ماہنامہ ’’ہلال‘‘ نیا رُوپ۔۔۔ چار میگزین!
22 اپریل 2019 2019-04-22

انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ISPRکے زیر اہتمام چھپنے والے افواجِ پاکستان کے ترجمان خوبصورت ، موقر، مستند اَور دیدہ زیب مجلے ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ کے بارے میں اپنے کسی کالم میں میَں نے لکھا تھا کہ ’’ ہلال ‘‘ سے میرا تعارف اُس وقت سے ہے جب یہ روزنامہ کے طور پر چھپا کرتا تھا۔ یہ کم و بیش چھ عشرے قبل گزشتہ صدی کی پچاس کی دہائی کے نصفِ دوم کے برسوں کا ذکر ہے میں ہائی سکول کا طالب علم تھا۔ مجھے مطالعے کا کچھ کچھ شوق تھا اَور میں اپنا یہ شوق پورا کرنے کے لئے گاؤں کی ایک مہربان شخصیت حوالدار غلام محمد مرحوم کی دُکان پر اُن کے نام آنے والا روز نامہ ’’ ہلال ‘‘ پڑھنے کے لئے پہنچ جایا کرتا تھا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ بعد کے برسوں میں مجھ میں اخبار و جرائد کے مطالعے جو شوق پروان چڑھا اِس میں روز نامہ ’’ ہلال ‘‘ کے اُس دور کے مطالعے کا بڑا ہاتھ ہے۔

’’ ہلال ‘‘1948ء سے افواجِ پاکستان کے مجلے کے طور پر مسلسل شائع ہو رہا ہے۔ جیسا میں نے اُوپر لکھا ، پچھلی صدی کے پچاس کے عشرے میں جب سے مجھے اسے پڑھنے کا موقع ملنا شروع ہوا جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے یہ اُس وقت سفید کاغذ کے چار اخباری صفحات پر مشتمل مسلح افواج کے ترجمان اُردو اخبار کے طور پر شائع ہوا کرتا تھا۔ پچھلے ساٹھ /پینسٹھ برسوں میں اِس نے کیا کیا نشیب و فراز دیکھے، کیسے روزنامہ سے ماہنامہ تک کا سفر اِس نے طے کیا، کون کون سی معروف علمی، ادبی، صحافتی اور عسکری شخصیات اِس کے ساتھ وابستہ رہیں۔ اور اس کے ساتھ اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں مسلح افواج کے ترجمان کے طور پر ایک موقر اَور دیدہ زیب مجلے کے طور پر اس نے اپنی ثقہ اور مستند حیثیت برقرار رکھی ہوئی ہے۔ یقیناًیہ سارے پہلو اہم ہیں۔ لیکن اِن سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ دبیز سفید آف سیٹ پیپر اور خوبصورت گیٹ اپ کے ساتھ چھپنے والے ’’ ہلال ‘‘اُردو اور انگریزی ایڈیشن جن میں اب انگریزی زبان میں ’’ ہلال ‘‘ فار کڈز Hilal for Kids(بچوں کا ہلال ) اَور ’’ ہلال ‘‘ فار ہر Hilal for Her(خواتین کا ’’ ہلال ‘‘) بھی شامل ہو چکے ہیں۔ صرف اپنے اعلیٰ معیارِ طباعت اور صوری خُوبیوں کی بنا پر ہی نہیں بلکہ معنوی

اعتبار اور اپنے مندرجات کے اعلیٰ معیار کی بنا پر بھی کسی بھی عالمی معیار کے جریدے کا مقابلے کر سکتے ہیں۔

’’ ہلال ‘‘اُردو، انگریزی میگزین یا ایڈیشنز کا جائزہ لیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ ہر دو ایڈیشن میں چھپنے والے قومی و عالمی ایشوزاور معیشت کی صورت حال سمیت ٹیکنالوجی کے شعبے میں تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں نام ور قلمکاروں، تجزیہ نگاروں ، ماہرینِ اقتصادیات اور عسکری ماہرین کے چھپنے والے مضامین، تحقیقی مقالے، تجزیے اور تبصرے جہاں ’’ ہلال ‘‘کی ثقہ اور مستند حیثیت اَور عالمی معیار کا جریدہ ہونے کا ثبوت بہم پہنچاتے ہیں وہاں مسلح افواج کی سرگرمیوں کے حوالے سے چھپنے والی خبریں،تصویری رپورٹیں اور فوج اور قوم کے جذبات کو اُبھارنے اور قائم رکھنے والی زندہ جاوید تحریریں ’’ ہلال ‘‘کے افواجِ پاکستان کے ترجمان مجلہ ہونے کی حیثیت کو بھی مستحکم کیے ہوئے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میڈیا کا دَور ہے۔ الیکٹرانک، پرنٹ اَور سوشل میڈیا اِس کے مختلف آرگن یا جزو ہیں جن سے اِدارے خواہ وہ عالمی سطح کے ہوں، ملکی سطح کے یا اِس سے بھی کم سطح کے ہوں اپنے مقاصد، اپنے عزائم، اپنے دائرہ کار اَور اپنی سرگرمیوں کی تشہیر ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ مختلف امور کے بارے میں رائے عامہ کے رُوبرو اپنا ایک مثبت ، خوبصورت اور بامقصد امیج یا منظر نامہ بھی سامنے لے کر آتے ہیں۔ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ISPRعساکر پاکستان کا وہ ذیلی اِدارہ ہے جو تینوں مسلح افواج کی معمول کی سرگرمیوں ، بھارت جیسے ازلی اور اَبدی دشمن کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے کے لئے پاکستانی افواج کی تیاریوں اور عالمی رائے عامہ میں پاکستان افواج کے بارے میں کسی طرح کے منفی پروپیگنڈے کو زائل کرنے کے مقاصد کو عصری تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بڑی مہارت، تندہی اور خوش اصلوبی سے پورا کر رہا ہے۔ پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار بالخصوص افواجِ پاکستان کا کردار ایسا معاملہ ہے جس میں عالمی برادری میں پاکستان اور افواجِ پاکستان کے موقف، قربانیوں، کارکردگی اَور جنگ میں حاصل کی جانے والی کامیابیوں کوعلاقے اور خطے کے مخصوص حالات اور معاملات کو سامنے رکھتے ہوئے پورے سیاق و سباق اَور صحیح تناظر اور حقائق کی روشنی میں دُ نیا کے سامنے پیش کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے ساتھ بھارت جیسے ازلی اور ابدی دُشمن کی جارحیت اور معاندانہ سرگرمیوں کا بھی توڑ ہی نہیں کرنا پڑتا ہے بلکہ افغانستان جیسے ہمسایہ ملک جس پر پاکستان کے بے پناہ احسانات ہیں اور جس کے لئے پاکستان کی سلامتی بھی داؤ پر لگی رہتی ہے کے نا عاقبت اندیش حکمرانوں کے منفی پراپیگنڈے کا بھی جواب دینا ہوتا ہے۔غرضیکہ بہت سارے مسائل اور معاملات ہیں جن میں اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ہر معاملے کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ بلا شبہ اس حوالے سے ISPRکی کارکردگی مثالی ہی نہیں ہے بلکہ ہمسایہ ممالک بالخصوص بھارت میں مسلح افواج کی ترجمانی کرنے والے اِدارے کے مقابلے میں کئی زیادہ بڑھ کر ہے۔ ISPRکی اس کارکردگی میں یقیناًاس کے ترجمان مجلے ’’ ہلال ‘‘ کا بھی اہم کردار اَور حصّہ ہے جس کی تحسین کی جانی چاہیے۔ یقیناًاِس کے لئے ہلال کے اُردو اَور انگریزی ہر دو ایڈیشنز کی اُوپر سے نیچے تک پوری ادارتی ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔ خاص طور پر اُردو ایڈیشن یا میگزین کے ایڈیٹر جناب یوسف عالمگیرین جن سے میری بزرگانہ نیاز مندی کئی برسوں سے چلی آرہی ہے کچھ زیادہ ہی داد کے مستحق ہیں۔ میں اُن کا ہی ممنون نہیں ہوں بلکہ ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ کے پیٹرن انچیف اور چیف ایڈیٹر سمیت پورے اِدارتی بورڈکا ممنون ہوں کہ مجھے ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘اُردو اور انگلش دونوں زبانوں کے شمارے مع Hilal for Herاور Hilal for Kidsاعزازی طور پر مل رہے ہیں۔ ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ اُردو اور انگریزی کے قلمی معاونین کی تفصیل بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں ورنہ دیکھا جا سکتا ہے کہ کس معیار اور پائے کے قلمی معاونین کی ’’ ہلال ‘‘کو معاونت حاصل ہے۔ اِن میں سابق سفیر، یونیورسٹیوں کے بین الاقوامی علوم کے شعبوں کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹس اور دوسری پائے کی علمی اور اَدبی شخصیات، قلمکار، کالم نگار اَور تجزیہ نگار سبھی شامل ہیں۔ بلا شبہ ماہنامہ ’’ ہلال ‘‘ کے چاروں ایڈیشنز یا میگزین کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ بین الاقوامی معیار کے عالمی سطح پر شائع ہونے والے کسی بھی زبان کے مجلوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔


ای پیپر