کرا چی کے مسائل او ر ان کا حل
22 اپریل 2018 2018-04-22

ا چھی طر ح یا د ہے1970ء کی دہائی میں جب میں ابھی نو عمر ہی تھا، وا لدین کے سا تھ کر ا چی کا سال میں ایک چکر لگ ہی جا یا کر تا۔عا م طو ر پر یہ مو سمِ گر ما کی چھٹیو ں کے ایا م ہو ا کر تے۔ تب وہاں ایک امر جو خصو صی طو ر پر متا ثر کیا کر تا، وہ وہا ں کی صفا ئی ستھر ا ئی تھی۔ یقین نہ آ تا کہ یہ شہر بھی پاکستا ن کا حصہ ہے۔ را ت کو صد ر کے علا قے کی سڑ کیں با قا عد ہ دھو ئی جا یا کر تیں۔ را ہ چلتے را ستے میں کو ئی استعما ل شد ہ کا غذ یا لفا فہ و غیر ہ پھینک د ینا بد تہذ یبی سمجھی جا تی۔ اور بجلی کی لو ڈ شیڈنگ۔بجلی کی لو ڈ شیڈ نگ کا نا م و نشا ن تک نہ تھا۔ یہا ں تک کہ ہم حیر ان ہو ا کر تے کہ یہ کیسا شہر ہے جہا ں بجلی جا تی ہی نہیں؟ پھر 1986ء میں مہا جر قو می مو منٹ نے ا یم کیو ایم کے نا م پر زو ر پکڑا ۔شہر میں تعصب کی فضا نے جنم لیا ۔حالا ت بگڑ نا شروع ہوئے اور اس حد تک بگڑے کہ کھلم کھلا قتل و غا رت اور تا وا ن بر ا ئے اغوا روز آ نہ کا معمو ل بن کے رہ گیا۔ ایم کیو ایم کی دہشت اِس حد تک تھی کہ ہر آنے وا لی حکو مت نے نیچے لگ کر ایم کیو ایم سے اس کے مفا دا ت کے مطا بق سمجھو تا کیا۔ بات کو مختصر کرتے ہو ئے بتا تا ہو ں کہ سیا سی حکو متو ں کو کر ا چی کے ٹھیک کر نے کے معا ملے میں نا کا م ہو تا دیکھ کر حا لا ت کو را ہِ راست پہ لانے کا ذ مہ پا ک فو ج نے اپنے سر لیا۔پھر دنیا نے دیکھا کہ فو ج نے نا ممکن کو کس طر ح ممکن کر دکھا یا۔ یہی وجہ ہے کہ آ ج کر ا چی میں پھر سے امن و اما ن کی حکمر ا نی د کھا ئی د ینا شر و ع ہو گئی ہے۔ تا ہم کر ا چی کے مخصو ص گذ شتہ برے حالات اپنے پیچھے اتنا گند چھو ڑ گئے کہ اب بھی و ہا ں کی فضا میں سا نس لینا دشو ا ر ہے۔ جی ہا ں و ہی کرا چی جہا ں کبھی معمو لی کوڑا کر کٹ بھی را ستے میں پھینکنا بد تہذ یبی کی علا مت سمجھا جا تا تھا ، آ ج اسی کر ا چی میں جا بجا کوڑے کر کٹ اور کچر کے ڈھیر نہیں بلکہ پہا ڑ کھڑ ے ہیں۔لگ رہا تھا کہ یہ مسئلہ تو ا ب کبھی حل نہ ہو سکے گا۔ مگر بھلا ہو جنا ب چیف جسٹس آ ف سپریم کو ر ٹ آ ف پا کستا ن جنا ب میا ں ثا قب صا حب کا جنہو ں نے گذ شتہ د نو ں کراچی میں صاف پانی کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران شہر میں گندگی اور صفائی کی ناقص صورت حال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ہفتے میں صاف کرنے کا حکم د یا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ دنوں کراچی میں صاف پانی کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران شہر میں گندگی اور صفائی کی ناقص صورت حال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ہفتے میں صاف کرنے کا حکم دیا تھا۔ چنا نچہ خو ش آ ئند امر یہ ہے کہ چیف صا حب کے نو ٹس لیئے جا نے کو سنجید ہ لیا گیا۔ لہذ ا اب انہوں نے اس امر پر خوشی کا اظہار کیا ہے کہ کراچی میں صفائی پر توجہ دی جارہی ہے اور شہر میں تبدیلی نظر آرہی ہے۔ کراچی سمیت ملک بھر میں جو مسائل موجود ہیں ان کے حل کے لیے مختلف حلقوں کی جانب سے ایک عرصے سے آواز اٹھائی جارہی ہے لیکن عوام کی یہ کمزور آواز مضبوط حکمران طبقے اور ذمہ دار اداروں کی سماعت سے ٹکرا کر واپس آجاتی رہی ہے، جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ ملک میں جنم لینے والے بنیادی مسائل بڑھتے بڑھتے اس قدر پیچیدہ ہوچکے ہیں کہ ان کلی حل کے لیے خطیر رقم اور ایک عرصہ درکار ہے۔ لیکن اگر خلوص نیت سے کام لیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ مسائل حل نہ ہوں اور صورت حال میں بہتری نہ آجائے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں صورت حال اب بھی اس قدر گھمبیر ہے کہ ایک لاکھ سے زائد افراد چکن گونیا میں مبتلا ہیں اور ہسپتالوں میں طبی سہولتوں کے فقدان کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ صفائی کی صورت حال کے حوالے سے گزشتہ دنوں چیف سیکرٹری سندھ نے سپریم کورٹ کے روبرو اس حقیقت کا اعتراف کیا تھا کہ کراچی میں روزانہ پانچ ہزار ٹن کچرا نہیں اٹھایا جارہا اور ایسی سڑکیں بھی ہیں جن پر چھ ماہ سے جھاڑو تک نہیں لگی۔ سندھ، بلوچستان، خیرپختونخوا اور پنجاب کے دور دراز علاقوں کی حالت یہ ہے کہ وہاں صفائی کا نظام تو ایک طرف رہا، پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے شہریوں کو کئی کئی میل پیدل سفر کرنا پڑتا ہے اور جو پانی انہیں ملتا ہے وہ بھی صفائی کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔ بعض علاقوں میں تو انسان جانوروں کے ساتھ ایک ہی گھاٹ سے پانی پینے پر مجبور ہیں۔ بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا میں پنجاب کی نسبت صورت حال زیادہ خراب ہے۔ ادھر بھارت کی جانب سے پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کے باعث پانی کی جو قلت اور بحران جنم لے رہا ہے، اس کے نتیجے میں سندھ اور پنجاب کی زرخیز زمینیں تیزی سے بنجر ہورہی ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس سنگینی کو دیکھتے ہوئے بھی ہمارا حکمران طبقہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ بھارت کی اس آبی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر بھی کمزور آواز اٹھا رہا ہے اور خود بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے اور پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے کوئی منصوبہ بندی بھی نہیں کر رہا۔ پی آئی اے اور کراچی سٹیل ملز سمیت ملک کے وہ برے بڑے ادارے جو ترقی کی علامت سمجھتے جاتے تھے، آج انتظامی نااہلی اور کرپشن کے باعث اس حالت تک پہنچ چکے ہیں کہ حکومت ان سے جان چھڑانے کے لیے ان کی نجکاری پر زور دے رہی ہے۔ ملک کے مسائل جس قدر تیزی سے بڑھ رہے ہیں نہ تو حکمران طبقے کو اس کا احساس ہے اور نہ اپوزیشن جماعتیں اس کے لیے فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ سب اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کے نعرے تو لگائے جارہے ہیں لیکن عملی طور پر اس کے لیے کوئی جاندار اور ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کیا جارہا جس سے یہ امید بن سکے کہ یہ مسائل آئندہ چند برسوں میں حل ہوجائیں گے اور وہ روشن پاکستان جس کی خواہش میں عوام سیاست دانوں کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، ایک زندہ تعبیر بن کر ان کے سامنے آجائے گا۔ اگر ادارے قاون کے مطابق کام کررہے ہوتے تو معزز عدلیہ کو آگے بڑھ کر معاملات درست کرنے کی ضرورت نہ رہتی۔ ریاستی اداروں کے زوال کا نتیجہ یہ ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر کے مسائل بڑھتے بڑھتے اس مقام تک پہنچ گئے ہیں جہاں انہیں حل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

آ ج اگر کر ا چی میں لو ڈ شیڈنگ دس دس گھنٹے کی طو ا لت تک پہنچ چکی ہے تو اِس کی بڑی ذمہ دا ری وہا ں کے عو ا م کی اس نحیف آ و ا ز پر عا ئد ہو تی ہے جو وہ و ہا ں بجلی کی چو ر ی کو سرِ عا م پنپتا د یکھ کر کبھی بلند نہ کر سکے۔ کیا دہا ں بجلی کی چو ری کی غرض سے کنڈا سسٹم ایک قا بلِ قبو ل رو ا ج نہیں بن چکا تھا؟ اسِ غر یب ملک کا خا لی ہو تا خز ا نہ اتنے بڑ ے نقصا ن کو کیسے پو را کر سکتا تھا؟ پی آ ئی اے ا و ر پا کستا ن سٹیل مل کو اگر بے در یغ لو ٹا گیا تو اس کی بنیا د ی ذمہ دا ری کس پہ عا ئد ہو تی ہے؟بے شک چیف جسٹس صا حب کے کر ا چی کی بہتر ی کی غر ض سے اٹھا ئے گئے اقدا ما ت اہم کر دا ر ا دا کر یں گے۔ مگر جب تک وہاں عو ا م اس سلسلے میں اپنی ذمہ دا ریو ں کو محسو س ا و ر ادا نہیں کریں گے، وہا ں کے حا لا ت مکمل طو ر پر کبھی سنبھل نہیں پا ئیں گے۔


ای پیپر