص وجہ کے ایک دوسرے کو اچھے لگتے تھے، اب یہ جو ”نیا پاکستان“ ہمارے پلے پڑ گیا ہے اُس میں بغیر کسی خاص وجہ کے لوگ ایک دوسرے کو بُرے لگتے ہیں۔ .... میں یہ کہنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرتا اس رویے اس کلچر، خصوصاًعدم برداشت کی آگ پر جتنا تیل موجودہ حکمرانوں نے ڈالا شاید ہی اور کسی نے ڈالا ہوگا۔ اب اِس کا خمیازہ مختلف صورتوں میں وہ خود بھی بھگت رہے ہیں، .... اب بھی وقت ہے تحمل اور برداشت کی فضا قائم کی جائے، ایک دوسرے کی بات کو سنا جائے، نظریاتی اختلاف کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل نہ کیا جائے۔ ایک دوسرے سے مشاورت کے عمل کو پھر سے زندہ کیا جائے، .... مجھے اِس بات کی خوشی ہے ٹی ایل پی کے ساتھ حکمرانوں کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں مزید خوں ریزی رُک گئی، میں نے خود بھی وزیراعظم سے گزارش کی تھی ملک بھر کے جید علمائے کرام سے ذاتی طورپر وہ یہ اپیل کریں کہ وہ اِس آگ کو بجھانے کے لیے ملک وقوم کے مفادمیں ہماری کچھ غلطیوں کو نظرانداز کرکے آگے بڑھیں، وزیراعظم نے اس حوالے سے قوم سے اپنے خطاب میں علمائے کرام سے جو اپیل کی اس کے اچھے اثرات ہی مرتب ہوئے، کشیدگی کچھ کم ہوئی، البتہ ایک المیہ اب تاریخ کا حصہ بن جائے گا دونوں فریقین کے غیرضروری ”اکڑاﺅ“ میں جو بے گناہ لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے، بے شمارپولیس ملازمین بھی اُن زخمیوں میں شامل ہیں اُن کے ساتھ ہونے والے ظلم کا ذمہ دار کون ہے؟، اُنہیں کون انصاف دے گا؟، محض دوچار گلدستے یا کچھ ”مذہبی لوریاں“ ان کے زخم بھر سکیں گی ؟، جو دنیا سے چلے گئے اُن کا خون کس کے کھاتے میں لکھا جائے گا؟، اُن کے ملزمان کون ہیں؟ .... میں ایسے ہی یہ نہیں کہتا ”اللہ کو پتہ تھا دنیا میں لوگ ایک دوسرے کو سچا انصاف نہیں دے سکیں گے شاید اِسی لیے اللہ نے اپنا ایک ” یوم حساب“ مقرر کیا، اُس روز سب کے کھاتے کھل جائیں گے۔ اُن کے بھی جو دین کے نام پر دین کا کاروبار کرتے رہے، جو آپ کی ناموس کا جھنڈا پکڑ کر آپ کی تعلیمات کے برعکس کردار ادا کرتے رہے، اور ان کے بھی جو مدینے کی ریاست کی آڑ میں اپنے اُلو سیدھے کرتے رہے، .... آخر میں ایک شعر....

”میں حرف حق بھی زباں پہ نہ لاسکا....

دروغ گوئی کمال حیات ٹھہری ہے“.... 


ای پیپر