اٹھارہویں آئینی ترمیم یا حلق کی ہڈی
22 اپریل 2019 2019-04-22

آئین پاکستان کو پاکستان کا دستور اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین مجریہ 1973ءبھی کہتے ہیں۔ 14 اگست 1973ءکو نافذ ہونے والے آئین میں آج تک 25 ترامیم ہو چکی ہیں۔ تاہم ان آئینی ترامیم میں چار انتہائی اہم اور قابل ذکر اس لئے بھی ہیں کہ ان کی منظوری سے پاکستان میں جمہوریت اور ترقی کی سمت بدلتی رہی۔ ان میں سے دو ترامیم تاریخ کے دو بڑے فوجی آمروں نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے کیں اور دو ترامیم ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کی بقا کے لئے کیں۔ تاہم جتنا شور اٹھارہویں آئینی ترمیم پر مچا ہے شاید کسی اور ترمیم کو یہ شرف حاصل نہیں ہو سکا۔جس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ بعض حلقوں کے لئے حلق کی ہڈی بن چکی ہے۔ قارئین کی آسانی کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ جمہوری طاقتوں کو اٹھارہویں آئینی ترمیم لانے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کون سی ایسی وجہ تھی جو ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے 2010 میں اتفاق رائے سے منظور کیا، کیا یہ ترمیم ملک کے لئے سود مند تھی اور اگر تھی تو اب ایسی کیا صورتحال پیدا ہو گئی کہ تحریک انصاف اور اس کے اتحادی مسلسل بیان بازی سے اٹھارہویں ترمیم کو متنازعہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جیسا کہ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم عمران خان نے صوبائی خود مختاری سے وفاق کو درپیش مالی مشکلات کے معاملے پر اٹھارہویں ترمیم کو ہدف تنقید بنایا تھا۔ جس کے بعد سے یہ سلسلہ چل نکلا۔ چند روز قبل سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پی ٹی آئی اٹھارہویں ترمیم میں ترامیم کرے گی۔ اٹھارہویں ترمیم کوئی مذہبی دستاویز نہیں، اسے انسانوں نے بنایا تھا۔ وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے بھی پیچھے نہ رہتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم وفاق کا قتل ہے، اٹھارہویں ترمیم کی شقوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، اس ترمیم کے پیچھے لگا ہوا ہوں۔ حکومتی شخصیات کے مقابلے پر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور اے این پی کے رہنما مسلسل اس ترمیم کا دفاع کر رہے ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ ایسا کوئی بھی اقدام صوبوں کی علیحدگی کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔ یہ سیاسی جماعتیں اس خدشہ کا اظہار کر رہی ہیں کہ اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی بنیادی وجہ پارلیمانی نظام حکومت ختم کر کے صدارتی نظام کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کا مقصد جاننے کے لئے ہمیں سابق ادوار میں ہونے والی آٹھویں، تیرہویں اور پھر سترہویں ترامیم کا ذکر بھی کرنا پڑے گا۔ جیسا کہ شروع میں ذکر ہو چکا ہے کہ چودہ اگست 1973 کو آئین پاکستان نافذ ہوا اور ذوالفقار علی بھٹو حکومت نے آئین کے خدوخال بہتر کرنے کے لئے دو تہائی اکثریت کے ساتھ چار سالوں میں آئین میں سات ترامیم کیں۔ تاہم 1977 میں بھٹو کا تختہ الٹ دیا گیا اور جنرل ضیاءالحق نے اقتدار سنبھالا اور اپنے آلہ کاروں کی مدد سے اس تاریخی متنازعہ ترین ترمیم کو منظور کروایا جس کے نتیجے میں ان کے اقتدار کو دوام ملا۔ ضیاءدور میں آٹھویں ترمیم 1985 میں کی گئی اور اس کے تحت آئین پاکستان کی نفی کرتے ہوئے پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام متعارف کروایا گیا۔ 8ویں ترمیم کے تحت آئین میں 90 سے زیادہ آرٹیکلز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ اس اقدام نے ملکی سیاست کا دھارا ہی موڑ دیا اور بارہ سال تک ملک میں صدارتی نظام کا ہی راج رہا اور بالآخر فوجی آمر کی اس ترمیم کے خلاف نواز شریف نے دو تہائی اکثریت سے 1997 میں تیرھویں ترمیم منظور کی اور صدر کے لامتناہی اختیارات کو ختم کیالیکن تاریخ کے اگلے فوجی آمر پرویز مشرف نے ایک بار پھر اپنی اتحادی جماعتوں ق لیگ، ایم کیو ایم، متحدہ مجلس عمل اور دیگر اراکین اسمبلی جن میں عمران خان اور شیخ رشید بھی شامل تھے کی مدد سے سترہویں ترمیم منظور کروائی اور ایک بار پھر صدارتی نظام لاگو کر دیا۔ پرویز مشرف کے اقتدار کے خاتمے کے بعد آصف زرداری نے اٹھارہویں ترمیم کے تحت مادر ملت کے اس خواب کو پورا کیا جس کے لئے انہوں نے آمریت کا مقابلہ کیا تھا۔ اس تاریخی ترمیم کے تحت 1973 کے آئین میں تقریبا 100 کے قریب تبدیلیاں کی گئی ہیں جو آئین کے 83 آرٹیکلز میں شامل ہیں ، اس ترمیم کا سب سے بڑا خاصہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار میں کی گئی آٹھویں اور سترہویں ترامیم کو ختم کر دیا گیا، اس ترمیم کے تحت جو چیدہ چیدہ تبدیلیاں کی گئیں، ان میں سب سے پہلے ریاست اور آئین سے غداری میں ملوث افراد سے متعلق آرٹیکل 2۔6 الف کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی میں ملوث افراد کو سپریم کورٹ سمیت کوئی بھی عدالت معاف نہیں کر سکتی آرٹیکل 38 کے تحت صوبائی اکائیوں کے درمیان موجود وسائل اور دیگر خدمات کی غیر منصفانہ تقسیم کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فوجی آمریت کا ہتھیار بننے والے اس آرٹیکل 58 (2) بی کا مکمل خاتمہ کیا گیا جس کے تحت صدر کو پارلیمان تحلیل کرنے کا اختیار حاصل تھا۔ اسی طرح صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے تیرہ آرٹیکلز کو جزوی یا مکمل طور پر تبدیل کیا گیا۔ جس میں سب سے اہم معاملہ ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کے متعلق ہے۔ اب ہنگامی صورت حال کا نفاذ صدر اور گورنر سے لے کر صوبائی اسمبلی کو دے دیا گیا ہے۔ اس ترمیم کا سب سے بڑا کارنامہ پارلیمانی نظام حکومت کو واپس لاگو کرنا ہے جس کے لئے آئین کے پندرہ آرٹیکلز میں مختلف تبدیلیوں کے ذریعے صدر کو حاصل اختیارات میں خاطرخواہ تبدیلی کی گئی ہے۔ اس ترمیم کے تحت آئین سے آمر ضیاءالحق کے لیے “صدر” کے لفظ کو بھی نکال دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعتیں اور وکلاء برادری کے نزدیک موجودہ ملکی حالات میں ایسا کوئی بھی اقدام انتشار کی صورت پیدا کر سکتا ہے اور پھر صدارتی نظام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں میں اکثریت ایسے سیاستدانوں کی ہے جو ماضی میں بھی اسٹیبلشمنٹ کا آلہ کار بنے رہے۔ جیسا کہ عمران خان پرویز مشرف کا ساتھ دینے کی اپنی ماضی کی غلطی کو تسلیم کر چکے ہیں، اس لیے انہیں اس معاملے پر ہونے والی بیان بازی کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہیے کیونکہ ملک کسی اور تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ایک طرف جہاں تمام سیاسی جماعتیں ایسے کسی بھی اقدام کی مخالفت کر رہی ہیں وہیں ملک بھر کی وکلاءتنظیموں نے بھی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑنے کی کوئی بھی کوشش کی گئی تو وکلاءبرادری اسے برداشت نہیں کرے گی۔ پاکستان بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار کی قیادت نے اس حوالے سے کہا ہے کہ موجودہ حکومت، اس کے وزراءاور بیوروکریسی ملک چلانے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ اس ملک کی عوام آئین اور پارلیمانی نظام کے لئے پہلے ہی بہت قیمت ادا کر چکے ہیں، اس لیے حکومت کی ایسی کسی بھی کوشش کا نتیجہ ملک کے لئے بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ انھوں نے واضح کیا ہے کہ اگر پارلیمانی نظام میں تبدیلی لانے کی کوشش کی گئی تو ملک بھر کی تمام وکلاءتنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو کر مزاحمت کریں گی۔


ای پیپر