لندن پلان کیوں اور کس لیے؟
22 اپریل 2019 2019-04-22

ہمارے وزیر اعظم ایرا ن کے صدر حسن روحانی کی دعوت پرایران کے دو روزہ دورے پر پہنچے تو اس وقت دو خبروں سے کافی پریشان تھے اسد عمر کے استعفے کا رد عمل کافی شدید تھا پھر خود کپتان نے فاٹا میں ایک تقریب میں کہا کارکردگی نہ دکھانے والولے اور وزیروں کو نکالوں گا یہ بات تو واضح ہے اسد عمر کو نکلا گیا وہ خاصہ افسوس ناک ہے نکالنا تھا ب بتا دیتے۔تذلیل تو میڈیا کی ہیڈ لائن بن رہی تھیں۔۔ اسد عمرکے خلاف کابینہ کے اجلاسوں میں بولا جا رہا تھا تو اس کا مطلب ہے کی یہ سب کچھ تبد یلی سرکار کے کہنے پر ہو رہا ہے۔سب سے پسندیدہ وزیر نان سٹاپ عمر اسد کے خلاف بوے جا رہے تھے۔ پوٹ پڑ چکی ہے۔ جو وزیر ادھر ادھر سے لائے گئے ہیں وزیر بننے کے بعد نے قلمدان سنبھلنے والوں سے کہا کہ امید ہے کہ آپ مہنگائی کم کریں کے،ایک طرف کپتان کی یہ اپیل دوسری جانب آئی ایم ایف سے یہ وعدہ کہ وہ ڈالر ، بجلی پیٹرول اور مہنگا کریں۔ عوام سے چالبازی بھی خوب ہے۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس عمر کو ایک بار کپتان واپس لے آئیں گے ،اس عمر کو نہ آنا چاہیے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ سب کچھ ہماری اسی کی دہائی کی کرکٹ کی سیاست کی طرح ہو رہا ہے ،جب عمران خان کو کپتان بنایا گیا اس وقت ان کے کزن ماجد خان کی کرکٹ کا شاندار زمانہ تھا۔ کرکٹ میں کپتان تبدیلیاں کرتا ہے تواس کی وجہ ہوتی ہے۔ اس کی کارکردگی اس کے ٹیم سے نکلنے کی وجہ ہوتی ہے۔ مگر عمران خان کے کزن ماجد خان کی کارکردگی کا یہ شاندار زمانہ تھا۔ان کا بیٹ رنز اگل رہا تھا۔ پاکستانی ٹیم میں ان کا ریکارڈ بھی بہت اچھا تھا۔ ۔ تبدیلی کے نام پر سب سے پہلے ماجد خان کو اپنی ٹیم سے نکالا گیا۔ ،وجہ کھیل نہیں تھا۔ ماجد خان ابھی کھیلنا چاہتے تھے مگر ہمارے کپتان نے ان کے کھیل کو بریک لگا دی۔پھر دنیا بھر میں کرکٹ سے پیسہ کمانے کی دوڑ لگی ۔کیری پیکر نے کرکٹر کے لیے سرکس شروع کی اس سرکس میں اس زمانے کی بڑی بڑی ٹیموں کے کھلاڑی کیری پیکر سرکس پہنچنے لگیں جو رنگ برنگی یونیفارم پہن کر آپس میں کرکٹ ٹیمیں بنا کر کھیلنے لگیں بڑی بڑی رقمیں کھلاڑیوں کو ملنے لگیں۔ہمارے کپتان بھی سب کچھ چھوڑ کر کیری پیکر جا پہنچے آگے کی الگ کہانی ہے۔ورلڈ کپ جیتا،سیاست میں آئے ، ناکام ہوتے رہے۔ وزیر اعظم بنے نہ ٹیم نہ وژن۔ الیکشن جیتا یا بلاول کے مطابق سلیکٹ ہوئے۔ناکام اقتصادی پالیسی تھی۔ وزیر خزانہ بلکہ ہیرا پہلے ہی چن لیا۔لوگوں کا خیال تھا کہ ہوم ورک حکومت سازی کا پہلے کر رکھا ہو گا ۔ ناکامی کا تاثر ایسا پھیلا کہ عام لوگوں کا خیال ہے کہ اونچی دکان پھیکا پکوان۔ مارکیٹنگ کا آدمی خزانہ کیسے چلا سکتا ہے۔نئی کا بینہ میں غیر منتخب لوگ آگئے۔ایک کے بعد ایک تماشہ کہانی سامنے آرہی ہے۔ پہلے مشرف دور کے لوگ اب پیپلز پارٹی کے لوگوں کو کابینہ میں بھرتی کیا گیا ہے۔ تبدیلی کہاں ہے؟۔ اب تو وزیر اعظم کے لاڈلے اور روندی کھلاڑی مولانا فضل الرحمان مطالبہ کر رہے ہیں آپ ناکام ہو چکے ہیں یہ کام آپ کے بس کا نہیں استعفیٰ دیں ۔پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو نے تو یہاں تک مطالبہ کر دیا ہے کہ وزیر اعظم بھی پیپلز پارٹی کا لایا جائے۔ صاف اور سیدھی بات ہے کہ پیپلز پارٹی اب حکومت کو ناکام قرار دے کر نئے نتخاب کا مطالبہ کر رہی ہے۔ دوسری جانب تو صورت یہ ہے کہ اب کپتان

سمجھتے کہ وہ جموریت کی وجہ سے ناکام ہوئے ہیں۔ وزیر قانون تو فرماتے ہیں آئین میں ریفرنڈم کی گنجائش تو ہے۔ بھٹو نے ریفرنڈم کی شرط آئین مین اس لیے ڈالی تھی کہ وہ ایک آئینی بحران سے نکلنے کے لیے ڈالی تھی مگر یہ حربہ کامیاب تونہ ہوا اور وہ اقتدار سے نکالے گئے۔کپتان کے سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ دیکھیں کہ آپ آئین کا بنیادی ڈ ھانچہ نہیں بدل سکتے۔ اگر بدلا جاتا تو ضیا الحق ریفرنڈم سے صدر اس سوال پر کہ آپ ملک میں اسلامی نظام چاہتے ہیں تو ہاں میں ووٹ ڈالے۔یہ ریفرنڈم کیا تھا شرمناک داستان تھی انتظامیہ کے ذریعے بکس خود ہی بھر لیے۔ہوا کیا ،خود

ضیا کے لائے ہوئے نامزد وزیر اعظم محمد خان جونیجو نے نہ ان کا مارشلا ختم کیا بلکہ آئین کوایک ترمیم دے کر بحال کیا۔ مشرف نے بھی ریفرنڈم کرایا بلکہ وہ تومنتخب صدر کو اپنے ساتھیوں کی مدد اور طاقت سے( رفیق تارڑ کو ایون صد ر سے )نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ ہماری جوڈیشری کا یہ حال تھا جب قاضی حسین احمد ریفرنڈم کے خلاف ایک درخواست لے کر گئے ہمارے ججوں نے مشرف کے ریفرنڈم کو جائز قرار دے دیا۔مشرف کو بھی سترویں ترمیم کے ذریعے اپنے غیر آئینی اقدامات سے نجات مل گئی۔ اصل سوال صدارتی یا پارلیمانی نظام کا نہیں بلکہ سیاست دانوں کی سوچ کا ہے۔اب ایک سازش ہوئی یہ مت سمجھیں کہ راوی چین لکھ رہا ہے ،سازشیں تو لندن تک ہوئی ہے ؟ جہاں شہباز شریف اپنا علاج کرارہا ہے۔ چودھری نثار ان کے پیچھے جا پہنچا کسی نے بے پر کی اڑا دی چودھری نثاروزیر اعلی بن رہے ہیں ۔ ہمارے بے چارے بزدار فکر مند ہیں۔

چودھری برادران بھی بیچ میں ہیں۔ مونس کو وزیراعظم نے وزیر نہ بنایا تو حمزہ اور مونس کی ملاقات تو ہونی تھی۔ لندن پلان بھٹو جیسا نہیں ہو گا جب سقوط پاکستان کے بعد مجیب الرحمان علاج کے لیے سوئٹزر لینڈ پہنچے،نواب اکبربگٹی علاج کے لیے وہاں گئے۔ سردار عطا اللہ مینگل،یوسف ہارون بھی امریکہ سے آکر مجیب الرحمان کی تیماداری کے لیے آن پہنچے،ملک غلام جیلانی جو عاصمہ جہانگیر کے والد تھے وہ بھی وہاں حاضر ہو گئے۔اس زمانے میں آئین نہیں تھا۔بھٹو نے مولانا کوثر نیازی کے زریعے لندن پلان کا شوشہ چھوڑا کہ اس پاکستان کو بھی ٹکرے کرنے کے لیے سیاست دان لندن میں جمع ہوئے ہیں۔ یہ کوئی لندن پلان نہیں تھا یہ سب لوگ پاکستان ٹونے سے دل گرفتہ تھے۔باری باری سب واپس آگئے ۔ قومی اسمبلی میں لندن پلان کے بارے میں تحریک التوا پیش ہوئی ۔بھٹو نے یہ معاملہ یوں ختم کیا کہ ایسا کوئی پلان حکومت کے علم میں نہیں ہے۔ البتہ ایسا پلان بے نظیر بھٹو اور نواز شریف لندن بیٹھ کر بناتے رہے کہ مشرف کو اقتدار سے کیسے نکلا جائے۔یہ سازش نہیں تھی اور اس کا اظہار برملا ہوتا تھا۔ دوسری جانب اپوزیشن تو حکومت کو وقت دے رہی ہے۔اپنی مدت پوری کریں۔ایک نااہل ترین جو زندگی بھر کے لیے نااہل ہے ۔اس کی حمائت یہاں تک کے اعتراض کی گنجائش ہو۔ایک اینٹ نہیں ترین کا مخالف دھڑا اب کپتان کی بھی نہیں مانے گا۔پنجاب کے گورنر چودھری سرور بھی تو بول اٹھے ہیں سب کچھ ترین نے کرنا ہے تو ہم آلو چھولے بیچنے آئے ہیں۔ چودھری صاحب جس کام کے لیے آئے تھے وہ تو ہو چکا ہے۔ڈرائنگ روم سیاست تو اب چلے گی۔ کپتان نے جس نئے پاکستان کا خواب دیکھا تھا ایسے نہیں بنے گا۔ناکامی بڑی ظالم ہوتی ہے۔


ای پیپر