استعفوں کا اعلان ۔۔۔پنجاب حکومت کی الٹی گنتی شروع ؟
22 اپریل 2019 (23:11) 2019-04-22

لاہور :پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی نے حمزہ شہباز شریف کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی ون کا چیئرمین نہ بنانے پر تمام قائمہ کمیٹیوں سے استعفوں کا اعلان کر دیا ۔

ن لیگ کے اراکین نے اپنے استعفیٰ حمزہ شہباز کو جبکہ پیپلزپارٹی نے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی کو استعفے جمع کروا دئیے،پاکستان مسلم لیگ ن کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس حمزہ شہباز کی صدارت میں مرکزی سیکرٹریٹ ماڈل ٹاﺅن میں منعقد ہوا ۔

اجلاس میں رانا محمد اقبال ، ملک ندیم کامران ،رانا مشہود احمد خان، اویس لغاری ،ذکیہ شاہنواز، سمیع اللہ خان، عظمیٰ بخاری سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ اجلاس میں پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی چیئر مین شپ، موجودہ بلدیاتی نظام کو تحلیل کر کے نیا نظام لانے،مہنگائی اور بیروزگاری سمیت مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

اجلاس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف قرارداد بھی منظور کی گئی جسکے بعد اپوزےشن چےمبرز مےں حمزہ شہبازشر یف کی قےادت مےں (ن) لےگ کے اراکےن نے سےد حسن مر تضی سے ملاقات کی جسکے بعد پےپلزپارٹی نے بھی پےپلزپارٹی کے پار لےمانی لےڈر حسن مر تضی کو استعفے جمع کروادےئے جبکہ پنجاب اسمبلی کے احاطے اورپارلےمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کے دوران حمزہ شہبا زشر یف نے کہا کہ مجھے چےئر مےن پبلک اکاﺅنٹس کمےٹی بننے کا شوق نہےں ےہ جمہوری رواےت ہے کہ اپوزےشن لےڈر ہی کمےٹی کا چےئر مےن ہوتا ہے اگر ےہ بات نہےں مانی جائےں گی تو ہم تمام کمےٹےوں سے مستعفی ہوجائےں گے حمزہ شہباز نے کہا کہ موجودہ حکومت اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کر سکی ،آٹھ مہینوں میں مہنگائی کاطوفان برپا کر کے عوام کا جینا محال کر دیا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ کے استعفے سے حکومت کی معاشی پالیسیوں کی ناکامی واضح ہو گئی ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ حکومت مسائل حل کرنے کی بجائے اپوزیشن کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے میں مصروف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے خلاف ہر جگہ آواز بلند کریں گے اور عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، حکومت کے عوام دشمنی رویے کو ہرگزبرداشت نہیں کریں گے۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ حکومت بلدیاتی نظام کی آڑ میں جو کرنا چاہتی ہے اس کا سب کو علم ہے ہم اس کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے (ن) لیگ پنجاب کے ترجمان ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اجلاس میں مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔ تمام شرکاءنے موجودہ معاشی صورتحال اور خصوصاًمہنگائی پر اپنی تشویش کااظہار کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال ابتری کا شکار ہے جس کا ثبوت کابینہ میں وزراءکی قلمدانوں کی تبدیلی اور وزیر خزانہ کا استعفیٰ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر کمر توڑ مہنگائی کابوجھ لادھ دیا گیا ہے لیکن حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں جس کی وجہ سے عوام کےلئے زندگی گزارنا محال ہو گیا ہے ۔ اجلاس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قرار داد منظور کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں ،فنانشل ڈسپلن کے طور پر گیس اور بجلی کی کی قیمت بڑھائیں گے اور ٹیکسیشن رجیم لائی جائے گی ، حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے41لاکھ لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی اور بطور ممبران اپنے استعفیٰ حمزہ شہبازکو دےدئیے ہیں ۔ حکومت کو معلوم نہیں کہ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کیا ہوتی ہے ،یہ کمیٹی آڈیٹر جنرل کی رپورٹس کو دیکھتی ہیں۔انہوںنے کہا کہ بلدیاتی نظام کے مسودہ پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بلدیاتی نظام کو بلڈوز نہیں ہونے دیں گے ، بلدیاتی اداروں کی مدت کو پہلے مکمل کرائیں گئے اور پنجاب اسمبلی میں اس کی بھرپور مخالفت کریں گئے،نظام کو چھیڑا گیا تو ہر سطح پر احتجاج کیا جائے گا ،سڑکوں پر آنا پڑا تو وہ آپشن بھی زیر غور ہے،ان کے پاس قانون پاس کرانے کے لئے اکثریت بھی نہیں ، اس معاملے پر عدالتوں میں بھی جائیں گے ۔


ای پیپر