پاکستان اور ایران کا مشترکہ بارڈر فورس بنانے پر اتفاق
22 اپریل 2019 (14:44) 2019-04-22

تہران: وزیر اعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے سرحدوں پر سیکیورٹی کیلئے مشترکہ فورس بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جوائنٹ ریپڈری ایکشن فورس بنائی جائے گی، دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک کیلئے چیلنج ہے، پاکستان دہشت گردی میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ،پاک ایران تعلقات کو فروغ دینے کیلئے پر عزم ہیں۔

وزیراعظم عمران خان ایران کے صدارتی محل سعدآباد پیلس پہنچے۔وزیراعظم عمران خان کا ایران کے صدارتی محل سعدآباد پیلس پہنچنے پر ایرانی صدر حسن روحانی نے پرتپاک استقبال کیا، اس موقع پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور دونوں ممالک کے قومی ترانے بھی بجائے گئے جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات بھی کی۔

وزیراعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے دوطرفہ تعلقات پر تعمیری بات چیت ہوئی، دونوں ملک دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کیلئے پرعزم ہیں، پاکستان ایران کے برادرانہ تعلقات پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا، ملاقات میں سرحدوں پر سیکیورٹی کے معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ہے، سرحدوں پر دہشت گردی کے متعدد واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے، دونوں ممالک نے سیکیورٹی کے شعبے میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے، سرحدوں پر سیکیورٹی کیلئے مشترکہ ریپڈ ری ایکشن فورس بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔

  ایران پاکستان گیس پائپ لائن سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی، ایران نے اپنی سرحد تک پائپ لائن بچھالی ہے، پاکستان کے ساتھ موجودہ تجارتی حجم میں مزید اضافے کے خواہشمند ہیں، تجارت کی غرض سے مصنوعات کے تبادلے کیلئے بارٹر کمپنی بنانے پر اتفاق کیا ہے، گوادر اور چاہ بہار کی بندرگاہ کے درمیان قریبی رابطے کا فروغ چاہتے ہیں، افغانستان میں امن و استحکام اور دیگر علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے، ملاقات میں گولان کی پہاڑیوں ، ایران کے انقلابی کارڈرپر پابندی سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی ہے، پاکستان ایران اور ترکی کے درمیان ریلوے لنک مربوط بنانے پر بھی بات ہوئی، وزیراعظم نے پاکستان کے دورے کی دعوت دی ہے مستقبل میں پاکستان کا دورہ کروں گا۔


ای پیپر