سیاسی بساط پر مسلمانوں کی حیثیت !
22 اپریل 2019 2019-04-22

ملک میں جاری لوک سبھا الیکشن 11اپریل سے 19مئی 2019تک سات مراحل میں مکمل ہوگا۔ جس میں 18سال یا اس سے زائد کے تقریباً900 ملین ووٹرس اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے ملک کی543سیٹوں پر ممبر آف پالیمنٹ کا انتخاب کریں گے۔پہلے مرحلے کی پولنگ گزشتہ 11 اپریل کو مکمل ہو گئی ہے۔وہیں دوسرے مرحلے کی پولنگ بھی سخت سیکورٹی کے درمیان 13ریاستوں کی 95سیٹوں پر 1596امیدوار اور15.50کروڑ ووٹرس کے ذریعہ مکمل ہو چکی ہے۔ریاست تمل ناڈو میں پارلیمانی انتخابات کے ساتھ اسمبلی کی 22خالی سیٹوں میں سے 18پر لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہی دوسرے مرحلے کی پولنگ میں ووٹ کاسٹ ہوا ہے۔کل 62%فیصد پولنگ دوسرے مرحلے میں مکمل ہوئی۔ سب سے زیادہ پولنگ آسام،منی پور اور مغربی بنگال میں76فیصد سے کچھ زائد ہوئی تو سب سے کم 44.07%فیصد پولنگ جموں و کشمیر میں ہوئی جوپہلے مرحلے کی پولنگ 49.54%فیصد سے بھی کم ہے۔ اس درمیان دو بڑے اور اہم واقعات سامنے آئے جس میں ایک واقعہ اے ایس محمد محسن کا بطور آفیسر وزیر اعظم نریندر کمار مودی کے قافلہ کی تلاشی اور معطلی کا ہے تو وہیں دوسرا واقعہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کا نومینیشن اور بھوپال سے کانگریس کے سینئر لیڈر دگوجے سنگھ کے خلاف میدان میں اتارنے کاہے۔ان دو واقعات کے درمیان ایک اور واقعہ قابل اہم پیش آیا جسے عموماً الیکٹرانک میڈیانے کور نہیں کیا وہ ہے سی بی ایس ای کے ذریعہ دسویں کلاس کے طلبہ کو سوشل سائنس میں پڑھائے جانے والے باب"جمہوریت اور تنوع" پر مبنی چیپٹر کو سیشن2019-20کے امتحان میں شامل نہیں کیا گیا،یعنی اب اس موضوع پر طلبہ و طالبات اور ملک کے مستقبل کو پڑھانے،سمجھانے اور سماجی شعور پیدا کرنے کی ضرورت سی بی ایس ای نے محسوس نہیں کی ۔خصوصاً ان حالات میں جبکہ ملک اندرون خانہ تقسیم ہو رہا ہے اورنظریاتی سطح پر ایک بھیانک صورتحال سے نبر د آزما ہے۔

نریندر مودی کے ذریعہ جہاں ایک جانب پرگیہ ٹھاکر کی امیدواری کانگریس کو مہنگی پڑنے کی پیشین گوئی کی گئی ہے ۔وہیں ہزاروں سال پرانی ہندوتہذیب کو دہشت گرد کہنے والوں کو پی ایم کا'علامتی 'جواب بھی مانا جا رہا ہے۔پی ایم نے پرگیہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ راہل اور سونیا بھی تو ضمانت پر باہر ہیں،جب سادھوی کو جیل میں ٹارچر کیا جا رہا تھا تب کسی نے آواز کیوں نہیں اٹھائی۔وہیں کانگریس کے زیر اقتدار1984کے سکھ مخالف فسادات کو دہشت گردی سے تعبیر کیا نیز میڈیا کے رویہ پر بھی سوال اٹھائے۔'ٹائمس ناؤ'سے گفتگو کے دوران پی ایم مودی نے کہا کہ سمجھوتہ بلاسٹ کیس کا فیصلہ آگیا ہے،کیا نکلا؟ انہوں نے اس موقع پر آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی کو بھی نشانے پر لیا اور کہا کہ جب 1984میں اندرا گاندھی کا قتل ہوا تو ان کے صاحبزادے نے کہا تھا کہ جب بڑا پیڑ گرتا ہے تو زمین ہلتی ہے۔اس کے بعد ملک میں ہزاروں سرداروں کا قتل عام کیا گیا۔کیا یہ متعین دہشت گردی نہیں تھی ؟دوسری جانب دہشت گردی کی ملزم سادھوی پرگیہ ٹھاکر نے بھوپال پارلیمانی

حلقے سے پارٹی امیدوار بننے کے ساتھ ہی جذباتی اور زہر سے بھرا ہندوتو کارڈ کھیلنا شروع کر دیا ہے۔جس کے نتیجہ میں بی جے پی بھی بیک فٹ پر آگئی ہے۔خبر کے مطابق سادھوی پرگیہ ٹھاکر نے مہارشٹر اے ٹی ایس(انسداد دہشت گردی دستہ) کے سابق سربراہ اور سینئر پولیس افسر رہے جانباز اشوک چکر اعزاز یافتہ ہیمنت کرکرے پر انتہائی شرمناک اور ناقابل قبول بیان دے کر پورے ملک میں طوفان کھڑا کر دیا ہے۔بیان میں پرگیہ نے کرکرے کو دیش دروہی بتاتے ہوئے کہا کہ میرے شراپ(بددعاء)سے سوامہینہ کے اندر ہی اس کا سروناش(خاتمہ)ہوگیا،دہشت گردوں کی گولیوں سے مارا گیا۔اس بیان کے بعد پورے ملک میں طوفان کھڑا کردیا ہے۔آئی پی ایس ایسوسی ایشن نے اس بیان کی مذمت کی ہے اور الیکشن کمیشن نے بھی اس بیان پر نوٹس لیا ہے۔ان تمام بیان بازیوں اور ایک دوسرے پر بدترین الزامات کے باوجود دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر سرخیوں میں اپنے تبصروں کو لے کر رہنے والے بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ اور سینئر لیڈر سبرامنیم سوامی نے جمعرات کو اس لوک سبھا انتخابات کو لے کر اپنی ہی پارٹی کے لیے ناقابل یقین حد تک مایوس کن پیشینگوئی کی ۔سوامی نے کہا کہ اُن کی پارٹی اس الیکشن میں 180سیٹوں کو پار کرنے کے قابل نہیں ہو سکتی۔سوامی نے ٹوئٹر پر لکھا،اجودھیا میں ملاقات کے دوران مجھے رام مندر کے بارے میں پتہ چلنے کا احساس ہوا کہ وہ بہت مضبوط ہے،اگر وہ ووٹ ملے تو ہم 180سیٹوں کو پارنہیں کرپائیں گے۔اس پر غور کرنا چاہیے اور مایوسی کو دور کرنا چاہیے۔اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی اندر سے بہت حد تک 2019کے پارلیمانی انتخابات کو لے کر مایوس ہے۔دوسری جانب سروے رپورٹس سے بھی واضح ہو ا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ ،12مارچ تا 12اپریل تک مودی لہر میں 12پوائنٹ کی کمی آئی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ وہ کمیونل کارڈ ،جو اس پر ہمیشہ سے الزام لگتا آیا ہے،کھیلنے پر مجبور ہے۔اس صورتحال میں اگر کوئی سب سے زیادہ تشویش میں مبتلا ہے تو وہ مسلمان ہیں۔کیونکہ جس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعہ ملکی سطح پر گزشتہ سالوں میں اور موجودہ حالات میں لوک سبھا امیدوار بنانے کا عمل جاری ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ہارڈ ہندوتو مزید ہارڈ ہوتا جار ہا ہے ۔نتیجہ میں سافٹ ہندوتوکو مزید ہارڈ ہونا پڑ سکتا ہے۔سافٹ ہندوتو کی علمبردار سیاسی پارٹیاں اور ہارڈ ہندوتو سے منسلک پارٹیاں،دونوں ہی سیاسی محاذ پر کامیاب ہوتے رہیں گے۔لیکن اس درمیان ملک کے کمزور طبقات،پسماندہ طبقات اور اقلیتیں مزید مسائل سے دوچار ہوسکتی ہیں۔تشویش میں مبتلا اورمسائل میں گرفتار و اضافہ ہونے کے باوجود اُن کے سامنے حل کے اعتبار سے کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔اگر ہے تو وہی کہ ہارڈ ہندوتو کے مقابلے سافٹ کو قبول کر لیجئے!اگر آپ یعنی مسلمان ایسا نہیں کرتے،تو کل کیا ہوجائے اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔اور جو کچھ ہوگا آپ ہی کی وجہ سے ہوگا لہٰذا اس موقع پر ہمیں نہیں پکاریئے گا۔

گفتگو کے اس پورے پس منظر میں اور سیاسی بساط پر مسلمانوں کی حیثیت کے عنوان کی روشنی میں یہ بات اچھی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ ہندوستانی مسلمان گزشتہ ستر سال میں سیاسی بساط پر اُس چکر ویو کا شکار ہو چکے ہیں جس سے نہ انہیں نکلتے بنتا ہے اور نہ ہی اس میں رہتے ہوئے نجات کی راہیں تلاش کی جا سکی ہیں۔ان حالات میں گزشتہ دہائی سے لے کر اب تک چند ایسی سیاسی پارٹیوں کا وجود عمل میں آیا ہے اور ایسے آزاد امید وار بھی سامنے آئے ہیں جنہیں واقعی ملک،اہل ملک،کمزور طبقات،پسماندہ طبقات،اقلیتیوں کے مسائل ،امن و امان اور تعمیر و ترقی سے دلچسپی ہے۔وہیں اس سلسلے میں ان کا موقف صاف ستھرا اور واضح ہے۔لہٰذا ایک باشعور شہری ہونے کے ناطے ہمیں اِن سیاسی جماعتوں سے وابستہ کم از کم اُن نمائندوں کو اور آزاد نمائندوں کو جو مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں،مسائل کی شدت میں کمی لانے کی سعی و جہد کر سکتے ہیں، کے حق میں اپنے ووٹ کو استعمال کرنا چاہیے۔اِس ڈر اور خوف سے بالاتر ہو کرکہ ایسے نمائندوں کو ووٹ دینے کے نتیجہ میں ہمارا ووٹ تقسیم ہوجائے گا یا وہ ناکام ہوجائیں گے۔واقع یہ ہے کہ ووٹ تقسیم ہونے اور فرقہ واریت کو کنٹرول کرنے کے نام پر منصوبہ بند اور منظم طریقہ سے اُن ممبر آف پارلیمنٹ کو آنے سے روکا گیا ہے جو مخلص تھے اور ہیں۔اور یہ کام بھی انہیں لوگوں نے انجام دیا ہے جو گرچہ سافٹ ہندوتو کے علمبردار رہے ہیں لیکن وہ کھل کر اس کا اظہار نہیں کرتے۔لہٰذاآج وقت آگیا ہے کہ اس فضا ء سے باہر نکلا جائے اور اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کیا جائے!


ای پیپر