دہشت گردی کا نظریاتی بیانیہ اور او آئی سی‎ 
22 اپریل 2019 2019-04-22

 خلافت قائم کرنے کے لیے ہر مسلمان پہ جہاد فرض ہے۔ جس ملک میں بھی اسلامی حکومت نہیں وہ دارالحرب ہے اور وہاں جہاد فرض ہے  بھلے وہ مسلم ملک ہو یا غیر مسلم ملک۔ جو مسلمان دین پہ عمل نہیں کرتے وہ کفار کی طرح مباح الدم ہیں یعنی انکا قتل جائز ہے۔ شریعت کے نفاذ کے لیے مسلح جہاد فرض ہے۔ ہماری دینی تشریحات سے اختلاف رکھنے والا دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہے ۔اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردانہ کاروائیوں کے پیچھے (غربت اور بے روزگاری کے علاوہ) عموما یہی محرکات کارفرما ہوتے ہیں۔ دہشت گردی اور متشدد انتہا پسندی سنجیدہ عالمی مسئلہ ہے جس میں نہ صرف بے شمار قیمیتی انسانی جانیں  ضائع ہورہی ہیں بلکہ دنیا کے متعدد ممالک میں اس سے پھیلتا انتشار نہ صرف انکو غیر مستحکم کررہا ہے بلکہ پرامن بقائے باہمی کو بھی شدید خطرات لاحق ہورہے ہیں۔ طاقتور غیر مسلم ممالک بہت عرصے سے دنیا کے بہت سے حصوں میں دہشت گردی کررہے یا کروا رہے ہیں وہاں کی حکومتوں کے خلاف مسلح گروہوں کو منظم کرکے حکومتوں کو گرانے اور بنانے میں مصروف ہیں اور مسلمان اس کا سب سے بڑا نشانہ ہیں لیکن الٹا اسکا ذمہ دار مسلمان کو ہی قرار دیا جاتا ہے جو کہ ظاہر ہے درست نہیں لیکن مسئلہ اتنا بھی سادہ نہیں کیونکہ بہت سارے ایسے واقعات میں مسلمان ہی ذمہ دار نکلتے ہیں۔

اگر پاکستان کی مثال لیں تو پرسوں کوئٹہ میں 20 ہزارہ پاکستانی شہید اور 48 زخمی ہوئے حالانکہ آج سے تیس سال پہلے کے پاکستان میں بھی شیعہ سنی اختلاف موجود تھا، مدارس موجود تھے مذہبی تعلیم بھی ایسے ہی دی جاتی تھی جیسے کہ آج۔ لیکن دہشت گردی کا نام و نشان تک نہیں ملے گا اس کا آغاز افغانستان میں ناجائز قابض روس کے خلاف ایک سپانسرڈ جنگ سے ہوا اسوقت عالمی طاقتیں روس کو افغانستان سے نکالنا چاہتی تھیں لہذا انہوں نے کچھ عرب اور افغان گروہوں کو ہتھیار، ٹریننگ اور پیسہ مہیا کیا یہ وہی ووقت تھا جب اسامہ بن لادن ایک ہیرو بن کے ابھرا اور طالبان وجود میں آئے اور یہ بات ہیلری کلنٹن سمیت متعدد امریکی عمائدین اپنے بیانات میں کہہ چکے۔ جب یہ روس کے خلاف یہ جنگ ختم ہوئی اور روس افغانستان چھوڑنے پہ مجبور ہوا تو ان عالمی طاقتوں نے بھی طالبان کو بھی چھوڑ دیا کیونکہ انکا مقصد پورا ہوچکا تھا جب ان گروہوں کو پیسہ ملنا ختم ہوا تو یہ پڑوسی ممالک پاکستان، انڈیا، نیپال اور بنگلہ دیش میں پھیل گئے (یہی وجہ ہے کہ چاروں ممالک میں پچھلے دس سال سے وقتا فوقتا ملٹری آپریشن جاری ہیں) اور قتل وغارت گری، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم کا بازار گرم کیا کیونکہ یہی انکا روزگار تھا ور انہیں قتل وغارت کے علاوہ کوئی اور ہننر نہیں آتا تھا۔ جن کو میری بات کا یقین نہیں وہ بتائیں کہ طالبان مدرسوں کے طلباٗ سے طاقتور تربیت یافتہ مافیا کیسے بنے انکے پاس ایسے جدید ہتھیار کہاں سے آئے جو پاکستانی فوج کے پاس بھی نہیں جو وقت کی جدید ترین طاقتور فوج سمجھی جاتی ہے، انہی ہتھیاروں نے بیت اللہ مسعود اور ملا فضل اللہ کو ایک عرصے تک پاک آرمی سے محفوظ رکھا۔

مسلمانوں کے اندر یہ دہشت گردی کی وبا کبھی موجود نہیں رہی اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کے اندر حالیہ دہشت گردی کا آغاز عالمی سیاسی چالوں کا ردعمل ہے جب چند نام نہاد مذہبی تنظیمات نے جہاد کے اسلامی تصور کی خود ساختہ اور دقیانوسی تشریحات کا سہارا لیتے ہوئے اوران سازگار حالات کا فائدہ لیتے ہوئے مسلمان نوجوان کو جہاد کے نام پہ دہشت گرد کاروائیوں پہ آمادہ کرلیا۔ اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہمارا اعلی تعلیم یافتہ نوجوان ہو یا مدارس کا عام طالب علم، بآسانی ان تنظیمات کے پراپیگنڈا میں آجاتا ہے جس کی وجہ سے ہم نے پچھلے دس سالوں میں ہم نے ڈاکٹر سرفراز نعیمی، مشال خان، سلمان تاثیر، گلگت کی شیعہ کمیونٹی اور کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی سمیت ہزاروں بے گناہوں کو ان دہشت گردانہ حملوں میں شہید ہوتے دیکھا۔ ان دینی تنظیمات نے اقامتِ دین سے مراد دنیا سے تمام ادیان کا خاتمہ لے لیا ہے اور ساری کی ساری انسانیت کو مسلمان بنانا اور دنیا سے غیر مسلموں کا خاتمہ سمجھ لیا ہے اور اپنی دانست میں جہاد کررہے ہیں۔

جہاد بلاشبہ فرض ہے اور اسلامی تاریخ جہادی معرکوں سے بھری پڑی ہے لیکن موجودہ صورتحال ماضی کے ان معرکوں سے یکسر مختلف ہے جن میں جہاد ہوا۔ اس وقت اسلام پر سب سے بڑا حملہ یہ ہو رہا ہے کہ اس کے تصورات اور تعلیمات کو دہشت گردی کا روپ دیا جا رہا ہے اور ثبوت کے طور پر ان لوگوں کی سرگرمیوں کو پیش کیا جا رہا ہے جو بے گناہ لوگوں کو خون میں نہلا رہے ہیں حتی کہ وہ مسلم اور غیر مسلم کی تمیز بھی نہیں کرتے۔ گویا اس فکر پر گامزن لوگ جہاد اور قتال میں فرق بھول گئے، اسلام کی شرائطِ جہاد ان کی نظروں سے اوجھل ہو گئیں، جہاد کے آداب و لوازمات سے وہ بے خبر رہے۔ ہمارے حکمران یہ توکہتے ہیں کہ جتنی دہشت گردی ہم نے بھگتی کسی نے نہیں بھگتی۔ اگر یہ درست ہے تو پھر آپ نے تدارک کے لئے  عسکری آپریشنز کے علاوہ بھی کچھ کیا تاکہ اس کے محرکات کو ختم کیاجاسکے؟


ای پیپر