سابقہ حکومتیں ذمہ دار ہیں؟
22 اپریل 2019 2019-04-22

ایک رضا کار کو کسی شخص نے دن دہاڑے منہ پر بھرے چوک میں تھپڑ مار دیا ۔ رضا کار سپاہی نے تین رضا کاروں کو ساتھ لے کر درخواست لکھی اور اپنے انسپکٹر کو دی انسپکٹر نے اس پر لمبا سا نوٹ لکھا اور ڈی ایس پی کو غرض کہ نوٹ لکھے جاتے رہے اور درخواست اچھی خاصی وزنی ہوتی گئی جو رضاکاروں کے آئی جی صاحب کے پاس سپاہی خود لے کر پیش ہوا آئی جی صاحب نے ساری درخواست پڑھی سارے ریمارکس دہرائے ۔ رضا کار سپاہی کا بیان سُنا اس کی عزت اور حوصلہ افزائی فرماتے ہوئے آنسو بھری آنکھوں اور بھراتی ہوئی آواز میں دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگا تمہیں دن دہاڑے تھپڑ پڑے ۔ سپاہی نے معصومیت سے اثبات میں سر ہلایا ۔ آئی جی صاحب نے کہا بچہ تم اپنا کام کیے جاؤ ہم شوبازیاں نہیں ماریں گے۔ تم سے زیادتی کرنے والا آپے اللہ سے پائے گا۔ پنجاب حکومت میں بھی جو زیادتی کرے گا آپے خدا سے پائے گا عوام اپنا کام کرتے جائیں۔

کلام پاک حکمت سے بھر پور ہے ساری کائنات مل کر بھی اس کی دانائی حکمت اور حقیقت کو نہیں پہنچ پائی جوں جوں سمجھ آتی ہے نئی نئی جہتیں اور عقل و حکمت کے سر چشمے پھوٹتے ہیں ۔ کمی بیشی اللہ معاف کرے۔ ایک آیت مبارکہ کا ترجمہ ہے عزت اور ذلت اللہ کے اختیار میں ہے۔ بعض اوقات انسان سمجھتا ہے کہ فلاں کو یا مجھے عزت مل گئی ۔ مگر در حقیقت وہ عزت نہیں ہوتی کہتے ہیں شکر نعمت کو بڑھا دیتا ہے۔ اسی لیے شکر کرنے سے پہلے سوچ لینا چاہیے معاملہ استغفار کا تو نہیں۔ گوجرانوالہ میں رانا نذر سیاسی آدمی ہیں۔میاں صاحب کے پہلے دوسرے اقتدار میں نورتن یا کچن کیبنٹ میں شمار کیے جاتے تھے۔ ضلعی انتخابات میں انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی رانا صغیر احمد کو ضلع کونسل کا چیئر مین بنوا دیا ۔ اللہ تعالیٰ اُن کو جنت میں جگہ دے وہ اپنے طور پر کچھ ایسے سادہ تھے کہ لوگ ذہنی بلوغت پر سوال اٹھاتے میرے دوست ندیم گورایہ کہنے لگے کہ یار وہ دیکھو کیسا قسمت کا

دھنی ہے کہ چیئر مین ضلع کونسل ہو گیا ہے کہ اللہ نے کتنی عزت دی ہے۔ میں نے کہا کہ گورایہ صاحب عزت؟ ذرا غور کرو جب وہ ضلع کونسل کا چیئر مین نہیں تھا تو چھپا ہوا تھا اب تو ہر بندہ باتیں بنا رہا ہے۔ یہی حال ہمارے پیارے وزیر خزانہ اسد عمر کا ہے ۔ جب تک 40 لاکھ روپے میں اینگرو میں تھے تو دھوم تھی جو نہی 100 دن کا ٹارگٹ دیا تو ایک دن سادھ کا آ گیا مگر سادھ نے نو ماہ بھی دے دیئے پر ڈلور کچھ نہ ہوا۔

در اصل دل کی بات تو یہ ہے کہ عمران خان جس منزل کا اعلان کرتے رہے ہیں اس منزل کی طرف کو یہ بس نہیں جاتی جس پر سوار ہو کر سٹیرنگ پہ بیٹھے ہیں نہ ہی وہ سواریاں ہیں نہ راستہ اس منزل کی طرف کا وزیر اعظم ظفر اللہ جمالی صاحب اور جونیجو صاحب بھی انتہائی دیانت دار جانے جاتے تھے بلکہ جمالی صاحب تو زہد و تقوی میں بھی مشہور تھے یہی زہد و تقوی خودی کی آبیاری اور قوم کا درد انہیں وقت سے پہلے سابق وزیر اعظم بنا گیا۔

عمران خان وزیر اعظم ہیں حکومت چلانے کے اعلیٰ کاریگر ان کو دے دیے گئے ہیں مگر اب حکومت تو ان کی ہو گی لیکن سابقہ حکومتوں کا تسلسل کہلائے گی۔ عمران خان اگر وقت سے پہلے سابق نہ ہوئے تو وزیر اعظم رہیں گے مگر شوکت عزیز کی طرح نہیں اپنے لوگوں میں بہرحال مقبول تو ہیں میں نے تو وہ جانکاہ مناظر بھی دیکھے ہیں شوکت عزیز وزیر اعظم بنا تو (ق) لیگ کے مقتدر لوگ اپنے لوگوں سے بسیں بھر کے لاتے نعرہ لگاتے شوکت عزیز قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں جبکہ شوکت عزیز وطن عزیز کے شناختی کارڈ ہولڈر بھی نہ تھے۔ عمران خان جب تک اپنی بس نہیں بدلتے منزل کا تصور بھی ممکن نہیں مگر وہ راہیں کٹھن ہیں آسان نہیں ان راہوں کے راہی قید کوڑے پھانسیاں جلاوطنیاں چوکوں میں گولیاں کھاتے ہیں اور اللہ عمران خان کو زندگی دے اقتدار تو آنی جانی ہے۔

جعلی دانشوروں نے ایسے ایسے نہلوں کی حمایت کر دی جن کے گھر والے بھی گھرلوٹ آنے پر سہم جاتے تھے۔ موجودہ سیٹ اپ میں نئی ذمہ داریوں پر ایسے چہرے بٹھا دیے گئے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر لوگ دس منٹ میں ساری ہسٹری بیان کرنے لگتے ہیں مجھے ایک وائرل ہونے والے لطیفے کی یاد آئی کہ گل خان چرس، کوکین، ہیروئن، قصہ خوانی بازار کی علتیں اور ناجائز کاروبار چھوڑ چھاڑ کر تبلیغی دوستوں میں شامل ہو گیا۔ اس کو راہ راست پہ لانے والے اب اس کا تعارف کرواتے کہ گل خان جو کہ کل تک فلاں فلاں کام کرتا تھا آج یہ لوگوں کی اصلاح کر رہا ہے۔ چلو گل خان خود بتاؤ۔ گل خان اُٹھا اور اپنی سابقہ زندگی بتائی اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اب وہ نارمل شہری اور مومن کی زندگی گزار رہا ہے۔تین چار دفعہ ایسا ہوا تو گل خان چیخ اٹھا کہ اللہ بڑا رحیم ہے جب تک میرا اپنے ان نیک لوگوں سے واسطہ نہیں تھا میرے گناہوں پر پردہ ڈلا ہوا تھا اب ان کی بدولت میری سابقہ زندگی دن میں کئی بار دہرائی جاتی ہے اور میں نئے اور ناواقف لوگوں میں بھی رسوا ہوا ہوں ۔ پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والے لوگ پہلے سیاست میں اتنی دلچسپی نہیں لیتے تھے زیادہ تر پیپلز پارٹی سے ہمدردی رکھنے والوں کی اولادیں اور خاندان ہیں۔ اب جب سے نئی نویلی کابینہ آئی ہے۔ مشرف پیپلز پارٹی ، ن ، ق لیگ سے وابستگی کے وقت سے ایک ایک کا ماضی اللہ کے فضل سے یوں کھنگالا جا رہا ہے کہ لوگ نئے پاکستان کی صورت دیکھ کر بلیک اینڈ وائٹ کے وقت کا پاکستان مانگنے لگے ہیں۔یہ سچ ہے کہ سابقہ حکومتیں ذمہ دار ہیں جن میں تمام حکومتیں بشمول ضیاء اور مشرف اگر وہ ڈلور کرتیں عوام کے دکھوں کا مداوا کرتیں تو موجودہ حکمران ہم پر مسلط نہ ہوتے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان اپنی ہی حکومت میں کابینہ میں اجنبی دکھائی دینے لگے ہیں۔ اس عمر کی آخری رسومات کے بعد بزدار کی تیاریاں سنائی جا رہی ہیں۔ پیپلزپارٹی کی کابینہ ہے یا پھر (ق) لیگ کے لوگ ہیں یہی وجہ ہے کہ مجھے عمران خان اجنبی دکھائی دینے لگے کیا اس کی بھی سابقہ حکومتیں ذمہ دار ہیں؟


ای پیپر