بڑھتی ہوئی بے یقینی
22 اپریل 2019 2019-04-22

وفاقی کابےنہ مےں ہونے والی دےگر تبدےلےوں سے قطع نظر ، کےا اسد عمر کا استعفیٰ مسائل کا حل ہے؟ اس سوال کا جواب آسان نہےں !

فرد ہو ےا قوم، کوئی سےاسی جماعت ہو ےا حکومت، کوئی تنظےم ہو ےا ادارہ، اس کی اچھی کارکردگی اور ترقی کا انحصار موزوں وقت پر موزوں فےصلہ کرنے پر ہے۔ گو مگوں اور تذبذب، کارکردگی کے سب سے بڑے دشمن ہےں۔ جب بر وقت فےصلہ کرنے کی صلاحےت نہ ہو اور شکوک و شبہات کی دھند گہری ہو جائے تو اےک بہت بڑا خلا پےدا ہو جاتا ہے۔ اس خلا سے بے ےقےنی جنم لےتی ہے۔ اقتصادی ماہرےن کا خےال ہے کہ بے ےقےنی معےشت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ سرماےہ صرف امےد اور ےقےن کے سہارے حرکت مےں آتا ہے۔ اگر تاجر، صنعت کار، کاروباری لوگ اور سرماےہ کار ےہ نہ جان پائےں کہ کل کےا ہونے والا ہے اور کےا انہےں اپنی رقم کے بدلے منافع ملے گا ےا نہےں تو دو ہی صورتےں ہوتی ہےں۔ پہلی ےہ کہ سرماےہ کار کسی دوسرے ساز گار ملک کا رخ کرتا ہے ےا پھر لوگ اپنی رقم تجورےوں مےں بھر کر اچھے وقت کا انتظار کرنے لگتے ہےں۔

پاکستان اس وقت بے ےقےنی کی اسی کےفےت مےں مبتلا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ےہ ہے کہ پی۔ٹی۔آئی کوئی واضح اور دو ٹوک معاشی وژن نہےں دے سکی۔ کاروباری لوگ سمجھ ہی نہےں پا رہے کہ وہ کون سا راستہ اختےار کرےں۔ نتےجہ ےہ کہ سرماےہ کاری رک گئی۔ سٹاک مارکےٹ مسلسل گرتی چلی گئی۔ ڈالر کے مقابلے مےں روپے کی قدر کم ہوتی گئی۔ افراط زر مےں اضافہ ہوتا گےا اور جی۔ڈی۔پی کی شرح مےں تےزی سے کمی آتی گئی۔ بجلی اور گےس کے نرخ بے انتہا بڑھا دئےے گئے جس کی براہ راست زد عام آدمی پر پڑی۔ رمضان کی آمد مےں ابھی کچھ دن باقی ہےں لےکن اشےائے خوردو نوش ، خاص طور پر پھلوں اور سبزےوں کے نرخ آسمان سے باتےں کرنے لگے ہےں۔ ادوےات پہلے ہی کئی گنا مہنگی ہو چکی ہےں۔

معےشت کے معاملے کو تھوڑی دےر کے لئے اےک طرف رکھتے ہوئے امن و امان کی صورت حال پر نگاہ ڈالےے۔ اےک ہی ہفتے مےں کوئٹہ اور اوماڑہ کے واقعات نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دےا ہے۔ اسی دوران پشاور مےں بھی دہشت گردوں کے خلاف اےک بڑی کارروائی کرنا پڑی۔ اس سے اندازہ لگاےا جا سکتا ہے کہ کسی نہ کسی نوعےت کی دہشت گردی بہرحال موجود ہے۔ ان دہشت گردوں کو پناہ گاہےں بھی مےسر ہےں۔ انہےں کہےں نہ کہےں سے وسائل بھی مہےا ہےں۔ خاص طور پر بلوچستان کو نشانہ بنانا گوادر کے حوالے سے بھی اےک پےغام ہو سکتا ہے۔ بلا شبہ بےرونی عناصر پاکستان کو عدم استحکام مےں دھکےلنے کے لئے پوری طرح سرگرم ہےں۔ تشوےش کی بات ےہ ہے کہ ان بےرونی عناصر کو اندرونی سہولت کار بھی مےسر آرہے ہےں جو بڑی بڑی وارداتےں کرنے کی صلاحےت حاصل کر چکے ہےں۔ دہشت گردی کے ان پے درپے واقعات نے ےقےنا عدم استحکام پےدا کےا ہے جو معاشی بے ےقےنی مےں مزےد اضافے کا سبب بنے گا۔

دہشت گردی کو بھی تھوڑی دےر کے لئے بھول کر معےشت سے جڑے دو اور معاملات کو دےکھتے ہےں جن کا تعلق قومی معےشت سے ہے۔ اےک تو آئی۔اےم۔اےف پےکج جو رخصت ہو جانے والے وزےر خزانہ کے مطابق طے پا گےا ہے۔ نہےں معلوم کہ اب اسد عمر کی فراغت کے بعد آئی۔اےم۔ اےف کےا موقف اختےار کرتا ہے ےا وزارت خزانہ کے نئے ذمہ دار ڈاکٹر حفےظ شےخ طے شدہ پےکج کے بارے مےں کےا رائے بناتے ہےں۔ دوسرا اہم معاملہ "فاٹف" کا ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف ہماری کارکردگی کو غےر تسلی بخش قرار دےتے ہوئے پاکستان کو "گرے " لسٹ مےں ڈال رکھا ہے۔بھارت اور کچھ دےگر پاکستان مخالف عناصر کی سر توڑ کوشش ہے کہ پاکستان کو "گرے" سے نکال کر "بلےک" لسٹ مےں ڈال دےا جائے۔ پاکستان ہاتھ پاو¿ں مار رہا ہے کہ اسے "گرے " سے نکال کر " وائٹ" کر دےا جائے۔ فاٹف (FATF) کا ےہ معاملہ اےک اےسے وقت طے ہونے جا رہا ہے جب پاکستان مےں پے درپے دہشت گردی کے واقعات ےہ تاثر دے رہے ہےں کہ ہماری سر زمےن پر اب بھی سرکش عناسر موجود ہےں۔ آئی۔اےم۔اےف اور فاٹف کی تلوارےں ہمارے سروں پر لہرا رہی ہےں جب کہ حکومت کو دو ماہ بعد قومی بجٹ پےش کرنا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ بجٹ کی تےاری مےں مصروف ٹےم بھی شدےد بے ےقےنی کا شکار ہو گی۔ کےونکہ اسے کچھ معلوم نہےں، آئی۔اےم۔اےف اور فاٹف سے کےا خبرےں آئےں گی۔

اب آئےے " بے ےقےنی" کو گہرا کرنے والے اےک اور اہم پہلو کی طرف۔ وہ ہے "سےاسی انتشار"۔ حکومت اور اپوزےشن مےں پہلے دن سے ہی کوئی تعلقات کار قائم نہےں ہو سکے۔ وزےر اعظم کا خےال ہے کہ پےپلز پارٹی اور مسلم لےگ (ن) کی قےادتےں، کرپٹ ہےں۔ وہ ان کا نام لےنے کے بجائے چور، ڈاکو اور لٹےرے کہہ کر پکارتے ہےں۔ کسی اےسے اجلاس مےں جانے کے لئے تےار نہےں جہاں آصف علی زرداری ےا شہباز شرےف موجود ہوں اور انہےں (عمران خان کو) ان ©©"بد عنوان" لوگوں سے ہاتھ ملانا پڑے۔ تحرےک انصاف کو قومی اسمبلی مےں صرف چند اتحادےوں کے سبب برتری حاصل ہے لےکن وہ اپوزےشن سے کسی طرح کی راہ و رسم ضروری خےال نہےں کرتی۔ عمران خان کا خےال ہے کہ اپوزےشن سے دور رہ کر ےا اسے کنارے لگا کر

وہ اپنی عوامی مقبولےت برقرار رکھ سکتے ہےں۔ لےکن نتےجہ ےہ کہ قومی اسمبلی اور سےنٹ، دونوں مفلوج ہو کر رہ گئے ہےں۔ کوئی قانون سازی نہےں ہو رہی۔ ادھر ادھر سے چل چلاو¿کی خبرےں آرہی ہےں اور بے ےقےنی مےں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

شاےد ےہ سب کچھ ناکافی تھا کہ ©" بے ےقےنی" کو مزےد بڑھانے کےلئے اےک بالکل ہی غےر ضروری بحث چھےڑ دی گئی۔ قےام پاکستان کے بہتر برس بعد کچھ لوگوں نے "خواب " دےکھا ہے کہ ےہاں پارلےمانی نہےں صدارتی نظام ہونا چاہےے۔ ہم چار مارشل لاو¿ں کی شکل مےں چار صدارتی دور دےکھ چکے ہےں۔ ہر صدارتی دور قومی اتفاق مےں گہری دراڑےں ڈال گےا۔ صوبوں کے درمےان دورےاں بڑھےں۔ اےسے ہی اےک صدارتی دور مےں پاکستان ٹوٹ گےا۔ قائد اعظم سمےت پاکستان بنانے والوں نے وطن عزےز کے لئے پارلےمانی نظام ہی تجوےز کےا تھا۔ 1956 کا پہلا آئےن بھی پارلےمانی تھا۔ سقوط ڈھاکہ کے سانحے کے بعد قوم نے نئے سفر کا آغاز کرتے ہوئے اےک بار پھر پارلےمانی نظام ہی کو قوم و ملک کے مفاد مےں خےال کےا لےکن آج پھر نہ جانے کہاں سے ےہ آوازےں اٹھنے لگی ہےں کہ ہمارے مسائل کا حل پارلےمانی نہےں صدارتی نظام مےں ہے۔ کوئی پوچھے کہ تقرےبا 33 سال سخت گےر قسم کا صدارتی نظام، آدھا ملک گنوانے اور سےاچےن بھارت کے حوالے کرنے کے علاوہ کےا دے گےا؟ پارلےمانی نظام ہی صوبائی اور قومی سطح پر ےکجہتی کا ضامن ہے۔ اےک فرد اےک ووٹ کے اصول پر صدر چننے کا فےصلہ ہوا تو لامحالہ صدر 60 فےصد آبادی رکھنے والے پنجاب ہی سے آئے گا۔ چھوٹے صوبے ےہ کےسے گوارا کر لےں گے؟

بے ےقےنی کی دھند کوگہرا کرنے والی آندھےاں ہر طرف چل رہی ہےں۔ قومی معےشت ان آندھےوں کی ےلغار کے سامنے کھڑی لرز رہی ہے۔ اےسے مےں اسد عمر کا استعفیٰ، بے ےقےنی کم کرنے کے بجائے اس مےں مزےد اضافے کا سبب بنے گا۔اگر وفاقی کابےنہ مےں تبدےلی درکار تھی تب بھی ےہ وقت بہر حال اس برطرفی کے لئے موزوں نہےں تھا۔


ای پیپر