نئے آئی جی پنجاب : پروفیشنل ازم کی خوبی دوبارہ تعیناتی کی وجہ بنی !
22 اپریل 2019 2019-04-22

یہ بات طے ہے کہ بیوروکریسی کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ ریاست کی ماتحت ہوتی ہے ۔ جو بیوروکریٹ اپنے حلف کی پاسداری کریں اور اپنے فرائض ایمانداری سے سر انجام دیں انہیں ہر دور میں اہم ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں کیونکہ ہر حکومت بہتر نتائج کے لئے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ۔ یہ پریکٹس قیام پاکستان کے بعد سے جاری ہے ۔ ہر دور میں ان افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جاتا رہا ہے جنہیں نتائج حاصل کرنے میں ملکہ ہو ۔ حال ہی میں پنجاب میں انتظامی عہدوں پر اعلی سطحی تبادلے کئے گئے ہیں ۔ ان تبادلوں سے ان تمام افواہوں کا خاتمہ ہو گیا جن میں کہا جا رہا تھا کہ حکومت ان افسران کو انتقام کا نشانہ بنائے گی جو پچھلے دور حکومت میں بہتر نتائج کے حوالے سے جانے جاتے ہیں یا اعلی عہدوں پر کمانڈ کرتے رہے ہیں۔

ایک سرکاری افسر اپنی سروس کے دوران کم از کم پانچ سے چھ حکومتیں بدلتے دیکھتا ہے ۔ مختلف وزرا کے ماتحت کام کرتا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب نمائندوں کے ساتھ محکمہ کی بہتر کارکردگی کے لئے محنت کرتا ہے ۔ یہ بیوروکریٹس نہ تو کسی فرد واحد کے ماتحت ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی حکومت کے کارخاص سمجھے جاتے ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ وقتی مفادات کے لئے کسی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ ذاتی حیثیت میں منسلک ہو جائیں لیکن اس کا خمیازہ بھی وہی بھگتتے ہیں ۔ اس وقت بھی ایسے کئی افسران کو نیب کا سامنا ہے ۔ جو افسران اپنی پروفیشنل پہچان اور محکمانہ شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں انہیں نہ تو حکومتیں بدلنے سے فرق پڑتا ہے اور نہ ہی کوئی حکومت انہیں انتقام کی بھینٹ چڑھاتی ہے ۔ پروفیشنل ، محنتی اور ایماندار افسران کو ہر دور حکومت میں پسند کیا جاتا ہے کیونکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں اور اپنے کام کو اپنی پہچان بناتے ہیں ۔

پنجاب کے نئے آئی جی کیپٹن (ر) عارف نواز خان اپنے عہدے کا چارج سنبھال چکے ہیں ۔ انہیں دوسری بار آئی جی پنجاب کے عہدے کی کمان سونپی گئی

ہے جو کہ ان کی پروفیشنل قابلیت کا اعتراف بھی ہے ۔کیپٹن (ر) عارف نواز خان انتخابات سے قبل پنجاب کے آئی جی تھے ۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تحت تمام انتظامی افسران کو تبدیل کیا گیا تو اس وقت کے آئی جی پنجاب کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔ الیکشن کے دوران موجودہ آئی جی سندھ کلیم امام کو پنجاب پولیس کا کمانڈر تعینات کیا گیا ۔ ان کے بعد کے پی کے کے آئی جی محمد طاہر کو پنجاب کا آئی جی بنایا گیا ، کچھ عرصہ بعد حکومت نے انہیں تبدیل کر کے امجد جاوید سلیمی کو اس عہدے کا چارج دے دیا اور اب ایک بار پھر کیپٹن (ر) عارف نواز خان کو ملک کے سب سے اہم صوبے اور سب سے بڑی پولیس فورس کی کمانڈ سونپی گئی ہے۔

نئے آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کی تعیناتی کی ایک اہم وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ ان کی لیڈر شپ کی خصوصیات کرائم کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اس سے قبل جب وہ آئی جی پنجاب کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے تو وہ صوبے کے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز سے مسلسل رابطے میں رہتے تھے ۔ انہیں پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مسائل حل کرنے اورخصوصا پولیس ویلفیئر اور شہدا کے خاندانوں کی ویلفئر کے حوالے سے کئے گئے اقدامات پر محکمہ پولیس میں شہرت حاصل ہے ۔ یاد آتا ہے ، شہدا کے حوالے سے لاہور میں ایک تقریب تھی اور کیپٹن (ر) عارف نواز خان ہی اس وقت بھی پنجاب پولیس کے سربراہ تھے ۔ اس تقریب میں ایک شہید پولیس اہلکار کے اہل خانہ نے انہیں اپنے کسی مسئلہ سے آگاہ کیا تو انہوں نے نہ صرف موقع پر ہی وہ مسئلہ حل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے بلکہ وہاں موجود شہدا کے اہل خانہ کو اپنا موبائل نمبر نوٹ کروا دیا تاکہ اگر انہیں کسی قسم کا مسئلہ ہو تو براہ راست ان کے علم میں لا سکیں ۔

اگلے روز سینٹرل پولیس آفس میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد آئی جی پنجاب نے میڈیا سے مختصر گفتگو کی لیکن اس گفتگو کے دوران اندازہ ہو گیا کہ وہ پنجاب میں کرائم کنٹرول کرنے کے لئے مکمل لائحہ عمل طے کر چکے ہیں ۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ان کی ٹیم میں صرف وہی آفیسر رہے گا جو کام کرے گا اور افسران کو محکمہ میں رہنے کے لئے کارکردگی دکھانی ہو گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس کام کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے اورہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پولیس آئین اور قانون کی روشنی میں اپنی ذمہ داریاں نبھائے گی اور ٓآج کے بعد پنجاب پولیس کے حوالے سے وہ عوام اور حکومت کو جوابدہ ہیں ۔ اس تقریب میں ہماری توجہ ان کی باڈی لینگویج پر بھی تھی ۔ آئی جی پنجاب جس اعتماد کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ پنجاب پولیس کے کمانڈ ر کے طور پر صرف عہدے سے لطف اندوز ہونے نہیں آئے بلکہ بھرپور انداز میں نتائج حاصل کرنا ان کا اولین مقصد ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہ اپنی پہلی تعیناتی کے دوران پولیس ریفارمز کے حوالے سے جن منصوبوں پر کام کر رہے تھے یا محکمہ پولیس میں تبدیلی لانے کے لئے جو کچھ انہوں نے سوچ رکھا تھا اس پر بھرپور انداز میں کام کرنا چاہتے ہیں اور انتخابات کی وجہ سے پولیس ریفارمز سے متعلق جن منصوبوں پر کام ادھورا رہ گیا تھا وہ اس بار مکمل ہوں گے۔

کیپٹن (ر) عارف نواز خان کی دوبارہ آئی جی پنجاب تعیناتی سے امید قائم ہوئی ہے کہ پنجاب میں نہ صرف کرائم کنٹرول ہو گا بلکہ پولیس ویلفئرکے پراجیکٹس بھی تیزی سے آگے بڑھیں گے ۔ہم ہمیشہ یہی کہتے رہے ہیں کہ جب تک سپاہی کے حالات بہتر نہیں ہوں گے تب تک محکمہ پولیس کے اچھے کام بھی نظر انداز ہوتے رہیں گے کیونکہ سپاہی ہی محکمہ کا پہلا چہرہ ہوتا ہے جس سے ہم ایسے عام شہری مسجد سے لے کر ناکوں تک ہر موڑ پر ملتے ہیں۔ کیپٹن (ر) عارف نواز نے اپنے پچھلے دور میں پولیس ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا تھا جس سے کرپشن کی شکایات میں کمی واقعہ ہوئی تھی ۔ اب بھی اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو جلد ہی محکمہ پولیس مزید بہتر نظر آنے لگے گا۔۔ نئے آئی جی پنجاب کی خوبی یہ ہے کہ وہ کمیونٹی پولیسنگ کے نہ صرف حامی ہیں بلکہ اس سلسلے میں اہم اقدامات بھی کرتے رہے ہیں ۔ ہمیں امید ہے کہ عوام دوست پولیسنگ یعنی کمیونٹی پولیسنگ کے لئے وہ اب پہلے سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں گے۔


ای پیپر