عمران خان کا ایران جانے کا اصل مقصد کیا تھا ؟
کیپشن:   Image Source : NNI
22 اپریل 2019 (20:21) 2019-04-22

تہران:وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان، ایران اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم بہت کم ہے جس کی وجہ سے ان ممالک کی معیار زندگی اس مقام پر نہیں جہاں ہونی چاہیے، پاکستان کی آباد 21 کروڑ جبکہ ایران کی آٹھ کروڑ ہے، ان ممالک کو بڑی معیشتیں ہونا چاہیے،ایران پر پابندی عائد ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں ایسا راستے ڈھونڈنے ہوں گے کہ اس معاملے میں کچھ بہتری آسکے ۔

تہران میں ایرانی بزنس کمیونٹی سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی آباد ی21 کروڑ جبکہ ایران کی آٹھ کروڑ ہے، ان ممالک کو بڑی معیشتیں ہونا چاہیے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کا صرف 10 فیصد چاول براہ راست ایران درآمد کیا جاتا ہے، بقیہ بالواسطہ بھیجا جاتا ہے، ایران پر پابندی عائد ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں ایسا راستے ڈھونڈنے ہوں گے کہ اس معاملے میں کچھ بہتری آسکے۔

اس موقع پر عمران خان نے کہا کہ دونوں ملکوں کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ دونوں کو ہی دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے۔ عمران خان نے دہشت گردی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا ایران آنے کا مقصد دہشت گردی کا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور ایران میں دوریاں پیدا ہوئیں جنہیں اب ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

چند روز قبل بلوچستان میں ہمارے 14 اہلکار شہید ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانیں قربان کی ہیں۔ ہم خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں جب کہ افغانستان بھی دہشت گردی سے متاثر ملک ہے۔ بھر پور فوجی طاقت کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکا جب کہ ہم بھی افغانستان میں سیاسی استحکام چاہتے ہیں۔

واضح رہے عمران خان مختصر دورے پر ایران کے شہر مشہد پہنچے تھے جہاں ان کا استقبال گورنر جنرل خراسان علی رضا حسینی نے کیا۔ اس موقع پر ایران میں پاکستانی سفیر رفعت مسعود اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان نے مشہد میں روضہ حضرت امام رضا پر حاضری دے کر عقیدت کا اظہار کیا اور ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعا کی جب کہ وزیر اعظم نے روضہ مشہد کے والی احمد ماروی سے بھی ملاقات کی تھی۔


ای پیپر