کار جہاں دراز ہے
22 اپریل 2019 2019-04-22

ناقابل حصول عورت کے حسن کو پروین شاکر نے یوں بیان کیا ہے کہ کیا عجیب حسن ہے کہ ماﺅں نے اپنی کوکھ جائیوں کو کوڑھ صورتی کی بددعا دی ہے ۔کنواریاں تو کیا کھیلی کھائی عورتیں بھی جس سے خوف کھاتی ہیں۔گھر کے مرد شام تک نہ لوٹ آئیں تو وفا شعار بیبیاں دعائے نور پڑھنے لگتی ہیں۔وہ آگ میں گلاب گوندھ کر کمال آذری سے پہلوی تراش پانے والا بدن جس کو آفتاب کی کرن جہاں جہاں سے چومتی ہے رنگ کی پھوار پھوٹتی ہے ۔کیا عجیب حسن ہے جس کی دلکشی کے بوجھ سے سارا شہر چٹخ رہا ہے ۔اس حسن کو جب پاکستان کے ایلفریڈ ہچکوک جیسے جزئیات نگار شعیب منصور کی ڈائریکشن میسر آ جائے تو جنم لینے والا شاہکار فلم "ورنہ" کہلاتا ہے ۔اس فلم کو دیکھنے کے بعد مجھے فخر ہوا کہ پاکستان میں کزن میرج ،برائلر چکن ،بناسپتی گھی اور فضائی آلودگی کے رواج کے باوجود خال خال ہی سہی ذہانت ضرور پائی جاتی ہے ۔اس فلم میں ماہرہ سارہ خان کا کردار ادا کر رہی ہیں جو ایک خوبصورت ،غیر وجیہہ اور پولیوزدہ شخص عامی کی بیوی ہے جس کی غیر متاثرکن قوت ابلاغ اسے فلمی دنیا سے نکال کر حقیقی دنیا کا حصہ بناتی ہے ۔عامی جب فلم کے آغاز میں اپنی ماں کو کہتا ہے کہ اب نوالے ٹھونسنے سے بہتر ہے کہ جب وقت تھا تو چار قطرے پلا دیتیں تو آج اس معذوری کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔پاکستان کے معاشرے میں آج بھی بہت سے لوگ مذہبی راہنماو±ں کی غلط تعلیم کے باعث یہ سمجھتے ہیں کہ انسداد پولیو کی ویکسین پلانے سے نامردی کا احتمال ہوتا ہے ۔یہ وہی علمائ ہیں جنھوں نے پرنٹنگ پریس کی مخالفت کر کے مسلمانوں کو سینکڑوں برس پیچھے دھکیلا ، لاو±ڈ سپیکر اور ٹی وی کی مخالفت کی اور آج یہی آلات ان کی بات عوام تک پہنچانے کا ذریعہ بن چکے ہیں۔پولیو ویکسین کی اہمیت کو اجاگر کر کے ڈائریکٹر عامی ،اسکی بیوی سارہ اور بہن کو اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں دکھاتے ہیں جہاں گورنر کے بیٹے کے گماشتے گن پوائنٹ پہ سارہ کو اغوائ کر لیتے ہیں اور گورنر کا بیٹا تین دن تک اسکی آبروریزی کرنے کے بعد اسے واپس اسکے گھر چھوڑ دیتا ہے ۔سارہ کا شوہر عامی عامیانہ پاکستانی شوہر کی ذہنیت اور موریلیٹی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سارہ کو console کرنے کی جگہ لعن طعن کرتا ہے اور ہیٹ آف آرگیومنٹ میں تھپڑ رسید کر دیتا ہے ۔سارہ کے ریپ کی وجہ اسکا گورنر کی وی آئی پی موومنٹ میں رخنہ ڈال کر اسے لعن طعن کرنا دکھایا گیا ہے حالانکہ فلم کے ابتدائی سین میں گماشتے عامی کو یہ چوائس دیتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے ایک لڑکی ان کے ساتھ روانہ کر دے۔وہ عامی کی بہن کو گھسیٹ رہے ہوتے ہیں تو سارہ اسے پیچھے کر کے قربانی کا مظاہرہ کر کے خود آگے ہو جاتی ہے ۔یہ جھول بالکل ویسا ہی جھول ہے جیسا

Shawshank Redemption

میں اینڈی کے جیل کی سرنگ سے فرار کے بعد پیدا ہونیوالا سوال تھا کہ اس کے لاکڈ سیل میں سوراخ پر پوسٹر کس نے لگایا۔وی آئی پی موومنٹ کے نام پہ راستے بند کر کے جسطرح پاکستان کے حکمران اور سرکاری افسران عوام کی عزت نفس کا قتل کرتے ہیں ،اس ماس مرڈر کی مثالیں دنیا میں کم ہی ملیں گی۔سارہ عامی سے ہونیوالی لڑائی کے بعد دلبرداشتہ ہو کر اپنے پروفیسر والدین کے گھر واپس آ جاتی ہے اور اپنی وکیل دوست سے قانونی کارروائی کے لئے رابطہ کرتی ہے ۔اسکی وکیل دوست بتاتی ہے کہ اب اس واقعے کو بارہ دن بیت چکے ہیں .بہتر گھنٹوں میں اگر ریپ وکٹم کا طبی معائنہ نہ کروایا جائے تو evidence ضائع ہو جاتا ہے ۔اس پر سارہ خود سے دوبارہ ملنے پر مصر ریپسٹ کے پاس ڈیٹ پر جاتی ہے تا کہ دوبارہ طبی نمونے حاصل کئے جا سکیں۔اس ڈیٹ پہ گورنر کا بیٹا بئیر کا نیلا کین پیتے ہوئے سارہ کو کشتی کی سیر کرواتے ہوئے بتاتا ہے کہ وہ تاریکی میں کشتی

کھیلنے کا شیدائی ہے ۔ڈیٹ سے واپس آ کر وہ ڈیمج کنٹرول کی کوشش میں سرگرداں شوہر عامی کیساتھ ملکر پولیس میں مقدمہ درج کرواتی ہے اور میڈیا میں ہنگامہ مچ جاتا ہے ۔پاکستان کا کرپٹ سسٹم سارہ کیخلاف حرکت میں آتا ہے اور ہسپتال اور لیبارٹری سے تمام ریکارڈ تلف کر دیا جاتا ہے ۔وہ منظر کمال کا تھا جب دوران کیس ٹی وی پر سارہ اور اس کی وکیل خود کو ڈیفینڈ کر رہی ہوتی ہیں تو ایک ملا سارہ کو کہتا ہے کہ آپ کے ہیجان انگیز لباس کی وجہ سے آپ کا ریپ ہوا تو سارہ پوچھتی ہے کہ مدرسوں کے طلباءنے تو کوئی ہیجان انگیز لباس نہیں پہنا ہوتا ،انھیں کیوں درندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس پر پروگرام اینکرعاصمہ شیرازی بھی سارہ کی حمایت کرتی ہیں۔ادھر عدالت میں سارہ کا طبی معائنہ کرنیوالی لیڈی ڈاکٹر سارہ کے حق میں گواہی دیتی ہے تو ابن گورنر کا کائیاں اور شاطر وکیل کرمنل مقدمات کا ماہر بنتے ہوئے ایک ویڈیو دکھانے کی اجازت مانگتا ہے جس سے ثابت ہو گا کہ سارہ اور اس کے مو±کل کا تعلق سارہ کی مرضی سے استوار ہوا تھا۔ویڈیو سی ڈی اصل میں خالی ہوتی ہے مگر اس پر عدالت میں موجود سارہ کا باپ غیرت پدری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جج سے استدعا کرتا ہے کہ ویڈیو نہ دکھائی جائے ،وہ مقدمہ واپس لیتے ہیں۔اس کے بعد سارہ کا باپ اپنے گھر کی بیسمنٹ میں خودکشی کر لیتا ہے ۔اس کے بعد سارہ اپنے شوہر اور نند سے ملکر اپنے ریپسٹ کو تاریکی میں کشتی رانی کرتے ہوئے اغواء کر لیتی ہے ۔عامی ریپسٹ کے موبائل سے میڈیا اور گورنر کو ٹیکسٹ میسیجز بھیجتا ہے کہ میں اپنی مرضی سے ملک چھوڑ کر جا رہا ہوں کیونکہ میں نے سارہ کیساتھ زیادتی کی جسکی وجہ سے میرے ضمیر پہ بوجھ ہے ۔مجھے تلاش کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔سارہ اپنے ریپسٹ کو اپنے باپ کے مقام خود کشی یعنی اپنے گھر کی بیسمنٹ میں لے جاتی ہے اور اسے زندہ دیوار میں چن دیتی ہے ۔با اثر قاتلوں کے ساتھ بھی مقتولین کے ورثاءکو یہی کرنا چاہئے۔اس فلم سے یہ بات درست طریقے سے ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان کے کرپٹ ،بو دیتے اور بوسیدہ سسٹم میں انصاف کا واحد راستہ خود سے لئے جانیوالا انتقام ہے وگرنہ انصاف تو یہی کہتا ہے کہ کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر۔


ای پیپر