شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا:آہ! پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال راؤ
22 اپریل 2019 2019-04-22

زندگی بھی ایک بہت عجیب چیز ہے۔ گزرنے پر آجائے تو بڑی سرعت اور روانی کے ساتھ ندی کے پانی کی طرح گزرتی جاتی ہے۔ اگر گزرنے پر نہ آئے تو ماضی اور ناسٹیلجیاکو جنم دیتی ہے اور اس راستے سے بار بار گزارتی ہے۔ دنیا کے سمندر میں کئی ہچکولے اور غوطے دیتی ہے۔ کبھی کنارے پر لا کھڑا کرتی ہے اور کبھی ماہی بے آب کی طرح تڑپاتی ہے۔ کبھی کسی کے وصل کی چھتری تان دیتی ہے اور کبھی کسی کے ہجر میں مدتوں بے چین اور بے قرار رکھتی ہے۔ بہر حال یہ زندگی جو نسا پہلو مرضی اختیار کرے اسے گزرنا بھی ہے اور گزارنا بھی ہے( روتے ہوئے بھی اور ہنستے ہوئے بھی) ۔ 12 اپریل کو صبح صبح فون پر میسج رسیو ہوا۔ میسج پڑھتے ہی طبیعت اداس اور مضمحل ہونا شروع ہو گئی کہ کیا ۔۔۔ کیا پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال راؤ فوت ہو گئے ہیں۔۔۔ میں کسی طور پر بھی یقین کرنے کو تیار نہ تھا مگر انہونی تو ہو کر رہتی ہے اور موت کو کون ٹال سکتا ہے۔واقعی ہی موت کا ایک دن معین ہے مگر دل ہے کہ یقین کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہو رہا تھا ۔ مجھے زمانہ طالب علمی سے کالج کے اساتذہ سے خاصا شغف رہا ۔ شاید اسی شغف کا ہی یہ فیض ہے کہ میں خود کالج میں استاد ہوں۔ اساتذہ کے پاس بیٹھنا ۔ ان سے باتیں کرنا ، حال احوال جاننا میرا اچھا مشغلہ تھا اور اس عمل سے مجھے سکونِ قلبی بھی ملتا تھا ۔ یہ کوئی 1994 ء کی بات ہے کہ کالج کے ہال میں کوئی امتحان ہو رہا تھا ۔ پہلی روکی پہلی کرسی پر سفاری سوٹ پہنے سر ظفر اقبال راؤ صاحب بھی امتحان دے رہے تھے۔ انہیں امتحان دیتے ہوئے دیکھ کر میں ششدر رہ گیا کہ یہ توخود پروفیسر ہیں، یہ امتحان کیوں دے رہے ہیں ؟ پہلا سوال ذہن میں آیا کسی کی جگہ پر بیٹھے دے رہے ہوں گے؟ مگر دماغ نہ مانا کہ ایک استاد ایسا کام نہیں کر سکتا۔ پتہ چلا کہ سر اقبالیات میں ایم فل کر رہے ہیں جبکہ اقبالیات اچھا خاصا مشکل مضمون ہے اور اس مضمون میں کامل دسترس حاصل کرنے کے لیے فارسی زبان کا آنا ضروری ہے۔ میں حیران ہوا کہ سر تو انگلش کے استاد ہیں تو اردو میں ایم فل کیوں کر رہے ہیں؟ پتہ چلا کہ سر نے ایم اے اردو بھی کیا ہوا ہے اور شعرو ادب سے خاصا شغف اور محبت رکھتے ہیں۔ شعر کہتے نہیں ہیں مگر بلا کے شعر شناس اور ادب شناس ہیں۔ شاعروں اور ادیبوں سے خاصی محبت رکھتے ہیں۔ شاعروں اور ادیبوں سے محبت کا یہ عالم تھا کہ اوکاڑہ شہر میں انہوں نے ’’ فوڈ ویلی‘‘ کے نام سے ایک ریسٹورنٹ قائم کیا تھا ۔ اس کا اوپر والا پورشن ادیبوں کے لیے مختص کر دیا ۔ ادبی تنظیمیں جب چاہیں اپنے ادبی فنکشن کروائیں۔مشاعرے کروائیں، سمینار کروائیں، کوئی کرایہ نہیں، کوئی فنڈز نہیں بلکہ ریفریشمنٹ خود دیتے ۔ شعراء حضرات کا جو قافلہ بھی لاہور سے ملتان یا لاہور ملتان روڈ سے گزرتا وہ اکثر اوقات ان کا مہمان ہوتا۔ خالد مسعود خان، ڈاکٹر اختر شمار، عباس تابش، سعد اللہ شاہ، ناصر بشیر اور دیگر شعرا سے ا ن کے اچھے خاصے مراہم تھے۔ بلکہ خالد مسعود، عباس تابش، سعد اللہ شاہ ان کے کلاس فیلو ہیں ۔ ادب سے ان کی محبت کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ادیبوں اور شاعروں کے لیے ہر وقت دیدہ دل فرش راہ رہتے تھے۔ راؤ صاحب کی حس مزاح بھی کمال کی تھی۔ وہ جگت بازی اور جگت لگانے میں کمال کے ذہین تھے۔ میں نے انہیں کبھی لاجواب ہوتے نہیں دیکھا تھا ۔ راؤ صاحب ایسے فراغ دل تھے کہ وہ اپنے آپ کو بھی جگت لگانے میں سبکی محسوس نہیں کرتے تھے۔ ہمارے پیارے دوست پروفیسر نظر محمدچوہدری ( با کمال استاد، منتظم، چیف پراکٹر) سے راؤ صاحب کی گاڑھی چھنتی تھی۔ ایک دوسرے کو جگت لگانے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں جانے دیتے تھے۔ دونوں ہم رنگ تھے یعنی اسودی تھے۔ ہم منصب تھے ۔ دونوں ایک دوسرے کو چھیڑنے کے لیے افریقہ کا ’’ بٹ ‘‘ کہتے تھے۔ راؤ صاحب اکثر مسکرا کر کہتے تھے کہ لوگ مجھے میرے قدرے کالے رنگ کی وجہ سے عیسائی سمجھ لیتے ہیں لیکن میں برا محسوس نہیں کرتا۔ راؤ صاحب کی زندگی اکثر لطیفوں ، چٹکلوں اور مزاح سے بھری پڑی تھی۔ سر ایک بہترین استاد ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے ایڈمنسٹریٹر بھی تھے۔ مشرف دور میں جب پہلی دفعہ ضلعی نظام قائم ہوا تو راؤ ظفر اقبال صاحب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ( کالجز) تعینات ہوئے۔ راؤ صاحب اساتذہ کے مسائل کو خاصی دل جمی سے حل کرتے اور ان کا آفس اساتذہ کے لیے ہر لمحہ کھلا رہتا۔ مجھے کئی بار ان کے آفس جانا ہوا نہایت خوش اسلوبی اور محبت سے پیش آتے۔ اپنے ٹنیور میں ضلع بھر کے کالجز میگزین کو ازسر نو ترتیب دلوایا اور ضلع بھر کے چودہ کالجز کے میگزین چھپوا کر ان کی تقریب رونمائی بھی کروائی۔ اول، دوم اور سوم آنے والے میگزین کے چیف پیٹرن کو خوبصورت ادبی شیلڈز سے بھی وازا گیا اور ایک شاندار مشاہرے کا بھی انتظام کیا۔ ہر چند یہ کہ آپ کوئی بھی تقریبی اور ادبی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ ضلع اوکاڑہ میں جب کیڈٹ کالج کی تعمیر شروع ہوئی تو حکومت وقت نے آپ کی انتظامی صلاحیتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کو پروجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کیا۔ آپ کی شبانہ روز محنت اور لگن کو دیکھتے ہوئے آپ کو اسی کیڈٹ کالج کا پرنسپل بھی تعینات کیا گیا ۔ آپ نے اپنی بھر پور انتظامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے کالج کی شہرت کو چار چاند لگائے اور کالج کو تعلیمی، انتظامی ، ادبی حوالوں سے روشناس کروایا۔آپ ایک سماجی کارکن بھی تھے۔ کسی بھی افتاد سے نمٹنے کے لیے آپ سب سے آگے ہوئے۔ سونامی طوفان ( عمران خان کا سونامی نہیں) سے متاثر لوگوں کے لیے آپ نے دن رات ایک کر کے چندہ اکٹھا کیا۔ اسی طرح سیلاب زدگان اور زلزلہ زدگان کے لیے بھی آپ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ آپ انسانیت کے لیے ہمدرد اور درد دل رکھنے والے انسان تھے۔ زندگی بھر آپ کا تعلق جماعت اسلامی سے رہا ۔ اپنے زمانہ طالب علمی میں یونیورسٹی کی جمعیت علماء اسلام کے بھر پور نمائندے رہے۔ ضلع اوکاڑہ کی تنظیم اساتذہ کے بھی صدر رہے مگر ہر دل عزیز شخصیت رہے۔ کبھی فرقہ ورانہ گفتگو نہ کی۔ مذہبی مناقشات سے دور ہے۔ دوستو ں کے درمیان وجہ تنازع نہ رہے۔ پھر اچانک زندگی میں ایسا موڑ آیا کہ سب چھوڑ چھاڑ لاہور جا بسے بلکہ لاہور کے ہو لیے۔ وفات سے پہلے گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ میں شعبہ انگلش کے HOD تھے۔۔۔ گریڈ 20 کے پروفیسر تھے۔ 6 اپریل 2019 ء کو اوکاڑہ میں جناب احمد ساقی کی شاعری کی کتاب ’’دروازہ‘‘ کی تقریب رونمائی تھی اور خوشی سے تشریف لائے۔ اپنے ساتھ اپنے پی ایچ ڈی کے تھیسز کو کتابی شکل دے کر کتابیں ، بھی ساتھ لائے۔ اپنے دوستوں پروفیسر محمد حامد اور سیرت ایوارڈ یافتہ شاعر پروفیسر رضاء اللہ حیدر کو تلاش کر کے ملے اور اپنی کتابیں بھی گفٹ کیں۔رضاء اللہ حیدر کو سیرت ایوارڈ ملنے پر تہہ دل سے اور نہایت خوش اسلوبی سے مبارک باد دی اور کھڑے کھڑے ڈھیروں باتیں بھی کر لیں۔ ڈاکٹر ظفر اقبال راؤ کو مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔آپ ایک دبنگ، ادبی ، سماجی ، آدمی ہونے کے ایک صاحب مطالعہ استاد بھی تھے۔ دوستوں کے درمیان جو خلا راؤ صاحب چھوڑ گئے ہیں وہ کبھی پورا نہ ہو گا۔ اللہ ان کی اگلی منزلیں آسان فرمائے۔ شاید ان کے لیے ہی مولانا الطاف حسین حالی نے کہا تھا :

ایک روشن دماغ تھا نہ رہا

شہر میں اک چراغ تھا نہ رہا


ای پیپر